چاچا نوشہ : سعید سادھو

میں جب دوران حفظ پہلی بار کمالیہ کے گاوں میں موجود دادا جان کے دربار پہ گیا تو میرے گهٹنے کو چهونے والا سب سے عمر رسیدہ بزرگ چاچا نوشہ تها. ابا نے مجهے پاس بٹها کے یہ سمجها رکها تها کہ ان لوگوں کا اپنا کلچر ہے اس کو بے ترتیب کرنے کی کوشش مت کرنا . لیکن جب پہلی بهینڑی(بستی) میں گُھستے ہی میری ماں سے بهی بڑی عمر کی اماں پهاپو نے میرے گهٹنوں کو ہاتھ لگانا چاہا تو میں اچھل کے پیچهے موجود چارپائی پر لڑھک گیا گویا وہ مجهے ڈرا رہی تهیں.
اماں صابنڑ ، چهن چهن بی بی اور مائی سباں نے اپنی عمر کے مطابق کهل کر یا نِما نِما مسکایا تو میں ارد گرد کے تیور دیکھ کر عادی ہونے لگا.
چاچا نوشہ سب سے مشکل پہاڑ تها جسے مجهے پاٹنا پڑا. میرے ابا سے بهی عمر میں بڑا لیکن استاد جی پیر جی مرشد جی کہہ کر نمی مسکان ہونٹوں سے آنکهوں تک پهیلائے مجهے دیکهتا رہتا. اس کا دیکھنا ایسا مقدس تھا گویا وہ عبادت میں مصروف ہو، یہ عبادت ماتھے پر کالے نشان. کی بجائے دل کی سفید روشنی کھیتوں بھرے معروض پر پھیلائے جاتی تھی.
ہمارے دادا کی آبائی حویلی( جسے چاچا نمبردار سنبهالا کرتا تها) میں چاچا نوشہ کبهی نہ آیا.عید پر ملاقات ہوئی تو وہ میری جیب میں نئے پرانے نوٹ ڈال کر اور ماتهے پر بوسہ لے کر چلا گیا.
میں بهی بهولنے ہی والا تها کہ ابا کو کسی شے کی طلب ہوئی اور قریب موجود 34 چک کے اڈے پہ جانے کی سبیل ہوئی.میں اور اللہ دتا سائیکل پر اڈے میں پہنچے اور وہاں میرے مطلب کی واحد شے فالودہ نظر آئی۔
چهوٹا پیالہ دو روپے اور بڑا تین روپے کا ملتا تھا۔ نیلی راوی اور ساہیوال نسل کی بھینسوں کا اصیل و نسیل علاقہ تھا سو فالودے میں اس دودھ کا سواد ایسا گہرا تھا کہ آج بھی یاد کے تالو سے چپکا بیٹھا ہے
میں ریڑهی کی طرف بڑها ہی تها کہ ساتھ ہی زمین سے دو فٹ اونچے لکڑی کے پانچ بائے چھ کے ایک کھوکھہ نما کمرے میں چاچے نوشے نے مجهے دیکه لیا. مخصوص عینک آنکهوں پہ اڑسی ہوئی، ارد گرد جوتوں کے رنگا رنگ پتاوے، تعویزوں کے چرمی لباس، مختلف رنگ کے چمڑوں کے ٹکڑے، نظام الدین اولیا رح کے پرنٹڈ سبز سبز پوسٹراور چمکیلی جهنڈیاں اس کے اس موچی خانے کو سجا رہی تهیں.
مجهے بڑا پیار آیا ۔جاٹوں میں رہ کر انہی کی تہذیب سے بھرے جملے سے یوں مخاطب کیا
” اوئے چاچا تو موچی ہے.؟”
چاچے نے مجهے دیکها تو فورا سے جوتا پہنے پهٹے پر قائم کمرے سے اترا مجهے اندر سے موڑها نکال کر دیا. مجهے مُسک مُسک کر شفقت سے دیکهنے لگا. استاد جی کیہہ شے کهاؤسو(استاد جی کیا کھائیں گے)
خالص جنگلوٹ لہجے میں چاچے نے پوچها.
چاچا فالودہ ، میں نے اڈے میں موجود سب سے پسندیدہ چیز کی طرف اشارہ کیا.
تب یہاں دوده سوڈے کی بوتل بهی ملتی تهی پر وہ عموما چھن چھن۔بی بی کے خاوند بشیر اور چاچے نوازکے بیٹے نور زمان کے اکٹھ پر مل جاتا تها اس لئے فالودے کی فرمائش کی. میں چاچے سے پوچهنے لگا کہ چاچا یہ گلے میں موتی کون سے ہیں.
اس نے بتایا کہ یہ کنٹهے ہیں اور میری پیر سائیں کی نشانی ہیں اور ساته ہی بهیگی آنکهیں صاف کرنے لگا۔
چاچا تھا تو سب سے عمر رسیدہ مگر بستی کے مردوں میں سب سے صحت مند بهی تها.گول مٹول گال بڑی بڑی سامنے اور دائیں بائیں چهائی مونچهیں.
بڑے بڑے ہاته اور موٹی موٹی انگلیوں پرموٹے موٹے تهیوے والی انگهوٹهیاں،
بنا بازو کے بنیان سے چمکتے اور بهرواں کندهے اور کندهوں سے لگے ہوئے دو دبنگ اور بھرے بھرے بازو۔سینہ بالوں بهرا لیکن سب سے خوبصورت چاچے کی مسکان تهی. زندگی کی خوشی اور امید سے نُچڑتی ہوئی۔ذرا دیر کرنے پر کهلا کہ چاچے کو ہر تهوڑی دیر بعد مسکان کا دورہ پڑتا ہے مگر مسکان اس کی آنکهوں کی پتلیاں بهگو جاتی ہے.گلے میں لٹکی عینک کو چهونے کے لئے اللہ دتے نے ہاته بڑهایا کہ چاچا یہ کس نمبر کی ہے اور چاچے نے عینک کو چهونے نہ دیا اور کہا پتر ٹهیک دسدی اے.
چاچے کے بیٹے بهی آن دهمکے اور مجهے ساته لے جانے کی فرمائش کرنے لگے ان کا گهر گاوں سے متصل دوسرے گاوں کے ٹبے پر تها جہاں میرے دادا نے سیلاب میں پناہ لی تهی گاؤں کے بزرگ بتاتے ہیں کہ پانی سے ٹبّے پہ چڑهنے والے سانپوں کے لئے بزرگ نے ریت دم کر کے پانی کی سرحد پہ پهینکنے کا حکم دیا تها اور سانپوں نے پهر پورے سیلاب ”رتیلا” بیرئیر کراس نہیں کیا. مجهے خود بهی نئے لوگوں سے ملنے اور ٹبّے پر جانے کا شوق تها۔ابا کو بتایا اور ابا نے اجازت دے دی.
ہم سائیکلوں پر ٹبّے کی جانب عازم ہوئے. گاوں کو گاوں سے ملانے والی شاہ راہ دهول سے اٹی ہوئی تهی اور ہر بیل گاڑی کے ساته ایک آدھ کتا ہوتا تها جو ہمیں گهورتا اور کبهی کبهی بهونکتا بهی
ٹبّے پر پہنچے تو جانا یہ پورا محلہ ہے. ارد گرد کے گهروں سے چاچے نوشے کے ہاں میلہ لگ گیا . سب مجهے دیکهنے آتے تهے گویا میں دو دهڑ والا بچہ تها.اُن کے بالوں کا رنگ مٹیالہ تها اور رنگ جلے بلکہ بهنے ہوئے مگر مسکانیں اُف جیسے زندگی فقط یہی جی رہے ہیں.
نوشے چاچے کے گهر کے پاس ہی ہمارے خاندان کی تین قبریں ہیں۔باقاعدہ ان قبروں پر لیپا پوتی ہوتی ہے اب تک ان کے سرہانے سے ونّ کے تین گھنے پودے پھیل چکے تھے۔
چاچے نوشے کی بیوی مجهے گود میں لئے بیٹهی مجھ سے میری اماں اور سوتیلی بہنوں کا احوال پوچه رہی تهیں.یہ ٹبّے کا شمال مشرقی کونا تها جو بالکل ٹبے کے آغاز پہ ہی بنا تها .ٹبہ بالکل خشک تها مگر ٹوٹے برتنوں کی پهیکریں بالکل اسی طرح بکهری تهیں جیسے ٹیکسلا کے کهنڈرات میں نظر آتی تهیں۔
چاچا نوشہ شام گهر آیا میری چارپائی سب سے ہوادار جگہ پہ بچهائی گئی اور ہاته کے کام والا تکیہ بیڈ شیٹ اور کهیس عطا کیا گیا.چاچا نوشہ گهر میں بهی کم گو ہی رہا کم کم اور ضروری بات کی حقہ تازہ کروایا اور پهر چوپالی شعور کا تدبّر اس کے چہرے پر پھیل گیا۔چاچے نے عینک اتاری اور بڑے سلیقے سے کپڑے میں لپیٹ کر اماں سے اندر بهجوانے کو کہا.
میں نے اس احتیاط کی وجہ پوچهی تو بولا “بس جی ایہہ آخری چوری سی۔
نوشہ ایک خالص جنگلوٹ تها جسے لوٹیوں والے سال سے قبل کی باتیں اچهے سے یاد ہیں.

میں نے جب شارب انصاری کی نظم پڑهی تو چاچے نوشے کا سراپا سامنے آگیا۔
اسیں باریں واسدے جانگلی کیا ساڈیاں باتاں
دنہیں ہل دی ہتهی ہته وچ راتیں وارداتاں
نوشہ بہت چهوٹا تها جب ساندل بار کے علاقے میں وارداتیں کیا کرتا تها.
ساندل بار موجودہ فیصل آباد وہی علاقہ ہے جہاں پورے برصغیر سے بهاگے ہوئے باغی ڈاکو ، انگریزوں کے قاتل اور لٹیرے آ کے پناہ لیتے تهے.لائل گورے نے اسے آباد تو کیا مگر یہاں سے سامراج کے خلاف بغاوت کی کونپل کا قلع قمع نہ کر سکا۔بهگت سنگھ کے بعد چاچے نوشے بہرحال یہاں پیدا ہوتے رہے. کچه فقط فکری اور نظری بنیادوں پہ گورا سامراج کے خلاف اٹھ کهڑے ہوئے تهے اور کچه یونہی اسی بغاوت کو ایڈونچر بنا کر وارداتیں کرنے لگے. پیٹ کی بهوک اور سماجی نا ہمواری بحرحال کسی نہ کسی سطح پہ دونوں میں ہی مشترک رہی ہو گی.
نوشہ وارداتیں کرنے کے بعد بیلے میں چلا آتا جو راوی کے کنارے ڈاکوں نے باقاعدہ آباد کر رکها تها.اسی عرصے میں کمالیہ کا کوئی پچیس تیس مربعہ کلومیٹر کا مصنوعی جنگل بهی اگ چکا تها
اسی طرح کہیں اس نے واردات کے بعد کمالیہ اور پیر محل کے درمیان پهیلے وسیع و عریض جنگل میں آرام کرنے کا سوچا.آج تو یہ جنگل باقاعدہ ترتیب سے اگایا گیا ہے مبادا یہ گوروں نے ہی کاشت کیا ہو۔بس اسی جنگل کی سرحد سے 300 میٹر کے فاصلے پر بستی میں دادا جی سے نوشے کی ایک ملاقات ہوئی.
جن دنوں وہ جنگل کا باسی تھا ان دنوں
وہ باوا جی کے پاس آنے جانے لگا۔
موٹے موٹے ڈولہوں پر تعویز باندھتا اور امراء کے ہاں ڈاکے ڈالتا۔لیکن سلام کرنے باوا جی کے ہاں ضرور آتا ۔ انہی دنوں ایک پھیرے کے دوران باوا جی نے اسے شادی کا اشارہ کیا۔ اُن کا اشارہ چاچے کو حکم لگا اور اب نوشہ بیوی سے ملنے بھی جنگل کنارے کی بستی میں آنے لگا۔
وقت گزرتا گیا اور جب وہ بچوں سے ملنے آنا شروع ہوا تو خود بخود اپنے پیشے سے تائب ہونے لگا۔بزرگوں کی نصیحت نے اس توبہ کی پنپتی کونپل کی مزید آبیاری کی ۔سو نوشہ چاچا رسہ گیروں، دادا گیروں، کو چھوڑ چھاڑ کر دل گیروں میں شامل ہوا اور بستی میں بزرگوں کی خدمت کرنے لگا۔
دن جنگل سے لکڑی کاٹتے مضبوط بازو شام بزرگوں کے پیر دابتے
دھیرے دھیرے چاچا نوشہ شعوری آبیاری یا فکری جھکاؤ پانے لگا۔
جنگل سے تھک گیا تو بولا باوا جی جنگل سے جی اُوب گیا اب شہر میں کوئی کام کرنا ہے۔ بزرگوں نے اپنے ٹوٹے جوتے کی طرف اشارہ کیا کہ اسے موچی سے سلوا لاؤ۔
چاچے نے جوتا اٹھایا اور گاؤں کے اس بس سٹاپ پر آن بیٹھا جہاں دن میں ایک لاری گزرا کرتی تھی۔ وہیں اس نے اپنا ٹھیہ بنایا اور پہلی جوتی اپنے مرشد کی گانٹھ لی۔اور اس کے بعد اسی میں اپنے بچوں کا رزق تلاشنے لگا۔
باوا جی جب کبھی کہیں چہل قدم کو جاتے یہ دست بستہ پیچھے پیچھے ہوتا۔
اک دن بزرگوں کی جیب سے عینک گری اور نوشے نے جیب میں ڈال لی۔
اگلے دن عینک شہر سے نئی بن آئی مگر نوشے نے وہ عینک تبرک جان کر محفوظ کر لی۔کبھی کبھار اسے مختلف موتی بھی دیے جاتے جنہیں اس نے ایک ہار کی شکل دے لی تھی۔
نوشے نے عین جوانی میں بوڑھی آنکھوں کی عینک پہن لی اور اچھی بھلی نظر خود بخود بوڑھے شیشوں پر آن ٹھہری۔نوشہ بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ اور اس کی نظر ٹھہر جائے۔آج نوشے کے آٹھ بیٹے خود دادا نانا بن رہے ہیں ۔کوئی گلہ بان یے تو کوئی صوبیداری کی ریٹائرمنٹ گزار رہا ہے۔کوئی امارات میں ملازم ہے اور کوئی کہیں کاروبار سے منسلک ۔ لیکن جینز اور ڈی این اے کا باغی کسی نہ کسی شکل میں موجود رہتا ہے۔ جب کبھی چاچے سے ملنے جاتا ہوں وہ اپنے پوتے بارے فکر مند ہے جس کا یارانہ رسہ گیروں دادا گیروں کے ساتھ ہونے لگا ہے اور ایک دو بار پولیس اس کا پوچھنے آ چکی ہے۔
بچوں کے لئے باپ کا اب موچی خانے پہ جا کر بیٹھنا گوارا نہیں مگر چاچے کی مونچھ کے رعب سے آج بھی دبتے ہیں۔
گھر جا کر ہمسائے میں مرشدی خاندان کی قبروں کی رکھوالی کرتا ہے۔ مرشد کے دیے روزگار پر قانع شاکر اور خوش ہے۔
مرشد کے ہاتھوں سے مس شدہ موتیوں کو گلے میں پہنے مست ہے
اور مرشد کی چرائی عینکوں سے دنیا دیکھنا پسند کرتا ہے
نمّا نمّا مسکراتا ہے
اور مسکراہٹ آنکھوں تک چھلک جائے تو کہتا ہے
استاد جی ایہہ آخری چوری سی جہیڑی کیتی اے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post