غزل : ع ۔ع ۔عالم

سلسلہء زماں سے پہلے تھا
آ دمی دو جہاں سے پہلے تھا

آ ج  تک  ٹوٹنے  نہیں  پایا
جو تعلق گماں سے پہلے تھا

تو  نے  محبوس کر دیا  ورنہ!
میں تو ہر جا، یہاں سے پہلے تھا

میں محبت کی بھیک مانگوں گا
یہ  تصور زیاں  سے  پہلے  تھا

تو نشاں دیکھ کر سمجھتا نہیں
کہ نشاں گر، نشاں سے پہلے تھا

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post