غزل : رانا سرفراز طاہر

تم نے وہ پینٹنگ تو دیکھی ہے ؟
چاند ہے میں ہوں بند کھڑکی ہے
ہونٹ جلنے لگے ہیں چسکی سے
اس کے ہاتھوں سے چائے پی لی ہے
لوگ حیران ہو رہے ہیں کیوں
اس کی تصویر ہی تو کھینچی ہے
ایسا لگتا ہے کہ ہوا نے بھی
کوئی پاذیب پہن رکھی ہے
ہے بصارت کا امتحاں یہ بھی
وہ مرے من میں جھانک سکتی ہے؟
بوجھتے بوجھتے میں تھک ہارا
ہر نیا دن نئی پہیلی ہے
اپنے اور میرے بیچ میں اس نے
ایک دیوار سی بنا دی ہے
اک صراطِ خلوص ہے طاہر
جو سڑک میرے گاؤں جاتی ہے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post