بچا لیتی ہے آگے بڑھ کے مجھ کو عاجزی میری : یوسف خالد

انوکھا درد ہے سب سے جدا ہے سرخوشی میری
ہوئی ہے ایک ایسی زندگی سے دوستی میری

مری گفتار سے کھلتا نہیں ہے مدعا میرا
مرے عیب و ہنر کی ترجماں ہے خامشی میری

تعجب کیا جو مجھ میں باغیانہ سوچ پلتی ہے
مری مٹی میں ہی گوندھی گئی تھی سرکشی میری

مثالِ بیج ہیں امکان کی پرتیں مرے اندر
کسی ان دیکھی دنیا کا سفر ہے زندگی میری

مرے لفظوں کی خوشبو سے مہکتی ہے مری ہستی
فروزاں ہے مرے لہجے سے ہر دم راستی میری

زمانہ جب بھی مجھ سے بر سرِ پیکار ہوتا ہے
بچا لیتی ہے آگے بڑھ کے مجھ کو عاجزی میری

صباحت میری آنکھوں میں اترتی ہے تسلسل سے
مناظر سے رہی ہے عمر بھر وابستگی میری

رخِ گل پر تھرکتے اوس قطروں کی کہانی ہے
متاعِ لمحہءِ موجود ہے یہ ان کہی میری

محبت نے عطا کی ہے کچھ ایسی عاجزی مجھ کو
ہراساں ہر گھڑی رہتی ہے مجھ سے خود سری میری

You might also like
Loading...