جا کر کسی خلیج میں حائل نہیں ہوئی
یہ ریت تھی عجیب جو ساحل نہیں ہوئی

سارے جواز تیرے بہت دلنشین ہیں
پر میں کسی بھی بات کی قائل نہیں ہوئی

اس بار فصل کو تھے مسائل زمیں سے بھی
بے وقت بارشوں سے ہی زائل نہیں ہوئی

ہر ایک جملہ اسکا بہت کاٹ دار تھا
لیکن میں اسکی باتوں سے گھائل نہیں ہوئی

مدت سے کھینچتی تھی وہ اپنی طرف مجھے
زنجیر پھر بھی پاؤں کی پائل نہیں ہوئی

سب کو ہرا کے ہار گئی اپنے آپ سے
کس نے کہا کہ خود کے مقابل نہیں ہوئی

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post