”چاک پہ دھری مہرو“… چند تاثرات : ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

نثری نظم کی صنف میں مہر زیدی کا شمار اہم شعرا میں کیا جا سکتا ہے۔ ان کی نظمیں زندگی کے لطیف جذبات،ارفع کیفیات اور پر اثر احساسات کو محیط ہیں۔ان کی شعری کائنات سماجی اورمعاشرتی صورت ِ حال کے ساتھ ساتھ داخلی کیفیات،احساسات اور جذبات کی ترجمان ہے۔ان کی شاعری زندگی کی عمیق بصیرتوں کی عکاس ہے۔وہ اپنے مزاج،رنگِ طبیعت اور تفکر کے اعتبار سے ترقی پسند اور انسان دوست ہیں۔ظلم،جبر،نا انصافی اور استحصال کے خلاف ان کی آواز کوکسی صورت خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔وہ ایک حساس اور جذبہ انسانیت سے معمور شاعرہ ہیں کیوں زندگی کے ہر لمحے میں انھوں نے ہمیشہ مثبت اقدار کا ساتھ دیا ہے اور خواہش کی ہے کہ مثبت اقدار زندگی کے جملہ شعبہ جات میں رواج پا ئیں۔ اپنی شاعری اور فن کے توسط سے انھوں نے مثبت اقدار کو عام کرنے کی خاطر عمر بھر جدو جہد کی۔یہی ان کے شاعری اور فن کا نصب العین اور حقیقی مقصد ہے۔”چاک پہ دھری مہرو“ کی تمام نظمیں ان کے اس آدرش کی عکاس ہیں:
کیا یہی وہ لوگ ہیں بے شرم عریاں
جو کرتے ہیں آج بھی عورتوں کو عریاں
جیسے مائی مختاراں
اور آج وہ اللہ وسائی
جس کو اللہ نے خود ہے بسایا
اور اس کی بارہ سالہ معصوم بیٹی
دونوں کو ہے رب نے بنایا
اور یہ ان کی چادریں کھینچنے والے
کیا یہی ہیں انسان؟ (میری ردا واپس دے دو)
شاعری محض سننے کے لیے نہیں ہوتی بلکہ اسے جذباتی طور پر محسوس کیا جاتا ہے۔محسوسات اور جذبات جب لفظوں میں ڈھلتے ہیں تو دماغ میں تخیلاتی سطح پرپیکر تشکیل پذیر ہوتے ہیں۔ جو شاعر جس خوبی اور مہارت سے پیکر تراشتا ہے وہ اُتنی خوبی اوردلکشی سے اپنے قاری کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ڈاکٹر مہر زیدی کی نظموں میں بھی لفظی پیکر جس خوبی اور جانکاوی سے تراشے گئے ہیں، قاری ان کو جذباتی سطح پر نہ صرف محسوس کرتا ہے بلکہ باطنی آنکھ سے انھیں دیکھنے کی صلاحیت سے بھی بہرہ ور ہوتا ہے۔ یوں وہ اردو کی نثری نظم میں پیکر تراشنے یا امیجز تشکیل دینے والی ایسی شاعرہ ہیں کہ ان کی شاعری سے صرفِ نظر نہیں کیا جا سکتا۔پیکر تراشی الفاظ کے بے جا استعمال سے بچاتی ہے۔شاعر کا کام ہی یہی ہے کہ وہ الفاظ کے اصراف سے گریز کرے اورطول بیانی کے بجائے ایجاز و اختصار سے کام لے۔طول بیانی سے خطابت میں تو دلکشی پیدا کی جا سکتی ہے لیکن اچھی شاعری اس کی متحمل نہیں ہو سکتی۔یہی وجہ ہے کہ وہ اشاراتی انداز کو شاعری کا حسن خیال کرتی ہیں اوراس اشاراتی انداز کے ساتھ ساتھ وہ شعر کے روایتی محاسن مثلاً استعارہ،تشبیہ اورمجاز مرسل کو بھی ملحوظ خاطر رکھتی ہیں۔اس لیے لفظ ان کے ہاں بڑی مہارت اورخوب صورتی سے استعمال ہوتا ہے اور وہ بڑے سے بڑا خیال سہل اور عام فہم انداز میں بیان کر جاتی ہیں جس سے ابہام اور ایہام کی گنجایش باقی نہیں رہ جاتی۔سادگی،سلاست،روانی اورقطعیت کے باوجود وہ استعاروں اور تشبیہیوں کے استعمال سے بخوبی واقف ہیں:
ہم حشرات الارض کی طرح ہیں
دوسری دنیا والوں کی نظر میں
کوئی دین ہم پر مکمل نہیں ہوتا
کوئی مذہب ہمیں راستا نہیں دیتا
ہم ان کی گرم ریت میں بناتے ہیں
اونچے بد نما محل
اور مرتے رہتے ہیں
فرعونوں کے کمیوں کی طرح (فرعونوں کے کمی)
”چاک پہ دھری مہرو“کی نظموں کا خمیرعصری صورتِ حال اورذات کی پنہائیوں میں جنم لینے والی کیفیات کے ادغام سے اٹھتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری میں زندگی اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔دکھ،سکھ، محبتیں،نفرتیں،خواہشیں اور معصوم جذبے اپنی اپنی جھلک دکھاتے نظر آتے ہیں۔انسانوں اور انسانوں سے منسلک اشیا سے محبت کرنے والی شاعرہ گداز دل اور لطیف جذبوں سے لبریز ہے جسے دنیا بھر کے تمام انسانوں کے دکھ ذاتی محسوس ہوتے ہیں اوریہ جذبہ انھیں داخلیت سے خارجیت کی جانب محوَ سفر رکھتا ہے۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ ان کی شاعری احساس کے صحراؤں میں محض جمالیاتی پھول کاشت کرنے کا نام نہیں بلکہ فرسودہ،پامال اور از کاررفتہ روایات،نظریات اور تفکرات کی جدید خطوط پر استواری کا نام ہے۔ان کی شاعری جذبات کی شدت سے معمور معاشرتی تعمیر کی مشعل جلائے اندھیروں کو روشنی میں تبدیل کرنے کا موجب بنتی دکھائی دیتی ہے جو انسانی ہمدردی کے ارفع جذبے کے ساتھ ساتھ رجائیت اور امید کاپیغام اپنے دامن میں سمیٹے نظر آتی ہے۔عموماً خیال کیا جاتا ہے کہ نثری نظم کا سہارا وہ لوگ لیتے ہیں جن کے ہاں ترتیب، ترنم،نغمگی،غنائیت اور آہنگ کا فقدان ہوتا ہے۔مگر مہر زیدی کے ہاں ایسا نہیں ہے،ان کے ہاں مذکورہ خصوصیات اپنی پوری آب و تاب اورجملہ لوازمات کے ساتھ موجود ہیں۔مثالیں ملاحظہ ہوں:
یہ چمکیلی،پیلی،نشیلی دھوپ اسے نہیں چھوڑتی
وہ اس کی جھکی ہوئی پیٹھ پر چپک گئی ہے
بالکل اس پری کی طرح جودل میں اتر جاتی ہے
اس کا سایہ اب اس کے آگے بھاگنے لگا ہے
اس کی اڑان سے آگے
وہ اپنے سائے کو پکڑنا نہیں چاہتی
وہ اسے بھول کر پیچھے چھوڑ دینا چاتی ہے
اس پوری حسین دھوپ کا مزا لینا چاہتی ہے
جواس کی زندگی میں روشن ہے
بھڑک رہی ہے۔“ (چمکیلی دھوپ)
”چاک پہ دھری مہرو“ کی بیشتر نظمیں نسائی حسیت کی آئینہ دار ہیں جن میں خارجی اور داخلی صداقتیں ایک دوسرے میں ممزوج ہو کر ہماری بصارت اور بصیرت کی تاریکیوں کو روشن کرتی چلی جاتی ہیں۔یوں ان کی شاعری کا کینوس محدود ہونے کے بجائے وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا جاتا ہے۔ان کی ابتدائی نظموں میں نو بلوغیت کے نسوانی جذبات کی دلپذیر عکاسی ملتی ہے اور جیسے جیسے ان کا مطالعہ،مشاہدہ اور تجربہ نشو ونما پاتا چلا گیا ہے ویسے ویسے ان کی شاعری احساسات کی نزاکت، فکرکی ارفعیت،متانت اور دانش مندی کے عناصر سے مملو ہوتی چلی گئی ہے۔ان کی شاعری نہ صرف خواتین کے مسائل کا بیان ہے بلکہ عورت کے شعورِ ذات کی آئینہ دار بھی ہے۔عورت میں فطرت کی طرف سے بعض ایسی خوبیاں ودیعت کی گئی ہیں جن سے مرد محروم ہیں جیسے جذباتیت،ایثار و قربانی، وفا،ممتا،رقیق القلبی اورجذبہ ہمدردی وغیرہ۔یہ جذبات اگرچہ مردوں میں موجود ہیں لیکن عورتوں میں ان کی شدت زیادہ پائی جاتی ہے۔یہ جذبات خالص فطری نہیں ہوتے ان میں معاشرے کا کلیدی کردار ہوتا ہے جس کا ثبوت ہمیں مشرقی اور مغربی معاشرے کی عورت کے تقابل سے واضح ہو جاتا ہے۔نسائی حسیت سے مرادعورت جس انداز سے زندگی کو دیکھتی اور بسر کرتی ہے وہ مرد سے مختلف ہے۔عورت کا تعلق ہمارے اس معاشرے میں زمان و مکان سے مرد کی نسبت مختلف اور منفرد ہے اس لیے عورت کے دن رات،معاملات اور مسائل بھی مختلف ہیں۔وہ اپنی نفسی ساخت کے حوالے سے فطرت کے تمام مظاہر کو اپنے انداز سے محسوس کرتی ہے۔اس میں صدیوں کے روایتی تلازمات کا عمل دخل بھی ہے اور جدید دور کے مخصوص حالات اور تغیرات کا تعلق بھی ہے۔وہ جب روشنیوں، خوشبووں، رنگوں، ذائقوں اورموسموں کا تجربہ کرتی ہے تو اس میں ممتاجیسا گداز جذبہ،وفا شعاری اور رقیق القلبی ایسے جذبات بھی شامل ہوجاتے ہیں جب کہ مرد اس سے مختلف انداز میں سوچتا ہے۔ مہر زیدی کی نظموں میں عورت کے مخصوص جذبات اور ان کے تلازمات پوری طاقت اور توانائی کے ساتھ موجود ہیں۔نسائی جذبے کے اظہار کی کچھ مثالیں ملاحظہ ہوں:
ویران ہے پیار کا سونا مندر
ہیں امید کے سائے جالاجالا
جپے ہے وہ بس اک دکھ کی مالا
جوگن جوگن رانجھا رانجھا
بھول گئی ہے وہ سوہنی ہیر
کتنے ساون بیت چکے ہیں
جب کھلا تھا دل کا دروازہ (دل درواز اور سنگھار)
ایک اور مثال ملاحظہ ہو:
مجھے عورت نہ سمجھ
مجھے اوتار سمجھ
یہی اوتار جسے پوج کر تو
شاید پاجائے ازل کی خوش بو
تیرے ذہن کے جالوں کے بنے جامے میں
شاید آجائے انسانی پسینے کی بہار
شاید تیری اس بند وادی کے قریب
کوئی بہنے لگے ایک تازہ آبشار (بوسیدہ مخلوق)
مہر زیدی کی نظمیں نسائیت اور تانیثیت دونوں سطح پر عورت کی ذات کی عکاسی کرتی ہیں۔نسائیت کا تعلق عورت کی جذباتی حسیت سے ہے جب کہ تانیثیت کا تعلق عورت کی فکری حسیت سے ہے۔نسوانیت اور نو بلوغیت سے تعلق رکھنے والے جذبات کو نسائیت کا نام دیا جا سکتا ہے۔مہر زیدی کی ابتدائی نظموں میں نسائی جذبات کوابھارنے والا شدید جذبہ موجود ہے جو مہرزیدی کا ذاتی جذبہ ہے جو ان کے منفرد اُسلوب میں نمایاں ہوا ہے۔ان نظموں میں جذبات کا بہاؤ،احساسات کی شدت،کسی کو چاہنے کی بے انت کامنا،اپنی ذات کے خول کو توڑ کر باہر نکلنے کی خواہش اورجذباتی زندگی کی ناکامیوں کا اظہارواضح طور پر ملتا ہے۔غنائیت اور لہجے کا اتار چڑھاؤ بھی ا ن نظموں میں موجود ہے۔”سبز شامیں“،”پیار کی کشتی“،”پاگل پیار“،”مجھ سے ملنے کا بہانہ“ اور”جھیل سیف الملوک کا بوسہ“وغیرہ جیسی نظموں کو مثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ان نظموں میں جن جذبات کا اظہار ہوا ہے، اس سے پہلے اردو شاعری میں کئی شعرا ان پہ خامہ فرسائی کر چکے ہیں لیکن خاص بات یہ ہے کہ یہ جذبات ایک باشعور عورت کی قلم سے آشکار ہوئے ہیں اور یہ بات سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے کہ عورت بھی اپنے دھڑکتے دل میں لطیف احساسات و جذبات رکھتی ہے اور انھیں بیان کرنے کا حوصلہ بھی اس میں موجود ہے۔
اس نے کہا چہرہ دکھا
میں تصویر بن کے رہ گئی
اس نے کہا کتھا سنا
میں کہانی بن کے رہ گئی
اس نے کہا کالی گھٹا
میری زلف کھل کے رہ گئی (ریت پر نشانِ خاک)
مشرق کے معاشرے میں جہاں عورت کا طرزِزندگی مرد کے مقابلے میں مختلف ہے۔زندگی کے اکثر معاملات میں مرد کو فوقیت حاصل ہے،جہاں شادی بیاہ جیسے اہم فیصلے عورت کی مرضی کے بغیر کر لیے جاتے ہیں۔ایسی معاشرت میں نسائی جذبات کا اظہارشجرِ ممنوعہ کو چکھنے کے مترادف نہ ہو تو کیا ہو؟عشق و محبت تو فطری اور الوہی جذبہ ہے جس سے دامن بچانا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے لیکن مہر زیدی اپنے محسوسات و جذبات، شاعری کے روپ میں ایسے بیان کر جاتی ہیں کہ وہ تجربہ صرف ان کا تجربہ نہیں بلکہ ایک عام عورت کا تجربہ بن کر سامنے آتا ہے۔وہ احساس کو اپنے ہمدم کی دلربا ادا سے موسوم کرتی ہیں جس نے گھٹن آلودفضا کو صیقل کر کے گزشتہ برسوں کا حبس دھو دیا ہے، وہ محبوب کے احساس کو اپنی خمار آلود سانس، زندگی کی بقا، پُر امید بہار، عہدِ وفا، زندگی کی صدااور دل کی دھڑکن کی نوا خیال کرتی ہیں،وہ اپنے محبوب کا خیال بننا چاہتی ہیں جو آنکھوں میں چمک پیدا کرتا ہے اور انگلیوں میں سیاہی بن کے قلم کے ذریعے دل کے پاس رہتا ہے:
میں تمھارا خیال بننا چاہتی ہوں
جو تمھاری آنکھوں کو چمک دیتا ہے
تمھاری انگلیوں سے سیاہی بن کے چمکتا ہے
اور تمھارے قلم کے ذریعے
تمھارے دل کے پاس رہتا ہے تمھاری کتاب بن کر (سورج کا بوسہ)
مہر زیدی کی شاعری میں تشبہیں،استعارے، علامتیں اور محاکات اپنے منفرد انداز میں یوں استعمال ہوئے ہیں کہ بیانیہ کی ندرت نے ایسا تاثر تخلیق کیا ہے کہ قاری اس سے مسحور ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مہر زیدی کے علاوہ پروین شاکر،فہمیدہ ریاض،کشور ناہید،ساجدہ زیدی،سارا شگفتہ،زہرا نگاہ اور عذرا عباس وغیرہ نے بھی نسائیت کو موضوع بنایا ہے مگر ان کے لب و لہجے میں فرق ہے۔ان کے ہاں نسائی جذبات بغاوت اور جنگ میں تبدیل ہو جاتے ہیں جب کہ مہر زیدی تحکمانہ لب و لہجے کو اختیار نہیں کرتی بلکہ دوستانہ انداز میں اپنے خیالات کی جانب مائل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کے نزدیک عورت اور مرد زندگی کے ہم سفر ہیں اور سماج کی ترقی اور ارتقا کا دارو مداردونوں کی برا بری اور ہم آہنگی پر مبنی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post