”مستقبل کا انسان“ … ایک تعارف : ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

  1. پروفیسر لورین آئزلے کا تعلق امریکا کی سرزمین سے تھا جہاں اس نے ماہر بشریات حیاتیاتی سائنس دان اور فلسفی کی حیثیت سے اپنی شناخت مستحکم کی۔ 1950ء سے 1970 تک یونیورسٹی آف پینی سلوانیا میں بشریات اور سائنسی تاریخ کی تدریسی ذمہ داری نبھانے کے ساتھ ساتھ، وہ متعدد پروفیشنل سو سائٹیز کے ممبر رہے۔ ان کی قابلیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے،کئی جامعات نے انھیں اعزازی ڈگریوں سے نوازا۔اس کی تحریریں ارفع تخیل اور پر شکوہ اسلوب کی حامل ہونے کے باعث نہ صرف علما کے طبقے میں معروف ہوئیں بلکہ عوام نے بھی اس سے اخذ و استفاضہ کیا۔انھیں امریکا کے مؤقر جریدے ”پبلشر ویکلی“ نے اپنے عہد کا ”جدید تھو ریو“(Modern Thoreue)قرار دیا۔ان کی پہلی کتا ب”The Immense Journey”جو 1946ء میں اشاعت پذیر ہوئی، نے اسے اعتبار بخشا اور اس کے بعدکتب کا طویل سلسلہ چل نکلا۔بشریات اور ارتقا ان کے مرغوب مو ضوعات ہیں، چناں چہ اس ضمن میں ان کے مضامین اور کتب نے عالم گیر شہرت حاصل کی۔Darwin’s Century, The Unexpected Universe, The Night Country, اور اس کی یاداشتوں پر مشتمل کتاب All the Strange Hoursزیادہ مقبول ہوئیں۔
    پروفیسر لورین آئزلے کی کتاب The Immense Journeyکو سید قاسم محمود نے ”مستقبل کا انسان“ کے عنوان سے1959 میں ترجمہ کر کے کلاسیک،لاہور سے شایع کیا۔سید قاسم محمود علمی و ادبی حلقوں میں مترجم، مدیر اور افسانہ نگار کی حیثیت سے اپنی خاص پہچان رکھتے ہیں۔”دیوار پتھر کی“،”قاسم کی مہندی“ اور”وصیت نامہ“ ان کے افسانوں کے مجموعے ہیں۔انھوں نے لیل ونہار، صحیفہ،کتاب،سیارہ ڈائجسٹ،ادب لطیف،افسانہ ڈائجسٹ،سائنس میگزین اورقافلہ ایسے جراید کی ادارت کی اوراس کے علاوہ انسائیکلو پیڈیا فلکیات،انسائیکلوپیڈیا ایجادات،انسائیکلو پیڈیاپاکستانیکا اوراسلامی انسائیکلو پیڈیا بھی شایع کیے۔
    ”مستقبل کا انسان“(The Immense Journey)بشریات کو موضوع بناتی ہے۔بشریات اور ارضیات دونوں ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ علمِ بشراپنی تحقیقات کو ارضیات سے موافق اور ہم آہنگ کر کے انسان کی ابتدا اورارتقا کا کھوج لگاتا ہے۔علوم کی مذکورہ شاخیں ایک دوسرے سے اتنی قریب ہیں کہ انھیں بعض مقامات پر الگ کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ایک شاخ کی تحقیق کے نتائج دوسری کے نتائج پر اثر انداز ہوتے ہیں۔بشریات کو مسائل کے مطالعہ کے لیے جو خام مواد میسر ہوتا ہے وہ ارضیات کا ہی مرہونِ منت ہے۔ان دونوں شاخوں کے بطن سے ”معدومیات“(Palaeontology)نے جنم لیاہے۔دراصل فوسلز کے مطالعہ سے گذشتہ زندگی کے آثار دریافت کرنے کا علم ”معدومیات“ ہے جس میں معدوم پودوں اور جانوروں کی زندگی کا مطالعہ کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے طبقیات(Stratigraphy)اپنا بھر پور کردار ادا کرتی ہے۔کرہ ارض پر زندگی کے ارتقا کو معرض ِ تفہیم میں لانے کے لیے سائنس دانوں نے اسے مختلف ادوار میں تقسیم کر رکھا ہے:
    ”ابتدائی زمانہ“(Azoic) جسے چٹانوں کا زمانہ بھی کہا جاتا ہے۔ اس زمانے میں زندگی کے آثار نہیں پائے جاتے۔اس زمانے کی بابت خیال کیا جاتا ہے کہ یہ سولہ ارب سال پر پھیلا ہوا ہے۔ابتدائی زمانے کے بعدوالا عہد ”پہلا زمانہ“(Paleozoic)کہلاتا ہے جب کرہ ارض پر زندگی کے اثرات نمودار ہونا شروع ہو گئے تھے اور زندگی ابھی سادہ اور ابتدائی شکل میں موجود تھی۔ اس کے بعد ”دوسرا زمانہ“(Mesozoic)شروع ہوتا ہے جو پہلے زمانے سے اسی کروڑ سال پہلے پیدا ہوا۔ اس دور میں زمین کا درجہ حرارت بڑھا، ہوا میں نمی پیدا ہوئی اورنئی قسم کے پودے اور جانور نمودار ہوئے۔بشر یاتی تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوسرے زمانے کے بعد لاکھوں سال تک طبقات الارضی ذخیرے میں خلا ہے۔اس دوران میں زندگی کن مراحل سے گزری اس کے بارے میں سائنس دانوں کو کچھ معلوم نہیں۔”تیسرا زمانہ“ (Cainozic)جب شروع ہوا تو اس سے پہلے برف کی شدت میں کمی ہوئی اورنباتی اور حیوانی زندگی نمودار ہوئی، موسموں کا آغاز ہوا۔سردیوں میں پتے جھڑنے لگے اوربہار میں درخت سر سبز اور شاداب ہونے لگے۔ میمالیا کا آغاز ہواجن میں محبت اور ہمدردی کے جذبات ہونے کی وجہ سے معاشرت کا تصور ابھرا۔پرندے بھی اسی دور میں ظہور پذیر ہوئے۔اس دور کے وسط میں برف کے یکے بعد دیگرے چار ادوار گزرے جنھیں ”برف کا زمانہ“(Ice Age)کہا جاتا ہے۔پچاس ہزار سال پہلے جب برف کے چوتھے دور کا خاتمہ ہوا تو ہماری دنیاکی موجودہ شکل سامنے آئی۔اسی عہد میں سائنس دانوں کو Rhodesianکا کھوج ملتا ہے۔یہ انسان نما مخلوق برف کے چوتھے دور کے بعد کئی ہزار سال تک موجود رہی۔ اس بعد قبل تاریخی انسان(Prehistoric Man)کا ظہور ہواجو چار لاکھ سال پیشتر تھا۔بشریات کے ماہرین نے انسان کے نمودار ہونے سے لے کر اس کے تہذیبی اظہار کے زمانے کو ”قبل از تاریخ“ کا زمانہ کہا ہے۔مصر اور بابل کی تہذیب انسانی تاریخ کا باب ہے۔ اس سے پہلے تاریخ خاموش ہے۔اس سے قبل انسانی حالات کو جاننے کے لیے ہڈیوں،شکاری آلات،ڈھانچوں،تصویروں اور ان غاروں کا مطالعہ ناگزیر ہے جہاں ”قبل از تاریخ“کے زمانے کے انسان نے زندگی کے ایام بسر کیے۔موجودہ انسان سے پہلے آدم نما،نینڈرتھل کا سراغ ملتا ہے جن کے ہاں آگ کا استعمال،پتھر کے اوزار اور برتن بنانے کا فن رواج پا چکا تھا۔یہ کوتاہ قد اور خمیدہ کمر تھا لیکن ”ہومو سیپین“ دراز قد اور راست کمر کا حامل تھا۔ انسان نے ترقی کی اور وہ تہذیب و ثقافت کے سانچوں میں ڈھلتا چلا گیا۔انسان کی قدیم ترین ثقافت کو Aurignacianسے موسوم کیا جاتا ہے۔اس دور میں آرٹ کا آغاز ہوا۔پتھر کے ہتھیار بنائے گئے۔دس ہزار سال پہلے انسان کی تاریخ نے کروٹ بدلی اور اس نے کھیتی باڑی کا فن سیکھ لیا۔ گندم اور دیگر نباتات کاشت کی جانے لگیں،غلہ بانی کا آغاز بھی اسی دور کی یاد گار ہے۔دریاوں کے کنارے بستیاں آباد ہونے لگیں اورنئے انسان کی تہذیب و تمدن کا آغاز ہوا۔ مصر کی تہذیب کو قدیم ترین تہذیب خیال کیا جاتا ہے جہاں خاندان، قبیلے اور دیگر معاشرتی طبقات کا تصور ابھرا۔ دنیا کے دیگر علاقوں مثلاً عراق، ایران، ہندستان اور چین میں بھی دریاؤں کے کناروں پر تہذیبوں کا ظہور ہوا۔
    پروفیسر لورین آئزلے کی یہ کتاب پہلی بار 1946ء میں منظر عام پر آئی جس میں اس نے خیالات کے اظہار کے لیے شاعرانہ انداز اختیار کیا۔ وہ انسانی ذات میں مخفی سچائیوں کو استعاراتی اور تشبیہی انداز میں یوں بیان کرتا ہے کہ جیسے قاری سائنس یا فلسفے کی کتاب نہیں بلکہ کوئی ادبی تحریر بڑھ رہا ہو۔وہ انسان کی ابتدا کو کائنات کی حقیقتوں سے ہم آہنگ کر کے پیش کرنے کا فن خوب جانتا ہے۔اس کی تحریروں میں ڈرامائی عناصر کا استعمال فراوانی سے ملتا ہے جس کی مدد سے وہ قاری کے ذہنوں میں ہلچل پیدا کر کے نئے سوالات چھوڑ جاتا ہے جن پر تفکر کیے بغیر قاری کے پاس کوئی چارا نہیں ہو تا۔وہ کائنات کو وسعتوں کو بیان کر کے انسان کو حیرت میں مبتلا کر دیتا ہے۔وہ اپنے ذاتی تجربات، احساسات اور جذبات میں قاری کو شریک کر لیتا ہے اور تخیل کی مدد سے ان زمانوں اور خطوں کی سیر کراتا ہے جہاں عام ذہن کی رسائی ممکن نہیں،یہی اختصاص اسے دیگر سائنس دانوں کی تحریروں سے ممیز کرتا ہے۔اس نے مذکورہ کتاب میں انسان کے ارتقائی سفر کو زمان و مکاں کی وسیع جہات میں سرمستی،پُراسرریت اور بے ثباتی کے دائروں میں تکمیل کے مراحل سے گزارا ہے۔زندگی سیال مادے کے مانند ہے جو سرعت سے آگے کی جانب محوِ سفر ہے،زندگی ایک نا مختتم کہانی ہے جو جاری ہے اور جاری رہے گی، کہانی اور کہانی کار دونوں وقت کی قید سے ماورا ہیں،کہانی بیان ہو رہی ہے جو ایک نسل سے دوسری نسل میں سفر کر جاتی ہے،ہم کہانی کار کے بارے میں بہت کم جانتے ہیں۔آئزلے کے نزدیک اگرانسان کے داخل میں جھانکا جائے تو اس میں وسیع وعریض جنگل ہے جہاں کئی حیرتیں مضمر ہیں،ثبات ناپید ہے،ہر طرف تغیر ہی تغیر دکھائی پڑتا ہے۔

You might also like
  1. گمنام says

    کافی محنت سے مضمون لکھا گیا ہے۔ لگتا ہے مصنف کو اس موضوع پر عبور حاصل ہے۔ اس کے علاوہ تحریر کا اسلوب بھی متاثرکن ہے۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post