’’طلب کے لمحے‘‘ از ڈاکٹر زاہد منیر عامر : پروفیسرمجاہدحسین

اُردو کے مشہور محقق، ادیب، شاعر اور معلم پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ آپ دبستانِ لاہور کے علمی اور ادبی حلقوں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ ایشیا کی سب سے بڑی درس گاہ جامعہ پنجاب میں بطور پروفیسر (اردو زبان و ادب) اپنے تدریسی فرائض انجام دے رہے ہیں۔آپ پنجاب یونی ورسٹی میںانسٹی ٹیوٹ آف اردو لینگوئج اینڈ لٹریچر کے پہلے ڈائریکٹر ہیں۔ انھوں نے بے شمار موضوعات پر قلم فرسائی کی ۔ ان کی ہر ایک تصنیف ان کے فن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اقبال کے حوالے سے ان کا کام ان کی علم دوستی کی سند ہے۔ انھوں نے مولانا ظفر علی خان کے حوالے سے ایسے موضوعات پر قلم اٹھایا جس سے ادبی دنیا اس سے پہلے نا آشنا تھی۔ مکاتیب ظفر علی خان کی دریافت، ترتیب اور تدوین کے حوالے سے ڈاکٹر صاحب نے جو کارہائے نمایاں انجام دیے وہ ان کی ظفر شناسی کی عمدہ مثال ہیں۔طلب کے لمحے ڈاکٹرصاحب کی نئی کتاب ہے جس میں انھوں نے مشاہیر کے زمانہ طالب علمی کے دلچسپ واقعات کو موضوع بنایاگیاہے۔تاریخ میں جگہ بنانے کاسفراس کتاب کا موضوع ہے۔
ہر ایک قوم کے پاس افراد کا ایک خاص گروہ ہوتا ہے جو ِان کے لیے مثالی وجود کا حامل ہوتا ہے ۔ ان افراد کی تعداد گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی اورکم ہوتی رہتی ہے۔ کسی اور قوم کی طرح مسلمانانِ ہند کے پاس بھی مشاہیرکا ایک گروہ ہے جن کی کوشش کا نتیجہ مملکتِ خدادادِ پاکستان ہے جس کی تشکیل میں یہ شخصیات مرکزی کردار کی حامل ہیں۔ مشاہیر جس طرح مختلف نظریات کے حامل ہوتے ہیں اسی طرح وہ مختلف مکاتبِ فکر کے لوگوں کو بھاتے ہیں۔ کہیں گاندھی مقبول ہوتا ہے تو کہیں جناح شہرت کے بام کو پہنچ جاتاہے۔
ان مشاہیر کا عملی کردار اور کاوشیں ایک طرف، وہ سفر جو انھوں نے اس مقام تک رسائی کے لیے طے کیا ہوتا ہے سمجھنا بڑا ضروری ہے۔ چوں کہ اک خاص وقفۂ عمر جو کہ جذبات سے لبریز ہوتا ہے، حرفِ عام میں جسے جوانی کہتے ہیں اس دنیا کے ہر ایک شخص کے تجربات کا جزو لاینفک ہوتا ہے۔ مگر ایسی کیا بات وقوع پذیر ہوتی ہے کہ ان مشاہیر کے زمانۂ شباب میں ان کی عملی زندگی آنے والی نسلوں کے لیے اِک مشعلِ راہ ہو جاتی ہے ۔
مولاناوحیدالدین خان کاکہنا ہے’’موجودہ زمانے کے مسلمانوں کے المیہ کو اگر اک لفظ میں بتانا ہوتووہ اسلامی رومانویت ہوگا۔موجودہ زمانے کے تمام مسلمانوں ایسی اسلامی رومانویت میں جی رہے ہیں ۔جس میں ماضی میں گزری ہوئی مسلم شخصیتوں کی کہانیاں،کشف وکرامات کے قصے ،جہاد کے واقعات اور مفروضہ معیاری نظام وغیرہ۔انھی روایات نے زمانہ ء حال کے مسلمانوں کی ذہن سازی کی ہے۔ہرمسلمان کاذہن اسی کشمکش میں مبتلا ہے کہ ماضی کی عظمتِ رفتہ کو کس طرح دوبارہ حاصل کیا جائے۔زمانہ حاضر میں مسلم قوم کا تقریباََـہرفرداسی تگ و دو میں ہے کہ کس طرح اس خوش فہمی کو عملی جامہ پہنایاجائے۔اب نتیجہ کے طورپہ صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ مسلمانانِ عالم حقیقت پسندی سے کوسوں دورجاچکے ہیں۔وہ مفروضات میں جیتے ہیں،خیالوں میں ہوائی قلعے تعمیرکرتے ہیں اور توہم پرستانہ عقائد سے سہارے کی بھیک مانگتے ہیں‘‘۔ڈاکٹرزاہدمنیرعامرکااسلوب مولاناکے اس بیان کی نفع کرتانظرآتاہے۔انھوں نے بڑے سادہ اندازمیں یہ بات سمجھائی ہے کہ ہم اپنے اکابرین کی زندگی سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔انھوں قارئین کو مشاہیر کے دورِ طالبِ علمی سے آگاہ کیاہے۔ان کا اسلوب دلچسپ اور انفرادیت کا حامل ہے۔
اس کتاب میں رہبرِ بے مثل جناب سر سید احمد خاں، الطاف حسین حالی، علامہ شبلی نعمانی، علامہ اقبال، قائد اعظم، محمد علی جوہر، عبید اللہ مذہبی، حسرت موہانی، ظفر علی خان، چودھری افضل الحق اور محترم احسان دانش کے زمانہ تگ و دو کو بیان کیا گیا ہے۔ اس بات کا اور ہماری نوجوان نسل کے مسائل کا، جو اسے آج دورِ حاضر میں درپیش ہیں بڑا گہرا تعلق ہے۔ اسی تعلق کی وضاحت کے لیے وطن عزیز کے ایک نامور دانش ور و ادیب کے قلم کی جنبش قابل قادر ہے جس کا نام ’طلب کے لمحے‘ مشاہیر کا دور طالب علمی ہے۔ یہ جسارت جناب زاہد منیر عامر کی جانب سے کی گئی ہے اور اس کا مرکزی خیال کچھ یوں ہو سکتا ہے کہ تاریخ اور اخلاقی اسباق کا اک ملغوبہ ہے جو کہ مسلمانانِ ہند کے کچھ عظیم الشان افراد کے ادوارِ طالب علمی کی روداد ہے۔
تاریخ اگر اسباق سے بھرپور نہ ہو تو وہ بے رنگ اور بے وقعت ہوگی۔ اس کے برعکس اگر یہی تاریخ اپنے اندر انتہا کی حد تک سود مند واقعات سمائے ہوتو اس کی قدر و قیمت انمول ہو جاتی ہے۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی، میں اس کتاب کو کہوں گا۔ چوں کہ اسباق اقوام کے لیے ہوتے ہیں اسی وجہ سے محترم زاہد منیر عامر صاحب نے ان اسباق کو ایک ترتیب دی تا کہ ان سے وسیع تر فائدہ حاصل ہو سکے۔
اکثر عملی زندگی میں کامیابی، نوجوانی کے دور کے کچھ مختلف تجربات اور غیر روایتی روّیہ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ آج میں بطور نمائندہ نوجوان نسل، اس بات کا شاہد ہوں کہ جس طرح کے مسائل کا اک نوجوان کو اکثر سامنا رہتا ہے اس کے حل کے لیے اِک ایسے نسخے کی ضرورت ہے جو کہ ہمارے مشاہیر کے عملی کارناموں کی بجائے ان کے زمانۂ طالب علمی کی روداد ہو تا کہ خاص اس دور سے ہم مستفید ہو سکیں ا ور اپنے مسائل کا ادراک کر سکیں۔
زمانۂ جوانی اور طالب علمی بڑے نازک مرحلے ہیں اور ان کی نزاکت اس وجہ سے بھی بڑی اہم ہے کہ یہ ادوار مستقبل کا فیصلہ کرتے ہیں اور نوجوانوں کے اندر اکثر جو خلا موجود ہوتا ہے، کامیابی کے حصول کی حکمت عملی کو لے کر اگر اس کو پُر نہ کیا جائے تو مستقبل کے تاریک ہونے کے خدشات واضح ہو جاتے ہیں۔ جوانی اک بے مثل جذبے کا نام ہے اور اس جذبے کا مفید تر استعمال، ایسا استعمال جو انفرادی اور قومی ضروریات کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو، مستقبل میں کامیابی کی ضمانت ہے۔
غیر اہم چیزوں پر جذبے ضائع کرنا، اک ناسور کے طور پر آج کے طالب علم نوجوان کی زندگی کا عنصر بن گیا ہے۔ اسی مسئلے کے خاص اِدراک کے لیے ایسی کتاب جس کا عنوان بتایا گیا ہے، بہترین نسخہ ہے۔
اس کتاب کے آخری حصہ میں مصنف نے چند با کمال ادبی لوگوں کی بیش قیمتی آرابھی درج کی ہیں جو دورِ حاضر کے نوجوانوں اور ان کے انفرادی و قومی کردار اور درپیش مسائل کے حوالے سے ایک ٹانک کا درجہ رکھتی ہے۔ ان میں مولانامحمدحنیف ندوی،مختارمسعود،احمدندیم قاسمی،ڈاکٹروزیرآغا،پروفیسرنظیرصدیقی،مرزاادیب جیسے نامور ادباشامل ہیں۔امید کرتاہوں زیربحث کتاب ادبی دنیامیںجلداپنامقام حاصل کرلے گی۔
٭٭٭

You might also like
  1. ڈاکٹر ریاض توحیدی کشمیری says

    بہترین۔۔۔ معلومات افزا مضمون۔۔۔۔ مبارک باد

  2. شبیر احمد قادری says

    بہت خوب مجاہد حسین صاحب ! آپ کا مضمون اختصار کے باوصف جامع ہے اور اصل متن کی تشویق پیدا کرتا ہے ،
    ڈاکٹر زاہد منیر عامر صاحب کے لیے نئ کتاب کی اشاعت پر حرف تحسین و تبریک ،
    ایک بات:
    ڈاکٹر زاہد کی “جسارت ” والی بات سمجھ میں نہیں آئ !

    شبیر احمد قادری ، فیصل آباد ، 03006643887

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post