صائمہ جبیں مہک کے نعتیہ مجموعے”عشقِ احمد” کا اجمالی جائزہ: نویدملک

(لاک ڈاون اور شاعری)

موجودہ ادبی ماحول میں اوریجنل تخلیق کاروں کو بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے۔صائمہ جبیں مہک کا شمار بھی انھی شاعرات میں ہوتا ہے جو فن کو سمجھنے کے بعد قلم پر بھروسہ کرتی ہیں۔یہی بھروسہ انھیں دوسروں سے منفرد کرتا ہے۔ جب ان کی نثر ی نظمیں شائع ہوئیں تو اُس وقت مجھے معلوم تھا کہ یہ فنِ شاعری سیکھ رہی ہیں لیکن یا د رہے فن شاعرنہیں بناتا البتہ شاعر کو فن سیکھنا پڑتا ہے۔اس شاعرہ نے فن سیکھا اور پھر عشقِ احمد ؐ کے نام سے نعتیہ شاعری کا آغاز کیا۔اس مبارک شعری سفر میں ایسی شاعرہ رواں دواں ہے جسے معلوم ہے کہ تخلیقِ کائنات کے بعد اگر مصورِ کائنات کے احکامات کی پیروی کی جائے گی تب ہی دنیا کی خوبصورتیوں میں اضافہ ہو گا ۔مصورِ کائنات نے” لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنہ” فرما کر راہِ ہدایت کے سارے راستے اجال دیے۔شاعرہ نے بھی سچے عشق کی ترجمانی کرتے ہوئے کیا خوب کیا ہے؛
حق کا رستہ مرے محمدؐ کا
عشق سچا مرے محمدؐ کا
مصورِ کائنات نے انسان کو عقل و دانش سے نواز کر بامقصد زندگی گزارنے کے لیے دنیا میں بھیجا۔با مقصد لوگ بھیڑ سے گزرتے ہوئے، شور شرابے میں اپنے قدموں کی چاپ بھی سن لیتے ہیں۔ اس نعتیہ مجموعے میں کئی اشعار ایسے ہیں جو عشقِ احمد کے عملی تقاضوں کی طرف اشارا کرتے ہوئے مثبت سوچ پروان چڑھانے کا تقاضا کرتے ہیں۔
روشنی آپ سے جہاں میں ہوئی
سب اجالا مرے محمدؐ کا
یہ اجالا تب ہی ہو گا جب چراغ سے چراغ جلیں گے ورنہ انسان کائنات میں تباہ و برباد ہو جائے گا جس کے امکانات موجودہ حالات میں اہلِ بصارت کو نظر آ رہے ہیں۔نعت لکھنا توفیق کی بات ہے۔میں کچھ ایسے شعرا کو بھی جانتا ہوں جو بہترین نعتیں لکھ سکتے ہیں مگر وہ کسی اور صنف میں کسی اور مقصد کے تحت ٹائم پاس کر رہے ہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ وہ غلط کر رہے ہیں، پسند کا شعبہ اپنانا انفراد ی حق ہے مگر اتنا ضرور کہوں گا کہ اللہ کی دی ہوئی نعمتوں سے استفادہ کرنا چاہیے ورنہ ناشکری انھیں فیل بھی کر سکتی ہے۔
اس مجموعے میں شاعرہ نے فن پر گرفت رکھی، مختلف بحروں کا چناؤ کیا۔ ان کی شاعری میں کئی امکانات روشن ہیں۔میرے نزدیک تخلیق کار کو تین ادوار سے گزرنا پڑتا ہے۔پہلے دور میں تخلیق کار فن سیکھتا ہے۔دوسرے دور میں غیر ارادی طور پر ملے جلے تاثرات پر مشتمل شاعری منظرِ عام پرآتی ہے اور تیسرا دور اپنا اسلوب تراش کر انفرادیت قائم کرنے کا ہوتا ہے۔بد قسمتی سے ان گنت شعرا دوسرے دور سے نکل نہیں پا رہے جس کی وجہ سے قارئین کتاب سے دور ہو گئے ہیں۔کتاب نہ خریدنے کی ایک وجہ الکیٹرانک میڈیا کی ترقی ہے مگر دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ کتابوں کے ٹائٹلز پر محنت کی جاتی ہے ، تخلیقات پر نہیں۔کتاب خریدنے والے کو گھر جا کر پیسے ضائع کرنے کا احساس ہوتا ہے۔ڈائجسٹ، جنتریاں، ناول وغیرہ آج بھی فروخت ہو رہے ہیں۔صرف شاعری پر ہی “لاک ڈاؤن” کی کیفیت ہے۔صائمہ جبیں نے سفر کا آغاز کیا ہے مگر ان کے کئی اشعار بتا رہے ہیں کہ اُن شاعرات یا شعراء کی فہرست میں ان کا نام نہیں ہو گا جو دوسرے دور میں ہی دنیائے فانی سے رخصت فرمانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
مبارک کلام پر میری طرف سے مبارک باد اور کچھ اشعار آپ احباب کے لیے
دل کی آواز بھی سن لیں گے یقیں ہے مجھ کو
میرے لفظوں کی صدا آپؐ ہیں میرے آقاؐ
۔
قلم نور سے لکھتا جاتا ہے نعتیں
تخیل کو میرے جلا مل رہی ہے
۔
عشقِ احمد ہی سہارا ہے مرا
ڈوبتے دل کا کنارا ہے مرا
مل گئے منظر سخن کو بھی حسیں
خلد جیسا ہر نظارا ہے مرا
۔
خزاں کے موسم بدل گئے آگئیں بہاریں
یہ رونقیں آپ سے جہاں بھر میں تازگی ہے
۔
میرے دل کی صدا ہے مدینہ
رحمتوں کی گھٹا ہے مدینہ
ہیں مدینے میں جنت کے منظر
بابِ رحمت کھلا ہے مدینہ
۔
آنکھ روتی ہوئی یاد کرتی ہوئی
اک سمندر غموں کا ہے بہتا ہوا
جو پلٹتے ہیں عمرہ سے حج سے کبھی
ملنے جاتا ہے دل رشک کرتا ہوا

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post