سوانح سرسیّد…ایک بازدیداز پروفیسر شافع قدوائی : پروفیسرمجاہد حسین

(ایک جائزہ)

زیرِنظر کتاب سوانح سر سید …ایک بازدید پروفیسر شافع قدوائی کی تصنیف ہے جو اکتوبر ۲۰۱۸ء کو مجلس ترقیِ ادب لاہورسے شائع ہوئی ۔ پروفیسر شافع قدوائی کا تعلق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ہے اور شعبۂ ترسیلِ عامہ میں پروفیسر ہونے کے علاوہ انھوں نے ایک عالم اور ادبی نقاد کے طور پر خصوصی مقام حاصل کیا ہے۔ اس کتاب میں پروفیسر قدوائی نے خصوصی طور پر ہندوستانی مسلمانوں کے لئے جدیدیت کے امکانات کے متلاشی کے طور پر سر سید کے رول کا جائزہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے لکھا ہے کہ سر سید نے ہر لحظہ تبدیل پذیر معاشرتی حقائق کو سمجھنے کے لئے ایک جدید روّیے کی آبیاری پر خاصی محنت کی اور انھوں نے روایت پسندی اور ظلمت پسندی کو ردّ کرتے ہوئے تجسس کے جذبے کی تائید کی۔ مذکورہ کتاب “Cementing Ethics with Modernism” کے عنوان سے گیا پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی سے شائع ہوئی ہے۔
پروفیسر قدوائی کے مطابق سر سید نے اس مقصد کو پیش نظر رکھ کر صحافت کے میدان میں قدم رکھا اور دو جرائد ـ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ اور ’تہذیب اخلاق‘ جاری کیے جو انیسویں صدی میں جدیدیت کے سرگرم نقیب ثابت ہوئے اور ان رسائل نے ہندوستان کے تیزی سے اُبھرتے ہوئے متوسط طبقے پر گہرے اثرات مرتب کئے۔ اس طرح ہندوستان میں منصہ شہود پر آتی ہوئی صحافت کا منظر نامہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر قدوائی نے اپنے مطالعے کو ان دو جرائد پر مرکوز کیا ہے جو درحقیقت سر سید کی قائم کردہ سائنٹفک سوسائٹی کا کارنامہ تھے۔

سائنٹفک سوسائٹی کا قیام ۹ جنوری ۱۸۶۴ء کو عمل میں آیا تھا جس کا مقصد آرٹس اور سائنس کے اہم شاہکاروں کو اردو میں منتقل کرنا تھا۔ اس مقصد کے عین مطابق اس نے ہفتہ وار ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ جاری کیا جو اُردو انگریزی دونوں زبانوں میں جاری ہوا تھا اور اسی مناسبت سے اس کا نام ’اخبار سائنٹفک سوسائٹی‘ بھی تھا۔
مذکورہ رسالے کے صفحات پر بکھرے ہوئے مختلف موضوعات کا احاطہ پیش کرتے ہوئے پروفیسر قدوائی نے خاص طور سے سر سید کے مضمون بعنوان ’تعلیمِ نسواں: ایک قومی ضرورت‘ کا حوالہ پیش کیا ہے۔ انھوں نے اس مضمون سے ایک اقتباس بھی نقل کیا ہے جس میں سرسید نے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ:
’’ہمیں سب سے پہلے اپنی خواتین کو تعلیم سے بہرہ ور بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔‘‘
پروفیسر قدوائی کا اُن لوگوں کو ایک سخت جواب ہے جو سرسید پر صنفی تعصب کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ’تہذیب الاخلاق‘ کی اشاعت ۱۸۷۰ء میں شروع ہوئی اور اس کا پہلا شمارہ ۲۵ دسمبر کو منظر عام پر آیا۔ اگرچہ اس رسالے کو عام طور سے اُردو رسالہ سمجھا جاتا ہے لیکن جیسا کہ پروفیسر قدوائی نے لکھا ہے، یہ ایک انگریزی۔اردو ہفت روزہ تھا اور اس کے دو نام تھے۔ ان میں سے اس کا انگریزی نام ’محمڈن سوشل رفارمر‘ تھا۔ یہ درست ہے کہ ’تہذیب الاخلاق‘ بنیادی طور پر ایک اُردو رسالہ تھا لیکن اہم مسائل پر انگریزی مضامین بھی اس میں شامل کئے جاتے تھے۔ یہ رسالہ دراصل ایک نظریاتی پرچہ تھا جس میں اخلاق و اطوار سے لے کر مابعد الطبیعات اور جدید سائنس سے متعلق مضامین بھی شامل ہوتے تھے۔ زیادہ تر مضامین خود سرسید کے تحریر کردہ ہوتے تھے اور دیگر لوگ جن کے مضامین رسالے میں شائع ہوتے تھے۔
کتاب کا اصلی موضوع ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ اور ’تہذیب الاخلاق‘ میں شائع شدہ سر سید احمد خاں کی تحریروں کا جائزہ اور ان کی تعینِ قدر ہے۔ پیش لفظ میں سرسید کے سوانح اور کارنامے اور ان کی ابتدائی صحافتی کاوشوں کا ذکر کیا گیا ہے اور آخر میں ان تحریروں کی روشنی میں سر سید کے ذہن کو سمجھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ چونکہ پروفیسر شافع قدوائی مسلم یونیورسٹی کے شعبہ Mass Communication میں استاد ہیں اس لیے انھوں نے بجا طور پر سر سید کی صحافت کو اپنی توجہ کا مرکز بنایا ہے اور ان کے ذریعے ان کے ذہن کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ ہمارے خیال سے یہ سر سید کی شخصیت کا ایسا گوشہ ہے جس پر ابھی تک پوری توجہ نہیں دی گئی تھی۔ اگرچہ پروفیسر اصغر عباس نے ان کی صحافت پر اُردو میں لکھا ہے۔ ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ‘ اور ’تہذیب الاخلاق‘ میں شائع شدہ سر سید کی تحریروں کا گہرا مطالعہ کیے بغیر ان کے سیاسی، تہذیبی، تعلیمی ، ادبی، اخلاقی اور مذہبی افکار کو پوری طرح سے سمجھنا اور ان کے ذہن کے محرکات تک صحیح طور پر پہنچنا ممکن نہیں ہے۔
سر سید کی نثر کو ہم اعلیٰ درجے کی نثر نہیں قرار دے سکتے، اگرچہ خود مصنف نے یہ بھی وضاحت کر دی ہے کہ سرسید کا اصلی مقصد انشا پردازی نہیں تھا بلکہ ان کے لئے زبان وسیلۂ کار تھی۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ان کے ہم عصروں میں اعلیٰ درجے کی نثر کے دو نادر نمونے خواجہ حالی اور علامہ شبلی نے پیش کر دیے ہیں اور بعد میں آنے والے ان دونوں ہی میں سے کسی ایک کی راہ پر چلے ہیں۔ ہمارے نزدیک اس کتاب کی سب سے بڑی خصوصیت یہی ہے کہ سر سید کی صحافتی زندگی اور اس میدان میں ان کے کارناموں سے اتنی شرح و بسط اور اس ژرف نگارہی سے پہلی مرتبہ بحث کی گئی ہے۔ اس وقت علی گڑھ میں سر سید پر جو اہل علم و قلم کام کر رہے ہیں انھوں نے نئی نئی راہیں تلاش کی ہیں۔ پروفیسر قدوائی نے اس میں جرنلزم کا اضافہ کیا ہے۔
اس کتاب کی برعظیم کے علمی و ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی ہو رہی ہے۔ “Aligarh’s First Generation Muslim Solidarity with British” کے مصنف پروفیسر ڈیوڈ لیلی ولڈ نے اس کتاب میں شامل ’علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ گزٹ‘ اور ’تہذیب الاخلاق‘ کے تفصیلی مطالعے کو سر سید شناسی کی سب سے اہم کوشش قرار دیا ہے۔ معروف افسانہ نگار انتظار حسین نے پاکستان کے مشہور انگریزی اخبار The Dawn میں اس کتاب پر ایک کالم لکھا۔ ’دی ہندو‘، ’دی انڈین ایکسپریس‘، ’دی پائنیر‘ اور ’مسلم بک ریویو‘ (لندن) میں اس کتاب پر توصیفی تبصرے شائع کئے گئے۔ اردو میں بھی متعدد اہم ادیبوں نے اس کتاب پر اظہار خیال کیا۔ پروفیسر ریاض الرحمن شروانی نے ’کانفرنس گزٹ‘ میں تبصرہ لکھا اور محقق ڈاکٹر صفدر امام قادری نے رسالہ ’آمد‘ میں اس پر ایک تفصیلی مضمون لکھا۔
پروفیسر قدوائی نے اس کتاب میں ان کی ملازمت اور ان کے علمی، ادبی ، ثقافتی، تعلیمی اور مذہبی سروکاروں کو ایک وسیع تر سیاق میں واضح کیا ہے اور حالی سمیت سر سید کے دیگر سوانح نگاروں کے تسامحات اور سر سید سے متعلق ان مفروضوں کی بھی قرار واقعی تردید کی ہے جنھوں نے مسلمات کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔
’حیات جاوید‘ سر سید کے انتقال کے بعد ۱۹۰۱ء میں شائع ہوئی اور یہی کتاب ۱۹۰۱ء کے بعد سر سید سے متعلق تمام کتابوں کا بنیادی ماخذ ہے۔ ماہرینِ سر سیدنے جن میں ملک کے ممتاز مؤرخ بھی شامل ہیں ’حیات جاوید‘ کو کبھی تحقیقی Cross Reference کا معروض نہیں بنایا، لہذا حالیؔ کے اندراجات، بطور خاص سر سید کی سوانح سے متعلق ان کے بیانات، مسلمہ صداقت کے طور پر معروف ہو گئے ہیں۔ پروفیسر شافع قدوائی نے سر سید کی صحافت کو اپنے تحقیقی مقالے کا عنوان بنایا اور کوشش کی کہ سرسید کی صحافت کے تمام حوالوں کا مبسوط مطالعہ کیا جائے۔ سر سید کی صحافت کے نام پر عموماً علی گڑھ انسٹی ٹیوٹ‘ یا پھر ’تہذیب الاخلاق‘ کا ہی ذکر کیا جاتا تھا۔ سر سید نے ۱۸۶۰ء میں ایک شش ماہی رسالہ ’خیر خواہانِ مسلمانان‘ نکالا اور ایک فارسی اخبار ’زُبدۃ الاخبار‘ سے بھی منسلک رہے۔ نیز ’اودھ اخبار‘ اور دیگر اخباروں میں بھی ان کے مضامین تواتر کے ساتھ شائع ہوتے رہے۔ ’سید الاخبار‘ سے ان کے تعلق کی نوعیت کیا تھی ان امور کو بھی موضوع مطالعہ بنایا گیا۔ تحقیقی مقالے کا اوّلین پہلو سر سید کی سوانح سے متعلق تھا۔ راقم نے جب سر سید کی سوانح کے متعلق حالی کے بیانات کی سر سید کے اپنے اندراجات یا معاصر شہادتوں سے توثیق چاہی تو نتیجہ غیر متوقع طور پر منفی نکلا۔ ’حیات جاوید‘ کا سوانح حیات کے مرکزی حوالے سے انکار کرنا کتمانِ شہادت سے مترادف ہے، مگر یوں بھی ہے کہ سوانح سر سید کے ضمن میں حالی نے تحقیقی معروضیت کا لحاظ نہیں رکھا۔
اسی طرح سر سید کے نانا خواجہ فرید الدین سے متعلق تفصیلات کے بیان میں بھی اغلاط راہ پا گئی ہیں۔ مصنفنے کوشش کی کہ سر سید کی سوانح کے ریکارڈ کو جہاں تک ممکن ہو درست کر دیا جائے اور ان ثبوتوں کو یکجا کر دیا جائے جن سے اب تک مطالعاتِ سر سید میں صرفِ نظر کیا جاتا رہا ہے۔

 

You might also like
  1. یوسف خالد says

    بہت قابلِ تحسین کام

  2. شبیر احمد قادری says

    مجاہد حسین صاحب آپ نے ایک کتاب سے بہ حسن و خوبی متعارف کرایا ہے ، سر سید سے آپ کی دلچسپی بہت دیرینہ ہے ، آپ کی اپنی کتاب بھی بہت شان دار ہے ۔ آپ نے پروفیسر شافع قدوائ کی کتاب کے مشتملات و مندرجات کو سراہتے ہوۓ اس سر سید تحقیق کے ذیل میں عمدہ اضافہ قرار دیا ہے ، حالی کی ” حیات جاوید” کے بارے آپ کی راۓ بہت اہمیت کی حامل ہے ، علمی اختلاف مدلل ہو اور شائستگی کو ملحوظ خاطر رکھا جاۓ تو جچتا ہے ۔ آپ کے مضامین پڑھ کر خوشی ہوتی ہے ، آپ کے مطالعات میں سنجیدگی اور متانت کے عناصر لایق ستائش ہیں ۔

  3. ڈاکٹر عبدالعزیز ملک says

    عمدہ اور شاندار تعارف

  4. ڈاکٹر عبدالعزیز ملک says

    شاندار اور عمدہ تعارف ۔۔۔۔۔

  5. Hafiz Safwan Muhammad Chohan says

    بہت اچھا تعارف کرایا کتاب ہے۔ یہ بہت ضروری کتاب ہے۔

  6. Javed ch says

    بہت ہی عمدہ لکھا گیا ہے

Reply To Javed ch
Cancel Reply

Leave Your Comments for this Post