زرافہ اور لمبی لڑکی اور کچھ بے ترتیب کہانیاں : خالد معین

خالد معین
خالد معین
ادب میں مقابلے کی بات کرنا زرا معیوب سی بات لگتی ہے حالاں کہ اسی مقابلے اور تجزیے کی روشنی میں ایک سے موضوع پر دو چیزوں میں کسی تک امتیاز کیا جا سکتا ہے ۔دل تو بہت چاہتا تھا کہ اس مختصر سے جائزے کا عنوان ِزرافہ اور لمبی لڑکی بہ مقابلہ کچھ بے بترتیب سی کہانیاں ٗ رکھوں مگر خیال ِ خاطر ِ احباب کے سبب ایسا نہ کر سکا تاہم آپ چاہیں تواسے اسی عنوان کے تحت پڑھ سکتے ہیں ۔
اجمل اعجازسینیر ہونے کے باوجود میرے لیے ایک نئے افسانہ نگار ہیں ،اس کا بنیادی سبب اُن کا حیدر آباد ،سندھ میں زندگی گزارنا ہے ۔ویسے تو کراچی بھی اب اتنا پھیل چکا ہے کہ یہاں کے شعرا اور ادیبوں کو مکمل طور پر جاننے کا دعوا نہیں کیا جاسکتا ۔خیر ! اجمل ایاز سے میری پہلی ملاقات گزشتہ دنوں انجمن ترقی پسند مصنفین،کراچی کی ایک تقریب میں ہوئی ۔اتفاق سے یہ تقریب اس تنظیم کے سکرٹری اور معروف کہانی کار ارشد رضوی کی دوسری کتاب ّکچھ بے ترتیب کہانیاں ٗ کے اعزاز میں سجائی گئی تھی ۔اجمل صاحب نے وہاں ارشدرضوی کی کتاب پر ایک مختصر سا مضمون پڑھا تھا ،جو اچھا تھا اور وہیں، اُنہوں نے اپنی کتاب ّزرافہ اور لمبی لڑکی ٗ بھی عنایت کیا ۔
عید کی چھٹیوں میں اور کتابوں کے علاوہ ان دونوں کتابوں کو کسی حد تک پڑھنے کا موقع ملا ۔مجھے اعتراف ہے کہ اجمل ایاز کی کتاب کے نام کی انفرادیت اور رومانس کی وجہ سے ،میں نے اُن کی کتاب پہلے پڑھنے کا ارادہ کیا ۔تاہم تین افسانے پڑھ کر اتنا بور ہوا کہ مزید افسانے نہیں پڑھ سکا ۔اس کے بعد ارشد رضوی کو جم کر پڑھا اور کئی دن تک اس کتاب کے سحرمیں ڈوبا رہا ۔اجمل صاحب کا مسئلہ ڈائجسٹ کی سطح والا محسوس ہوا ۔پہلا افسانہ دو نرسوں کے حوالے سے ہے ،اور خاصا فلمی ہے ،جو دو سہلیوں کے قریب آنے اور ایک سہیلی کے حسن وجمال کے بیان کے ساتھ وہاں کے خوب رو ڈاکٹر کے دل ہارنے کی کشمکش کو آگے بڑھاتا ہے ،تاہم افسانے میں ایک ڈرامائی ٹوئسٹ بھی آتا ہے اور افسانہ ایک جھکٹے کے ساتھ اس فلمی موڑ پر ختم ہوتا ہے کہ وہ حسین نرس اچانک لڑکی سے ایک آپریشن کے زریعے لڑکا بن جاتی ہے اور اپنی سہیلی سے شادی کی درخواست بھی کرتی ہے اور دوسری نرس اس تبدیل شدہ ڈرامائی صورت ِ حال کو قبول کرتے ہوئے ،اسپتال کے بیڈ پر لڑکی نما لڑکے کے لمبے ریشمی بالوں کو کٹوانے کا مشورہ دیتی ہے ۔یہ سارا بیانیہ انتہائی بھونڈے انداز میں رقم کیا گیا کیوں کہ جن لڑکوں میں لڑکیوں جیسے رجحانات ہوتے ہیں ،وہ نوعمری سے واضح ہونے لگتے ہیں ،اسی طرح جن لڑکیوں میں مردانہ پن ہوتا ہے ،وہ بھی چھپائے نہیں چھپتا ۔پھر اس طرح کے آپریشن اچانک آٹھ دس میں نہیں ہوتے ،ان کے لیے طویل وقت درکار ہوتا ہے،تفصیلی میڈیکل رپوٹوں کے بعد ایسا کیا جاتا ہے ۔دوسرا افسانہ ایک مزدور کا ہے ،جو کام نہ ملنے کے سبب بھوکا ہے اور ایک حادثے میں ،جہاں چند بے حس لوگ حادثے کے شکار لوگوں کا قیمتی سامان چرانے میں مصروف ہیں ،وہ مزدور ایک ڈبل روٹی چرانے پر جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ۔یہ افسانہ بھی کسی تاثر اور فنی پختگی سے عاری ہے ۔تیسرا افسانہ ایک ایسے آدمی کا ہے جو ایک مخصوص ہیر ڈریسر سے بال کٹوانے جاتا ہے اور ٹپ کے طور پر بیس روپے بال کاٹنے والے کو دیتا ہے ،جب اُسے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ہیر ڈریسر بیمار ہے تو ازرہ ئ ہم دردی پچاس روپے کی ٹپ دیتا ہے ،اس کے بعد آیندہ آنے پر جب وہ بیمار ہیر ڈریسر سو روپے کی ٹپ مانگتا ہے ،تو وہ آدمی بغیر ٹپ دیے چلا جاتا ہے ۔اس افسانے میں بھی بڑی عجلت سے کام لیا گیا ہے اور جس کرب کا اظہار مقصود تھا ،وہ کرب نمایاں ہی نہیں ہو سکا ،یعنی ایک طے شدہ آغاز ،وسط اور انجام کا بے سود ترکا لگانے کی کوشش کی گئی ،جو ناکام ثابت ہوئی ،کچھ ایسا ہی حال دیگر اففسانوں کا ہے۔
اب رہی ارشد جاوید رضوی کی کہانیوں کی کتاب ،تو یقینا ً اس کتاب نے حسب ِ توقع مایوس نہیں کیا ۔ارشد رضوی سے اسی کی دہائی میں ممتاز اور بے حد حساس شاعر(مرحوم ) حسنین جعفری کے زریعے ملاقاتیں رہیں ،وہ اسی کی دہائی کے منتخب نوجوان شعرا کی بھیٹر میں واحد کہانی کار تھا ،اس لیے اُسے خصوصی اہمیت حاصل تھی ۔پھر وہ کہانیاں بھی کمال کی لکھتا تھا ۔ملک میں ضیا الحق کا جبریہ دور جاری تھا اور ایسے میں ارشد رضوی کی کہانیوں کی لایعنیت ،اداسی ،وحشت ،ڈر ،خوف ،یکسانیت ،لاتعلقی ،وجودیت ،اجتماعیت سے گریز ،اپنی ذات کے نہاں خانوں میں واہموں اور وسوسوں کے درمیان دھویں ،بدبُو ،نشوں ،موت کی سفاکی ،جینے کی ازیت ،محبت کی ارزانی،جنس کی بے وقتی ،جسمانی اخطلاط کی بے لذتی ،خوابوں اور خیالوں کی بے قیمتی کے ساتھ بے شمار انسانی جذبوں کی رایگانی کے پورے اور ادھورے تماشا کرتے عکسوں کی تصویر کشی نے اُسے تمام دوستوں کا مرکز ِ نگاہ بنا رکھا تھا ۔اسی کی دہائی میں ذاتی طور پر مجھے زیب ازکار حسین اور ارشد رضوی دو ایسے با کمال کہانی کاروں سے متعارف ہونے اور انہیں قریب سے دیکھنے کا موقع ملا ،جو تیس برس کے بعد آج بھی اُسی تازہ کاری اور انفرادیت سے اپنا تخلیقی سفر جاری رکھے ہوئے ،جیسے اسی کی دہائی میں رکھا ہوا تھا ۔
ارشد رضوی بڑا داخلیت پسند کہانی کار ہے ،اُس کے فن پر کافکا کی سفاک داخلیت کے ساتھ عبداللہ حیسن کی بے زار کُن سماجیات کے اثرات واضح طور پر کہیں ہلکے اور گہرے رنگوں میں محسوس کیے جا سکتے ہیں ،تاہم بے پناہ تخلیقی وفور کے حامل ارشد رضوی نے اپنے فن پر کہیں بھی کسی اور کو حاوی نہیں ہونے دیا ہے ،اُس کا بیانیہ اُس کا اپنا ہے ،وہ اپنی ہر کہانی کو اپنے وجود کے رنگا رنگ نگار خانے کے اندر اتر کر اور اپنی حیرتوں ،وحشتوں ،اذیتوں،بے زاریوں ،بے کیفیوں ،مد ہوشیوں،شعوری فرار ،لاشعوری بغاوتوں اور شدید درجے کے اندرونی و بیرونی کرب ناک بہائو کے ساتھ بیان کرتا ہے ۔اُس کی تمام کہانیاں ایک مجموعی کہانی کا عکس نظر آتی ہیں ۔یہ تمام کہانیوں واقعی بے ترتیب ہیں مگر اس بے ترتیبی میں بلا کا حسن بھی ہے اور تخلیقی کشش بھی ہے ۔اُس کی کہانیاں ممکن ہیں عام قاری کے لیے سخت تکلیف کا باعث ہوں ،اور عام قاری ان کہانیوں کی شدید لاتعلقی ،شدید وحشت ،شدید یکسانیت ،شدید منفی رویوں اور شدید ذہنی جھٹکوں کو نہ سہار سکے مگر نفی اور رد کے شدید دھندلکوں کے بیچ بار بار جسمانی اخطلاط کے بے لذت بیانیے سے گزرتے ہوئے ،تاریخ ،معاشرت ،انسانی نفسیات ،عمومی خواہشات اور ان خواہشات کی بے زار کُن مشق،روایتی حسن ،روایتی محبت ،روایتی رومانس اور روایتی اخلاقایات سے انکاری ارشد رضوی اپنے اندر کی صداقت سے نا انصافی نہیں کر سکتا ۔وہ اپنے تخلیقی بیانیے کو اس لیے نہیں بدل سکتا کہ معاشرہ اُس کی کہانیوں کو کس نظر سے دیکھے گا اور نہ ہی وہ مصنوعی رجائیت اور بے ہنگم اثبات کے لیے اپنے آپ اور اپنے قاری سے جھوٹ بول سکتا ہے ۔اس لحاظ سے ارشد رضوی کی کہانیاں ایسی کہانیاں ہیں ،جو اپنے کردار،اپنے بیانیے ،اپنے اسلوب ،اپنی انفرادیت اور اپنی فطری آب وہوا خود اپنے اندر سے لاتی ہیں اور وہ اُنہیں انتہائی اذیت اور بے پناہ سرشاری کے عالم میں ایک نامعلوم تحیر انگیزی میں ڈوبے تخلیقی بہائو کے ساتھ ہمیں سنا دیتا ہے ۔یہی جدید کہانی کا اختصاص بھی ہے ،جو نام نہاد ترقی پسندافسانہ نگاروں کی طرح پہلے سے طے اصولوں پر بھوک ،افلاس،جنس ،انقلاب ،سرمایہ داری کے خلاف موچہ بند ہونے سے کوسوں دور ہے ۔ارشد رضوی ترقی پسند ضرور ہے لیکن وہ اپنے خوابوں ،خیالوں ،عشق ،آوارگی ،آدرش ،زندگی کرنے کے کھلے پن،نفسیاتی رویوں اور اپنی ذات کی گہری پیچدگیوں کو کسی سستے فارمولے کی نذر یقینا ً نہیں کرسکتا ۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post