“خندہ و الم”کی شاعری … چند تاثرات : ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

       شاعری کے ناقدین کا خیال ہے کہ اچھی شاعری کے لیےعلامت،زبان،تشبیہ،استعارہ،ایمائیت،ایجازواختصار،صنعتوں کا استعمال اور متخیلانہ اظہار اتنا ہی ضروری ہے جتناکہ زندگی کے لیے متواترسانس۔اس کے بغیر نہ شاعری لطف دیتی ہے اور نہ شاعرتخلیقی تجربے میں قاری کو شامل کرسکتا ہے۔اگر متذکرہ خصوصیات کے ساتھ وزن بھی موجود ہو تو وہ منظوم شاعری کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔مزید برآں،قافیہ ، ردیف اوربحر،بھی ایسے شعری پیرائے ہیں جو اس میں سُر، آہنگ اورردھم پیدا کرنے میں مدد گار ثابت ہوتے ہیں ۔شاعری کی ایک قسم ایسی بھی ہے جس میں وزن کی ضرورت نہیں ہوتی، اسے نثری شاعری کہا جاتا ہے جو” نثری نظم” یا “نظمِ منثور” کی صورت میں سامنے آئی ہے۔ماضی میں جھانکیں توکلاسیکی ادب میں عموماًنثر تحریر کرتے ہوئے شاعرانہ انداز اختیار کیا جاتا تھاجس کی مثالیں مقفیٰ و مسجع نثر کی صورت میں ہماری داستانوں میں مل جاتی ہیں جس کے بارے میں خیال کیا گیا کہ یہی روایت آگے چل کر نثری نظموں کی بنیاد بنی۔ اردو میں نثری نظم کی روایت کچھ زیادہ قدیم نہیں۔ایک ادبی تحریک کے طور پر اس کا آغاز بیسویں صدی کی چھٹی دہائی سے ہوا۔ لیکن اس کے باوجود گزشتہ کچھ عرصے میں شاعری کی اس صنف نے خاصا رواج پایا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ اس میں شاعر کے لیے خیالات کو پیش کرنے کی آزادی جو یہاں موجود ہے وہ شاعری کی کسی اور صنف میں موجود نہیں۔
محمد فاروق بیگ کی کتاب”خندہ و الم” اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے جس میں نثری نظموں کی صورت میں جذبات و احساسات اورفکر ونظر کو سمویا گیا ہے۔”خندہ و الم”کی بیشتر نظمیں شعری حسیت ،جمالیات اور اظہار کی ہنر مندی کی واضح دلیل ہیں ۔بعض نظموں میں شعور کی رو کے تحت بغیر کسی رکاوٹ کے شاعر نے لطیف جذبات و احساسات کو تخلیقی پیرائے میں یوں بیان کیا ہے کہ قاری کو تخلیق کار کا تجربہ ذاتی محسوس ہونے لگتا ہے۔ان کی شاعری مایوسی ،تنہائی اور مردم بیزاری جیسے منفی جذبات کے بجائے رجائیت ،امید ، انسانیت پسندی اور حُب الوطنی جیسے مثبت جذبات کی عکاس ہے ۔مثلاً ان کی نظم”نئے سال کا ایک ادھورا مکالمہ”سے ایک اقتباس ملاحظہ ہو
“پھر کیا ہوا؟
پھر لڑائیاں ہوئیں
کس کی؟
ہماری ہی
آپس میں
اپنے اپنے گھر بنا لیے
بے چھت کے گھر
اور
دروازے بند کر لیے
ٹی وی کھول لیے
لیپ ٹاپ کی ٹک ٹک
بے آواز بٹنوں کے موبائل
کانوں میں ٹوٹیاں
اور بے خبر ہو گئے
بے حس ہوگئے ۔۔۔مر گئے۔”(خندہ و الم،ص:37)
فاروق بیگ کے مذکورہ شعری مجموعے میں کئی کرداری نظمیں بھی موجود ہیں،نظموں میں کرداروں کے توسط سے خیالات کا اظہار کرنے کا چلن بیسویں صدی کے آغاز میں ہوا جب اقبال نےبراؤننگ کے زیرِ اثر اس تکنیک کو استعمال کیا ۔بعد ازاں جب ٹی ایس ایلیٹ کا معروف مضمون “شاعری کی تین آوازیں” ٗٗ اردو میں ترجمہ ہواتو کرداروں کی حامل شاعری نے بقیہ شاعری پر برتری قایم کر لی۔ جدیدیت سے منسلک شعرا اور ترقی پسند تحریک سے وابستہ شعرا نےکرداری نظموں کی شکل میں تخلیقی اظہار کیا۔نئی شاعری سے ہوتا ہوا یہ سلسلہ دورِ حاضر کے شعرا تک پہنچتا ہے جنھوں نے نہ صرف اس روایت کو زندہ رکھا بلکہ اس میں نئے تجربات کرنے کی کوشش بھی کی ہے۔فاروق بیگ کے اس مجموعے میں “میرے ابا جی”،”مادرِ مہربان”،”بای ذنب قتلت”اور” مرحبا مرحبا مرحبا”ایسی نظمیں ہیں جو باقاعدہ کرداروں کو مدِ نظر رکھ کر تحریر کی گئی ہیں۔ان کے علاوہ بعض نظموں میں کردارصیغہ واحد متکلم میں خود کلامی کرتا دکھائی دیتا ہے۔مجموعے کی کچھ نظموں میں مکالماتی انداز موجود ہے جس میں کردار کبھی قارئین سے تو کبھی خود سے مکالمہ کرتا ہے۔ان کی نظم “طلوعِ صبحِ نو”کا ایک ٹکڑا ملاحظہ ہو جس میں شاعرمخاطب سے یوں ہم کلام ہے:
“سن لو ظالمو
وقت قریب ہے
ابھی سے منزل جان کر ۔۔تم چلانا
ہمیں منزل ہی کی طرف جانا ہے۔”(خندہ و الم،ص:69)
شاعر نے ظالم کو خبردار کرتے ہوئے اُسےجس انداز سے پکارا ہے اس سے مکالماتی انداز پیدا ہو گیا ہے جس سے نظم میں پُر لطف تاثیرکے ساتھ دلکشی اور دلفریبی کا عنصر پیدا ہوا ہے۔اسی طرح نظم” امت کا نوحہ” میں خود کلامی ملاحظہ ہو:
مجھے آج کوئی نوحہ نہیں پڑھنا
نہ ہی مجھے سینہ کوبی کرنی ہے
اتنے سال بیت گئے
نوحہ پڑھتے۔۔
سینہ پیٹتے۔۔
میں نے کیا کیا ہے؟
اپنے حصے کا کتنا کام کیا ہے؟
اپنا فرض ادا کیا ہے؟”(خندہ و الم،ص:42)
کرداروں کی مدد سےکیے جانے والا تخلیقی اظہارزیادہ متاثر کن اور فنی طور پر پختہ ہوتا ہے۔ وہ بہت سی باتیں جو براہِ راست کہنا ممکن نہ ہو لیکن کرداروں کی مدد سے انھیں آسانی سے پیش کیا جا سکتا ہے۔قاری کی نظم میں دلچسپی بھی اس لیے بڑھ جاتی ہے کیوں کہ تجرید تمثیل کی شکل اختیار کر جاتی ہے ۔کرداروں کی پیش کش سے ڈرامائی عناصر بھی نظم میں شامل ہو جاتے ہیں اور ایک طرح ایک کہانی جنم لیتی ہے۔کہانی سے چوں کہ انسان کی فطری رغبت ہےاس لیے اس میں دلچسپی کا عنصر پیدا ہوجاتا ہے۔یہ حربہ اس وقت شاعر زیادہ استعمال کرتا ہے جب وہ کوئی فلسفیانہ،اخلاقی اورمعاشرتی خیالات کا بیان کرنا چاہ رہا ہوتا ہے۔اس کی مثال ہمیں علامہ اقبال کی شاعری میں ملتی ہےجنھوں نے شاعری میں اساطیری، تاریخی ، نیم تاریخی اور تخیلاتی کرداروں کی مدد سے فکر و فلسفہ کو بیان کیا ہے،کرداروں کےاندرونی احساسات اور نفسیاتی کیفیات کا بیان ہمیں ن۔م راشد کے ہاں زیادہ ملتا ہے۔فاروق بیگ نےبھی اپنی نظموں میں خود کلامی اور مکالماتی انداز اختیار کر کے زندگی کے بارے میں اپنا اخلاقی، سماجی اور مذہبی نقطہ نظر پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس حوالے سے “حرم کی ابابیلو”،” عشقِ حقیقی”،”گورکھ دھندا” اور”امت کا نوحہ” وغیرہ جیسی نظمیں مثال کے طور پر پیش کی جاسکتی ہیں۔شاعر کے مکالماتی اور بیانیہ انداز میں تیسری دنیا کے مفلوک الحال عوام کے مسائل اور مشکلات کو خوش اُسلوبی سے بیان کیا گیا ہے۔وہ دورِ حاضر کے راہنماؤں کے منافقانہ پن اوردوغلی زندگی کو طنز و تشنیع کا نشانہ بناتا ہے ۔مثلاً ان کی نظم”غفلت” سے ایک حصہ ملاحظہ ہو:
راہبر کے پیچھے چلے تھے
آنکھیں بند کر کے
نصف صدی گزری
کسی نے جھنجھوڑا
تو پتا چلا
راہزن راہبر کا پتا صاف کر کے
راہنما ہو گیا”(غفلت:ص75)
ان کی کئی نظموں میں ترقی پذیر ممالک کی سیاسی ، سماجی اور تہذیبی صورتِ حال سامنے آئی ہے،شام کی جنگ ہو ، کشمیر کی صورتِ حال ہو یا فلسطین میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم ،ان کے اشارے ان کی نظموں میں موجود ہیں۔وہ بدلتی سیاسی صورتِ حال اور اس کے نتیجے میں وقوع پذیر ہونے والے نتائج سے باخبر ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں میں اس کا اظہار ہوا ہے ۔ان کی نظمیں “آزادی اور گھٹن”،”کش مکش” اور”تازہ بہتا لہو” وغیرہ اس حوالےسے مثال کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں۔مزید براں ان کی شاعری معاصر تعلیمی نظام ، سیاسی نظام اور انسانی بے حسی کو اپنا موضوع بناتی ہے جس پر طویل بحث کی جا سکتی ہے لیکن طوالت کے خدشے سے محض ان موضوعات کا ذکر کر دیا ہے ۔
نثری نظم کہنا کوئی آسان کام نہیں جیسا کہ کچھ لوگوں کا خیال ہےکہ نثری نظم تخلیق کرناسہل کام ہے ۔دیکھا جائے تو اس کے لیے گہرے عصری ، تہذیبی اور سماجی شعور کے ساتھ ساتھ عرفانِ ذات،مطالعے،مشاہدے ، تخلیقی مزاج اورطویل ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔فاروق بیگ کی نظمیں مذکورہ خصوصیات کا اظہار ہی نہیں بلکہ ان میں داخلی آہنگ ، نامیاتی وحدت اورمستحکم علامتی اور استعاراتی نظام موجود ہے جو انھیں ایک پختہ کار شاعر ثابت کرتا ہے ۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post