حامدؔ یزدانی کی ’’گہری شام کی گہری بیلیں‘‘ : ڈاکٹر خورشید رضوی

شعر وسخن سے دلچسپی حامدؔ یزدانی کو ورثے میں ملی چناں چہ شاعری میں حَُسن و قُبح کے بنیادی معیاروں کا شعور تو اُسے‘ شعوری اکتساب کے بغیر‘ صرف گھر کی فضا سے حاصل ہو گیا۔ اس کے بعد پائوں میں چکر اور سَر میں سودائے سُخن کبھی ختم نہ ہو سکا۔ خیر اِس چکر کا یہ فائدہ ہوا کہ نت نئے تجربات نے موروثی قابلیت کے لیے سونے پر سہاگے کا کام کیا اور حامدؔ یزدانی کی شاعری صرف قادر الکلامی اور فنی چابکدستی تک محدود نہ رہی بلکہ ذاتی تجربے کی حدت نے اس میں ایک جدت اور انفرادیت پیدا کر دی۔
پندرہ برس ہونے کو آئے ہیں‘ حامدؔ یزدانی کا اوّلین مجموعہ ’’ابھی اک خواب رہتا ہے‘‘ منظرِ عام پر آیا تھا۔ اس کے حرفِ آغاز میں حامدؔ نے آگ پانی اور ہواا کی طرح شعر‘ عشق اور خواب کو زندگی کے بنیادی عناصر قرار دیا تھا۔ اس اعتبار سے اگر دیکھا جائے تو ’’ایک‘‘ نہیں ’’ہزاروں‘‘ خواب اُس کی آنکھوں میں ہنوز باقی ہیں جنھیں ایک ایک کر کے رہا ہونا ہے۔ ’’گہری شام کی بیلیں‘‘ اِسی نامختتم سلسلے کی دوسری کڑی ہے۔
حامدؔ یزدانی بابِ سخن میں یک فنہ نہیں۔ اُس کے پہلے مجموعے میں بھی نظم اور غزل دونوں کی وہ قوسِ قزح موجود تھی جس میں رُوحِ عصر اپنے ہفت رنگ لہجے میں بولتی تھی۔ اُس نے ٹھیک کہا تھا:
فضائے عصر میں اُڑتا ہوا پرندہ ہوں
ہَوا کے رنگ چھپے میرے بال و پر میں ہیں
زیرِ نظر مجموعے میں اِس دو دھاری تلوار کی کاٹ اور نمایاں ہے۔
حامدؔ کی غزلوں میں روایت کا رچائو اور تلازمات کا دروبست طویل ریاضت کا پتا دیتا ہے‘ مگر تغزل کی یہ کیفیت اُس کی نظم میں دخیل نہیں ہوتی۔ دو سمندروں کے درمیان ایک برزخ کی طرح اُس کے ہاں دونوں صنفوں کے مابین ایک واضح حدِ فاصل ہے جو ایک کے لہجے کو دوسری میں در آنے سے روکتی ہے۔
حامدؔ کی نظم ایک تمثال دار آئینہ ہے جس میں صورت کاری کی تازگی دامنِ دل کھینچتی ہے:
’’…اک سانس ہے
اس پار یا اُس پار
لیکن خواب کی سب کشتیاں
تعبیر کے ساحل سے کب لگتی ہیں
آنکھوں کے بھنور رستے میں پڑتے ہیں
سفر آغاز کر دو
کیا خبر کب
رفتہ رفتہ تتلیوں کے پر نکل آئیں
جھجکتی پتیوں کے بادباں کَھلنے لگیں‘‘
(سفر آغاز ہوگا)
’’چاند کَہرے میں چُھپنے لگا
جھیل کے ٹھہرے پانی پہ بادل اُترنے لگا
اور بے سمت خطے میں بھٹکی ہَوا
بوڑھے قصے سنانے لگی
(کولون)
’’خواب کی پھول سی مٹھیاں‘‘، ’’تتلیوں کے پروں پر لکھا خواب‘‘، ’’درد کی سُرمئی کوچ‘‘ اور ’’عمر آلود مائیں‘‘ جیسی تصویریں اور تعبیریں ایک انوکھے زر کار تخیل کا سُراغ دیتی ہیں۔
دُور دیس جا کر بس جانے والی اکثر آنکھوں کی طرح حامدؔ یزدانی کی آنکھیں بھی بار بار مڑ کر دیکھنے پر مجبور ہیں۔ ’’لاہور کے لیے‘‘، ’’پاپا کے لیے‘‘، ’’احمد ندیم قاسمی کے لیے‘‘ اور ایسی ہی کئی اور نظمیں اسی نگاہِ بازگشت کی آئینہ دار ہیں۔ یہ نظمیں اپنی زمین اور اپنے لوگوں سے جڑے رہنے کی خواہش کا اعلامیہ ہیں۔ تاہم ان کا کینوس محض نوستلجیا‘ یا مَیں اور تُو کے مکالمے سے عبارت نہیں بلکہ ان کی بافت میں خیال و خواب کے ریشمی تار‘ شاخ در شاخ تلازمات پر پھولوں بھری بیلوں کی طرح پھیلتے ہوئے‘ کہیں سے کہیں نکل جاتے ہیں۔
مڑ کر دیکھنے کے علاوہ‘ پردیس کی ایک اور نمایاں کیفیت آئینہ دیکھنے کی ہے جس میں‘ بسا اوقات‘ اپنا چہرہ بھی اجنبی دکھائی دینے لگتا ہے۔ ’’حامدؔ یزدانی‘‘ کے عنوان سے ایک بھرپور نظم اسی کرب کی عکاسی کرتی ہے:
’’اجنبی! تم کون ہو؟
کس خواب سے آئے ہے؟ بولو!
میرے چہرے سے تمھاری شکل کتنی ملتی جلتی ہے
تمھیں دیکھا ہے پہلے بھی کہیں
لیکن کہاں…؟‘‘
(حامد یزدانی)
پردیس کی یہ کیفیتیں حامد کی غزل میں بھی جابجا ملتی ہیں اور ’’آئینہ‘‘ اور ’’خواب‘‘ کی علامتوں میں بار بار اُبھر کر سامنے آتی ہیں:
کچھ تو شکستِ آئنہ وجہِ ملال تھی
کچھ اپنے خدوخال بگڑنے کا دُکھ بھی تھا
حامدؔ کسی پرانے شجر کی طرح ہمیں
دھرتی سے اپنے پائوں اُکھڑنے کا دُکھ بھی تھا
………
میں عکس تلاش کر رہا ہوں
چہرہ مرا آئنوں میں گم ہے
………
عکس تھا یا آئنہ تھا؟ کیا کہیں
اشک سا اک خواب آنکھوں میں رہا
………
رات ساحل سے آ لگی حامدؔ
تم ہو کس خواب کی روانی میں
………
ورائے خواب کُھلا ہے جو بادباں حامدؔ
اُسے ہوا کی ضرورت بہت زیادہ ہے
………
کچھ ایسا بوجھ تھا حامدؔ مری پلکیں نہ اُٹھتی تھیں
کہ آنکھوں پر کسی کے خواب کا احسان رکھا تھا
حامدؔ کی غزل‘ وراثت و تجربہ‘ وہب و اکتساب اور روایت و جدّت کے اُسی سنگم پر… جس کا ذکر ہُوا… ایک خوبصورت توازن برقرار رکھتی نظر آتی ہے۔ سراجؔ اورنگ آبادی کی مشہور زمین میں لکھتے ہوئے وہ ایک طرف کلاسیکی فضا سے پیوست ہو جاتا ہے مگر دوسری طرف ’’زردلان‘‘ جیسی ترکیب اُس کے اپنے زمانے اور اپنے تجربے کا تعین کرتی ہے:
وہ عجیب خالی سے رات تھی‘ غمِ ہجر سے جو بھری رہی
مرے زردلان پہ صبح تک‘ تری چاندنی سی دھری رہی
اس کے ہاں جذبہ‘ تجربہ اور کرافٹ سب یکجان ہو کر ایسی برجستگی سے ظہور کرتا ہے کہ شعر سیدھا دل میں اُتر جانے اور‘ بسا اوقات‘ ضرب المثل کی سی شان اختیار کر جانے کی صلاحیت پیدا کر لیتا ہے:
فسانۂ غمِ دوراں پہ اعتراض نہیں
مگر یہی کہ حقیقت بہت زیادہ ہے
حامدؔ یزدانی کے شاعرانہ خصائص کا تجزیہ کرنے کی اس ادھوری سی کوشش سے دستکش ہوتے ہوئے میں قارئین کو اُس کی صرف ایک مکمل غزل کا حوالہ دینے پر اکتفا کروں گا جو غزل کی روایت پر اُس کی مضبوط گرفت کی بھرپور نمائندگی کرتی ہے۔ مطلع یہ ہے:
مسافروں کو غمِ رفتگاں پکارتا ہے
پسِ غبار کوئی کارواں پکارتا ہے
میں امید کرتا ہوں کہ ’’گہری شام کی بیلیں‘‘ بھی ’’ابھی اک خواب رہتا ہے‘‘ کی طرح اہلِ ذوق میں تحسین کی نگاہ سے دیکھی جائے گی اور حامدؔ یزدانی کی نو بہ نو تخلیقات کا انتظار رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post