’’تلاشِ ہند‘‘از جواہر لعل نہرو : ڈاکٹرعبدالعزیز ملک

( ایک تعارف )

برصغیر کی سیاست میں جواہر لعل نہرو نمایاں حیثیت کے حامل ہیں۔انڈین نیشنل کانگرس کے سر گرم اور متحرک رکن ہونے کی حیثیت سے انھوں نے تحریک ِآزادی میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیااور تقسیم ِ ہندوستان کے بعد تقریباً سترہ سال(1947-1964) تک بھارت کے وزیر اعظم رہے۔ان کا شمار برِ صغیر کے باشعور اور صاحبِ بصیرت راہنماؤں میں ہوتا ہے۔انھوں نے انگلستان کے معتبر تعلیمی اداروں سے نیچرل سائنسز اور قانون کی تعلیم حاصل کی،جن میں کیمبرج اور ہیرو کے نام شامل ہیں ۔انھوں Autobiography,Glimpses of World Historyاور Discovery of Indiaجیسی اہم کتب تصنیف کیں۔’’تلاش ہند‘‘ Discovery of Indiaکا اردو ترجمہ ہے۔یہ کتاب پہلی بار ۱۹۴۶ء میں شایع ہوئی تھی جسے جواہر لعل نہرو نے قلعہ احمد نگر ،مہاراشٹر میں قید کے دوران میں ۱۹۴۲ء تا ۱۹۴۴ء کے عرصے میں تحریر کیا تھا۔
مذکورہ کتاب کے مطالعے سے آشکار ہوتا ہے کہ جواہر لعل نہروکو متحدہ ہندوستان سے بے لوث اور بے حد محبت ہے،کتاب کا ایک ایک ورق جذبۂ حب الوطنی،عوام کے درد کی تڑپ اورمحبت کی حرارت سے لبریز ہے۔اُنھوں نے اس کتاب میں ’’قومیت‘‘ کے تصور کو اُبھارنے کے لیے ہندوستان کی قدیم تاریخ سے کتاب کا سفر شروع کیا جو انگریز حُکومت کے آخری سالوں پر اختتام پذیر ہوتا ہے۔ان کے خیال میںموجودہ دور میںقومیت ہندوستان کے لیے ناگزیر ہے،’’قومیت‘‘ ان محرکات میں سے ایک قوی محرک ہے جو قوموں میں جوش ِ حیات اُبھارنے اور قوتِ عمل پیدا کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔اس کے ساتھ اجتماعی جذبات و احساسات،روایات اور مشترک مقصد کا احساس وابستہ ہوتا ہے جو قوموں میں اتحاد کا باعث بنتا ہے،مذکورہ کتاب میںویدوں،اپنشدوں ،پرانوں اور شاستروںکے حوالوں سے قدیم سماجی پس منظروں اور ان میں وقوع پذیر ہونے والی تبدیلیوں کو منطقی انداز میں بیان کیا ہے جس سے ہندوستان کی تاریخ ،فلسفہ اور ثقافتی خدو خال نمایاں ہوئے ہیں۔قومیت کے تصور کو ابھارنے کے لیے انھوں نے ہندوستانی سورماؤں، راہنماؤں،علم کی متعدد شاخوں،سماجی اقدار اور مذہبی تصورات کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے جس سے مذکورہ کتاب کلاسیک کا درجہ اختیار گئی ہے۔وہ ماضی پرست بن کر سامنے نہیںآئے بلکہ ماضی کی شاندار روایات سے احساس و جذبات کو کشید کر کے عمل کا ولولہ پیدا کیا ہے کیوں کہ احساس اور ولولے کے بغیر قوت کے سر چشمے خشک ہو جاتے ہیں اور زندگی کی سطح پست ہو جاتی ہے۔ہم ماضی کے ہو کر رہ جاتے ہیں اور اس کا جمود ہم میں نفوذ کر جاتا ہے۔اجتماعی حافظہ،وراثت ماحول،تربیت کے اثرات،لاشعوری مہیجات،تصورات اور خیالات سب مل کر عمل کو وجود میں لاتے ہیںجو مستقبل کا تعین کرتا ہے۔اسی لیے نہرو نے ماضی کا سلسلہ موجودہ زمانے کے مسائل سے جوڑنے کی کوشش کی ہے تاکہ قوم میں قوتِ عمل اور جوشِ جذبات پیدا کرکے انھیں جذبہ ٔ آزادی سے معمور کیا جا سکے۔
مذکورہ کتاب دس ابواب پر مشتمل ہے۔ہر باب الگ الگ موضوع کو زیرِ بحث لاتا ہے۔پہلا باب ’’ احمد نگر کا قلعہ‘‘ کے عنوان سے قلم بند کیا گیا ہے۔اس میں انھوں نے ہندوستان کی صورتِ حال ، قلعہ احمد نگر کا حال جہاں انھوں نے بیس ماہ گزارے اور اپنی داخلی کیفیات کا ذکر کرتے ہوئے زندگی کے فلسفے کو بیان کیا ہے۔ دوسراباب ’’ باؤڈن وائلر ۔۔۔لوزان‘‘ کا عنوان لیے ہوئے ہے جس میں انھوں نے اپنی بیوی کملاسے تعلقات ،اس کی وفات اور موت کے بارے میں خیالات کا اظہار کیا گیا ہے۔اس طرح ان کی شخصیت کا وہ پہلو سامنے آتا ہے جس کی طرف توجہ شاذ ونادر ہی جاتی ہے،وہ سیاست دان اورمنتظم سے زیادہ انسان دوست کے روپ میں سامنے آتے ہیں۔اسی باب میں انھوں نے میسولینی سے ملاقات کے بارے میں بھی بیان کیا ہے۔تیسرا باب’’ہندوستان کی تلاش ‘‘کا عنوان لیے ہوئے ہے جس میں ہندوستان کی قدیم تاریخ سے مثالیں پیش کر کے ماضی کا نقشہ لکیر نے کی کوشش کی گئی ہے۔اسی باب سے صحیح معنوں میں ہندوستان کے ماضی کو کھوجنے کا جتن کیا گیا ہے جس میں ہندوستان کی تاریخ کے مناظر،اس کے نشیب و فراز اورفتح و شکست کے قصے موجودہ دور سے ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ اس کا بنیادی مقصد قومیت کے جذبے کو ابھارنا ہے تا کہ انگریز کے خلاف جدو جہدِ آزادی کوتیز کیا جا سکے۔چوتھے باب میں ہندوستان کی تاریخ کا کھوج لگانے کے لیے وادیٔ سندھ کی تہذیب کو زیرِ بحث لایا گیا ہے جہاں آریاؤں کی آمد،ہندو مت کی تشکیل ، ویدک عہد،ذات پات کے نظام کی ابتدا، مہابھارت، رامائن،بھگوت گیتا اور قدیم ہندوستان کی زندگی اور اس کے کارناموں کو حال کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔اسی باب میں بدھ مت کے فلسفے ،جین مت کی ابتدا،نالندا اور تیکسا شیلا کی تعلیمی سر گرمیوں اور فلسفوں ،پاننی کی لسانی خدمات اورموریا سلطنت کی انتظامی صلاحیتوں کو سامنے لایا گیا ہے۔پانچوں باب ۔چوتھے باب کا تسلسل ہے جس میں ہندوستان کے پڑوسی ملک سے تعلقات ،دیگر علاقوں سے وارد ہونے والے حملہ آوروں اور ان کے ہندوستانی تہذیب میں جذب ہو نے کے اسباب ،مقامی لوگوں کے جنگی طریقہ کار،ہندوستان کے فکرو فلسفہ اور تخلیقی سر گرمیوں کو سامنے لایا گیا ہے۔ان کے خیال میں ہندوستان کبھی اتنا کمزور نہیں رہا جتنا پیش کیا جاتا ہے،ہندوستانی آرٹ اور فلسفے نے دیگر اقوام کو متاثر کیا ہے اوراس کے فن اور فکر کی باز گشت پوری دنیا میں سنی جا سکتی ہے۔چھٹا باب ’’ نئے مسائل‘‘ کے عنوان سے کتاب میں شامل ہے جس میں ہندوستان پر مسلمانوں کے اثرات کو موضوع بنایا گیا ہے۔محمد بن قاسم اور سلطان محمود غزنوی کی ہندوستان آمد سے قبل مسلمانوں کی سیاسی اور انتظامی صورتِ حال کو ژرف نگاہی سے بیان کیا گیا ہے۔ان کے خیال میں ہندوستان میں جتنے بھی حملہ آور آئے وہ یہاں کی تہذیب و ثقافت میں جذب ہوگئے،مسلمانوں کے ساتھ بھی یہی ہوا انھوں نے بھی ہندوستان کو اپنا وطن سمجھا اوریہاں کے رسم و رواج کو اپنا لیا۔مسلمانوں کے بعد انگریزوں کی آمد مختلف انداز میں ہوئی۔انگریز ہندوستان میں اجنبی کی حیثیت سے آئے اور ہمیشہ خود کو باہر والا ہی تصور کرتے رہے جس کے باعث ان کا یہاں کے عوام سے اختلاط نہ ہو سکا ۔دوسرا ان کے سیاسی اور انتظامی نظام کا مرکزایسی جگہ تھا جو ہندوستان سے ہزاروں میل دوری پر موجود تھا۔ انگریزوں نے ہندوستان مخصوص رنگ کی نو آبادی میں ڈھال لیا جس کی وجہ سے وہ ہزاروں سال کی تاریخ میں کسی دوسری قوم کی غلامی کا شکار ہو گیا۔ساتواں باب جو ’’دورَآخر‘‘ کا عنوان لیے ہوئے ہے ،میں انگریزوں کے تسلط،بنگال کی لوٹ کھسوٹ،ہندوستانی ریاستی نظام کی نشوونما اور ۱۸۵۷ء کی بغاوت کو بیان کرنے کے ساتھ ساتھ انگریز دور میں ہندوؤں اور مسلمانوں میں اصلاحی تحریکوں کے ابھرنے کا احوال بیان ہوا ہے۔کتاب کا آٹھواں باب قومیت اور سامراج کے مابین کش مکش کا بیانیہ ہے۔پہلی عالمی جنگ میں سیاست کی رفتار اتنی تیز نہیں تھی لیکن اس کے باوجود مسلمانوں کا متوسط طبقہ قومیت کی طرف مائل ہو رہا تھا جس کے باعث مسلم لیگ اور کانگرس ایک دوسرے کے قریب آئیں اور مل کر کام کرنے لگیں۔دوسری عالمی جنگ کے دوران میں صنعت نے ترقی کی لیکن اس کے ثمرات عوام تک نہیں پہنچے۔جنگ کے خاتمے کے بعد انگریز حُکومت کا رویہ مزید سخت ہو گیا جس کی وجہ سے عوام کے دل ذلت کے سخت احساس اور غصے سے بھڑک اٹھے۔ذلت کے احساس کی تلخی نے یہ خواہش پیدا کی کہ جو کچھ بھی ہو اب غلامی سے نجات حاصل کرنا لازم ہو گیا ہے۔۱۹۳۵ کے قانون سے اختلاف اور عدم تعاون اسی دور اور اسی جذبے کی پیداوار ہے۔اسی باب میں نیشنل پلیننگ کمیٹی اوراس کی کار کردگی کا احاطہ کرنے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔کتاب کے نویں باب میں دوسری عالم گیر جنگ کے ہندوستان پر اثرات کو موضوع بنایا گیا ہے۔جنگ کے دوران میںہندوستان کی سیاسی صورت حال میں تغیر وقوع پذیر ہوا ۔اسی لیے حکومت سے سیاسی کش مکش کا سلسلہ شروع ہو گیا۔پینیانگ،سنگاپور اور برما میں پسپائی کے بعد ،سر اسٹفرڈ کرپس کچھ تجاویز لے کر ہندوستان آیا لیکن کانگرس کے لیے وہ نا قابلِ قبول تھیں۔اس کے ساتھ ہی ’’ہندوستان چھوڑ دو تحریک ‘‘کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں لاتعداد گرفتاریاں ہوئیں اور سر بر آوردہ راہنما اچانک گرفتار کر لیے گئے۔پورے ہندوستان میں مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔عوام کا پولیس اور فوج سے تصادم شروع ہو گیا۔اس صورتِ حال کا بیرونی ممالک میں بھی ردِ عمل سامنے آیا۔کتاب کے آخری باب’’ قلعہ احمد نگر‘‘ میں ہندوستان کی تازہ صورتِ حال کو موضوع بنایا گیا جس میں ہندوستانی عوام کا حکومت کے خلاف ردِ عمل،قحطِ بنگال،ہندوستان کی ترقی میں رکاوٹوں ،ہندوستانی فلسفہ ،مذہب اور سائنس کو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔مزید براں انھوں نے ہندوستانی سیاسی صورتِ حال کو بین الاقوامی سیاست سے جوڑنے کی بھی کوشش کی ہے۔
’’تلاشِ ہند ‘‘اس بات کی غماز ہے کہ جواہر لعل نہرو کا ہندوستانی تاریخ کا مطالعہ نہ صرف وسیع ہے بلکہ اسے بیان کرنے کا جو انداز اختیار کیا ہے وہ بھی قابلِ ستایش ہے۔پوری کتاب میں کہیںمحسوس نہیں ہوتا کہ وہ تبلیغ کر رہے ہوں بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وہ دوستانہ ماحول میں قاری کے ساتھ ہندوستانی تاریخ کے مختلف پہلوؤں کو زیرِ بحث لارہے ہیں۔ انھوں نے ہندوستانی سر زمین سے محبت رکھنے کے باوجود اس کے لیڈروںکی کوہ تاہیوں اور کمزوریوں کا اعتراف کیا ہے ۔کتاب کے ہر صفحے پر نہروانگریز حُکومت سے شدید نفرت اورآزادی کے جذبے سے معمور دکھائی دیتا ہے۔مذکورہ کتاب میںبعض مقامات پر سوانح عمری کا احساس بھی ہوتا ہے ،خاص طور پر دوسرے اور آخری باب میںسوانح عمری کے عناصر زیادہ نمایاں ہوئے ہیں۔نویں اور دسویں باب میں گاندھی اور نہرو کے باہمی تعلقات کھل کر سامنے آئے ہیں۔ وہ اگرچہ گاندھی سے متاثر ہیں لیکن جہاں وہ سمجھتے ہیں کہ گاندھی کی پیروی ملک کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی وہاں وہ اختلاف سے گریز نہیں کرتے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اندھی تقلید کے قائل نہیں۔ مذکورہ کتاب جواہر لعل نہرو کے کی عملی اور مثالی یا اقداری اور تجربی رجحان کا مرکب ہے۔افکار کی قطعیت،معروضی انداز اورعمیق تاریخی شعور نے اس کتاب کو خاص بنا دیا ہے۔

You might also like
  1. گمنام says

    بہت عمدہ سر جی

  2. مصطفےٰ says

    بہت عمدہ سر جی بہت اچھی ریسرچ ہے آپ کی

  3. ظفر اقبال گھنجیرہ says

    عمدہ تحریر

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post