بساطِ زیست“ ۔۔۔ چند تاثرات : ڈاکٹر عبدالعزیز ملک

  1. جواں جذبے، لطیف احساس اورتازہ فکر سے مملو ارشد محمود ارشد کا تعلق سر زمینِ سرگودھاسے ہے۔وہ گذشتہ ڈیڑھ دہائی سے تخلیقی سفر پر گامزن ہے۔اس دوران میں اس نے ”عجب سی بے قراری“،”کبھی میں یاد آؤں“شام کی دہلیز پر“ اور ”بساطِ زیست“ جیسے سنگِ میل عبور کیے ہیں۔ اس کی شخصیت خلوص و محبت کے پاکیزہ جذبوں کی عکاس ہے۔اس کی ذات نفرتوں اور کینہ پروری کے خلاف ایک مضبوط ڈھال ہے جومنفی جذبوں کو مفتوح رکھتی ہے اور خود کسی عظیم فاتح کی طرح محبت کے لازوال جذبے کی سرحدوں کو وسیع سے وسیع تر کرنے میں مگن رہتی ہے۔ وہ انسانوں سے محبت کرنا جانتا ہے اور محبت و خلوص کا یہی جذبہ اس کی شاعری میں بھی منعکس ہوتا دکھائی پڑتا ہے۔انسانوں سے محبت،فرد کا رشتہ سماج سے جوڑ تی ہے اور سماج سے جڑت سماجی،سیاسی،ثقافتی اور تہذیبی شعور کو جلا بخشتی ہے جس کا اظہار ہمیں ارشد کی شاعری میں واضح نظر آتا ہے۔اس کا ثبوت اس کے پہلے شعری مجموعے ”عجب سی بے قراری“ سے کر حال ہی میں اشاعت پذیر ہونے والے ”بساطِ زیست“ میں جا بہ جا اور برملا دکھائی پڑتا ہے۔
    پھر اس کے بعد ہی دیتا ہے کام کی اجرت
    ہمارے خون سے پہلے وہ زر نکالتا ہے
    ۔۔۔
    وہ جو فٹ پاتھ پہ اوندھا پڑا ہے
    کبھی اس شخص کا بھی گھر رہا تھا
    ۔۔۔
    زندگی آپ سکھاتی ہے قرینے سارے
    زخم ملتے ہیں تو جینے کا ہنر آتا ہے
    سماجی اور سیاسی شعور کو اپنی شعری کائنات کا حصہ بناتے ہوئے وہ فن کے خصائص کو نظر انداز نہیں کرتا اور نہ قاری کو احساس ہونے دیتا ہے کہ وہ یہ کام شعوری طور پر کر رہا ہے۔وہ کمال ہنر مندی اور چابکدستی سے غزل کو اس کی جملہ رعنائیوں سمیت اپنے مخصوص اسلوب سے ممزوج کر لیتا ہے،جس نے اس کی شاعری کو خاص آہنگ اور توازن عطا کیا ہے۔اس کی غزل میں غنائیت صرف لفظوں سے صورت پذیر نہیں ہوئی بلکہ اس کے عقب میں ارفع خیال،خالص جذبوں کا آہنگ اور داخلی کیفیات کی دھڑکن کو بھی پردہئ سماعت پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔وہ فن کے پردے میں جن موضوعات کو قاری تک پہنچانا چاہتا ہے وہ ان پر حاوی نہیں ہوتا بلکہ ان کو خود پر طاری کرتا ہے اور پھر اپنے داخلی آہنگ سے تخلیق کے سردود پر اک نئی دھن میں ڈھال لیتا ہے۔اکثر شعرا کے ہاں خیال اور ڈکشن میں عدم توازن کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے جو شاعری کی شعریت کو نہ صرف مجروح کرتی ہے بلکہ قاری کے بہجت اور سرور کشید کرنے کے عمل کو بھی متاثر کرتی ہے مگر ارشد محمود ارشد کے ہاں ایسا نہیں ہے:
    تمھاری تشنگی دیکھی نہیں گئی مجھ سے
    میں اپنی اوک میں دریا اٹھا کے لایا ہوں
    ۔۔۔
    قید سانس نچوڑ لیتی ہے
    جال کہنے لگا پرندوں سے
    ۔۔۔
    کوئی مسجد ہو،کلیسا ہو یا کوئی بُت ہو
    ہر جگہ موجود ہے یا پھر خدا ہوتا نہیں
    ارشد نے یہ ہنر مقدم اور معاصر شعرا کے مطالعے، عمیق مشاہدے اور گہرے تفکر سے کشید کیا ہے۔اسی لیے اس کی شاعری احساس زیست کا احساس دلاتی،فطرت کے متنوع رنگوں کو تخلیقیت کے سانچوں میں مقید کرلیتی ہے۔وہ احساس اور جذبے کو فطرت کے استعاروں میں خوش اسلوبی سے بیان کر تا ہے۔درخت، سایہ، سورج،دھوپ، ہوا،مٹی،پرندے،بادل،بارش، صحرا اور پھول جیسے الفاظ اس بات کی دلیل ہیں کہ وہ فطرت سے محبت کرنے والا اورزمین سے جڑا ہوافن کار ہے۔وہ مظاہرِ فطرت کو استعاروں اور علامتوں کے روپ میں استعمال کرنے کا ہنر بخوبی جانتا ہے۔اس کی شاعری میں کبھی سورج،رات کے اندھیروں کے مدِ مقابل روشنی بکھیرنے کا استعارہ بنتا ہے تو کبھی چراغ،تیز ہواوں کے سامنے مزاحمت کا نمایندہ۔ ارشد نے اپنی شاعری میں جو استعاراتی نظام تشکیل دیا ہے وہ اس کے زرخیز تخیل اور تخلیقی وفور کا آئینہ دار ہے۔ اس کے تخلیق کردہ استعارے کبھی سیاسی و سماجی بے اعتدالیوں کو بیان کرتے ہیں تو کبھی ہجر کی تڑپ اور وصل کو اپنے دامن میں چھپائے ہوتے ہیں:
    پھولوں کو رعنائی دیں
    تتلی،بلبل،خار، ہوا
    ۔۔۔
    پرندے گھونسلوں میں جا چکے تھے
    اکیلی کونج ہی کر لا رہی تھی
    ۔۔۔۔
    پیار اتنا کیا ہے مٹی سے
    خاک میں خاک ہو گیا ہوں میں
    ارشد کی شاعری میں معاصر شعرا کے برعکس عورت کا ایک منفرد تصور ابھرتا ہے۔ اس کے ہاں عورت جنسی لذت کا آلہ نہیں بلکہ تخلیق کا منبع ہے۔وہ نفسانی خواہشات کی تسکین کا ذریعہ نہیں بلکہ روحانی ترفع کا وسیلہ ہے۔اس کا خیال ہے کہ عشق حقیقی کے سب راستے عشق مجازی کی راہوں سے ہو کر گزرتے ہیں۔ وہ کائنات میں رنگینی اور رعنائی کو وجودِ زن کا شاخسانہ خیال کرتا ہے اور مرد کے وجود کے لیے عورت کو لازم سمجھتا ہے۔عورت مختلف روپ میں مرد کو توانائی اور حرارت فراہم کرتی جو باطنی اور خارجی سفر میں اس کی معاون ہوتی ہے۔
    بنایا ہے مصور نے حسین شاہکار عورت کو
    الگ پہچان دیتا ہے کہانی کار عورت کو
    ۔۔۔
    پھر اک دن ان کی قسمت میں لکھی جاتی ہے رسوائی
    زمانے میں سمجھتے ہیں جو کاروبار عورت کو
    ۔۔۔۔
    کالی زلف کا لوہا منوا سکتی ہو
    میری سوچ کے سورج پہ چھا سکتی ہو
    ۔۔۔
    سنو! غیر ممکن ہمارا ملن ہے
    میں اک خاک زادہ،تو بنتِ گگن ہے
    ۔۔۔
    ارشد کی شاعری جدید شعری حسیات سے ہم آہنگ اور تازگی کا عنصر لیے ہوئے،بامعنی استعاروں اور علامتوں سے مزین جمالیاتی خصائص کی حامل شاعری ہے جس میں خیال کی ارفعیت، جذبے کی شدت، تخیل کی فراوانی اور ادبی پیرایوں کا استعمال خوب صورتی سے کیا گیا ہے۔وہ محنت اور ریاضت کا قائل ہے جو اس کے روشن مستقبل اور خوابوں کی تکمیل کی ضمانت ہے۔ ارشد محمود ارشد نے تخلیق کے کٹھن سفر کا، ”بساطِ زیست“ کی صورت میں چوتھا سنگِ میل عبور کیا ہے لیکن ابھی تو آغاز ہے،آگے طویل سفر اس کا منتظر ہے۔ حوصلہ، صبر اور ہمت اگر اس کے شاملِ حال رہے تو راستا آسان رہے گا۔”بساطِ زیست“ کی اشاعت پہ ارشدکو مبارک باداور اس کے لیے ڈھیروں دعائیں۔
You might also like
  1. yousaf khalid says

    بہت عمدہ تبصرہ ہے ارشد محمود ایک ذہین تخلیق کار ہے ڈاکٹر صاحب نے بڑی تفصیل سے شاعر کے شعری محاسن اور شعری وفور کا احاطہ کیا ہے

  2. ڈاکٹر عبدالعزیز ملک says

    شکریہ ۔ آپ کا ممنون ہوں ۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post