انگارے (سنچری نمبر) — ایک تاثر : ڈاکٹر شبیر احمد قادری

 

سید احمد علی ، سید سجاد ظہیر، رشید جہاں اور محمود الظفر کے افسانوں(ایک ڈرامہ) پر مشتمل مجموعہ “انگارے ” کے نام سے 1932 ء میں نظامی پریس ، لکھنو کے زیر اہتمام منظر عام پر آیا ۔سید احتشام حسین نے اس حوالے سے لکھا ہے=
* بم کی طرح ہنوستانی سماج پر پھٹا اور لوگ تلملا اٹھے۔حکومت نے اسے ضبط کر لیا مگر اس کی اشاعت کا جو مدعا تھا پورا ہو گیا۔*(اردو ادب کی تنقیدی تاریخ ،ص 99-100)
ڈاکٹر محمد کامران کی راۓ میں =
* اس مجموعے کی صورت میں ترقی پسندانہ سوچ کا جو بیج بویا گیا وہ ہزار مخالفتوں کے باوجود بار آور ہوا۔۔۔”انگارے” کی بد قسمتی یہ تھی کہ مذہب اور جنس کے حوالہ سے انتہا پسندی کی حدت سبھی نے محسوس کی مگر جدید مغربی تکنیکوں کے استعمال کے باعث اردو افسانہ نے چشم زدن میں جن ارتقائ مراحل کو طے کر لیا اس پر غور کرنے یا مذکورہ کتاب کی ادبی قدروقیمت کا تعین کرنے کی کوئ قابل ذکر کوشش نہ کی گئ- *(پروفیسر احمد علی حیات اور ادبی خدمات ،ص 84-85)

” انگارے ” ایک مجموعہ تھا – شایع ہوا – ادبی دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائ – اثرات مرتب کیے – حکومت وقت نے اسے ضبط کر لیا ،۔ بیسیوں برس گزر گئے اور پھر ملتان کے جواں سال ادیب سید عامر سہیل کے ذہن رسا نے اس نام کے احیا کا فیصلہ کیا، اور یوں جنوری 2003 ء میں” انگارے” کا برنگ دیگر ملتان سے ظہور ہوا ۔ جنوری 2008 ء میں اس کی اشاعت میں تعطل پیدا ہو گیا ،سبب یہ تھا کہ سید عامر سہیل کا شعبہ اردو، سرگودھا یونیورسٹی سرگودھا میں تقرر ہو گیا اور انہیں ملتان کو خیرباد کہنا پڑا ، اس وقت تک ” انگارے” کے 61 شمارے چھپ چکے تھے ، ۔۔۔فروری 2015 ء میں دوسرے دور کا آغاز ہوا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک سو شماروں کا ہدف پورا کر لیا ۔کسی بھی ادبی رسالے کے لیے ایک سو شمارے بلا شبہ اعزاز تصور کیے جاتے ہیں ۔رسالے کا مزاج بقول
*سید عامر سہیل ترقی پسند،روشن خیال اور خرد افروز فکر کی غمازی کرتا ہے اور رسالے کی پیشانی پر ” ترقی پسند ادب کا ترجمان ” کا کیپشن بھی درج ہے مگر اس کے صفحات ہر لکھنے والے کے لیے حاضر رہے ۔ “اظہار راۓ کی آزادی سب سے زیادہ محترم ہے” ایسی محض باتیں ہی نہیں کی گئیں بلکہ اسے پورا کر دکھانے کا جتن بھی کیا گیا *( اداریہ،چند باتیں،ص9)،

ڈاکٹر سید عامر سہیل کا یہ دعوی محض دعوی نہیں ہے ، مبنی بر حقیقت راۓ ہے ، “انگارے” کے سو شمارے مکمل ہوۓ تو مدیر گرامی نے ان سو شماروں میں شایع والی نثر اور شاعری کا انتخاب ترتیب دینے کا مستحسن فیصلہ کیا ۔چنانچہ شمارہ نمبر 100 سے 108 تک کا خصوصی شمارہ سنچری نمبر کے نام سے منظر عام پر ایا ۔(اپریل تا دسمبر 2018 ء) ۔ اس کے مرتبین میں درج ذیل نام شامل ہیں =
سید عامر سہیل،عبدالعزیز ملک،محمد داؤد راحت اور پیر ولایت علی شاہ ،
یہ نمبر انگارے مطبوعات، مکان نمبر 5، دانش سٹریٹ ،احباب کالونی، نزد بہادر پور،یونیورسٹی روڈ، ملتان کے زیر اہتمام منظر عام پر آیا ، قیمت موجودہ شمارہ=2000 روپے ،

فہرست کے مطابق اس میں مضامین،افسانہ/کہانی، خاکے/یادداشتیں ،متفرقات، شاعری کا انتخاب شامل ہے ،

مضامین میں فیض،کارل مارکس،راشد،رشید احمد صدیقی، حمایت علی شاعر،سجاد ظہیر،میر امن،فراق،غالب،مشرف عالم ذوقی،منٹو، صابر ظفر، ژاں پال سارتر،،زوش ندیم ہربرٹ مارکوزے،عبداللہ حسین، محمد سلیم الرحمن ،احمد جاوید،نصیر ترابی،ظہیر کاشمیری، گیان چند،کشور ناہید،سلیم اختر،انتظار حسین،انور مسعود،ٹیگور،احمد ندیم قاسمی،یونس جاوید،عبدالشید،پروین شاکر،غلام عباس،اصغر علی شاہ،انواراحمد،عابد حسن منٹو،ظفر اقبال،خلیل صدیقی،قیوم صبا،حسن عابد،مجیدامجد،مسعود مفتی،عبداللہ حسین، مظفر علی سید،انیس ناگی،سمیع آہوجہ ،نذیرتبسم،رشید امجد،شمس الرحمن فاروقی، حمیدہ شاہین،نجم الاصغر شاہیا، لطیف الزماں خاں ،مستنصر حسین تارڑ، مختار مسعود، بانو قدسیہ ، مشتاق احمد یوسفی کے فکرو فن کو زیر بحث لایا گیا ہے ،
افسانہ نویسوں میں سینئر اور نئے لکھنے والوں کو نمائندگی دی گئ ہے ۔مضامین کے مانند یہ حصہ بھی بہت اہمیت کا حامل ہے،
شخصی۔ خاکوں اور یادداشتوں کا حصہ بھی بہت جان دار تحریروں پر مشتمل ہے،لکھنے والوں میں لطیف الزماں خاں، بہگم زبیدہ خلیل صدیقی، ڈاکٹر عبدارؤف شیخ،ڈاکٹر اے بی اشرف ، ڈاکٹر سلیم اختر،ڈاکٹر نعمت الحق،ڈاکٹر سید معین الرحمن،عاصم محمد کلیار، ڈاکٹر لیاقت علی ،ڈاکٹر اطہر صدیقی،ڈاکٹر ابرار عبدالسلام،مشتاق شیدا، پروفیسر افتخار حسین شاہ، پروفیسر عبدالعزیز بلوچ،ڈاکٹر یونس جاوید، غلام حسین ساجد،سمیرااحمریں،ڈاکٹر انوار احمد، علی اکبر ناطق، عبدالعزیز ملک، مہر الہی ندیم اور سید عامر سہیل کے نام شامل ہیں ،
متفرقات میں انٹرویوز ، انشائیے ،ترا جم وغیرہ شامل کیے گئے ہیں،
اسی طرح شاعری کے زیر عنوان معروف شعرا کی غزلیں اور نظمیں منتخب کی گئ ہیں ،

1092 صفحات کو محیط بڑے سائز پر مبنی یہ سنچری نمبر کئی حوالوں سے اہمیت کا حامل ہے ۔ اسے اپنے گوناگوں اوصاف کی بدولت مدتوں یاد رکھا جاۓ گا ۔ ایسا عمدہ اور ضخیم انتخاب نمبر بھلا کب کس رسالے کے مدیر نے شایع کیا ہو گا ، یہ واقعی اہم اور قابل تعریف کام ہے ،اس شان دار اشاعت خاص کے اہتمام اور پیشکش پر ڈاکٹر سید عامر سہیل اور ان کے معاونین محترم عبد العزیز ملک ، داود راحت اور پیر ولایت حسین فاروقی صاحبان لایق صد تحسین و آفریں ہیں ۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post