یک طرفہ بندھن : ع ۔ع ۔ عالم

جن چیزوں میں مبتلا ہونے سے زمان و مکاں کی حدود و قیود؛وجودِ انساں پر؛ اپنی اثر انگیزی سے محروم ہو جایا کرتی ہیں؛ان میں ” محبت” سرِ فہرست ٹھہرتی ہے۔عبداللہ ،عائشہ سے اظہارِ محبت کر چکا تھا۔مگر عائشہ اسے اپنا دوست کہتی ۔اس بات پر اکثر عبداللہ نالاں بھی ہوتا اور کہتا کہ:
“مجھے تم سے محبت ہے بس۔تم بھی یہی سمجھو۔”
دونوں عمر کے اس حصے میں قدم رکھ چکے تھے کہ جس عمر کے حصے میں عملی زندگی کے فیصلے کیے جاتے ہیں۔دونوں ایم فل میں کلاس فیلو تھے۔عبداللہ ذہین اور محنتی تھا ۔اس بات کو تمام کلاس مانتی تھی۔عائشہ بھی اس بات کو تسلیم کرتی تھی۔عبداللہ نے عمر کے اس حصے میں ‘ محبت’ جیسے تجربے سے گزرنے کا فیصلہ کر لیا تھا اور عائشہ نے ‘ گولڈ میڈلسٹ’ بننے کا۔۔۔
وہ کہتے ہیں ناں کہ جو وقت کی قدر اس وقت نہیں کرتے کہ جب وقت ہوتا ہے تو وقت ان کی قدر تب نہیں کرتا جب وقت نہیں ہوتا۔
عبداللہ کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی ہوا تھا۔وہ عائشہ کو ہزارطرح سے اپنی محبت کا یقیں دلاتا رہا؛ ادھر اُدھر کے ماحول سے ماورا ہو کر۔۔۔مگر عائشہ کو تو فکرِ فردا تھی؛ اسے کیا غرض کہ کوئی اس سے محبت میں کس قدر مخلص ہے۔
عائشہ شاید دل جوئی کی خاطر عبداللہ کے اتنا قریب ہو گئی کہ عبداللہ اس کی سنگت و قربت میں خود کو مطئمن پاتا۔پھر وہ وقت بھی آیا کہ عبداللہ محبت کی بھیک مانگنے پر اتر آیا۔مگر عائشہ کا فلسفئہ محبت ،عبداللہ کے فلسفئہ محبت کو پاش پاش کر دیتا:
عبداللہ! محبت تو یک طرفہ بندھن ہے۔”
اور عبداللہ کہتا:
“نہیں رادھا! یہ دو دلوں کو گرمانے والا ایندھن ہے۔”
سچی محبت سب سے پہلے کنجوسی کا قلع قمع کرواتی ہے۔عبداللہ گھر سے جو ماہانا خرچہ لاتا؛وہ دوستوں کے ساتھ کھانے پینے میں دو ہفتوں میں گل ہو جاتا۔بقیہ اگلے ایام وہ قرضہ لے لے کر گزارا کرتا۔یہاں تک کہ دوستوں نے قرضہ دینے سے بے زاری کااظہار کر دیا۔ان تمام حالات کے باوجود عائشہ کے سامنے وہ خود کو ٹھاٹھ باٹھ رکھتا۔
عائشہ کے ساتھ گزارا ایک ایک لمحہ اسے عرصہ دراز تک تسکینِ قلب سے منزہ رکھتا۔وہ چاند گاڑی میں اکٹھے سفر کرنا؛وہ ریسٹورنٹ میں کھانا کھانا؛شاپنگ مال میں جوتے خریدنے جانا۔
عبداللہ، وقت اور پیسے کی فکر سے ماورا ہو کر محبت میں مگن تھا۔بعض اوقات اسے یقین ہو جایا کرتا کہ عائشہ کو بھی اس سے محبت ہو کر رہے گی۔مگر وہ غلط تھاکیوں کہ عائشہ کو تو فکرِ فردا تھی؛ اس کا مطمحِ نظر ‘گولڈ میڈل’ تھا۔
نتیجے کا اعلان ہوا۔عائشہ کو اپنی منزلِ مراد کا مژدہ سنائی دیا۔عبداللہ،عائشہ کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتے ہوئے گل دستہ پھولوں کا لایا اور عائشہ کو تھماتے ہوئے مبارک باد دی۔عبداللہ کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی۔اس سے قبل وہ اسے اپنی طرف سے “مونال ہوٹل، لاہور” میں پیشگی پارٹی کی دعوت دیتا، عائشہ نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا:
“عبداللہ! مجھے تم سے کبھی محبت رہی ہی نہیں۔تم بہت اچھے ہو مگر مجھے تم سے محبت نہیں ہے۔میں تو بس۔۔۔”
عائشہ بولتی رہی مگر عبداللہ کو کچھ سنائی نہیں دے رہا تھا۔اس کے سامنے ہر منظر دوڑنے لگا۔وہ چاہتا تھا کہ وقت کو قید کر لے کیوں کہ آج عائشہ اس سے الوداعی چاہ رہی تھی۔
مجھے پتا چلا کہ عبداللہ نےخودکشی کی بھی کوشش کی مگر بچ گیا۔شاید اس کے اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کرنے کی سزا اقسامِ ازل نے خودکشی جیسی آسان موت تجویز ہی نہیں کی تھی۔ عبداللہ گھر جاتا تو فارغ البالی کے طعنے اسے رہ رہ کر ستاتے۔اس لیے وہ محوِ سفر رہنے لگا۔کبھی کسی دوست کے ہاں پناہ لیتا تو کبھی کسی دوست کے پاس ٹھہرتا۔سالانا کنووکیشن کے موقع پر عاِئشہ گولڈ میڈلسٹ قرار پائی۔کنووکیشن پر ہر کلاس فیلو نے شرکت کی اور ایک دوسرے کو مبارک باد دی۔عبداللہ کہیں نظر نہ آیا۔۔۔میں چوں کہ عبداللہ کا روم میٹ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا کلاس میٹ بھی تھا۔۔۔میں دیکھتا رہا کہ شاید عائشہ کی آنکھیں کسی عبداللہ کو تلاش کر رہی ہوں۔کیوں کہ عائشہ کو سبھی نے مبارک باد دی تھی سوائے عبداللہ کے۔۔۔میں نے ‘گولڈ میڈل’ گلے میں حمائل کیے عائشہ کو دیکھا اس کی خوشی ناقابلِ بیان تھی کہ جیسے اس نے کوہ ہمالیہ سر کر لیا ہو۔۔۔آج میں اچانک کسی کام کے سلسلے میں لاہور آیا تو سوچا “داتا دربار” سلام کر آوں۔۔۔لہذا میں دربار حاضری کے لیے چلا آیا۔وہاں گوشئہ مزار کے ساتھ ایک خوش خط مگر آبدیدہ شخص کو دیکھ کر اس کے قریب چل کر بیٹھ گیا۔وہ عبدللہ تھا جو اپنی وضع ہمیشہ شاہانا رکھنا پسند کرتا تھا۔اک دم مجھے سامنے دیکھ کر خوش ہوا مگر دوسرے ہی لمحے مجھ سے آنکھیں چرانے لگا۔شاید اسے مجھ سے لیے قرض کا خیال آگیا تھا۔ہم دونوں ایک مدت کے بعد اپنے کالج لان میں بیٹھے چائے پینےچلے گئے۔ وہ نہیں جاتا تھا مگر میرے اصرار کرنے پر وہ چلا آ یا۔عبداللہ نے بتایا کہ کالج کے آخری دن سے اب تک ایک بھی دن ایسا نہیں گزرا کہ جب وہ یہاں نہ آیا ہومگر بے سود۔۔۔اب کے وہ ایک ایک چیز کو اس قدر انہماک سے دیکھ رہا تھا کہ جیسے آج کے بعد یہاں کبھی نہیں آئے گا۔ ” یہ وہ جگہ ہے جہاں ہم بیٹھتے تھے۔۔۔یہ دیکھو،یہاں میں نے اسے پہلی بار خط دیا تھا۔یہاں میرے ساتھ اس نے فوٹو بنوائی تھی؛یہاں میں اس کو جوس پیتے دیکھتا رہا تھا اور یہاں بیٹھ کر میں اس کے لیے وافر مقدار میں بریانی لایا تھا۔”
عبداللہ،عائشہ کے ساتھ گزارے لمحات کو قید کر چکا تھا اور روزانہ انھی جگہوں میں وقت گزار کر وہ ماضی میں ٹائم ٹریول کر جایا کرتا تھا۔کنٹین والا چائے کا تیسرا آرڈر ہماری میز پر رکھتے ہوئے ہمیں حال میں لایا۔ابھی ہم چائے پینے میں ہی محو تھے کہ کسی نے مجھے آواز دی۔میں نے آواز کا تعاقب کیا تو وہ عائشہ تھی، جس نے مجھے

پکار ا تھا۔وہ عبداللہ کو دیکھ نہ پائی تھی کیوں کہ عبداللہ کی اس کی جانب کمر تھی۔وہ میرے پاس آائی اور حال احوال کے بات کہنے لگی۔
” عدیل! ان سے ملو یہ ہیں میرے شوہر بلال احمد اور دوسری بات یہ کہ میری آج یونی ورسٹی میں بطور لیکچرار سیلیکشن ہو گئی ہے،یہی میرا خواب تھا بے شک انسان نے جس چیز کو پانے کی کوشش کی وہ مل جاتی ہے۔”
عائشہ کا اتنا کہنا تھا کہ میں نے دیکھا کہ عبداللہ کی آنکھوں سے آنسووں کی لڑیاں بہہ بہہ کر سامنے رکھی چائے کی مقدار میں اضافہ کر رہی تھیں۔پھر وہ ویسے ہی کمر کیے ، منھ موڑے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے کالج سے چلا گیا۔۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post