کورنٹائیر : ع ۔ع ۔ عالم

نئے سال کی پہلی صبح سے قبل، نئے سال کی آمد کی خوشی میں کافی دنوں سے ملک بھر میں اور خاص کر ریاستِ حافظ آباد میں عوام و خواص بڑھ چڑھ کر حصہ لے رہے تھے۔ یکا یک بادلوں کا جمِ غفیر ابھر آتا ہے اور تمام آسمان نیلگوں کو اپنے وجود میں سمو لیتا ہے۔
“اب تو سارا مزہ کڑ کڑا ہو جائے گا”
ایک آدھ شخص کے ذہن میں ، لاشعوری طور پر یہ خدشہ منڈلایا ہی تھا کہ اگلے لمحے اس خدشے سے نجات مل گئی کیوں کہ اگلے لمحے بادلوں سے نبر د آزمائی کرنے کے لیے ذی شعور مخلوق نے آتشِ گیر سیال، چھوٹے چھوٹے راکٹس کی صورت میں فضا میں چھوڑے جو دیکھتے ہی دیکھتے آسمان پر سے ستارے کھینچ کر لانے میں کامیاب ہو گئے۔ ہر خاص و عام شخص نے اس نظارے کو خیر مقدم کیا ۔ خواص ، خواص مقامات پر قلبی راحت کے لیے اس نظارے سے محظوظ ہو رہے تھے اور عوام اسے بہ طور مذہبی فریضہ سمجھتے ہوئے ادا کر رہے تھے۔ رات گیارہ بج کر انسٹھ منٹ پر تمام کی نظریں شہر کے بیچ و بیچ لگائے گھڑیال کی جانب مبذول ہوئیں جیسے ہی گھڑیال کی سیکنڈوں والی سوئی بارہ کے ہندسے کو چھوتی ہے ، رات کا سناٹا دم توڑ جاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ضو ستان میں ہم نے قدم رکھ لیا ہو۔ کیوں کہ تمام شہر روشن ہو جاتا ہے اس قدر آتش بازی کا مظاہر ہ کیا جاتا ہے۔ یہ سلسلہ تین گھنٹے تک مسلسل جاری رہا۔ واقعی یہ ایک دل کش اہتمام کیا گیا تھا۔
صبح یونی ورسٹی بر وقت پہنچنے کے لیے میں نے “روبوٹک ابر”(Robotic Uber) کو لوکیشن بھیج دی ۔Shoe Cleaner Robot نے جوتے پالش کر رکھے تھے۔لہذا میں نے اپنا تھیسیز The Multi-dimensional Explanation of Modern Meta-Physics کا بابِ سوم مکمل کیا اور سو گیا۔
میں اس حوالے سے خو د کو خوش نصیب گردانتا ہوں کہ “قرنطینہ یونی ورسٹی ” میں زیر تعلیم ہوں ۔ ابھی میری عمر ہی کیا ہے یہی تئیس سال اور پی ایچ ڈی فزکس کر رہا ہوں۔ “قرنطینہ یونی ورسٹی “بلاشبہ اس وقت دنیا کی بہترین یونی ورسٹیز میں سے ایک ہے کہ جس کی مختصر عرصے میں ترقی کو دیکھ کر ایک عالم حیرت میں مبتلا ہے۔میں نے تحقیق کی تھی کہ میری پیدائش سے تقریباََ بیس سال قبل اس کا سنگِ بنیاد رکھا گیا تھا اور جس شخص نے اس کا سنگِ بنیاد رکھا تھا، اسی کا آج سیمینار میں خصوصی خطاب تھا۔ یوں تو ہر سال ہی یونی ورسٹی ایک شان دار سیمینار کا اہتما م کیا جاتا ہے مگر اس بار “گولڈن جوبلی” بھی پیشِ نظر تھی اس لیے بھر پور اہتمام کیا گیا تھا۔ میری ان سے بالمشافہ تو کبھی ملاقات نہ ہو سکی البتہ میں نے انھیں Hearty waves کے ذریعے ایک دو پیغامات بھیجے تھے ، یقاَورَانھوں نے وصول کیے ہوں گے جبھی تو میرے سوالات کے جوابات مجھے دیے گئے تھے۔
“قرنطینہ یونی ورسٹی” کے نام کی بابت تو مجھے زیادہ نہیں پتا چل سکا کہ آخر اسے “قرنطینہ ” کہنے کی وجہ تسمیہ کیا ہے البتہ میں اتنا جانتا ہوں کہ “قرنطینہ” نام اس کی اندرونی اور بیرونی تعمیر و ترقی کو دیکھ کر بہت Suit کرتا ہے۔یہ ایک یونی ورسٹی نہیں تھی بل کہ خوابوں کا جزیرہ تھی اور جنت کا نمونہ تھی۔ جہاں اخلاقیات کے ساتھ ساتھ طبیعات، حیاتیات اور دیگر فنون ِ لطیفہ کی مجسم تصاویر محوِ گردش تھیں۔ رنگ و نسل کی تفریق سے بالاتر یہاں ہر ملک اور قوم کا فرد موجود تھا۔ دوسرے کی اعانت کرنا ہر فرد اپنا فرضِ عین سمجھتا ۔
اس کے بارے میں بڑے بزرگوں سے سنا تھا کہ زندگی وہی تھی جو “قرنطینہ” کی درو دیوار میں گزار آئے۔
یونی ورسٹی کے تعلیمی قوانین میں سنہری و جلی حروف سے یہ الفاظ کندہ تھے کہ :
“کوئی بھی شخص جو اپنے موجودہ تعلیم/مضمون سے شغف رکھتا ہو ، وہ آئےاور اپنی مرضی کی فیلڈ کا انتخاب کر کے طالبِ دانائی بن جائے۔”
اس میں کوئی کسی قسم کی تخصیص نہیں رکھی گئی تھی۔ چاہے ساٹھ سال کا بوڑھا شخص ہو یا علم کا شوق رکھنے والا، تعلیم سے بالکل نا آشنا کوئی لڑکا بھالا۔ہر کس و ناکس زندگی کے کسی بھی شعبے سے تعلق رکھتا ہو، وہ آئے اور کسی بھی دیگر شعبے کو جوائن کر لے۔
یہ تو میری آنکھوں دیکھا واقعہ ہے کہ ایک بوڑھا جو اپنی زندگی سے اکتا چکا تھا اس نے یونی ورسٹی کے قواعد و ضوابط کی شرائط بجا لاتے ہوئے قانون کے شعبے کا انتخاب کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے دو سال میں امتحان پاس کر کے اگلے گریڈ میں داخل ہو کر نمایاں مقام حاصل کیا۔
ایک اور بات جو اس یونی ورسٹی کی دل پذیر لگتی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں ہر ایک کا ہیرو اس کی فیلڈ سے متعلقہ بندہ ہے خواہ وہ کوئی ہو کسی بھی مذہب سے ہو۔
میں نے یہ بھی سنا ہے کہ آج سے پچاس سال قبل لوگون کو لنگوسٹک فوبیا ہو چکا تھا ہر کوئی انگریزی انگریزی کی مالا الاپتا رہتا ۔جسے انگریزی آتی ، اسے دانا سمجھا جاتا۔حالاں کہ مجھے اس بات پر یقین نہیں آتا کہ کبھی ایسا رہا ہو کیوں کہ انگریزی زباں بھی کیا کوئی ایسی زباں ہے کہ جس کے متعلق پریشاں ہوا جائے۔جیسے انگریزی نہ ہو بل کہ سورج کی سطح پر اترنا ہو۔آج تو سائنس نے اس قدر ترقی کر لی ہے کہ اگر آپ کو کوئی لنگوسٹک مسئلہ ہے تو ڈاکٹر ایلیا لنگوسٹک سے رابطہ کریں کیوں کہ انھوں نےانسانی برین کے “لنگوسٹک سٹور” پر تحقیق کر کے ایسی Tabletsمتعارف کروائی ہیں کہ جن کے استعمال سے کوئی بھی زبان آپ کو ایک ہفتے میں ازبر ہو جاتی ہے۔ اسی لیے “قرنطینہ” میں “لسانیات” کے علاوہ ہر شعبہ موجود ہے۔
شعبہ موسمیات کے لوگوں نے کمال ہنر مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یونی ورسٹی کے ماحول کو کچھ اس طور ڈھالا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ یہاں صدیوں سے موسمِ بہار ہی رہتا رہا ہے۔
روبوٹک فاونٹین پودوں اور پھولوں کو پانی پہنچا رہے ہیں۔ یہ تمام باتیں دیکھنے کے بعد بزرگوں کے اس قول میں صداقت دکھائی دیتی ہے کہ:
“جو بھی ایک بار ‘قرنطینہ’ میں آتا ہے وہ تمام عمر کا حاصل اسی کو کہتا ہے۔”
یہ کوئی حکومت کی جانب سے بنائی گئی یونی ورسٹی نہیں بل کہ ایک فردِ واحد کی کاوشات کا ثمرہ تھی۔ جو اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل اور کارواں بناتا گیا۔ ہر سال اس ادارے کے تحصیل یافتہ لوگ ایک ماہ کے دورانیے کے لیے اپنی خدمات اس ادارے کی نذر کرنے آتے ہیں۔ آج بھی نئے سال کا نیا دن اور 2050ء کی پہلی صبح ہے۔ جہاں تمام ملک نے اپنے ملک کی 103سالہ برتھ ڈے کے موقع پر “ڈائمنڈ جوبلی” کا انعقاد کیا تھا وہی “قرنطینہ” نے اپنی پچاس سالہ برتھ ڈے کی مناسبت سے “گولڈن جوبلی” کا اہتمام کر رکھا تھا۔
وقت کی پابندی کا اندازہ اس امر سے لگا لیں کہ امریکہ کی ہارورڈ یونی ورسٹی کے طلباء وطالبات جن میں دو سے تین استاد بھی تھے تقریب کے مقررہ اوقات سے پانچ منٹ لیٹ پہنچے تو “ابراہم آڈیٹوریم” (جہاں لوگوں کا ایک تانتا بندھا ہوا تھا )کےباہر Late Comers کی صف میں جگہ ملی۔جہاں ہال کے اندر کی شخصیت کی تصویر Digital Wavesکے ذریعے5Dمیں دکھائی گئی۔ہال میں اس قدر روشنی تھی کہ اگر آپ کا خیال بھی کہیں گر جاتا تو اسے بھی تلاش کیا جا سکتا تھا۔ بغیر آواز پیدا کیے ڈرون کیمروں سے فلمنگ ہو رہی تھی۔حاضرین و ناظرین و سامعین کے اجزائے جسم کان بن چکے تھے۔پن، پینسل کا استعمال تو عرصہ ہوا لوگ چھوڑ چکے تھے۔ اس لیے کہ ہر فرد کے پاس تقریرکو تحریر اور تحریرکو تقریر میں بدلنے والا روبوٹک سیل فون تھا جو دنیا کی ہر زبان میں اس تقریر اور تحریر کو بدلنے کی صلاحیت سے معمور تھا۔
ہال میں ہر ایک کی نگہ منتظر تھی کہ کس لمحے ان کا مطمح ِ نظر ان کی نظروں کے سامنے تشنگی دید بجھانے کے لیے ظاہر ہو۔ چند ایک سرگوشیاں جو Excitementکی وجہ سے سنائی دے رہی تھیں وہ “محمڈن لیب” کی راہ داری سے پروانوں کے ہجوم میں آتے شخص کو دیکھ کر بند ہو گئیں۔چھے فٹ سے کچھ دو سے تین انچ کم قدو قامت کی حامل یہ شخصیت سیاہ پتلون اور سیاہ شرٹ زیب تن کیے نمودار ہوئی۔ اس کی چال میں استقامت تھی، چہرے پر متانت تھی اور دماغ میں ذہانت تھی۔ بڑی تمکنت سے چلتے ہوئے اسٹیج کی زینت بنی۔بالوں کی رف کٹنگ کچھ اس انداز سے کروا رکھی تھی کہ جیسے تراشی نے ایک ایک مو کو خوب سلیقے سے تراشا ہو۔ بالوں کی مانگ درمیان سے کچھ بائیں جانب سے نکالی ہوئی تھی۔ کہیں کہیں اس سفید میں سیاہی کے آثاربھی نظر آجاتے تھے جب کہ ہلکی سی ڈاڑھی بالکل دودھیا تھی۔یہ شخصیت کرسی صدارت پر جیسے ہی براجمان ہوئی۔ اس فرشتہ صفت شخص نے اپنے سیاہ عصا کو اپنی کرسی کےساتھ جمایا اور میز پر پڑےSanitizer Fraguenaticسے اپنے ہاتھوں کو غسل دیا اور سیاہ غلافِ دست ہاتھوں پر چڑھا لیے۔
اس سے قبل کہ حاضرین کو مزید ان کے اس عمل پر تشویش لاحق ہوتی وہ گویا ہوئے۔
“خواتین و حضرات! آپ سب کی تشریف آوری کا تہہ دل سے شکریہ۔آپ کچھ لمحے میرے اپنے ہاتھوں کو صاف کیے جانے عمل پر ضرور حیراں ہوئے ہوں گے اور یقیناََ اس بابت اپنے اذہان میں استفسارات کو بھی جنم دیا ہو گا۔ اپنے اس عمل کی بابت بتانے کے لیے مجھے آپ کو اس یونی ورسٹی کی تاریخ بھی بتانا ہو گی۔مگر تفصیل میں جانے سے آپ کی سہولت مانع ہے۔اگر آپ اجازت دیں تو ممکن سمجھتا ہوں کہ تفصیل سے بتاسکوں۔تو کیا اجازت ہے؟”
انھوں نے کچھ دیر توقف کیا اور اپنے کپکپاتے ہاتھوں سے اپنی گولڈن عینک درست کرتےہوئے پوچھا۔
ہال میں تمام لوگ جب آئے ہی انھیں سننے کو تھے پھر کیوں نہ ان کی بات پر لبیک کہتے۔ چناں چہ اجازت دینے کے بجائے سب نے “بولتے رہنے” کی درخواست کی۔جسے منظور کر لیا گیا۔
“خواتین و حضرات! میں نے جس خاندان میں آنکھ کھولی ۔ اس کا شمار روئیسا ئے حیدر آباد میں ہوتا تھا۔ میرے دادا نو آبادیاتی دور میں یہاں کہ نواب تھے۔تقسیمِ ہند کے بعد پاکستان کے اس شہر”حافظ آباد” میں ہم چلے آئے۔میری پیدائش اسی شہر میں 1971ء میں ہوئی۔چار بہنوں کا اکلوتا بھائی ہونے کے باعث بڑے نازو نعم سے پالا گیا۔ زندگی میں مصیبت، آفت، بلا کا کبھی سامنا کیا ہی نہیں تھا۔یہ الفاظ تو جیسے ہماری فیملی کی ڈکشنری میں ہی شامل نہ تھے۔ بڑے سے بڑا حادثہ بھی ہو جاتا مگر والدین کا معمول تھا کہ اسے نہاں رکھتے یہ سوچ کر کہ اس سے بچوں کی پرورش پر برے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ مجھے بچپن سے ہی طبیعات اور مابعد طبیعات کی طرف حد درجہ رغبت تھی ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ میرے والد بہ ذاتِ خود ایک سائنس کے پروفیسر تھے اور فزکس اور میتھ کے میدان میں تو ید طولی رکھتے تھے۔ والدِ گرامی کی وساطت سے ہی اس وقت کے مشہور سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام سے بھی ملاقات ہوئی جنھوں نے مجھے طبیعات کے میدان میں ترقی کرنے کا مشورہ دیاکہ بغیر کسی فائدے کے حصول کے اگر فزکس پڑھو گے تو فزکس تمھیں اپنا آپ وا کر دے گی۔
سائنس کی دنیا ، غم غلطاں کرنے کی دنیا ہے۔۔ سائنس کی دنیا تو فطرت کی دنیا ہے۔ فطرت، سائنس میں نہاں ہوتی ہے۔ ان لوگوں کی صحبت نے تو مجھے سائنس کا سائیں کر دیا۔ دن ، رات سائنس ،سائنس اور سائنس۔(ہنستے ہوئے) یہاں تک گھر کے افراد مجھے میری سائنس محبت کی بنا پر “چھوٹا عبدالسلام ” کہہ کر پکارنے لگے۔
میڑک کے امتحان میں نمایاں ترین پوزیشن نے جہاں گھر والوں کا سر فخر سے بلند کیا وہیں میرے مستقبل کا اعلان بھی۔داداجان مجھے سیاست میں داخل کروانے پر بہ ضد تھے جب کہ والد اور میں ان سے انحراف کرتے رہے۔ اسی گہما گہمی میں تین سال گل ہو گئے۔ مگر یہ تین سال کا گیپ میرے لیے “آبِ حیات” تھا کیوں کہ اس عرصہ میں نے فضول اور لغو کاموں کے بجائے نصاب سے آزادی ملنے کے باعث ، خوب سائنس کا مطالعہ کیا۔نیوٹن، کیوری، بوہر، فراڈے، ہک، ہرٹز، گلیلیلیو اور آئن سٹائن یہ میرے استاد تھے جن کی گود میں میں نے تین سال گزارے۔خوش بختی یہ تھی کہ آگے چل کر انھی استادوں سے واسطہ پڑا جو مجھے ازبر تھے۔ ایف ایس سی کرنے کے بعد گلیلیلیو کے شہر اٹلی کی قدیم ترین درس گاہ University of Bologna کا انتخاب کیا۔ گھر والے اب کے نالاں ہوئے مگر والد ِ گرامی کو اپنا حمایتی بنا کر آخر کار راضی کر لیا ۔ یہاں آکر پتا چلا کہ جب تک دریا میں تھا تو خود کو سمندر تسلیم کر تا تھا لیکن اب جب سمندر سے واسطہ پڑا تو میری” سمندری “ہوا ہو گئی۔ نئی صدی کے آغاز کے ساتھ ساتھ میری علمی و سائنسی زندگی کا بھی آغاز ہو گیا ۔نیوٹن، گلیلیو اور آئن سٹائن کی پیش کردہ تھیوریز پر مقالہ پیش کر کے ڈگری کا اہل ہوا۔
دورانِ تعلیم استاد کے حکم پر جو بے قاعدہ سلسلہ تدریس شروع کر رکھا تھا۔ اسے اب باقاعدہ اختیار کر لیا اور مختلف یونی ورسٹیز میں بہ طور پروفیسر کے پڑھانے لگا۔ اٹلی کی اس علمی فضا میں دن کٹ رہے تھے، گلیلیو کی سنگت میسر تھی، پیسا کے جھکے ہوئے مینار کی باقیات اب بھی اپنا ماضی یاد دلاتی ہیں۔ یہاں کی تہذیب ہماری تہذیب سے یکسر مختلف تھی۔ لوگ گئے رات تک کلبوں میں عیش و نشاط میں ڈوبے رہتے۔ کام تھوڑا کرنا پڑتا تھا اور منافع زیادہ ملتی۔ یہاں کام کرنے والوں کو بڑی دولت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ مگر یہ دل تھا کہ کوئے یار کی طرف مائل بہ پرواز تھا اور لحظہ بہ لحظہ ایک ایسا علمی و سائنسی ماحول اپنے ملک میں بھی فراہم کرنے کے جذبے سے سرشار رہتا۔ سائنس پڑھ پڑھ کر میں سائنس کو ہی قدرت اور سب کچھ سمجھتا تھا۔
بیس سال کے عرصے میں ہر پانچ سال بعد میں ایک یا دو ماہ کے لیے واپس گھر آتا اور منھ دکھا جاتا۔ دادا جان اس دنیا کو چھوڑ گئے مگر میں بر وقت پہنچ نہ سکا۔ والد کی طبیعت خراب ہونے کے باعث ایک دفعہ گھر آیا تو والد صاحب ، صاحبِ فراش بنے ہوئے نظر آئے ۔ میری چھٹی کے دنوں میں ہی والد صاحب بھی انتقال فرما گئے۔ والد صاحب نے بہنوں کی شادیاں اچھے گھروں میں کروائیں اور نصیحت کی کہ اپنے بھائی کا ساتھ دینا۔ شاید یہی وصیت کا اثر تھا کہ بہنوں نے اپنے ترکے میں ملنے والی تمام زمین بھی میرے سپرد کردی۔ اتنی زمین پر یونی ورسٹی قایم کرنے کا ارادہ مصمم ہو گیا۔ اب تو بس اسی مقصد کی تکمیل کے لیے دن رات غلطاں رہنے لگا۔ اپنے تمام دوست و احباب کی معاونت سے اس سو ایکڑ کے زمینی ٹکڑے پر ہارورڈ، اسٹن فورڈ اور کیمبرج کی طرز کی دانش گاہ تعمیر کرنے کا ارادہ باندھ لیا۔
خیالِ نفس کے بعد خیال مخلوق ہی سب سے بری نیکی ہوا کرتی ہے۔ اب تو بس اٹلی کو داغِ مفارقت دینے کی گھڑی آ ن پہنچی تھی۔ ہر تین سال کے بعد میں وطن واپس آتا اور تمام تر جمع پونجی اس عظیم دانش گاہ کی زینت و آرائش کی نذ ر کر جاتا۔ دنیا بھر کی یونی ورسٹیز میں بہ طور وزٹنگ پروفیسر مدعو کیا جاتا ۔ ان یونی ورسیٹیز میں طریقہ تدریس کو بہ نظر غایت دیکھتا اور ان تمام اہم باتوں کا انطباق وطن آ کر اپنی دانش گاہ پر کر دیتا۔ اس سارے عرصے میں پیسے بنانے کے ساتھ ساتھ دوسرا اہم کام دوست بنانے کا کرتا رہا۔ دوست ایسے بنائے جو سراپا وفا تھے۔
خواتین و حضرات! مجھے آج بھی یاد ہے یہ 21دسمبر2019ءکا دن تھا جب میرے ایک چینی دوست نے ایک عالمی وبا کے بارے میں آگاہ کیا۔ چوں کہ یہ میرا میدان نہیں تھا اس لیے میں نے اس سے صرفِ نظر برتی مگر 25دسمبر2019ء کو جب دوبارہ اس کی سنگینی کی خبر پھیلی کہ ایک کورونا کووڈ 19 نامی ایک وائرس نے چین کے مرکزی تجارتی شہر “ووہان” کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو میں بھی الرٹ ہوا۔ میں کہ اپنے ادارے کے نام کی بابت غلطاں تھا کہ اس عظیم دانش گاہ کا نام کیا رکھا جائے ۔اک دم یہ وائرس میری توجہ کا محور بن گیا۔
میڈیا نے اس قدر ہراساں کر دیا تھا کہ ہر شخص ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتا تھا۔ لیکن یہ ہراسگی کسی حد تک معقول بھی تھی۔ کیوں کہ دنیا کے کسی ملک کے پاس بھی اینٹی ڈوڈ نہیں تھا جس سے اس وائرس پر قابو پایا جاسکتا۔ اس کا اینٹی وائرس صرف اور صرف احتیاط تھی۔ جو ریاستِ Lombardyکے Town of Blidaکے لوگوں نے بالکل بھی نہ کی۔ شومئی قسمت کہ میں بھی اسی علاقے کو اپنا مسکن بنائے ہوئے تھا۔
میں نے دن رات تحقیق کی تو پتا چلا کہ یہ وائرس کوئی نیا نہیں بل کہ نزلہ ، زکام اور فلو کا باعث بننے والے دو سو کے قریب وائرسز کی فیملی کا ایک حصہ تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وائرس نے اکیسویں صدی کو ایک نئے نہج پر لا کھڑا کیا تھا۔ یہ وائرس مذہب اور سائنس کو آمنے سامنے لے آیا ۔مذہب اور سائنس میں واضح دو دو گروہ پیدا ہو گئے ۔ مذہب کے دو گروہوںمیں سے ایک اس وائرس کا سرے سے ہی انکاری تھا اور اعتقاد کی بات کرتا جب کہ دوسرا مذہبی گروہ اعتقاد درست رکھنے کے ساتھ ساتھ احتیاط کی تلقین بھی کرتا۔ جب کہ سائنس کا پہلا گروہ اسے ایک سیاسی و معاشی پرو پیگنڈا تسلیم کرتا اور دوسرا گروہ اسے ایک مہلک وائرس۔ کسی نے اسے ففتھ جنریشن وار کہا تو کسی نے سکتھ جنریشن وار کا پیش خیمہ۔ مذہبی محققین نے تو اس وائرس کو دیے جانے والے نام کی توجیح یوں تفصیل پیش کر کے دی کہ Corona Covid 19 ایک یہودی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔ Hebrew(عبرانی) زبان میں “کورونا” سے مراد” پکارنا” ہے جب کہ “کووڈ” کے معنی “عاجزی سے” کے ہیں اور ہندسہ 19”” سے مراد یہودیوں کی مذہبی کتاب”تالمود” کا “انیسواں کلمہ” ہے۔ جس سے مراد “ہمارے مسیحا /دجال کے آنے تک ہمیں عاجزی کے ساتھ انیسواں کلمہ دہراتے رہنا ہے۔”
اس بحث سے قطع نظر کہ یہ وائرس ایک مذہبی چال تھی یا کہ سیاسی و معاشی پرو پیگندا ۔ میں تو اس کی سنگینی سے خائف تھا جس قدر تیزی سے یہ وائرس پھیل رہا تھا۔جس طرح کرائے کے قاتل کی بندوق سے نکلنے والی گولی اگلے بندے کے مذہب اور مقام و مرتبے کا لحاظ نہیں کرتی اسی طرح یہ وائرس اموات پہ اموات کرتا چلا جا رہا تھا۔ میرا ایک چینی دوست جس نے اس ادارے کی تعمیر و ترقی میں مالی معاونت میں سب سے بڑھ کر حصہ لیا وہ بھی لوگوں کو بچاتے بچاتے اس وائرس کا شکار ہو گیا ۔
میں چاہتا تھا کہ کسی طرح پرواز کر کے اپنے وطن واپس چلا جاوں تاکہ اگر موت آئے بھی تو اپنے وطن میں آئے۔ مگر بہت دیر ہو چکی تھی۔ حکومتِ اٹلی نے سرحدیں بند کر دی تھیں اور پروازیں منسوخ۔ نہ کوئی جا سکتا تھا اور نہ کوئی آ۔چہ جائیکہ حالات درست نہ ہو جائیں۔
اٹلی کے ایک دو علاقوں میں اس کے casesرپورٹ ہوئے تو اٹلی کی گورنمنٹ نے تمام لوگوں کو Quarantine””ہو جانے کی درخواست کی۔ مگر یہاں بھی مذہب کے ٹھیکے دار آڑے آتے رہے اور عوا م اور کئی خواص اسے صرف ایک واہمہ تسلیم کرتے رہے اور بے اعتنائی برتا کیے۔ پرہیز علاج سے بہتر ہوتا ہے اور تنبیہ ، احتیاط کی ہم جولی ہوتی ہے۔ لوگوں نے اسے مذاق لیا۔ مگر آنسو تو اسی کے بہنے ہیں جس پر قیامت ٹوٹی ہو۔
اٹلی کی گورنمنٹInternational Labor Organization کی رپورٹ کے باعث سخت احکامات صادر کرنے کے بجائے احتیاطی تدابیر کی جگہ جگہ اپیل کرتی رہی کہ گھر میں رہیے۔۔محفوظ رہیے۔۔۔صفائی کا خیال رکھیں۔۔۔فاصلہ برقرار رکھیں۔۔۔۔ملنے سے گریز کریں۔۔۔۔
مگر افسوس الف افسوس! Town of Blidaکے لوگ قیامت کو دیکھ کر بھی ایمان لانے پر راضی نہ ہوئے۔ ایک عیش و نشاط کی زندگی سے پر لطف ہونے والا علاقہ کیسے قبرستان بن گیا۔تاریخ میں سب لکھ دیا گیا۔ پانی سر سے گزرا تو گورنمنٹ نے Lock Down کی پا بندی عائد کر دی ۔ ملکوں ملکوں میں یہ کیفیت تھی۔گھر سے باہر نکلنا محال کر دیا گیا۔ ذرائع سے پتا چلا کہ چین کے بعد اٹلی دنیا کا دوسرا ملک بن گیا کہ جہاں اس وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔اس کا انداز ہ اس امر سے لگا ئیے کہ Town of Blidaکہ جہاں مردم شماری کے مطابق گیارہ ہزار افراد موجود تھےسوائے تیس افراد کے سبھی لقمہ اجل بن گئے ۔ یہاں تک ایک خاندان میں اگر دس افراد تھے تو وہ سب کے سب اس وائرس میں مبتلا ہو کر اگلی دنیا کے مسافر ہو گئے۔ موت نے اپنے پنجے سختی سے گاڑھے تھے۔ ایک ہنستا بستا علاقہ لمحہ واحد قبرستان بنا دیا گیا۔ ایک گڑھے میں سینکڑوں لوگوں کی لاشوں کو بغیر کفن دفن کے گاڑ دیا گیا۔ ان پر کوئی رونے والا بھی نہ تھا۔وہ تمام ذی شعور جو خدا کے نمایندوں کی باتوں پر جذباتی ہو کر خدائی احکام کی حکم عدولی پر کمر بستہ تھے، قدرت نے ان سے بہت خطرناک انتقام لیا تھا ۔میں نے جانا کہ جب افراد قدرتی قوانین سے روگردانی کر کے اپنے سوارتھ کو اپنا خدا بنا لیتے تو رائند ہ درگاہ کر دیے جاتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ قدرت انھیں لمحہ بہ لمحہ پکارتی رہی:
لوگو! ہوش کے ناخن لو۔
مگر آنکھیں رکھنے کے باوجود یہ لوگ نابینا بننے کو ترجیح دیتے رہے۔ سننے والے بہرے بننے کو فضیلت سمجھتے رہے۔
خواتین و حضرات! قیامتِ صغری نہیں بل کہ قیامتِ کبری میں جو تیس افراد ، قدرت کی آواز پر آمین کہہ کر Quarantine”” ہو گئے تھے ان میں سے ایک شخص اس وقت آپ کے سامنے “قرنطینہ یونی ورسٹی” کے پلیٹ فارم سے ، آپ احباب کے سامنے محوِ کلام ہے۔جو سال ہا سال سے اس غم کو اپنے دل میں لیے اس جہان فانی سے کوچ کر جائے گا کہ :
کاش! Town of Blidaکے باسی حفاظتی اقدامات کر لیتے۔
کاش! وہ Quarantine”” ہو جاتے۔
کاش! کاش وہ لذاتِ دنیا سے انحراف برت کر ، ایامِ زیست بڑھا لیتے۔
کاش! وہ فطرت کی زبان سمجھ لیتے۔کاش۔کاش۔کاش۔۔۔۔”
میں نے دیکھا کہ تقریر کے اختتامی کلمات کہنے کے ساتھ ہی ان کی آنکھوں سے آنسووں کی لڑیاں جاری تھیں ۔ انھوں نے اپنی میز پر پڑے ٹشو پیپر سے اپنے اشک پونچھے اور “محمڈن لیب” کی جانب اپنے محبان کے حلقے میں رواں ہو گئے۔ میں نے دیکھا کہ ہال میں کوئی ایسا شخص نہیں تھا کہ جس کی آنکھیں اشک بار نہ ہوں۔ میرے آنکھیں بھی بہہ رہی تھیں مگر آنکھوں سے زیادہ دل کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ دنیا سورج پر بھی کمندیں ڈال لے مگر جہالت کا خاتمہ نہیں کر سکتی۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post