کشمیری : ع ۔ع ۔ عالم

 

لاک ڈاؤن اور کرفیو کا دورانیہ؛ ایک ماہ سے تجاوز کر چکا تھا۔ گھر بند، معبد گاہوں پر تالے آ ویزاں، دکانیں بے آ باد اور میدان ، سنسان ہو چکے تھے۔دن کے وقت بھی رات کے بارہ بجے کا بعد نمو پانے والے سناٹے کی سی کیفیت ہوتی۔بھاری بھرکم اسلحہ سے لیس، بھارتی سپاہی شہر بھر میں دندناتے پھرتے اور جو کوئی کشمیری ان کی عقابی نگاہ کی زد میں آ تا اسے لقمہ اجل بنا دیتے۔ چاہے ایک تین سالہ نواسے کے سامنے اس کے نانا کو بلا وجہ، بے دردی سے شوٹ ہی کیوں نہ کرنا پڑے۔
اس عالم کرب ناک کو دیکھ کر کچھ کشمیری نوجوان اکھٹے ہو کر بھارتی سپاہیوں پر دھاوا بولنے لگے مگر اپنے لوگوں کی جانوں کے عوض بھارتی سپاہیوں کی بزدلانہ کارروائیوں کے باعث انھیں جام شہادت نوش کرنا پڑا-
تاریخ گواہ ہے کہ ایسے قحط الغذا کے عالم میں لوگوں میں باہمی خیر سگالی کے جذبات بڑھ جایا کرتے ہیں۔یہی وجہ تھی کہ لوگ حتی المقدور ایک دوسرے کی مدد کرتے رہے۔یہاں تک گھروں میں موجود پہلے سے ذخیرہ کردہ راشن روبہ زوال ہوتا چلا گیا۔اس زوال اور قحط الغذا کا جہاں دیگر لوگ شکار ہوئے وہیں امام ممنون اللہ سر فہرست تھے۔امام ممنون علاقے کی مرکزی مسجد میں امامت کے فرائض نبھاتے تھے لاک ڈاؤن سے قبل لوگ ان کے ہاں کھانا وغیرہ بھیج دیا کرتے تھے مگر اب تو یہ سلسلہ بھی منقطع ہو گیا تھا۔گھر میں موجود ذخیرہ خوراک کو ختم ہوئے آ ج تیسرا دن تھا۔
امام ممنون جہاں خود صابر و شاکر تھے وہیں اللہ پاک نے انھیں بیوی اور بچے بھی صابر و شاکر دیے تھے مگر صبر کی بھی اک حد ہوتی ہے۔
آ ج صبح جب امام صاحب کاسب سے چھوٹا بیٹا عبداللہ اپنے ہاتھوں میں مسلسل “میاؤں میاؤں” کرتی “چندا” کو لایا تو گویا ہوا:
“بابا! چندا چپ نہیں کر رہی۔کل سے مسلسل ‘میاوں میاوں’ کرتی جا رہی ہے۔دیکھیں تو یہ ایسا کیوں کر رہی یے؟ میں نے تو بہت پوچھا مجھے تو نہیں بتاتی۔ آ پ سے تو بہت مانوس ہے, اس لیے آ پ کے پاس لایا۔شاید اسے بھوک لگی ہے بابا!”
یہ دیکھ کر امام صاحب کا کلیجہ جیسے منھ کو آ گیا ہو۔وہ “میاؤں میاؤں” کرتی اور کبھی کراہنے لگتی یعنی “ماں اوں، ماں اوں”…..
بھوک وہ واحدبو وحید شے ہے جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال بنا دیتی ہے۔جو عقل کے دروازے بند کر کے

آداب تہذیب بھلا دیتی ہے۔
رات کو امام صاحب جب گھر لوٹے تو ان کے ہاتھ میں گوشت کا ایک شاپر تھا۔ جو انھوں نے بیگم کو تھما دیا اور خود اپنے کمرے میں چلے گئے۔
بیگم صاحبہ گوشت دھو رہی تھیں کہ عبداللہ مطبخ میں آیا اور والدہ سے اجازت مانگ کر گوشت کے دو ٹکڑے اٹھا کر ‘چندا’ کے لیے لے گیا۔
“چندا! کدھر ہو۔ دیکھو تو بابا تمھارے لیے کھانا لائے ہیں۔۔
چندا! جلدی سے آ و اور کھانا کھالو۔۔
چندا چندا۔۔۔۔۔”
وہ مسلسل پچکارتا رہا۔مگر چندا کہیں نظر نہ آ ئی۔ وہ قدرے مایوس ہو کر امام صاحب کے کمرے کی جانب بڑھا جو کہ نماز عشاء کے لیے وضو فرما رہے تھے۔
“بابا! بابا! بابا۔۔۔۔!” امام صاحب کے وجود کو چھوتے ہوئے اس نے تیسری بار لفظ “بابا” پکارا۔
“جی بیٹا!” امام صاحب جو کہیں خیالوں میں گم تھے اک دم چونکتے ہوئے گویا ہوئے۔۔۔
“بابا! آ پ تو جانتے ہی ہو کہ چندا بھوکی تھی۔ابھی جب اس کے لیے کھانا آ پ کے کر آ ئے تو وہ خود غائب ہو گئی ہے۔میں نے سارا گھر چھان مارا ہے, علی کے گھر سے بھی پوچھ آ یا ہوں مگر چندا کہیں نظر نہیں آ رہی۔۔۔اس کے بغیر میں نے کھانا نہیں کھانا۔۔۔ کیا آ پ نے اسے کہیں دیکھا”
عبداللہ نہایت معصومانہ انداز سے بولتا چلا گیا یہاں تک کے بولتے بولتے اس کی گگھی بند گئی اور اس کے

آنسووں کا ذخیرہ حلق تک آ کر دم توڑ گیا۔
“کہیں باہر نکلی ہو گی عبداللہ!
کہیں باہر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔”

اس سے قبل امام صاحب، عبداللہ کو سینے سے لگا کر اسے تسلی دیتے وہ عبداللہ کے ہاتھ میں چھوٹے چھوٹے دو ٹکڑے گوشت کے دیکھ کر اندر سے پھٹ گئے اور ایک بار پھر کمرے میں جا کر دروازے اندر سے بند کر کے دھارے مار کے رونے لگے۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post