کِسے آواز دوں : فریدہ غلام محمد

اس نے مخصوص جگہ گھیر رکھی تھی ۔وہ لومڑ تھا مگر اس نے کئی جانوروں پر اپنی حکمرانی قائم رکھی ھوئی تھی یہاں تک کے اُلو جیسا چالاک اور عقل مند بھی اسکے سامنے سر جھکائے رکھتا تھا ۔

خرگوش،گلہری،گیدڑ اور اس طرح کے کئی جانور اس کے حلقہءعقیدت میں شامل تھے ۔الو کو سوچنے سے اتنی فرصت نہ تھی کہ وہ اس کی خوشامد کر سکے البتہ کبھی کبھی مشورہ دے دیتا تھا جو اکثر اسے پسند نہیں آتا تھا۔گیدڑ بنیادی طور پر بزدل تھا مگر اس کا لاڈلا تھا کیونکہ اس کے رازوں کی پوٹلی وہی سنبھال کے رکھتا تھا ۔چمگاڈر بھی کچھ کم نہ تھی ۔اس کا فرض عین میں شامل تھا کہ وہ نگاہ رکھے کوئی اس جگہ کے قریب نہ آنے پائے۔اگر کسی بھی جانور کے آنے کا خدشہ ھوتا تو سب مختلف آوازیں نکال کر اسے بھاگ جانے پر مجبور کر دیتے ۔

خرگوش بنیادی طور پر نرم طبیعت تھے مگر لومڑ ہر فن مولا ھے ۔اس کی حکمرانی سمجھ نہیں آتی تھی انھیں ۔ جب بھی خرگوش اور گلہری آپس میں بیٹھتے تو بات یہ ہی ھوتی “۔جنگل کا بادشاہ تو شیر ھے , شیر کی کھال پہن لینے سے کیا یہ شیر بن جائے گا” میں نے کئی بار اسے رات کو کھال اتار کر سوتے دیکھا ھے ۔بہت مکار ھے ،ان سب کے لہجے میں حقارت تھی ۔

وہ برآمدے کی سیڑھیوں پر بیٹھی تھی جب وہ مٹھائی کا ڈبہ لے آئی اور اس کے سامنے کر دیا ۔ثمن نے انتہائی حقارت سے یہ ڈبہ پرے کیا

“کیا ھوا ثمن مبارک باد بھی نہیں دی اور اب میٹھا بھی نہیں چکھ رہی ۔‘‘

’’میں اس لئے نہیں چکھ رہی کیونکہ تم اول نہیں ھو ۔تم وہی ھو جو پرچے سے ایک دن پہلے پوچھ رہی تھی پرچہ کس مضمون کا ھے کل ۔تم وہی ھو جو خوشامد کر کر کے یہاں پہنچی ھو۔ ارے کیا تمہاری پڑھائی ،کیا تمہاری تدریس ھو گی، جس کو خود تمیز نہیں ھے ۔‘‘

ثمن سرخ ھو رہی تھی ۔

’’اب حد ھو گئی ھے ، ابھی حد ھو گی جب تم ڈاکٹریٹ کر لو گی ۔ابھی حد ھو گی جب تم کو نوکری مل جائے گی ۔جلتی ھو مجھ سے تم ؟‘‘ ۔ مومنہ نے دانت پیسے ۔
’’میں کیوں جلوں گی میری عزت محفوظ ھے الحمدللہ ۔میں کسی کی جھولی میں کٹے پھل کی طرح نہیں گری اور میں کم از کم یہاں سے وقار سے رخصت ھو رہی ھوں۔‘‘

وہ وہاں سے اٹھی اور لڑکیوں کو ورطہ حیرت میں ڈالتی چلی گئی۔

آج موسم بھی خوب تھا ۔تمام جانور خوش تھے تب ہی لومڑ نے ان سب کو بلا بھیجا ۔سب سوچ رہے تھے نجانے کیا ھوا ھے ۔جب سب جمع ھو گئے تو لومڑ نے اپنی کرسی سنبھالی ۔میرے عزیزو!میں سمجھتا ھوں کہ کابینہ میں تھوڑا سا رد و بدل کر لیا جائے اسی لئے میں الو کی عقل مندی کے باوجود گیدڑ کو اپنا نائب بنا رہا ھوں ۔اس کا حکم ماننا سب پر لازم ھے ۔لومڑ کی بات کی تائید سب نے کی انھوں نے بھی جو اس بات کو سرے سے مانتے ہی نہ تھے۔گیدڑ کی چمک دمک اور غرور دیکھنے والا تھا ۔اسے سب نے مبارک دی سوائے الو کے ۔گیدڑ اس سے ناراض تھا ۔الو نے اسے صرف اتنا کہا ۔جہاں انصاف نہ ھو وہاں پر خیر کی توقع کیسی ۔جانوروں میں کافی بے چینی تھی،مایوسی تھی مگر لومڑ ان کا استاد تھا اسے کیا کہتے سب چپ ھو گئے ویسے بھی جس نے بغاوت کی وہ جنگل میں رل گیا ۔
’’بھائی ذرا گول گپے دینا ‘‘ ثمن نے اس آدمی سے کہا ۔
“آپ تشریف رکھیں ابھی بھجواتا ھوں “۔ ثمن کو وہ اوروں سے مختلف لگا ۔جب وہ گول گپے خود دینے آیا تو وہ چونک گئی ۔

’’تم فراز ھو نا ۔۔۔۔۔۔  ڈاکڑ فراز‘‘

“ہاں ثمن میں نے پی ایچ ڈی کر لی تھی نوکری نہیں ملی اس وقت گول گپے لگاتا ھوں اور گھر میں ٹیوشن سینٹر کھولا ھوا ھے ”
“تم بھی اس مومنہ کی طرح سب کو خوش کر دیتے ،ان کی تخریب کاریوں میں حصہ لیتے ان کے خاص بندے بنتے تو تم بھی اس نالائق مومنہ کی طرح یونیورسٹی میں پڑھا رہے ھوتے”
ہم ضمیر کا سودا نہیں کر سکتے ۔ہاں ! لیکن وہ جن کو ہم نے سب سے بلند رتبہ دے رکھا ھے جو درس و تدریس میں ہیرو کو زیرو اور زیرو کو ہیرو بنا سکتے ہیں ۔اپنا ضمیر مردہ کر سکتے ہیں تو مستقبل کے لئے تم جیسے ہونہار اور لائق طالب علم نے ایسا کیوں نہیں کیا؟
’’دیکھو ثمن بات تو ساری انسان کی شرافت حقیقی کی ھے اگر سکھانے والا اپنا مقام پہچان لے اور سیکھنے والا اپنا تو پھر کوئی مایوس نہیں ھو گا ۔ایک ہی لاٹھی سے سب کو ہانک کر کچھ نہیں ملتا ثمن ”

وہ واپس چلا گیا ۔ثمن کیا کہتی جب معاشرے میں ہر شعبہ ایسا ھو چکا تو اس معاشرے کے کس کس محاذ پر لڑا جا سکتا تھا اس نے بے بسی سے سر جھکا لیا تھا

اُلو کیوں آوازیں نکال رہا تھا لومڑ باہر نکلا ۔اوہ بھائی کیا ھوا؟اصل میں سوچ رہا تھا تم خوشامد میں آ کر فیصلہ تو کر بیٹھے ھو مگر سوچو وہ کوئی کام بھی ڈھنگ سے کر سکتا ھے؟
“افسوس تم اس سے جلتے ھو شاید اسی لئے اس کے ہنر تم کو نظر نہیں آئے ۔‘‘

’’ٹھیک کہہ رہے ھو اس کو ہنر تم نے سکھائے ہیں اب وہ غلط کیسے ھو سکتا ھے ۔‘‘اس نے یہ کہہ کر آنکھیں بند کر لیں اور لومڑ سکون سے آرام کرنے لگا شاید وہ کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتا تھا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post