وہ میرے نصیب کی بارشیں : فریدہ غلام محمد

باہر برسات کی جھڑی لگی تھی ۔ھوا کی سائیں سائیں بھی جاری تھی ۔کبھی بجلی چمکتی ،کبھی بادل گرجتے مگر زیبی کے دل میں جو برسات جاری تھی اس کا شور بہت زیادہ تھا ۔اس نے کئی بار موبائل پر اس کے نمبر کو دیکھا ۔شاید کسی اور کی آواز ھو،شاید اس نے غلط سنا ھو ۔۔۔اس کو سمجھ نہیں آ رہا تھا ،اسے کیا کرنا چاہیے ؟کیااس کے سینے کا نشانہ لے کر اسے گولی مار دے کیونکہ دل تو اسی جگہ ھوتا ھے اور اس کا دل بدل گیا تھا یا پھر درمیان سڑک کھڑے ھو کر زور زور سے چلا چلا کے بتائے کہ دیکھو مجھے ،لٹ گئ ھوں میں ،جل گیا ھے میرا گھر ،تنکا تنکا جوڑ کر گھر بنایا تھا۔ وہ ایک لمحے میں جل گیا اور سنو جلایا کس نے ،اس نے جس کے لئے میں نے جوانی کے کتنے سال خاک کر دیے ۔

اندر کی آوازوں نے اسے ہراساں کر دیا تھا وہ کہیں پاگل نہ ھو جائے ۔اس نے کھڑکی کے پٹ کھول دیے ۔بارش اور ھوا دونوں اس کے چہرے کو چھو رہی تھیں اور وہ نہ چاہتے ھوئے بھی وہ دن یاد کر رہی تھی۔
وہ کچھ بھی نہ تھی غربت کی چھت تلے پیدا ھوئی ۔ڈاکڑ تو نہ بن سکی مگر نرسنگ میں داخلہ لے لیا ۔تعلیم سے فارغ ھوتے ہی اسے نوکری بھی مل گئی ۔وہ چھوٹا سا ہسپتال تھا جس میں وہ تنہا نرس تھی ۔وہیں عالیان نے اسے دیکھا تھا وہ وہاں پر میل نرس کے طور پر بھرتی ھوا تھا ۔۔۔ انتہائی سجیلہ نوجوان اسے پسند تھا ۔وہ اکثر سنتی تھی کہ نرسیں ڈاکڑ پھانستی ہیں مگر اسے اس بات سے اختلاف تھا ۔جوڑے تو اللہ بناتا ھے کوئی کسی کو کیوں پھنسائے گا البتہ ایسا ضرور تھا ڈاکٹر وقت گزاری کے لئے اکثر نرسوں کے ساتھ دیکھے مگر شادی ایک یا دو ہی دیکھیں اب پتہ نہیں قصور کس کا تھا اسے تو یہ پتہ تھا۔

عالیان نے اس کا رشتہ مانگا تھا اور پھر اظہار محبت کیا تھا رشتہ جوڑ کا تھا ۔زیبی کے والدین کو کوئی اختلاف نہیں تھا شادی ھو گئی ۔اس کے سسرال میں صرف عالی کی آپا تھیں جو بہت ملنسار اور شفیق تھیں ۔
اس روز چھٹی تھی اس نے سوچا عالی کی الماری بھی صاف کر دے توبہ یہ عالی بھی نا پتہ نہیں کیا کیا جمع کیا ھوا ھے وہ بڑبڑائی۔
“ارے کھل کے بولو کیا تعریف کر رہی ھو میری”
’’انبار لگا رکھا ھے کتابوں کا توبہ‘‘
“میری دوست ہیں یہ سب مگر تم سے پہلے اب تو تم کو پڑھ رہا ھوں “لہجے کی شرارت پر وہ مسکرائی ضرور مگر اس کے ہاتھ اسناد لگ گئیں ۔
“عالی تم کیا کرتے پھر رہے ھے ھو ” ہیں تم سے عشق کرتا ھوں ،جو پکاتی ھو کھا لیتا ھوں ایویں کیڑے نکالتی رہتی ھو”وہ اٹھ کر بیٹھ گیا مگر وہ اس کی اسناد لے کر آ گئی۔

کچھ غلط ھے اس میں کیا ؟عالی نے بڑی بڑی سیاہ آنکھیں اس پر جما دیں ۔
اوہ نہیں بابا میں سوچ رہی تھی کہ اسی سال دوبارا ایف ایس سی کا امتحان دو اور سیدھا سیدھا میڈیکل کالج میں داخلہ لو” اس نے فیصلہ سنا دیا تھا
“ایسا بھی ھوتا ھے زیبی پاگل ھو گئی ھو کیا ؟,اب وہ پریشان ھوا تھا دیکھو میری جان تمہاری زیبی عام لڑکی نہیں ھے ہم بہت آگے جائیں گے تم ڈاکڑ بن جاؤ پھر میں یہ نوکری چھوڑ دوں گی اور پھر ہم ایک خوبصورت زندگی گزاریں گے “اس نے آخرکار اسے قائل کر ہی لیا تھا۔
زندگی کا وہ دن یادگار ترین تھا جس دن اسکا داخلہ ھو گیا تھا ۔
“عالی میری جان رکو اس کی آنکھیں خوشی سے بھیگ گئی تھیں وہ کتنا سوہنا لگ رہا تھا ۔عالی کی اپنی کیفیت بھی کچھ ایسی تھی اس نے زیبی کی پیشانی کو بوسہ دیا اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بولا۔

“عالی کی جان جب میں ڈاکڑ بنوں گا تو تمہارا تعارف فخر سے کرواؤں گا کہ یہ ھے میری جانِ جاں جس نے میرے خواب پورے کرنے کے لئے اتنی قربانی دی ” ۔ اس کی آواز خوشی سے لرز رہی تھی۔

“اچھا ہر ہفتے آتے رہنا اللہ کی امان میں “اس نے عالی کو رخصت کیا اور پانچ سال ایسے گزرے پتہ ہی نہیں چلا ۔کبھی وہ ملنے چلی جاتی ،کبھی وہ آجاتا ۔ہسپتال میں جس نے سنا اسے سراہا ۔آپا تو صدقے واری جاتیں ۔اماں ابا حج پر گئے تو پھر بھائی نے ان کو آنے ہی نہیں دیا مگر وہ تو بس مگن تھی ۔یار زیبی اس رنگ کی شرٹ چاہیے اور پرفیوم بھی ۔کبھی کبھی وہ ہنس پڑتی “کیا کچھ غلط کہہ دیا ۔عالی کی خفگی سے بھرپور آواز پر وہ پہلے ہنستی پھر کہتی۔
“اصل میں عالی جو فرمائشیں مجھے کرنی تھیں وہ تم کرتے ھو خیر سب پوری کروں گی میں بھی وہ ہنس پڑتی ۔

ہسپتال میں ایک دوست نے کہا زیبی خیال کرنا اسٹیٹس بدلنے کے بعد بیوی بھی نہ بدل لے۔
“ارے نہیں میرا عالی ایسا نہیں ھے ابھی تک تو ویسا ہی ھے ”
دوست چپ ھو گئی البتہ ہاؤس جاب مکمل ھونے تک وہ کافی خاموش سا ھو گیا تھا جب بھی گھر آتا ،زیادہ تر سوتا اس پر دھیان دینا ہی چھوڑ دیا تھا۔”عالی کیا بات ھے تم کچھ بدل نہیں گئے اس نے عالی کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ھوئے کہا ۔
“مجھے محبت ھو گئی ھے زیب “اس نے بہت سکون سے اسکا ہاتھ ہٹایا اور اسے دیکھنے لگا۔
زیب کو لگا جیسے دل اچھل کر حلق میں آگیا ھو

“مذاق کر رہے ھو تو یہ بہت برا مذاق ھے “۔ اس نے رخ موڑ لیا تھا
“یہ سچ ھے سنبل میری زندگی میں آ چکی ھے مگر بیوی بننے کے لئے ان کے گھر والوں کی ایک ہی شرط ھے میں تم کو چھوڑ دوں “۔اس نے اب کے بار نظریں نہیں ملائیں۔

زیب پر تو قیامتیں گزر گئیں ۔سمجھ ہی کچھ نہیں آ رہا تھا عالی اتنی سفاکی سے یہ سب کہے گا۔ جب اس کی ناؤ پار لگنے والی تھی اس نے ناؤ کو بیچ سمندر دھکیل دیا تھا۔
“عالی ایسا نہیں کرنا پلیز عالی تم کر لو شادی مگر مجھے چھوڑنا نہیں ”

وہ تڑپ رہی تھی اور وہ اس کی طرف سے رخ موڑ کر سو گیا تھا ۔میرے خدا یہ کیا ھو گیا ۔نجانے کب وہ سو گئی تھی ۔

صبح آنکھ کھلی تو وہ جا چکا تھا وہ آج ہسپتال نہیں جانا چاہتی تھی ۔چھٹی کی درخواست بھیج کر اس نے آپا کو کئی بار فون کیا انھوں نے بزی کر دیا گویا چال چلی جا چکی سب باخبر تھے، اس کے سوا ۔امی نے جاتے ھوئے یہی کہا تھا کہ وہ ٹھیک نہیں کر رہی اس نے کسی کی نہ سنی۔ اور آج خالی ہاتھ اور چھیدوں بھری جھولی کے ساتھ بیٹھی تھی
اسی ہفتے اسے طلاق نامہ وصول ھو گیا تھا ۔بارش بھی بہت ھوئی تھی اور وہ بھی بہت روئی تھی ۔

کافی دنوں بعد وہ ہسپتال گئی تھی تو سب ہی نے اس سے اظہار افسوس کیا وہ چپ چاپ سنتی رہی اور اٹھتے ھوئے ایک جملہ کہا

“وہ خفا ھوتا میں منا لیتی ،وہ مرجاتا میں صبر کر لیتی مگر وہ بدل گیا ھے ایسے میں کچھ نہیں کرسکتی میں ”

عالی اور سنبل ڈنر پر جا رہے تھے ان کے ساتھی ڈاکڑ نے بیٹے کی خوشی میں ھوٹل میں ڈنر رکھا تھا ۔وہ وہاں پہنچے تو ایک لمحہ کو اسے لگا اس نے زیب کو دیکھا ھے ۔یہ میرا وہم ھے اس سیون سٹار میں وہ کیسے آئے گی ویسے بھی جاب چھوڑ کر نجانے کہاں گئ “۔۔کیا سوچ رہے ہیں عالیان ؟سنبل نے اس کو کھویا سا پا کر پوچھا ہاں کچھ نہیں وہ مسکرایا تب ہی ڈاکڑ شکیل کی آواز آئی ’’ادھر آؤ عالیان ہم تمہیں ڈاکڑ شہریار اور ان کی مسز سے ملوائیں‘‘
اور وقت عالی کے لئے تھم گیا جب مسز شہریار کو دیکھا وہ کوئی اور نہیں زیب تھی سیاہ جھلمل کرتی ساڑھی میں بنی سجی زیب ، دل کو پہلی بار کچھ ھوا مگر اب وہ کیا کر سکتا تھا اس نے جو بےوفائی کی تھی اس کی سزا کے لئے آخر کاتب تقدیر نے کچھ تو لکھنا تھا ۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post