نیلی آنکھیں : رمشاء ساجد

وہ پچھلے بیس منٹ سے ٹی وی کے چینل بدل رہا تھا مانو وہ اپنے دل کے لیے ٹی وی میںسکون تلاش کر رہا تھااس کا دل بے چین اور دماغ پانی کی طرح ابل رہا تھا اسے رہ رہ کر گزرے وہ حسین پل یاد آ رہے تھے جو اب اس کے لیے کسی اذیت سے کم نہ تھے وہ پل پل مر رہا تھا اس کے اندر یادوں کا ایک سمندر موجود تھا وہ ماضی کے میں گم تھا کہ اچانک اس کی امی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ ہڑبڑا سا گیا۔
جمیل کیا بات ہے میں کب سے آوازیں لگا رہی ہوں سنائی بھی دیتا ہے یا نہیں۔
’’جی امی ۔۔۔بس وہ میں۔۔۔میں سن نہیں سکا۔‘‘
جب سے بڑے بھائی کی شادی ہوئی ہے تم نہ جانے کیوں گم سم ہو گئے ہوتمہاری بھی کردیں گے صبر بھی کوئی چیز ہوتی ہے اور تمہارے ابو کیا سوچیں گے جب انہیں ان سب باتوں کی خبر ہوگی سن رہے ہونامیں تم سے کہہ رہی ہوں۔۔۔جمیل۔۔۔ارے تم سو بھی گئے اللہ جانے تمہارا کیا بنے گا۔
آج جمیل کا سیکنڈ ائیرمیں پہلا دن تھاوہ بہت خوش تھا کہ وہ امتحان میں پاس ہو گیاہے کیوں کہ اسے یقین تھا وہ فیل ہوجائے گاوہ جلدی سے بستر سے اٹھا اور کالج کے لیے تیار ہوا۔
جمیل ناشتہ کر لو۔۔۔کیچن سے امی کی آواز آئی۔۔۔امی کی آواز کان میں پڑتے ہی جمیل نے جوش سے جواب دیا۔۔۔آیا امی۔
جلدی کریں امی کہیں میں پہلے ہی دن لیٹ نہ ہو جائوں۔میں تو کب سے آوازیں لگا رہی ہوںوحید بھی ناشتہ کر کے جا چکا ہے مگر تم ہو کہ دنیا سے بے خبر ہو کر سوئے رہتے ہو۔
اچھا امی اب میں چلتا ہوں۔۔۔خدا حافظ۔
ارے ناشتہ تو ٹھیک سے کرتے جائو۔۔۔اف اللہ یہ لڑکا کب سنے گا میری۔
یار میں کب سے کھڑا ہوں ایک تو تم نکلنے میں اتنا وقت لگا دیتے ہو۔
یار واحد تمہیں تو پتا ہے کہ امی بنا ناشتہ کئے جانے نہیں دیتی۔
اچھا بس کرو بیٹھو جلدی۔
دونوں دوست جوش کے ساتھ کالج کے صدر دروازے سے اندر داخل ہوئے یہ راستاسیدھاکالج کی بلڈنگ کی طرف جا رہا تھا جس کے دونوں جانب لال،گلابی،پیلے،نیلے،کالے اور سفید رنگ کے پھول کھلے ہوئے تھے راستے کے اختتام اور کالج کی بلڈنگ کے آغاز کے درمیان نہایت خوب صورت اور بڑا سا فوارہ بنا ہوا تھاجو تین حصوں پر مشتمل تھا،سب سے نچلے حصے میں کئی رنگ کے پھول لگائے گئے تھے،درمیان والے حصے کو ایک حوض کی شکل دی گئی تھی جو کسی بڑے پیالے کی مانند دکھائی دیتا تھا، سب سے اوپر والا حصہ نرم چمکتی ہوئی آبشاروں کے ذریعے حوض کو بھرنے کی کوشش کر رہا تھا اور حوض وہ پانی پھولوں تک پہنچانے میں مصروف تھا۔
کالج کی بلڈنگ کے دونوں اطراف سیڑھیاں تھیں جن کو دیکھ کر لگتا تھاکہ طلباء کی تعداد کو مد نظر رکھ کر بنائی گئی ہوں۔
جمیل آئو اوپر چل کر دیکھتے ہیں کہ کون کون آیا ہے اور کون کون پاس ہوا ہے ،دونوںنے قہقہ لگایااور سیڑھیاں چڑھنے لگے۔
واحد سیڑھیوں پر بھاگنے لگا ،مگر جمیل کے قدم رک گئے تھے اس کا دایاں پائوں چھٹی سیڑھی سے واپس پانچویں سیڑھی پرآ کر ررک گیا تھا۔
وہ اپنے خوب صورت ہاتھوںسے بار بار اپنے بالوں کو کان کے پیچھے رکھ کر آتی مگر اس کے بال مانو جان بوجھ کر اس کے حسین چہرے کو چھونے کے بہانے سے واپس چلے آتے تھے ۔
جمیل،جمیل ارے جمیل کیا ہوا چلو بھی اب واحد نے تیز تیزسانس لیتے ہوئے جمیل کوبلانے کی کوشش کی جب جمیل نے نہ سنی تو واحد نے اس کے قریب آکر جب اس کی نظرکا پیچھا کیاتووہ ایک لڑکی پر رکی ہوئی تھی۔
یار جمیل یہ سب کیا ہے اب میں جا رہا ہوں کلاس میں ہم پہلے ہی تمہارے ناشتے کی وجہ سے لیٹ ہو چکے ہیں سن بھی رہے ہو یا نہیں ؟
واحد نے جمیل کو کندھے سے پکڑ کر زور سے جھنجھوڑا۔۔ہا ں ہاں چلو۔
یار واحد تم نے اس لڑکی کو دیکھا؟
کس لڑکی کو؟
وہی جو نیچے کھڑی تھی،میں نے آج سے پہلے اس کو کبھی کا لج میں نہیں دیکھاکیاتم نے دیکھا؟
نہیں میں نے تو آج بھی نہیں دیکھا مگر تم پتا نہیں کن ہوائوں میں گم تھے۔۔ایسی بات نہیں ہے یار وہ لڑکی مجھے اچھی لگی میری نظر جیسے ہی اس پر پڑی تومیںسب کچھ بھول گیا۔
ہاں وہ تو نظر آ رہا تھا۔۔چل اب کلاس میں۔۔
یار آج کا سارا دن بہت بور نکلامیں صبح بہت ایکسائٹڈ تھا سوائے اس لڑکی کچھ بھی اچھانہیں ہوا۔۔
ہمممم۔۔
کیا ہمم؟ چل،چل کر اسے ڈھونڈتے ہیں۔
دماغ خراب ہے تیرا میں نہیں آئوں گامجھے سعدیہ کے پاس جانا ہے وہ بھی تو اسی کالج میں پڑھتی ہے۔
او ہاں میں تو بھول گیا تھا۔۔۔ہاں تم بھلا کیوں یادرکھو گے بہن تو وہ میری ہے۔
یار ایسے تو مت کہو وہ میری بھی بہن ہے آئو اس کے پاس چلتے ہیں۔
سعدیہ تم ٹھیک ہو کوئی پریشانی تو نہیں ہوئی۔
نہیں جمیل بھائی میں ٹھیک ہوںوہ توشکر ہے کہ مجھے ایک اچھی دوست مل گئی ورنہ میںتوپریشان ہوجاتی۔
واحد بھائی اب گھر چلیں؟۔۔۔ہاں چلو۔۔۔جمیل تم کیسے جائو گیَ؟
مجھے ابو لینے آیئں گے،بس وہ آتے ہی ہوںگے۔
ٹھیک ہے اللہ حافظ۔
اللہ حافظ دھیان سے جانا۔
واحد اور سعدیہ کے جانے کے بعد جمیل وہیں دروازے کے پاس بینچ پر بیٹھ کے کر اس لڑکی کے بارے میں سوچنے لگا،بس کے خوب صورت ہاتھ،اس کے بال،اس کی جھکی نظر،چمکدار گلابی چہرہ یہ سب باربار اس کی نظروں کے سامنے آ رہا تھا،وہ بے چین تھا کہ بس کسی بھی طرح سے وہ اس لڑکی کے بارے میں جان جائے۔
جمیل بیٹا۔۔جمیل بیٹا آپ کے ابو آ گئے ہیں،اچامک سے گیٹ کیپر کی آواز اس کے کانوںمیں پڑی۔۔
جی،جی ٹھیک ہے۔وہ ہڑبڑا کر اٹھا اورجلدی سے گیٹ کی طرف بھاگا۔
السلام علیکم امی۔
وعلیکم السلام۔۔۔کیا ہواجمیل یتنے نڈھال کیوں ہو تھک گئے ہو؟
ارے اس کو کیا ہوا جواب دیے بنا چلا گیا۔
پتا نہیں پورے راستے بھی یہ خاموش تھا شاید تھک گیا ہوگا تم کھانا لگا دو۔
جمیل تم نے اب تک کپڑے بھی نہیں بدلے،اٹھو اب جلدی سے کھانا کھا لو وحید بھی تمہارے بارے میں پوچھ رہا تھا۔
جی آرہا ہوں(جمیل نے بے زاری سے جواب دیا)۔
السلام علیکم بھائی۔
وعلیکم السلام ارے جمیل کیا ہوا صبح تم نظر نہیں آئے۔
جی بھائی آج صبح بس آنکھ نہیں کھلی۔
اچھا چلو کوئی بات نہیںکھانا کھائو۔
شام کے چھے بج رہے ہیں وحید دیکھو ذرا یہ جمیل اب تک کیوں نہیں اٹھا سارا دن سونا ہے تو پڑھنا کب ہے جائو اسے جا کر اٹھائو۔۔۔جی امی میں دیکھتا ہوں۔۔۔یہ کہہ کر وحید ،جمیل کے کمرے کی طرف چل پڑا۔
جمیل میرے بھائی اٹھ جائو اب امی ناراض ہو رہی ہیںاور ویسے بھی شام تک سوئے رہنااچھی بات نہیں۔۔۔جی بھائی اٹھ گیا ہوں۔۔۔شاباش ،اب جلدی سے باہر بھی آجانا میں چلتا ہوں۔
جی امی آپ نے مجھے بلایا؟
جمیل کیا ہوا ہے ایسی حالت کیوں بنا رکھی ہے؟۔۔۔بس امی آج بہت تھک گیا تھا پر اب میں ٹھیک ہوں۔
رات کا کھانا کھاتے ہی جمیل فوراً اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا،وہ رات کی تاریکی سے گھبرا رہا تھا،بے چینی کی وجہ سے بار بار کروٹیں بدل رہا تھا،جب کچھ سکون نہ ملا تو وہ اٹھ بیٹھا اورکھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا۔
کیا ہوا جمیل سب سو رہے ہیں اور تم ر ات کے اس وقت یہاں کھڑے کھڑکی سے کیاجھانک رہے ہو؟۔۔اچانک سے وحید بھائی کی آواز آئی۔
جی بھائی بس نیند نہیں آرہی تھی مگر آپ کیوں جاگ رہے ہیں ۔۔ارے میں تو اسائنمنٹ ختم کر کے پانی پینے آیا تھا تو سوچا ایک نظر تمہیں بھی دیکھ لوں سارا دن نڈھال رہے۔
بھائی میں ٹھیک ہوں آپ اور امی بلاوجہ پریشان ہورہے ہیں مجھے بس ذرا سی سستی تھی اورکچھ نہیں۔
اچھا چلولیٹ جائو اب ا ور سو جائو صبح کالج بھی جانا ہے شب بخیر۔۔شب بخیر بھائی۔
ارے جمیل آج تم خود ہی اٹھ گئے رات ٹھیک سے سوئے بھی تھے یا نہیں۔۔جی امی میں سو گیاتھا آپ خواہ مخواہ ہی پریشان ہوتی ہیںاچھا یہ بتائیں بھائی کدھر ہیں۔؟
وہ تو ابھی ابھی نکلا ہے کیوں کوئی کام تھا کیا؟۔۔نہیںامی بس ویسے ہی ۔۔اچھا جلدی سے ناشتہ کرو۔۔۔یہ لو آ گیا واحد بھی۔۔۔موٹر سائیکل کی آواز سنتے ہی امی تیزی سے بولا۔
خدا حافظ امی،یہ کہتے ہی جمیل دروازے کی طرف دوڑا۔خدا حافظ دھیان سے جانا۔
چل واحد یار ذراتیز چلانا آج تو میں اس لڑکی سے مل کر رہوں گا۔پاگل ہو گئے ہو کیسی باتیں کر رہے ہو خود بھی مرو گے مجھے بھی مروائو گیایسا بھی کیا ہے اس لڑکی میںجو اس قدر بے صبرے ہو گئے ہو۔۔۔تم نہیں سمجھو گے واحد۔۔۔مجھے سمجھنا بھی نہیں ہے میرے بھائی اور اب چپ کر کے بیٹھو بس۔
یہ لو آگئی تمہاری منزل،ارے جمیل میرے لیے رکو تو سہی۔
واحد نے جلدی سے موٹر سائیکل پارکنگ میں کھڑا کیا اور جمیل کے پیچھے بھاگاچاروں طرف نظر دوڑائی مگرنا کام، جمیل دور دور تک کہیں نظر نہ آیا،اچانک چند لمحوں کے بعد جمیل کی آواز آئی۔۔یار وہ کہیں نظر نہیں آئی۔۔واحدنے غصیلی نظروں سے جمیل کو دیکھااور کلاس کی طرف چل پڑا جمیل کو واحد کے غصے کا اندازہ ہو گیا تھااس لیے وہ بھی چپ چاپ اس کے پیچھے چل دیا۔
اب تو بارہ بج گئے ہیں صبح سے ایک بار بھی نظر نہیں آئی پتا نہیں اب کہاں ہوگی۔۔مجھے نہیں معلوم مجھے سعدیہ سے ملنا ہے آج سے اس کے لیے رکشے کا انتظام کر دیا ہے پتا نہیں وہ صبح وقت پر آئی بھی تھی یانہیں۔
اچھا چلو پہلے سعدیہ کے پاس چلتے ہیں یہ کہہ کر جمیل نے واحد کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی۔۔۔وہ رہی سعدیہ،سعدیہ تم وقت پر پہنچ گئی تھی،راستے میں کوئی مسلہ تو نہیں ہوا؟
نہیں بھائی سب ٹھیک ہے۔۔۔اچھا چلو شکر ہے۔۔۔جمیل بھائی آپ اتنے پریشان کیوں ہیںاور یہ اِدھر اُدھر کسے ڈھونڈ رہے ہیں؟
نہیں تو میں کسے ڈھونڈوں گا بھلا بس ایسے ہی دیکھ رہا تھا۔
یہ لو میری دوست بھی آرہی ہے میں اسی کا انتظار کر رہی تھی،یہ وہی دوست ہے جس کامیں اس دن آپ لوگوں کو بتا رہی تھی۔
جمیل نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو سامنے سے وہی لڑکی آرہی تھی جس کی وجہ سے وہ دودن سے بے چین تھا،جمیل نے پہلی بار اس کی نیلی آنکھوں کو دیکھا تھا،وہ نیلی آنکھیں خوب صورت نیلی آنکھیں جن کو دیکھ کر لگتا تھا جیسے کسی گہرے صاف پانی کے چشمے میں آسمان اتر کر گھُل گیا ہواور ان میں سینکڑوں سفید اور کالی مچھلیاں تیر رہی ہوں۔
اسلام علیکم۔۔وعلیکم السلام نیلم یہ میرے بڑے بھائی ہیں واحد اور یہ ان کے دوست جمیل بھائی ہیں۔
السلام علیکم بھائی۔۔وعلیکم السلام،تم دونوں ایک ہی کلاس میں ہو؟۔۔جی بھائی ہم پہلے دن ہی دوست بن گئی تھیں ۔۔۔واہ یہ تو بہت اچھی بات ہے،ہے نا جمیل،واحد نے جمیل کو کہنی ماری۔
ہاں ہاں۔۔ہاں۔
اچھا بھائی اب ہم چلتے ہیں۔۔ٹھیک ہے دھیان سے جانا۔
تمہیں کیا ہوا تھا کھڑے کھڑے ہی سو گئے تھے وہ بھی آنکھیں کھول کر(واحدنے غصہ ظاہر کیا)۔
واحد یہ وہی لڑکی تھی کل والی،نیلم۔
کیا۔۔۔واقعی؟
ہاں یار تم،تم سعدیہ سے پوچھنا اس کے بارے میں۔۔۔کوئی حال نہیں تمہارا اورمیںکیوں پوچھوں گا سعدیہ کیا سوچے گی ۔
اچھا چل جلدی ذرا۔۔اب کدھر؟
گیٹ کی طرف ۔۔۔وہاں کیا ہے؟
چھٹی کا وقت ہے نیلم وہیں ہوگی،جمیل یہ کہہ کرتیزی سے سیڑھیاں اترنے لگا۔۔جمیل رک یار۔۔اُف خدایا یہ پکا مروائے گا۔۔۔کیا ہوا جمیل میاں ملی وہ،مجھے تو تم بھگا بھگا کر ہی مار ڈالو گے(واحد نے تیز تیز سانس لیتے ہوئے اپنی بات پوری کی)۔
شکر ہے بھائی آپ مجھے یہاں مل گئے۔۔۔کیوں کیا ہوا سب ٹھیک ہے نا؟ جمیل نے فکرمندی ظاہر کی۔
جی جمیل بھائی وہ میری دوست ہے نا نیلم وہ گھر چلی گئی۔۔کیوں ابھی تو چھٹی میں بیس منٹ ہیں وہ کہاں چلی گئی(جمیل نے گھبرا کر پوچھا)
جی جمیل بھائی اس کے ابو آئے تھے اس کی امی کی طبیعت اچانک بہت خراب ہو گئی ہے وہ ہسپتال میں ہیں رورہی تھی نیلم اب پتا نہیں کب کالج آئے گی بس اللہ اس کی امی کو جلد صحت یاب کرے،آمین۔
اچھا میں چلتی ہوں۔۔واحد بھائی گھر جلدی آجانا۔۔اللہ حافظ۔۔اللہ حافظ دھیان سے جانا۔
جمیل اب کیا کرو گے؟۔۔پتا نہیں یار اچانک سے کیا ہوگیا ابھی تو بات بھی نہیںکی تھی اس سے اور اب یہ سب۔۔۔ہممم چلو اب گھر چلتے ہیں تم پریشان کیوں ہوتے ہو سب ٹھیک ہوجائے گا انشاء اللہ۔۔۔انشاء اللہ۔
السلام علیکم امی۔۔وعلیکم السلام کیسا تھا آج کا دن؟۔۔۔جی امی بس ٹھیک ہی تھا۔۔چلومنہ ہاتھ دھو لو میںکھانا لگا دیتی ہوں تمہارے ابو بھی بس آتے ہی ہوں گے اور یہ وحید بھی آج ابھی تک نہیں آیا۔
السلام علیکم امی یہ لیں آگیا میں پریشان کیوں ہوتی ہیں۔۔۔وعلیکم السلام جیتے رہو،میں بس کھانا لگانے ہی لگی ہوں جلدی سے آ جائو۔۔۔ٹھیک ہے امی۔
وحید کے ابو وہ جو پچھلے ہفتے آسیہ آئی تھی وحید کا رشتہ لے کر آج پھر اس کا فون آیا تھا وہ کہہ رہی تھی کہ لڑکی کی ماں بہت بیمار ہے اور وہ چاہتی ہے کہ بیٹی کا فرض ادا کر دے زندگی کا کیا بھروسہ اور ویسے بھی وحید کی پڑھائی اسی سال ختم ہو جا ئے گی پھر آپ کے ساتھ ہی کام کرے گا اور میں لڑکی بھی دیکھ کر آئی تھی بہت ہی پیاری بچی ہے۔
اچھا،مگر وحید سے تو پوچھ لو(ابو نے جواب دیا)۔۔آپ خود ہی پوچھ لیں میں تو بات کر چکی ہوں۔
وحید۔،،جی ابو۔۔
بیٹا بتائو کیا کہتے ہو؟۔۔۔جی ابو جو آپ لوگوں کو مناسب لگے۔۔۔بھائی اگر آپ کی کوئی پسند ہے تو ابھی بتا دیں(جمیل نے شرارت بھرے لہجے میں بات کی)۔
جمیل۔۔۔جی ابو۔تم چپ رہو(ابو نے جمیل کو گھُورا)۔
نہیں ،نہیں مجھے کوئی پسند نہیں۔جیسے آپ سب کو مناسب لگے میں راضی ہوں۔
چلو ٹھیک ہے رشتہ پکا کر دو(ابو نے خوشی سے کہا)۔۔۔ہاں،مگر(امی نے پریشان ہوکرکچھ کہنا چاہا)۔
مگر کیا امی؟۔۔(جمیل نے تجسس ظاہر کیا)۔
وحید کے ابو وہ لوگ چاہتے ہیںکہ جلد از جلد سادگی سے نکاح ہو جائے مجھے تو یہ سب ٹھیک لگا لوگ اچھے ہیں،گھر بار اچھا ہے سب سے بڑی بات کہ عزت دار لوگ ہیں اور لڑکی بھی سلیقہ مند سلجھی ہوئی ہے ہمیں اور کیا چاہئے۔
وحید تم کہو تو میں ان کو ہاں کر دوں۔۔۔جی امی یہی ٹھیک ہے اور آپ سب جانتے ہیں کہ مجھے زیادہ شور شرابہ پسند نہیں۔
ٹھیک ہے بیٹا خوش رہو۔
یار آج تین ہوگئے نیلم کالج نہیں آرہی اور دوسری طرف گھر میں بھائی کے نکاح کی تیاریاں ہو رہی ہیں کچھ سمجھ نہیں آتا کیا کروں کیسے کروں،سعدیہ سے بھی کچھ پتا نہیں چلا اتنے دن ساتھ رہی دونوں۔
ہاں سعدیہ نے یہی بتایا کہ وہ چپ چپ رہتی تھی کسی سے زیادہ بات نہیں کرتی تھی،اچھا اٹھو میں تمہیں گھر چھوڑ ا دیتا ہوں(واحد نے ہمدردی ظاہر کی)۔
امی آج آپ بہت خوش نظر آرہی ہیںکوئی خاص بات ہے کیا؟۔۔بات ہی خوشی کی ہے اور وہ یہکہ ہم نے وحید کا نکاح اس جمعے کو رکھا ہے۔۔امی یہ تو واقعی خوشی کی بات ہے،بھائی کدھر ہیں؟
اپنے کمرے میں ہے۔
وحید بھائی۔۔ہاں ہاں آجائو جمیل،خیریت تو ہے آج آپ میرے کمرے میں کیسے؟۔۔ارے بھائی جان مبارک ہو آپ کا نکاح ہو رہا ہے وہ بھی پرسوں جمعے کے دن،بھائی آپ خوش تو ہیں نا؟
واہ بھئی میرے چھوٹے بھائی کو میرا اتنا خیال،،ہاں میں خوش ہوں۔۔بس پھر ٹھیک ہے بہت خوشی کی بات ہے بھائی ہمیشہ خوش رہیں،اب میں چلتا ہوںمجھے ٹیسٹ کی تیاری کرنی ہے۔
چلوٹھیک ہے دل لگا کر پڑھنا۔۔۔جی بھائی ۔
واحد دیکھو میں پھر سے کہہ رہا ہوں کل وحید بھائی کا نکاح ہے اور تم سب نے ضرور آنا ہے ۔۔۔میں تو آجائوں گا لیکن امی اور سعدیہ نہیں آسکیں گی۔
کیوں ؟۔۔کیوں کہ سعدیہ کہہ رہی تھی اس کی کسی دوست کا نکاح ہے کل تو وہ لوگ وہیںجائیں گے۔
کون سی دوست تم نے پوچھا؟۔۔نہیں میں نے یہ تو نہیں پوچھا۔۔۔ہممم چلو اچھا کل وقت پر آ جانا۔۔۔ہاں آجائوں گا۔
جمعے کا مبارک دن آگیا تھا، جمیل جہاں ایک طرف تو اپنے بھائی کے لئے بے حد خوش تھا تو وہیں دوسری طرف اسے نیلم کا خیال کسی پل چین نہیں لینے دے رہا تھا،وہ کس قدر بے بسی اور درد میں گھِرا ہواتھا اس کا اندازہ اس کی روح کے علاوہ صرف اس کا خدا لگا سکتا تھاوہ اس کرب سے آزادی چاہتا تھا اس کا دل ہر پل یہی دعا کر رہا تھا کہ وہ ایک جھلک صرف ایک جھلک نیلم کو دیکھ سکے تا کہ اس کے جلتے دل کو قرار آئے۔
جمیل تم تیار ہو؟۔۔جی امی میںتو تیار ہوں بھائی تیار ہوئے۔؟
ہاں وہ بھی تیار ہے بیٹا تم ذرا باہر جا کر دیکھو سب انتظام ٹھیک بھی ہیں یانہیں۔۔جی امی۔۔یہ کہہ کر جمیل باہر چلا گیا۔
جمیل بیٹا۔۔جی ابو۔۔۔میں یہ کہہ رہا تھا کہ ہم پہلے جمعہ پڑھیں گے اس کے بعد نکاح کے لئے روانہ ہوں گے۔۔۔جی ابو ٹھیک ہے۔
سب نے مل کر محلے کی مسجد میں جمعہ ادا کیااور بچوں کے لئے دعا کی اس کے بعدبارات لڑکی کے گھر روانہ ہو گئی۔
لڑکی والوں نے بارات کی خوب خاطر مدارت کی،مردوں اور عورتوں کے لئے الگ الگ انتظام کیا گیا تھا،تمام انتظام سادہ مگر دل موہ لینے والا تھا،سب با راتیوں نے خوب تعریف کی ،اسی چہل پہل میں نکاح کی رسم ادا کی گئی اب بارات کی واپسی کا وقت ہو گیا تھا،بیٹی کی رخصتی کا وقت سب کو رلا دیتا ہے،ہر آنکھ اشک بار تھی،سبھی کے دل بھاری تھے یہ بہت وقت مشکل مگر اٹل ہوتا ہے۔
بارات خوشی خوشی دلہن کو لے کر اپنے گھر آگئی سب دلہن کو ایک نظر دیکھنے کے لئے بے تاب تھے سب نے دلہن کو دیکھ کر خوب دعائیں دی۔اب باری تھی دلہے کے بھائی کی سب نے شور مچا مچا کر جمیل کو بلایا اور کہا کہ چھوٹے دیور ہونے کا نیگ لے لو۔
جمیل بہت خوش تھا کیوں کہ اس کا بھائی خوش تھا، جمیل نے آگے بڑھ کر اپنی بھابھی کو دیکھنے کی کوشش کی تو ایک خالہ نے اسے روک کر کہا کہ جا کر بھابھی کے پاس بیٹھو تبھی یہ رسم پوری ہوگی۔
جمیل نے مزید آگے جا کر دیکھا تو یہ وہی نیلی آنکھیں تھیں جو کالج میں کہیںکھو گئی تھیں،اس کے پیروں سے زمین دھیرے دھیرے اپنی جگہ چھوڑ رہی تھی اس کا جسم کانپ رہا تھااس کا ماتھا پسینے سے شرابور تھاوہ اپنا ہاتھ دل پر رکھنے کی کوشش کر رہا تھا مانو جیسے وہ ٹوٹتے دل کی آواز کو باہر آنے سے روک رہا ہو یہ دنیا اس کی آنکھوں میں ٹھہر گئی تھیاس کا دل شیشے کی طرح چور چور ہو چکا تھا،جمیل نے مشکل سے اپنے قدموں کو پیچھے کھینچا تو اسے اپنا ہر قدم بھاری محسوس ہو رہا تھاوہاں سے نکل کر وہ سیدھا چھت کی طرف بھاگا۔۔۔یہ کیا تھا؟یہ سب سچ ہے؟میں اب کیا کروں گا؟میں سو نہیں پائوں گا نہ ہی مر پائوں گا۔۔اور،اور نہ ہی جی پائوں گا،وہ لڑکی وہ نیلی آنکھوں والی لڑکی،میں بے بس ہو گیا،سب ختم ہو گیا۔یہ کہتے ہی جمیل نے زور دار چیخ ماری اور گھٹنوں کے بل گِر گیا۔یااللہ یہ کس اذیت میں ڈال دیا ہے کیسا امتحان ہے یہ میں ان سب حالات کا سامنا کیسے کر پائوں گا،یہ سب میرے ساتھ کیوں ہوا؟
ساری رات رونے کے بعد جمیل صبح چار بجے اپنی کمرے میں جا کر لیٹ گیا،مگر نینداس سے روٹھ چکی تھی رات کی تاریکی اسے چڑا رہی تھی وہ کروٹ بدلتا رہا اور اسی اذیت میں سورج نکل آیا،آج وہ کالج بھی نہیں گیا تھاسارا دن کمرے میں لیٹا اپنی قسمت کو کوستا رہا۔۔رات پھر سے اس کے درد میں اضافہ کرنے پہنچ گئی تھی اگلی صبح ہوتے یہ وہ بنا ناشتہ کیے کالج چلا گیا۔
واحد نے جمیل کی سرخ آنکھوں اور بکھرے بالوں کی وجہ پوچھی تو جمیل نے سب بات بتا ڈالی۔
یار واحد میرا دل نہیں کرتا کہ گھر جائوں۔۔۔دیکھو جمیل اب جو بھی ہے وہ تمہاری بھابھی ہے اور یہ سب قسمت کا کھیل ہے کون روک سکتا تھا،ہمیں تو خبر بھی نہیں تھی اور سب ہو بھی گیاصبر سے کام لو اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے ۔
گھر واپس آکر جمیل کو اپنا ایک ایک قدم بھاری لگ رہا تھا وہ یہی دعا کر رہاتھا کہ کسی سے سامنا ہوئے بنا وہ اپنے کمرے میں پہنچ جائے،کمرے میں آتے ہی جمیل نے لمبا سانس لیا اور بستر پر گِر گیا۔
جمیل اٹھ جائو کب تک سونا ہے ایک تو آج اس لڑکے کی نہ جانے کی خبر ہوئی اور نہ ہی آنے کی(امی نے فکر مندی ظاہر کی)۔
جی امی۔۔میں اٹھ گیا ہوں۔۔بھائی کدھر ہیں؟۔۔وہ اپنے سسرال گیا ہے نیلم کو لے کر یہ رسم ہوتی ہے جب شادی کے دو دن بعد لڑکی اپنے مائیکے جاتی ہے۔
جی۔۔(جمیل نے بجھے دل سے جواب دیا)۔
امی میرے سر میں درد ہے ذرا چائے بنادیں۔۔۔اچھا بیٹھو میں ابھی بنا لاتی ہوں۔
جمیل وہاں سے اٹھا اور چھت پر چلا گیانیچے اس کا دم گھٹ رہا تھااوپر جاتے جاتے اس کی آنکھوں میں آنسوئوں کی لہردوڑ گئی اوپر کھلی ہوا کے ساتھ وہ اپنا درد بانٹ رہا تھا بنا آواز کے رو رہا تھا اپنی قسمت سے اپنا قصور پوچھ رہا تھا۔۔میں نہیں جی پائوں گا میں اب جینا ہی نہیں چاہتا۔
جمیل۔۔۔۔اچانک امی کی آوازآئی۔۔وہ جلدی سے اٹھا آنسوں صاف کئے چہرے پردونوںہاتھوں کواچھے سے پھیرااور چلا گیا۔
جی امی۔۔یہ لو چائے ،مجھے چائے کا کہہ کر کدھر چلے گئے تھے اور یہ تمہارے ہاتھ میںکیا ہے۔ ۔۔کچھ نہیں امی سر درد کی دوا ہے۔
چائے سے فارغ ہو کر جمیل نے ٹی وی لگا لیا اور چینل بدلنا شروع کئے اب وہ پچھلے بیس منٹ سے ٹی وی کے چینل بدل رہا تھا مانو وہ اپنے کے لئے ٹی وی میں سکون تلاش کر رہا تھاوہ اس اذیت سے آزادی چاہتا تھااسے رہ رہ کالج کے وہ چند حسین پل یاد آرہے تھے اس کا دل بے چین ہو رہا تھا وہ فورًا سے اٹھ بیٹھا پانی سے سر درد کی دوا لی اور لیٹ گیا۔
جمیل اٹھ جاو اب۔۔جمیل۔جمیل۔۔کیا ہوا جمیل۔۔۔جمیل اب گہری نیند سو چکا تھا اس کے اندر کا طوفان تھم چکا تھا وہ ہر اذیت آزادی حاصل کر کے ان نیلی آنکھوں سے دور جا چکا تھا۔۔۔وہ نیلی آنکھیں اس کی روح کو خود میں قید کر چکی تھیں۔

 

You might also like
  1. عمر سیال says

    ما شاء اللہ۔۔

    بہت عمدہ تحریر۔۔
    اللہ کرے زار قلم اور زیادہ۔۔

    جستجو اور لگن ہمیشہ مسرت کے راستے پیدا کرتی ہیں۔۔
    سلامتی کی ڈھیروں دعائیں۔۔

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post