محبت میں آ نسو (مختصر افسانہ) ۔۔۔۔ ع۔ع۔عالم

“سر! آ پ جانتے ہیں کہ مجھے آ پ سے کس قدر محبت ہے بارہا اپنی محبت کا یقین دلا چکنے کے بعد بھی آ پ اس بات کو کوئی اہمیت نہیں دیتے۔اس لیے یہ بات آ پ کے لیے بہت طمانیت کا باعث ہوگی اور مجھے یقین ہے کہ آ پ سے زیادہ کسی کو بھی خوشی نہیں ہو گی کہ میری شادی طے پا گئی ہے۔ آ ج سے ٹھیک سات دن بعد 21 اپریل کو میری شادی ہے۔ضرور آ ئیے گا۔۔”
(آ پ کی پوجا)
دور جدید جہاں بہت سی چیزوں میں انقلاب لایا ہے وہیں خطوط نویسی میں بھی جدت کو لے کر آ یا ہے۔ہر چند آ ج کے دور میں “خط” کے ذریعے پیغام رسانی ایک قصہ دیرینہ و پارینہ ہو چکا ہے مگر “پوجا” اب بھی دلی جذبات کے تطہیری اظہاریے کو “خط” کہتی اور “خط” کا استعمال بروئے کار لاتی۔
عبداللہ صاحب نے ابھی خط پڑھا ہی تھا کہ کسی انجان نمبر سے کال آ ئی۔
“السلام علیکم! جی کون صاحب؟” عبداللہ صاحب نے اپنے مخصوص انداز میں پوچھا۔
“پوجا…..!”
“اووو۔۔۔کیسی ہو پوجا!”
“میں ویسی جیسا چھوڑ گئے تھے” وہ بولی
“ہمممم”
“کال کاٹنے سے پہلے بات سن لیجیے گا۔ امید کرتی ہوں کہ آ پ نے خط پڑھ لیا ہو گا۔اس لیے درخواست یہ تھی کہ ضرور آ ئیے۔ آ پ یہی چاہتے تھے ناں۔۔۔لیجیے آ پ کی مراد بر آ ئی۔بس آ خری بار آ پ کو جی بھر کے دیکھنا چاہتی ہوں پھر اس کے بعد شاید زندگی بھر نہ دیکھ سکوں۔ آ ئیں گے ناں؟؟؟”
پوجا مسلسل روئے جا رہی تھی۔
“جی جی کیوں نہیں۔پوجا! ضرور۔ ہم آ ئیں گے ضرور آ ئیں گے۔ ماشاءاللہ یہ واقعی بہت خوش آ یند بات ہے اور مجھ سے زیادہ شاید ہی کسی کو خوشی ہو۔سر ہونے کے ناطے اب اتنا تو حق بنتا ہی ہے کہ اپنی شاگرد کی شادی پر اسے خوشی خوشی وداع کیا جائے۔ایک بار پھر سے بہت بہت شادی کی مبارک باد۔۔۔”
اس سے قبل عبداللہ صاحب کی بھری ہوئی آ واز کا پوجا کو ادراک ہوتا انھوں نے کال بند کر دی اور اپنے لیپ ٹاپ پر “poja” پاس ورڈ ڈائل کر کے؛ پوجا کے نام سے بنائے ہوئے فولڈر میں جا کر؛ پوجا کی تصاویر کو دیکھ کر بے ساختہ رونے لگے۔۔۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post