ماں : ع ۔ع ۔ عالم

بدبو کے بھبھوکے، اس کے گرداگرد دو میٹر کے احاطے کو محیط تھے۔ اس کو دیکھ کر دور سے ہی راہی دور ہو جاتے تھے۔ کوئی اکا دکا راہی محویت کے عالم میں ڈوبا، اس دو میٹر کے احاطے میں جیسے ہی قدم رکھتا تو اس کے نتھنوں میں چھان کا اک زوردار حملہ ہوتا۔جس سے وہ اباکنے لگتا۔ یہاں تک اس کی آ نکھوں میں عرق چشم ابھر آ تا اور چہرے کا رنگ متغیر ہو جاتا۔
اس بات کا اندازہ وہی شخص لگا سکتا ہے کہ جس کا گزر کسی چوہے کی گلی سڑی لاش پر سے ہوا ہو۔
“نشہ ذلت و رسوائی کا رہبر ہوتا ہے۔ ”
یہ قول اس پر صادق آ تا تھا نشے کی لذت نے اسے ابتر بنا چھوڑا تھا۔اس کی بیوی بچوں نے تنگ آ کر اسے گھر سے بے گھر کر دیاتھا۔
میں کالج جاتے ہوئے روانہ دیکھتا کہ ایک لاغر ونحیف بڑھیا، عصائے خستہ کا سہارا لیے اس بدبو کے احاطے میں قدم رکھتی اور اس چھان و بدبو کے حامل، لذت نشہ کے عادی شخص کے گرد و غبار سے اٹے سر کو گود میں رکھ کر اپنے جھریوں والے ہاتھوں سے نوالے بنا بنا کر کھانا کھلاتی۔اور اس عظمت انسانی سے عاری اپنے اس بیٹے کو بھوک مٹا کر چلی جاتی کہ جس نے پچھلے سال اسے فضول سامان سمجھ کر گھر سے نکال دیا تھا۔
میں دیکھتا ہوں کہ وہ بیمار بوڑھی عورت ریٹائر ہونے کے بعد، پینشن نہ ملنے کے باوجود باقاعدگی سے خلوص نیتی سے آ ج بھی اپنی نوکری سر انجام دینے آ تی ہے
میں دیکھتا کہ وہ روانہ اک طویل مسافت طے کر کے آ تی اور پھر دوسرے وقت کے کھانے کے لیے گھر گھر، دکاں دکاں بھیک مانگنے چل نکلتی ہے۔۔۔
پسر غمگیں کے لیے دوڑی چلی آ تی ہے
ایک ماں ہے جو خدا سے بھی بگڑ جاتی ہے

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post