لیموں کا رَس : خاورچودھری

برفیلی رُت نے ہر شے کو ڈھانپ رکھاتھا۔ کوہستانوں پر ایستادہ برف کی چٹانیں اگرچہ معمول کے مطابق تھیں لیکن وادی اور شہری علاقوں میں سردی کی شدت پہلے کبھی اتنی نہ تھی۔ اب تو درختوں کی ٹہنیاں بلوریں معلوم ہوتی تھیں اور تو اور ہوا بھی برف کا لبادہ اوڑھ کر سفرکرتی نظر آتی تھی۔ ایسے میں جسموں کو چیرتا ہوااحساس روح تک کو چھلنی کردیتاتھا۔
یہ ۷۲۔ دسمبر کی رات تھی۔برفیلی ہوا دودھاری تلوار کی مانند ہر شے کو چیرتی چلی جارہی تھی۔ حسین دوست کے چوبی مکان کی کمزورچھت پرکسی کے قدموں کی بھاری آہٹ سنائی دی تو وہ میاں بیوی اچانک جاگ گئے اورچلنے کی دھمک کا اندازہ کرنے لگے۔ عام دنوں میں ایسا نہیں ہوتاتھا؛البتہ کبھی کبھار کوئی جانور جست بھرکر چھت پرآجاتھا۔ کیوںکہ چھت سے متصل راستہ چھت کے قریباً برابر تھا۔ایسے حالات میں گھر کے مکینوں میں سے کوئی اُس ٹل کو پیٹنا شروع کر دیتا تھا ، جواُنھوں نے باہر کھڑکی کے ساتھ لٹکا رکھاتھا۔یوں جانورکسی دوسری طرف نکل جاتا۔ ایک تو سرد ترین رات اور اُس پر مسلسل آہٹ۔پریشانی نے دونوں کے جسموں کو حرارت سے معمور کردیا تھا۔ حسین دوست بہ ہرحال مرد تھا اور اُسے خطرات کے باوجود اپنی بیوی کے سامنے کمزوری دکھاتے ہویے ہچکچاہٹ کا سامناتھا۔ اگرچہ وہ خود بھی خوف میں مبتلا تھالیکن بیوی کا وحشت زدہ چہرہ اُسے مزید متوحش کیے جارہاتھا۔ اُس نے سرگوشی کرتے ہوئے مسرت سے کہا:
” ٹل بجاوں؟ ہوسکتا ہے کوئی جانور ہو۔“
”انسان ہوا توکھلی کھڑکی دیکھ کر وارکرسکتا ہے۔“
” کچھ بھی ہو، اس اذیت میں تورات ویسے بھی نہیں گزاری جاسکتی۔“
اُس نے پھٹا ہو الحاف ایک طرف سرکایا۔ بیوی کے ماتھے پربوسہ ثبت کیا۔ حسن دوست اورزینب کی جبینوںکو شفقتِ پدری سے چُھوا اوریک لخت زمین پر کُودگیا۔ کچی زمین کے فرش پرپیدا ہونے والی دھمک سے چھت پر قدموں کی آہٹ مزید تیز ہوگئی۔ اُس نے بیرونی بلب روشن کیا اور بیوی کے منع کرنے کے باوجود کمرے سے باہرآگیا۔چھت پر ایک بندوق بردار کھڑاتھا؛ جو سرسے پاو¿ں تک سیاہ بھجنگ کپڑوں میں لپٹا ہوا تھا ۔ برفیلی ہواوں نے اُس کے لباس اور جوتوں پر برف کی آڑھی ترچھی لکیریں کھینچ رکھی تھیں؛جن سے وہ اور خوف ناک معلوم ہوتا تھا۔ حسین دوست نے ساری قوتیں مجتمع کرکے پوچھا:
”کون ہیں آپ اور یہاں کیا کررہے ہیں؟“
” میں محافظ ہوں، پڑوسی ملکوں میں کوروناوائرس سے وبا پھیل چکی ہے۔ ہم کوشش کررہے ہیں کہ ہمارے شہری اس وبا سے محفوظ رہیں۔ اس لیے باہرسے آنے والوں کوروکا جارہا ہے۔“
” لیکن لوگ تو گاڑیوں اور جہازوں کے وسیلے سے آتے ہیں۔“
”بجا! مگر سرحدی علاقوں میں رہنے والے پیدل سفر کرسکتے ہیں۔“
” ہونہہ ہ ہ ہ ____ ہاں ہاں۔“
” آپ جا کر آرام سے سو جائیں ۔ “
” شکریہ ____ خدا حافظ۔“
حسین دوست ایک نیم سرکاری ادارے میں چپراسی تھا۔اُسے کورونا وائرس سے متعلق کچھ کچھ معلومات ضرورتھیں؛ وہ گاہے گاہے مسرت کو بتاتارہاتھا؛اس لیے وہ خوف زدہ اور متفکر ہونے کے باوجود کمرے میں چلاآیا مگر باہرکا بلب احتیاطاً روشن رہنے دیا؛ جسے بعد میں محافظ کے کہنے پر بند کرنا پڑا۔ نیند کہاں تھی، جو چلی آتی۔ دونوں میاں بیوی حیات و ممات کی کشمکش میں ایک دوسرے سے چپک گئے اورصبح کی اذان تک سانسوں اور سینوں کی حدت سے ایک دوسرے کا خوف کم کرنے کی کوشش میں مگن رہے۔خوف نے اُنھیں ہر طرح کے احساس سے محروم کر رکھا تھا۔ کوئی معمولی سی چنگاری بھی تو نہ تھی، جودھیان کوکسی اور طرف لے کر جاتی۔اذان سنتے ہی دونوں نے بسترچھوڑا اورمعمول کے مطابق صبح کی نمازادا کی؛ تلاوت کی اورپھر مسرت نے ناشتا تیار کیا۔حسین دوست باہر آیا،چھت پر کوئی موجود نہ تھا۔ وہ چوبی سیڑھی کے سہارے چھت پر آگیا۔ برف کی ہلکی تہ میں جا بجا بوٹوں کے نشان واضح تھے۔اُس نے آس پاس کی چھتوں پر نظر دوڑائی تو کچھ ایسا ہی منظر تھا۔ وادی میں اب بھی اکادکا سیاہ پوش گشت کرتادکھائی دے رہا تھا اور بعض مکانات کی چھتوں پر مکین بھی نظر آرہے تھے۔ غالباً وہ بھی گزری رات کی وحشتوں کے نشانات دیکھ رہے تھے۔
ٹیلی ویژن اور ریڈیو پر وقفے وقفے سے کورونا وائرس سے بچاو کی تدابیر نشر کی جانے لگیں۔ یہاں تک کہ موبائل فون کمپنیاں اور بعض حکومتی ادارے بھی موبائل فون پرحفاظتی پیغامات بھیجنے لگے۔ حکومت کی طرف سے ایک مشہورڈاکٹر کا پیغام نشر کیاجاتا،جو ان الفاظ پر مشتمل تھا:
” گھروں میں رہیں، کسی سے نہ ملیں، مصافحہ اور معانقہ سے باز رہیں۔باہمی میل جول سے کورونا وائرس پھیلنے کا خطرہ ہے۔ یہ لاعلاج ہے۔ فاقوں میں کئی ہفتے زندہ رہاجاسکتا ہے مگریہ وائرس فوراً موت کے منھ میں دھکیل دیتا ہے۔باربار ہاتھ منھ دھوئیں۔ وٹامن سی کی مقدار بڑھائیں۔“
لوگو ں کے لیے یہ نئی بات تھی؛اس لیے شروع میں کسی نے زیادہ پروا نہ کی۔ حسین دوست بھی معمولاتِ زندگی میں مشغول رہا۔ وہ جانتاتھا ،کہ بیوی بچوں کا پیٹ پالنا اُس کی ذمہ داری ہے۔ مجازی خدا محض ایک خطاب نہیں بلکہ مرد کواپنی زندگی داوپر لگاکر زیرِ کفالت لوگوں کو پالنا پڑتا ہے۔ اُن کی ضرورتیں پوری کرنا اُس پر واجب ہوتا ہے۔آفتیں ہوں، بلائیں ہوں، خطرات ہوں، آندھی طوفان ہوں یاسیلابی ریلوں کا عفریت ؛ مردہر ایک کے سامنے سینہ سپر رہتا ہے۔حسین دوست کیسے پشت دکھا سکتا تھا؟ وہ ضروریاتِ زندگی پوری کرتا رہا۔ دوسری جانب سرحدوں پر حفاظتی پہروں کے باوجود وائرس کی وبا ملک میں داخل ہوچکی تھی۔ پوری قوم میں خوف اور سراسیمگی انتہائی درجے کو پہنچی ہوئی تھی____ اس کے باوجودوہ اسی کوشش میں رہتا کہ مسرت، حسن دوست اور زینب پیٹ بھر کر کھائیں۔پھرحکومتی اقدامات میں سختی آتی گئی۔
اگلے چند دنوں میں خوف بڑھاتومحافظوں کی تعداد بڑھی۔ اب اہل کار دن رات گشت اور لاو¿ڈ سپیکروں پر لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کرتے تھے۔ مسجدوں میں بھی منادی کرا دی گئی تھی۔حکومت نے اعلان کررکھاتھا ،کہ کوئی شخص گھر سے باہر نہیں نکلے گا۔بازار بند کرادیے گئے؛ تعلیمی اداروں کو تالا لگادیا گیا؛ حتیٰ کہ مسجدوں میں باجماعت نماز ادا کرنے سے بھی روک دیاگیا۔ پہلے پہل اشیائے ضروریہ خریدنے کے لیے کچھ رعایت مل جاتی تھی؛پھر اتنی سختی کردی گئی کہ کوئی گھر سے نکل نہیں پاتاتھا۔ ایک آدھ شخص نے اگر نکلنے کی کوشش کی بھی تومحافظوں نے ہوائی فائر کھول دیے؛ جو اس بات کا اعلان تھے، کہ دوبارہ سینے میںسے آر پار ہو جائیں گے۔ عجیب خوف ناک حالت تھی۔لوگ اپنے ہی گھروں میں قیدی بن کر رہ گئے تھے۔
ایک چپراسی کی بساط ہی کیا ہوتی ہے، جو وہ اپنے گھر میں غلّہ کے ڈھیر لگادیتا؟ پھر وادی میں ویسے ہی اشیا کی قلت رہتی تھی۔گھر میں موجود ایندھن آہستہ آہستہ ختم ہواجاتاتھا اور غذاوں کی کمی بھی خطرے کی حدتک پہنچ رہی تھی۔ حسین دوست اپنی بیوی مسرت کے چہرے کی طرف دیکھتا، وہاں حزن اور تفکرکی اندوہ ناک بدلیاں منڈلاتی رہتی تھیں۔ اُس نے سوچا:
” یہی چہرہ کبھی قندھاری سیب کی طرح دمکتاتھا ۔ اُسے یادآیا وہ پیار سے مسرت کو سُرخ انگارہ کہا کرتاتواُس کا چہرہ مزید سرخ ہوجایاکرتاتھا۔“
غربت اور زمانے کے حادثات نے اُس چہرے کی تمام رعنائی وتمکنت چھین لی تھی۔ برف پوش کوہستانوں میں زندگی بجائے خود ایک امتحان ہے اور پھر تنگ دستی کا عذاب توجان لے کر چھوڑتا ہے۔ حسین دوست اور مسرت نے بہ ہرحال ایک ساتھ جینے کی قسم کھا رکھی تھی ؛اس عہد کا نتیجہ ہی تھا، کہ وہ ہرمشکل میں اُس کا ساتھ دیتے آئی تھی۔ وہ جانتی تھی ،دُنیا میں اگرکوئی اُس کے لیے جان دے سکتا ہے تو وہ حسین دوست ہی ہے۔اب تو منظر ہی اُلٹ چکا تھا۔ اس غیر یقینی کی صورت میں بھروسا اور یقین کتنی دیر سلامت رہ پاتے ہیں؟ کچھ بھی توواضح نہ تھا۔ کرفیو جیسی صورت حال میں زندگی گزارنا بجائے خود اذیت ناک ہوتا ہے۔ملناملانا توایک طرف ،سانس کی ناو¿ کھینے کا جتن بھی محض فضول دکھائی دیتا ہے۔پھر قحط جیسے حالات کا تسلسل____ !
پہلے پہل تو حکومت کی جانب سے غریب گھروں میں تھوڑا بہت غلّہ دیاگیا؛ جب وبا نے طول پکڑا توحکومت نے لوگوں کو اُن کے حال پر چھوڑ دیا۔اگرچہ حسین دوست کی تنخواہ روک دی گئی تھی لیکن اُسے باہر جانے کی اجازت مل جاتی تو وہ پہاڑوں کے سینوں سے رزق کھودنکالتا۔ گھر میں فاقوں کا بسیرا ہوا۔حسن دوست اور زینب کا چہرہ مرجھائے ہوئے پھولوں کی مانندہوگیا۔ سرخ قندھاری سیبوں کو شرماتا ہوامکھڑا بھی سڑے ہوئے پھل جیساتھا۔ خود حسین دوست کی حالت بھی ناقابلِ بیان تھی____ تب ایک رات اُس نے رزق کی تلاش میں نکلنے کا فیصلہ کیا۔ایک پڑوسی نے اپناپیٹ کاٹ کر اُس کی طرف بسکٹوں کا ایک پیکٹ اورلیموں کے رَس کی ایک بوتل اُچھال دی۔تشکرکے جذبے سے مملوروتی آنکھوں نے پڑوسی کا شکریہ ادا کیا۔
”لیموںوٹامن سی کے حصول کا بہترین ذریعہ ہے۔ اُمید ہے، چند روز تک وباکا زور ٹوٹ جائے اور پہروں میں بھی کمی ہو؛ تب تک لیموں کی یہ بوتل میرے کنبے کو کورونا وائرس کے خلاف تحفظ فراہم کرے گی۔“ اُس نے سوچا اورگھرکی طرف پلٹ آیا۔
ٹیلی ویژن اور ریڈیو کی باربارنشریات سے وہ یہ ضرورجان اور سمجھ چکاتھا، کہ اَب اُسے بہ ہرحال اپنوں سے دُور رہنا ہے۔ہوسکتا ہے وائرس اُس کے جسم میں سرایت کرچکا ہو۔ چناںچہ اُس نے باہر کھڑکی سے ہی مسرت کو پکارا اورہدایات دیں:
” لیموں کی بوتل اوربسکٹوں کوصبح سے پہلے ہاتھ نہیں لگانا؛ تب تک بارہ گھنٹے گزر چکے ہوں گے اور وائرس اگر ہوا بھی تو ختم ہوچکا ہوگا۔لیموں کے چند قطرے روزانہ استعمال کرنے سے تمھاری قوتِ مدافعت مضبوط ہو گی۔ تم ، حسن اورزینب یہ لیموں کا رس باقاعدگی سے پانی میں ملا کرپیتے رہنا اور ٹیلی ویژن پرآنے والے ڈاکٹر کی ہدایت پر بھی عمل کرنا۔ یہ تمھاری زندگیوں کے لیے بہت ضروری ہے۔لیموں کی ایک بوتل میرے پاس بھی ہے۔ میں مہمان خانے میں رہوں گا۔کم ازکم دو ہفتے مجھے اکیلے رہنا ضروری ہے۔ میری فکرنہ کرنا۔“
مسرت کا چہرہ آنسووں سے بھیگ گیا اور دونوں بچے خاموشی سے والدین کو تکتے رہے۔
ہفتہ بھر بعدکوئی ضرورت کا ماراحسین دوست کے گھر کی طرف آنکلا ۔اُس نے دیکھا مہمان خانے میں حسین دوست مردہ پڑاہے۔وائرس کے اثرات ظاہر ہونے سے پہلے ہی بھوک کی شدت نے اُس کی جان لے لی تھی۔
لیموںکے رَس کی اکلوتی بوتل وہ زیرِ کفالت انسانوں کی بجائے اپنی زندگی پر کیسے خرچ سکتا تھا؟

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post