عشق پیچاں


افسانہ نگار: سلمیٰ جیلانی
عشق پیچاں یعنی انگلش آئی وی کی ننھی سی کونپل کو سامنے لگے ہوئے پام کے درخت پر سر اٹھاتے دیکھا تو میں نے کیاریوں کی صفائی کرتے ہوئے ناگواری سے اسے کاٹنے کے لئے قینچی بڑھائی –
“ہفتہ دو ہفتے تک نہ دیکھو تو خود رو پودوں سے سارا باغیچہ جنگل بن جاتا ہے اچھے پودوں کوتو بڑھنے نہیں دیتے، پچھلے سال جو درخت لگایے تھے وہ ابھی تک وہیں کے وہیں تھے اور یہ جھاڑیاں ہیں کہ ……..” چبھتی ہوئی دھوپ میں ان پودوں کی دیکھ بھال اور بھی کھل رہی تھی لیکن اس کے سوا کوئی چارہ بھی نہ تھا ایک تو مالی رکھنے کی سکت نہ تھی اور نہ ہی میری صفائی پسند طبیعت اس بات کی اجازت دیتی کہ گھر کے سامنے کا حصہ جھاڑ جھنکاڑ سے بھر جانے دوں — اسی دوران، ننھے امرود کے پودے کے آس پاس لگی جھاڑیوں کو صاف کرنے میں مگن ہو گئی — اس کی آبیاری میرے لئے بہت اہم تھی ،آخر اس کے پھل کے ذائقے سے اپنے وطن کی یادیں جو جڑی تھیں ،—- عشق پیچاں کی بیل کی طرف سے میرا دھیان ہٹ چکا تھا –
——-
کئی دن بعد— آج پھرہفتہ کو– باغیچہ کی صفائی کا خبط سوار ہوا تو دیکھا — اس بیل نے تو درخت کو اپنی گرفت میں لے لیا ہے، لگتا تھا یہاں کا مزاج اسے کچھ زیادہ ہی بھا گیا ہے اور وہ تیزی سے پنپتی جا رہی تھی،
میں نے سامنے برساتی نالے سے خراماں خراماں سڑک پار کرتی ہوئی بطخوں کی ٹولی کی طرف نظر جماتے ہوئے سوچا
جنہوں نے تیزی سے آتی ہوئی کاروں کو اپنی رفتار آہستہ کرنے پر مجبور کر دیا تھا ، ایک کار والے کو زیادہ ہی جلدی تھی اس نے غلطی سے کہیں ہارن پر ہاتھ رکھ دیا تھا اور باقیوں نے جو اسے گھور کر دیکھا–کار والا خجل ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگا …. ان میں سے ایک نے سڑک کے کنارے لگے سائن بورڈ کی طرف اشارہ بھی کیا، جس پربطخوں کی گزرگاہ کا اشارہ بنا ہوا تھا –گویا بطخوں کی راج دھانی میں مخل ہونے کا اسے کوئی حق نہ تھا– کچھ منٹوں کی رونق کے بعد سڑک پھر خالی ہو چکی تھی …. میرا دھیان پھر بیل کی طرف پلٹ گیا تھا ” آج تو میں اس بیل کو ختم کر ہی ڈالوں گی –اتنا خوب صورت پام کا درخت اس سے متاثر ہو رہا ہے “میں نے دل میں سوچااور بڑے جوش سے تنے پر لپٹی بیل کی ٹہنیاں نوچنے لگی
“ارے –ارے –کیا کر رہی ہو” پیچھے سے میاں صاحب نے آواز لگائی
” آپ دیکھ نہیں رہے –کتنی تیزی سے یہ طفیلی بیل بڑھ رہی ہے ، سارے درخت کھا جائے گی “میں نے جھنجلا کر جواب دیا
“بھئی میں تمہیں بتانا بھول گیا ……یہ میرے دوست جمال نے دی ہے”
جمال کون … یہ کون سا نیا دوست ہے ؟
ہے ایک آخر تم کو میرے ہر دوست کی تفصیل بتانا ضروری ہے کیا ؟ انہوں نے جھنجلا کر وضاحت کی ” اس کا تازہ پھولوں کی آرائش کا کاروبار ہے اس کو بیل کے پتے چاہیے ہوتےہیں گلدستوں میں لگانے کے لئے”
تو اپنے گھر میں کیوں نہیں لگاتا ؟
ارے بھئی ہر کسی کو تمہاری طرح لان کی سہولت نہیں ہوتی یو اریگنٹ وومن ” اب وہ الفاظ چبا رھے تھے
اس کا گھر بہت چھوٹا ہے … اگر باغیچہ کے تھوڑے سے حصے میں یہ بیل لگ جائے گی تو اس میں ہمارا کیا نقصان ہے ” “نقصان __ آپ کو کیا معلوم ، یہ طفیلی بیل ہمارے پودوں کو کتنا نقصان پہنچا رہی ہے ”
“طفیلی ہے تو کیا ہوا …. اس کی وجہ سے کتنا ہرا بھرا لگنے لگا ہے باغیچہ، کیا تمہیں یہ سب اچھا نہیں لگ رہا؟ ” وہ لاپرواہی سے کندھے اچکاتے کار کی طرف بڑھ گئے
“آپ کونسا باغبانی کرتے ہیں، جو اس بات کو سمجھیں گے “میں آہستہ سے بڑبڑائی مگر انہوں نے سن لیا تیزی سے پلٹے ان کی لہجے میں گھلی تلخی گویا فیول کا کام کر رہی تھی ….. میرے ہاتھ تیزی سے جھاڑیوں کو کاٹ رھے تھے
“ہاں — بس ایک تم ہو اور تمہارے پودے ،
تم ! ارے تم تو پوری سنکی ہو ،
درختوں سے ایسے باتیں کرتی ہو جیسے وہ سب سن رہے ہوں ”
” آپ کیا سمجھیں گے، چھوڑیں اس بات کو”
ان سے الجھنے کا مطلب سارا دن خراب گزرنا تھا جو میں نہیں چاہتی تھی
میں نے ربر کے دستانے اور قینچی ایک طرف پھینکی …… آنکھوں میں آئے ہوئے آنسوؤں کو ہلکے سے اپرن کے کنارے سے صاف کیا اور باغیچے کے آخری سرے پر لگے پرندوں کے نہانے کے ٹب کو دھونے لگی ….
اب انہیں کیا یاد دلاتی کہ گئے دنوں میں جب بڑے گملے میں لگی ہوئی رات کی رانی کو بچوں نے کرکٹ کی بال مار کر توڑ دیا تو اس رات وہ میرے خواب میں آئ تھی ، پھر یہاں ہجرت کے وقت اسے اپنی دوست انیلہ کے گھر زمین میں لگوا آئ تھی ، جیسے وہ ہمارا کوئی بچہ ہو جسے یہاں لانے کی اجازت نہ ملی ہو ، بعد میں اس کی خیر خبر بھی پوچھا کرتی تھی تو انیلہ کہتی ” ہاں– وہ تمہاری بیٹی رات کی رانی بھی ٹھیک ہے، چاندنی رات میں خوب خوشبو مہکاتی ہے تو تمہاری یاد بہت آتی ہے” –
———–
کچھ وقت گزرا تو کام کے سلسلے میں ایک ماہ کے لئے ویلنگٹن تبادلہ ہو گیا
موقع بموقع ہونے والی بارش نے پودوں کے لئے پانی کا مسئلہ تو حل کر رکھا تھا
واپس آکر جو دیکھا ، پام کا درخت تو پورا عشق پیچاں کی بیل سے اٹ چکا تھا اور ساتھ والا میگنولیا کا درخت بھی ، جو ہر وقت سفید پھولوں سے ڈھکا رہتا تھا اب ہرے پتوں سے بھرا ہوا تھا جو اس کے نہیں بلکہ عشق پیچاں کی بیل کے تھے- وہ انہیں بری طرح گھیرے میں لے چکی تھی ، ان کے تنے سوکھ چکے تھے اور چھال مرجھا کر جھڑ رہی تھی –
یہ سب دیکھ کر میرا دل دکھ سے بھر گیا ، لیکن- درختوں کے اس درد کو صرف میں ہی سمجھ سکتی تھی …. ایسا کیوں تھا اس کا جواب شائد مجھے خود بھی نہیں معلوم تھا …
غصے کی لہراندر سے اٹھی اور … میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ، اپنی بڑی سی قینچی اٹھائی اور پام کے درخت سے بیل اتارنے کی سعی کرنے لگی
لیکن —– مجھے اندازہ نہ تھا– یہ سب کچھ اب اتنا آسان نہ رہا تھا ، بیل کی جڑیں درخت کے اندر تک مضبوطی سے گھر کر گئی تھیں
میں نے ادھر ادھر ہاتھ مارے– لیکن چند ہی شاخیں کاٹنے میں کامیاب ہو سکی ، درخت کے اوپری حصے تک تو میرا ہاتھ کسی طرح پہنچ ہی نہ پایا
تین چار دن لگا تار کوشش میں لگی رہی مگر خاطر خواہ کامیابی نہ ہوئی اب میں اچھی خاصی دل برداشتہ ہو چلی تھی –
ادھر گھر کے کام کاج اور آفس کے کاموں نے اس طرح گھیرا کہ پھر کئی دن باغیچے کی خبر نہ لی –
———-
آج صبح سے ہوا بہت تیز تھی ، لگتا تھا جیسے ویلنگٹن کی ہوا ساتھ میں آ گئی ہو ، مجھے اپنا حالیہ سفر یاد آگیا جب ہمیں تیز ہوا کی وجہ سے دو بار واپس جانا پڑا تھا اور ہاربر پر تو تیز ہوا کے جھکڑوں نے مجھے سمندر میں تقریبا ً اچھال ہی دیا تھا اگر میں نے لپک کر ساتھ میں لگے کھمبے کو نہ پکڑ لیا ہوتا
خیر— میں نے گھر کے پچھلے حصے میں لگی الگنی پر پھیلے ہوئے کپڑے سمیٹنا شروع ہی کیے تھے کہ — دھڑام کی آواز آئ –
دل دہل سا گیا
“یا الله خیر — کیا گر گیا — کہیں گیراج کی چھت تو نیچے نہیں آن پڑی ، ہلکے پلاسٹک کی چھت جو پہلے ہی اولوں کے ستم سہ سہ کر کمزور ہو چکی تھی اب تیز ہوا کے جھکڑوں کو برداشت نہ کر سکی ہو تو کیا تعجب – کیا کیا کروں میں بھی خود کو برا بھلا کہتی بھاگم بھاگ سامنے کے حصے کی طرف آئی جہاں پام کا درخت— مع عشق پیچاں کی بیل سے جکڑا ہوا زمین پر اوندھا پڑا تھا — تنا بیچ میں سے ٹوٹ چکا تھا……… بیل کی لاتعداد بل کھائی ہوئی ٹہنیوں اور ان پر لگے بے شمار پتوں کا بوجھ نہ سہار سکا اور زمین پر آ رہا تھا
——
ایک ماہ گزر گیا تھا …. تبھی ایک دن ….. کھڑکی کےایک طرف ہٹے ہوئے پردے کے پار سے پام کا ٹنڈ منڈ تنا نظر آرہا تھا ….. میں نے اداسی سے سوچا “بے چارہ — اس کی جڑیں اب بھی زمین چھوڑنے کو تیار نہیں— اسے معلوم ہی نہیں کہ اس میں اب کبھی شاخیں نہیں پھوٹیں گی …… کیا درخت بھی انسانوں کی طرح خود کو دھوکہ دیتے ہیں ؟ — میرے اندر سوال ابھرا ….. مگر — — دروں — بس ایک بے ہنگم سا شور تھا …..
” یہ دھوپ جلا دے گی تمہیں ….. کچھ اپنا خیال کرو .آَخر کب سمجھو گی … میاں صاحب کی غصیلی آواز سنائی دی. میں نےچونک کر سر اٹھایا ….. وہاں کوئی نہ تھا …..سامنے آسمان پر تیرتے بادلوں نے دھوپ کو کھڑکی کے راستے اندر آنے سے روک دیا تھا….

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post