ذرا روشنی تو ھے : فریدہ غلام محمد

نوراں جب گھر پہنچی تو اس نے دروازہ آہستہ سے کھولا مگر پھر ہلکی سی آواز تو آئی ۔سامنے زریں کو دیکھ کر گویا جان ہی نکل گئی ۔وہ غصے میں تھی ۔
“اماں آخر آپ کو سمجھ کیوں نہیں آتا ”
وہ مسکرائی ۔اکلوتی بیٹی خفا ھو جائے یہ بھی برداشت نہیں ھوتا تھا ۔
“چلو اس بار درگزر کرو اب نہیں کروں گی “وہ اس کا ماتھا چومنے کے لئے آگے بڑھی تو زریں ایک دم پیچھے ہٹی ۔
“اماں پہلے کپڑے بدلیں کافور کی بو آ رہی ھے ”
بدل کر ہی آئی تھی چلو دوسرا پہن لیتی ھوں”
وہ اندر چلی گئی۔
زریں وہیں بیٹھ گئی تھی ۔شام ،رات سے جدا ھونے کو تھی۔ اک اداسی سی تھی ۔اس نے ادھر ادھر دیکھا ۔اسے اپنا گھر بہت عزیز تھا ۔دو کمروں کا چھوٹا سا گھر جس کا صحن نہ ھونے کے برابر تھا ۔مگر ابا نے یہ گھر اپنی محنت مزدوری سے بنایا تھا ۔وہ چھوٹی سی تھی جب اس نے اپنے ابا کو کاندھے پر بوریاں لادے دیکھا تھا ۔شام تک اتنا کما لیتے تھے کہ وہ بھوکے نہیں سوتے تھے اور ابا اسے پڑھا رہے تھے ۔اماں قرآن پڑھاتیں ،کوئی ہدیہ دے جاتا اور کہیں موت ھو جاتی تو اس بلاک میں عورت کو غسل دینے کے ساتھ ساتھ کفن بھی ان سے ہی سلایا جاتا وہاں سے بھی پیسے مل جاتے اسطرح زندگی گزرتی رہی ۔
اس کو ایم اے کروا دیا ۔ابا نے سمجھا ادھر سولہ پاس ھو گی تو شاید وہ افسر بن جائے گی لیکن اس کو بمشکل ایک سکول میں نوکری مل گئی ۔ ابا پچھلے سال گزر گئے۔
اب وہ اور اماں تھے ۔اس نے اماں کو بڑا سمجھایا کہ اماں اب کفن سینا ،غسل دینا بند کریں بس قرآن پڑھا دیا کریں ۔اب میں اچھا خاصا کما لیتی ھوں ۔مگر اماں ہمیشہ کہتیں تیرا جہیز بنانا ھے تو تنخواہ خرچ نہیں کرے گی ۔ارے روز کوئی نہ کوئی فوتگی ھوتی ھے
کچھ روپے بچ جاتے ہیں ۔کھانے پینے کا بندوبست ھو جاتا ھے ۔شام کو اکثر ختم کا کھانا آجاتا ھے ۔ہدیہ جمع کر لیتی ھوں بجلی کا بل ادا ھو جاتا ھے بس تو جہیز کے لئے جمع کر ۔
اماں کو یہ بات کبھی سمجھ نہیں آتی تھی کہ اسے اب یہ اچھا نہیں لگتا ۔کیا کرئے۔
“ارے زری آ جا بیٹے چائے پی لے ”
اماں کی آواز پر وہ بوجھل سا دل لئے اندر آ گئی۔
زریں کے کچھ اپنے خواب تھے وہ ان کی تعبیر پانا چاہتی تھی۔ساری عمر دو چھوٹے چھوٹے کمروں میں رہتے رہتے تھک گئی تھی ۔سورج کی روشنی نہ ھوا کے جھونکے نہ چاند کی چاندنی ۔صرف اماں وہ بھی مردہ عورتوں کے غسل اور کفن میں مصروف وحشت ہی وحشت ۔وہ اس ماحول سے تنگ تھی ۔اس نے اماں کے سامنے ہاتھ جوڑے کہ وہ یہ کام نہ کریں ۔اس گھر کو بیچ کر کہیں اور چلے جاتے ہیں لیکن مجال ھے کہ کوئ اثر ھوا ھو۔ ۔

نوراں کی زندگی تو گزر رہی تھی مگر اس کی بیٹی کے خواب بڑھتے جا رہے تھے ۔زریں کو بہت سمجھایا ۔ہم غریب لوگ ہیں کوئ شہزادہ تو آنے سے رہا ۔بس جلد تیری شادی کر دوں گی جس پر زریں خفا ھو گئ ۔اس کو اچھا نہیں لگا وہ تنک کر بولی
“بتا مجھ میں کیا کمی ھے سانولی سلونی ھوں ۔نین نقش تیکھے ہیں ۔بال دیکھے ہیں جیسے ابر برسا ک ابھی برسا” وہ بالوں کو لہراتی ۔
نوراں سر پکڑ لیتی ۔وہ اس نادان لڑکی کو کیسے سمجھاتی کہ یہ ممکن نہیں ھے ۔لوگ گھر بار دیکھتے ہیں ۔کئ رشتے تو اس لئے بھی واپس چلے گئے کہ یہ تو غسل دینے والی کا گھر ھے ۔کفن سیتی ھے لوگوں نے تو کنڈی بھی نہ کھٹکائ اور چلے گئے ۔

مگر زریں کے خواب پورے ھو گئے ۔ایک وڈیرے کی بیوی اپنے پوتے کو داخل کروانے آئی تو اسے پسند کر گئی ۔
اس نے اماں کو نہیں بتایا مبادا کوئی کڑوی کسیلی بات کہہ دیں ۔مگر حیرت تو تب ھوئی جب وہ اتنی گاڑی میں بیٹھ کر ان کے دروازے پر پہنچ گئیں ۔محلے والوں نے منہ میں انگلیاں داب لیں ۔
نوراں کو تو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ ان خاتون کو کہاں بٹھائیں۔ انھوں نے بیٹھتے ہی جھٹ رشتہ مانگ لیا ۔ان کا بیٹا بےاولاد تھا ۔وہ بیٹے کی دوسری شادی زریں سے کروانا چاہتی تھیں ۔ان کو جہیز نہیں چاہیئے تھا ۔بس یہ شرط تھی کہ وہ یہاں نہیں آئے گی ۔آپ ملنے سو بار آئیں ۔
نوراں نے سر جھکائے زریں کو دیکھا ۔اس کے چہرے پر رضامندی تھی جیسے کہہ رہی ھو اماں نہ کر کے میرے خواب نہ جلا دینا “۔بی بی میری بیٹی کی ملازمت بھی تو ھے”
ہماری ھونے والی بہو نوکری تو نہیں کرے گی کیوں زریں؟انھوں نے اس کی ٹھوڑی ہاتھ سے اوپر کی ۔
’’جی ۔‘‘اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا۔
تم سے تو یہ سمجھ دار ھے۔
اچھا تھوڑا وقت دیں پھر جواب دوں گی ”
ہاں ہاں سوچ لو اور بیٹی یہ میرا پتہ فون نمبر رکھ لوں ۔
اب میں نکاح پڑھوا کے ہی لے جاؤں گی ۔وہ اس کے ہاتھ پر دس ہزار رکھ کر یقین کے ساتھ اٹھیں کہ فیصلہ ان کے حق میں ھو گا ۔

“زریں پتر اٹھ کھانا کھا لے ”
“مجھے نہیں کھانا اماں”
اس نے کروٹ بدلی “۔ارے کب تک ناراض رہے گی ان کا ہمارا کوئی جوڑ نہیں۔وہ تو شکار کرنے آئیں اور چلی گئیں ۔ان کو وارث چاہیے اس کے بعد تیری کوئ اوقات نہیں رہے گی ”
اماں زندگی ایک بار ملتی ھے اگر مجھے موقع مل رہا ھے تو کیوں روک رہی ھے مجھے ۔
میرا بھی خوشیوں پر حق ھے اماں ”
اب وہ بڑی بےدردی سے رو رہی تھی ۔

آج جمعرات تھی ۔بڑی سادگی سے نکاح ھوا تھا وہ رخصت ھو گئی ۔نوراں دروازے کا پٹ تھامے روتی رہی ۔نجانے کتنی مٹھائی تھی سب محلے والوں میں بانٹی۔کوئی مبارک دے رہا تھا تو کوئی زریں کی قسمت پر رشک کر رہا تھا مگر نوراں کے دل کا حال کوئی نہ جانتا تھا ۔تنہا پالا تھا ۔اب شادی کا سوچ رہی تھی تو وہ دولت کی چکا چوند سے متاثر ھو کر یہ گھرہمیشہ کے لئے چھوڑ گئی ۔اس نے کبھی گھر نہ آنے کی شرط بھی قبول کر لی ۔اس نے اپنی طاقت کے مطابق اس کے سارے ناز اٹھائے تھے
آنسو نکلتے رہتے کس سے کیا کہتی ۔تنہا چپ چاپ پڑی رہتی البتہ کوئی مر جاتا تو پہنچ جاتی ۔اس کے بغیر کام بھی تو نہیں چلتا تھا ۔
زریں اور فلک شیر کے بیچ رشتہ تو بنا دیا گیا تھا مگر وہ پیار سسی سے ہی کرتا تھا ۔اسے کیا فرق پڑتا تھا ۔نرم بچھونا ٹھنڈا کمرہ ،بہترین کھانا اور چاہئے بھی کیا ۔وہ خوش تھی ۔وہ سسی کی اترن پر بھی خوش تھی ۔
اچانک ماں بننے کی خوشخبری نے ساری حویلی کو خوش کر دیا تھا ۔اس کا صدقہ دیا گیا تھا ۔اسے مہارانیوں کی طرح رکھا جا رہا تھا ۔ان خوشیوں میں اماں بھی یاد آنے لگی تھیں ۔وہ ایک بار بھی ملنے نہ آئیں اور وہ جا نہیں سکتی تھی ۔بچے کے پیدا ھونے بعد وہ اماں کو ملنے ضرور جائے گی یہ سوچ کر وہ خود کو تسلی دیتی ۔
آخر وہ دن آیا جب اس کا بچہ دنیا میں آیا تب وہ بے ہوش تھی ۔
ہوش میں آئی تو اسے سمجھ نہیں آیا وہ کہاں ھے اسے لگ رہا تھا وہ اپنے گھر میں ھے اور اماں سامنے بیٹھی کچھ پڑھ پڑھ کر اس پر پھونک رہی ہیں ۔
“اماں میں کہاں ھوں اور میرا بچہ کہاں ھے؟”
تم نوراں کے گھر ھو ،بچہ سائیں لے گئے اور کچھ روپے اور یہ دے گئے ہیں ”
اماں نے بھرائی آواز میں کہا اس نے لرزتے ہاتھوں سے لفافہ کھولا اور پھر جیسے آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔وہ طلاق نامہ تھا
اس کے بعد وہ بہت روئی پیٹی مگر کچھ نہ ھو سکا
دوپہر کا وقت تھا نوراں نے دیکھا وہ کتابیں اٹھا کر آ رہی ھے ۔ارے اتنی کتابیں۔

“ہاں اماں میں نے سوچ لیا ھے میں بڑی افسر بنوں گی ۔اپنا بچہ واپس لوں گی ۔اگر میں کچھ کر سکتی ھوں تو کیوں نہ کروں ۔آپ دیکھنا سب ٹھیک ھو جائے گا ۔”وہ پورے عزم سے بولی تو نوراں کے الفاظ ہی کھو گئے۔
پھر اس نے مقابلے کا امتحان پاس کیا ۔اور ٹاپ کیا ۔اخباروں میں اس کی تصویریں لگیں ۔نوراں بہت خوش تھی آج تو محلے والوں کے چہروں کے رنگ ہی بدلے ھوئے تھے ۔وہ مبارک باد دے رہے تھے ۔نوراں نے آہستہ سے کہا” ۔میں وہی ھوں جو مردے کو غسل دیتی ھوں کفن پہناتی ھوں آج مجھ سے خار تو نہیں آئی ”
سب کی نظریں جھک گئیں ۔
وقت تو جیسے پر لگا کر اڑا ۔بہت جلد وہ اس تحصیل کی اسٹنٹ کمشنر تعینات ھو گئی ۔
اماں نوراں کو گھر میں بٹھایا ۔نوکر ان کے حکم پر کام کرتے ۔
اماں اب سکون سے عبادت کرتی ،سوتی یا پھر بیٹی فارغ ھوتی تو باتیں کرتی ۔
ایک روز اچانک اسے پتہ چلا کہ فلک شیر کی بیوی کسی جلد کی بیماری سے مر گئی ھے اور اس کے قریب بھی کوئی نہیں جا رہا ۔اندیشہ ھے کہ اسے جلا دیا جائے گا ۔
اسے آڈر ملا کہ وہ خود اس مسلے کو دیکھے ۔
جب وہ جا رہی تھی تو اماں نے ایک دم کہا۔
ٹھہرو مجھے لے کر جاؤ
“آپ کیوں جائیں گی اماں”
“میں جو کہہ رہی ھوں وہ کرو ”
آج نوراں کے لہجے میں جلال تھا وہ انکار نہ کر سکی ۔اس نے پوٹلی اٹھائی اور ڈرائیور سے کہا ڈگی میں رکھ دے ۔
بیٹی کے ساتھ جب ان کے گھر پہنچی تو سب روتے ھوئے بھی سناٹے میں آ گئے ۔فلک شیر اس کا سابقہ شوہر بےیقینی سے اسے دیکھ رہا تھا ۔وہ بوڑھی عورت اسے یوں دیکھ رہی تھی جیسے کوئی بھوت دیکھ لیا ھو۔
ایک پانچ سال کا بچہ رو رہا تھا۔ وہ اس کے قریب گئ “۔کیوں رو رہے ھو بیٹا ؟”
“مجھے یہ سب ماما کے پاس نہیں جانے دیتے ”
اس کی ہچکیاں بندھ گئی تھیں۔ اس نے اس کو گلے لگایا اور پھر اماں کو دے کر پولیس سے پوچھنے لگی ۔معاملہ کیا ھے ۔بات صرف یہ تھی کہ وہ جلد کی بیماری سے مر گئی تھی۔ اب ڈاکڑ نے کہا تھا کہ یہ بیماری لگنے والی ھے اس لئے اس کو جلا دیں۔ ڈاکڑ کو بلایا گیا رپورٹ چیک کروائیں ۔کوئی ایسا معاملہ نہ تھا ۔
مگر سب ڈرے ھوئے تھے ۔ایک دم اماں نوراں کی آواز گونجی
سنو امام دین وہ پوٹلی لے آؤ ”
“اماں کیا کر رہی ہیں”
اپنا فرض پورا کر رہی ھوں تم کچھ نہ بولو”
اماں نے اسے غسل دیا ،کفن پہنایا ۔کافور لگایا اور پھول ڈالے ۔کفن کے اوپر سرخ دوپٹہ ڈالا ۔خود دوسرے غسل خانے میں نہا کر باوضو باہر آ گئیں ۔
“دیکھو دیکھو چہرہ کیسی اچھی لگ رہی ھے
اماں گویا سب بھلا چکی تھیں
“ادھر آ فلک شیر یہ لے اپنے روپے جو طلاق کے ساتھ دئیے تھے تو نے ۔رکھ لے خیرات کر دینا ”
دل چاہے تو کبھی کبھی بیٹا ملوا دینا ورنہ تجھ کو یہ بھی بخشا ”
اماں وہ اس کے پیروں میں گرا رو رہا تھا ۔اس بوڑھی عورت کے آنسو بھی بہہ رہے تھے ۔اج اس نے بدلہ نہیں لیا ۔اپنا اسٹیٹس نہیں دیکھا اسے غسل دیا ۔یا اللہ یہ کون ھے ۔وہ خاتون سوچتی رہی ۔کتنا ظلم کیا تھا ان دونوں پر کوئی بدلہ نہیں اب تو سب کچھ کر سکتی تھی وہ سوچتی رہی اور اس فیصلے پر پہنچی وہ اسکا بیٹا اسے لوٹا دے گی ۔اس سے زیادہ وہ کچھ اور نہ سوچ سکی
زریں جب تک کھلی کچہری بھگتا کے آئی تو اماں اسی کا انتظار کر رہی تھیں مگر حیرت اور خوشی سے اس نے دیکھا ۔اس کا بیٹا نانی کے ساتھ تھا ۔اس کی دادی قریب آ گئی۔
یہ تمہاری ہی اولاد ھے ۔اس کو رضامندی سے دیا تمہیں ۔بس کبھی کبھی ہمیں ملوا دینا اور ھو سکے تو معاف کر دینا ۔ان کے ہاتھ جڑے ھوئے تھے ۔
اس نے ایک نظر انھیں دیکھا اور گاڑی کی طرف بڑھی ۔
بیٹی کوئی دو لفظ بول دیتی اسے ”
“اماں یہ لوگ اس اسٹیٹس پر جان دے رہے تھے ہم پر نہیں ۔ذرا سوچیں اگر ہم آج بھی ویسے ہی ھوتے تو کیا یہ ایسا اچھا سلوک کرتے ؟میرا بیٹا واپس کرتے ؟”دولت ہی سب کچھ ھے اماں۔
اماں کے کانوں۔ میں فلک شیر کے الفاظ گونجے۔
“یہ سسی میرا سب کچھ تھی ۔آپ اسے غسل نہ دیتیں تو نجانے کیا ھوتا ۔اس نے اماں کے ہاتھ چومے ۔یہ زریں کا بیٹا ھے میں واپس کرتا ھوں دولت میری سسی کو نہیں بچا سکی اماں مگر میرے زخم پر جو مرہم آپ نے رکھا ھے میں کبھی نہیں بھولوں گا اور میں جانتا ھوں اب وہ سارا قانون جانتی ھے عدالت میں رسوا نہیں ھونے دوں گا اسے۔ آپ نے میری سسی کو رسوا ھونے سے بچایا ھے اماں ۔وہ جو سمجھے مجھے کوئی پرواہ نہیں اور آپ بھی اسے کبھی نہ بتانا۔
“کیا سوچ رہی ہیں اماں اور آئندہ ایسی حماقت نہیں کرنا ۔میری عزت کا لحاظ کرنا ۔بیٹھ گئیں اس کو غسل دینے ”
ٹھیک ھے ادھر آؤ میرے بچے “انھوں نے مسکرا کر نواسے کو گود میں لے لیا اور اسے پیار کرنے لگیں۔ وہ اسے سمجھا نہیں سکتی تھی کہ دولت سے بڑھ کر بھی کچھ باتیں ھوتی ہیں ،یہ سچ تھا اب وہ بہت اثر و رسوخ والی تھی مگر پھر بھی یہ سب اثرو رسوخ کی وجہ سے نہیں ھوا تھا ۔کچھ باتیں ان کہی رہنی چاہییں۔

You might also like
  1. rizwanafarooq says

    زبردست پیغام

  2. گمنام says

    شکریہ

  3. فریدہ غلام محمد says

    شکریہ

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post