خواب کی اُڑان : اذلان شاہ

چلتے چلتے وہ رات میں داخل ہو گئے تھے ۔
اندھیرے نے اُن سب کو ایک ساتھ نگل لیاتھا۔جب وہ گھر سے نکلے تھے تو دن کی روشنی آنکھوں کو چندھیا رہی تھی۔دوسروں کے ساتھ ساتھ وہ خود بھی اُجلے اُجلے معلوم ہو رہے تھے۔
پھر ایک دم اندھیرا ان پر غلبہ پا گیا ۔پہلے اُن کا آس پاس غائب ہوا ۔۔۔۔پھر وہ ایک دوسرے کی نگاہوں سے اوجھل ہوتے چلے گئے اور اب نوبت یہاں تک آگئی تھی کہ انہیں اپنا آپ بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
جب تک وہ ایک دوسرے کو دکھائی دے رہے تھے تب تک اُن کو اپنی برہنگی کا احساس نہیں تھا،جیسے ہی وہ ایک دوسرے اور اپنی نگاہوں سے اوجھل ہوئے ان کو شدت کے ساتھ اپنے برہنہ ہونے کا احساس تنگ کرنے لگ گیا تھا۔
’’کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ ایک دم اتنااندھیراکہاںسے آ گیا ہے؟‘‘اُن میں سے ایک نے ڈری ڈری آواز میں پوچھا ۔
’’یہ اندھیرا ہم سب اپنے ساتھ لائے ہیں۔‘‘جواب دینے والے کے لہجے میں بلا کا اعتماد تھا۔
’’تم غلط کہہ رہے ہو؟ایک اور آواز آئی’’یہ اندھیر ا ہمیں راستے میں ملا ہے‘‘
’’نہ ہم اس اندھیرے کو اپنے ساتھ لائے ہیں اور نہ ہی یہ ہمیں راستے میں ملا ہے۔‘‘انتہائی غصے میں کہا گیا۔’’اندھیر ااپنی جگہ پر ہی موجود تھا ۔۔۔۔۔وقت اور حالات ہم کو کھینچ کر اس کے پاس لے آئے ہیں۔‘‘
’’تم سب اپنی اپنی ہانکے جا رہے ہو؟‘‘ایک اور گفتگو میں کودا ۔’’ابھی تو صرف ہم ایک دوسر ے کی نگاہوں سے اوجھل ہوئے ہیں۔۔۔۔سوچو! اگر آوازیں بھی چلی گئیں تو کیا ہوگا؟‘‘
’’تم اپنی بکواس بند رکھو ‘‘پہلی آواز پھر سنائی دی۔’’جو بھی منہ میں آتا ہے بکے جا تے ہو‘‘
جوں جوں وہ آگے بڑھتے جا رہے تھے اندھیرا گہرے سے گہرا ہوتا جا رہا تھا۔اِسی دوران تیز بارش کی آواز سنائی دینے لگ گئی۔یہ آواز دور اور نزدیک کا دائرہ بنائے ہوئے تھی عجیب بات یہ تھی کہ انہیں اپنے آس پاس گرتی ہوئی بارش کی بوندوں کی آواز تو سنائی دے رہی تھی لیکن ان کے جسم آسمان سے برستے ہوئے پانی کے احساس سے محروم تھے۔
’’کیا سب کو بارش کے برسنے کی آواز سنائی دے رہی ہے؟‘‘ان میں سے ایک نے تصدیق چاہی۔
’’صرف سنائی دے رہی ہے لیکن دکھائی نہیں دے رہی ہے اور نہ ہی بدن کو گیلا کر رہی ہے۔‘‘جواب آیا
’’کوئی بتائے گا ہمارے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے۔‘‘کسی نے دکھ بھری آواز میں پوچھا
’’ہمیںآہستہ آہستہ ہم سے چھینا جا رہاہے۔‘‘جواب بھی دکھ بھرا تھا ۔’’ہم ایک دوسرے کو دیکھنے سے محروم ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو بھی دیکھنے سے گئے۔بولنے اور سننے کی حد تک اختیار ہمارے پاس باقی ہے ‘‘
’’یعنی ہم سب ایک ہی کشتی کے مسافر ہیں‘‘بولنے والے کے لہجے میں ہمدردی ہی ہمدردی تھی۔
جس طرح ہر گزرتے لمحے میں اندھیرا گہرے سے گہرا ہواتھا اسی طرح بارش کے برسنے کی آواز بھی لمحہ بہ لمحہ تیز سے تیز ہوئی تھی۔ اسی دوران اُن سب کے کانوں میں دور سے آتی ہوئی اذان کی آواز پڑی۔آواز کا مرکز کہیں بہت دور معلوم ہورہا تھا لیکن اس کے باوجو د وہ بالکل صاف سنائی دے رہی تھی۔
’’آہا۔۔۔۔۔۔۔یہ صبح کی اذان کی آوازسنائی دے رہی ہے۔‘‘غصے والاخوشی سے بھرپور لہجے میں بولاــ’’اب ہم اندھیرے سے نکل جائیں گے‘‘
’’تم کو کیسے پتہ کہ یہ صبح کی اذان ہے۔‘‘پوچھا گیا۔’’ہم تو دن چڑھے اندھیرے کے حوالے ہوئے تھے اور اتنی جلدی رات ختم ہونے کا اعلان کیسے کر دیا گیا۔‘‘
’’میں اس آواز کو کسی صورت بھول نہیں سکتا۔یہ بابے دین کی آواز ہے۔‘‘اطمینان کے ساتھ جواب دیا گیا۔’’وہ صرف صبح کی اذان دیتا ہے اور میں بچپن سے اس آواز کو سنتا آ رہا ہوں۔یہ صبح کی اذان ہے اور جلد ہی دن نکل آئے گا۔‘‘
’’یہ ٹھیک کہہ رہا ہے میں نے بھی بابے دین کی آواز کو پہچان لیا ہے۔‘‘تصدیق کی گئی’’یہ اسی کی آواز ہے اور اب آہستہ آہستہ اندھیرا چھٹنے لگ جائے گا۔‘‘
پہلی اذان کی آواز ابھی ختم نہیں ہونے پائی تھی کہ کہیں قریب سے بھی اذان کی آواز آنے لگ گئی۔
’’یہ ۔۔۔۔یہ ۔۔۔۔۔یہ تو مولوی فضل کی آواز ہے۔‘‘کوئی چیختے ہوئے بولا ۔’’اس نے کبھی صبح کی اذان نہیں دی ۔۔۔۔۔وہ تو دوپہر کی اذان دیا کرتا ہے وہ بھی کبھی کبھار‘‘
’’آج سب کچھ ویسے کیوں نہیں ہورہا جیسے وہ ہوا کرتا ہے۔‘‘بولنے والے کی آواز حیرانی کا لبادہ اوڑھے ہوئے تھی۔
’’کوئی کہہ رہا ہے کہ صبح کی اذان ہے اورکوئی کہہ رہا ہے یہ دوپہر کی اذان ہے۔‘‘کسی نے پہلی بار گفتگو میں حصہ لیتے ہوئے کہا۔’’سمجھ میں نہیں آ رہا ہمارے ساتھ ہو کیا رہا ہے۔‘‘
’’ہم اپنے اصل کی طرف لوٹ رہے ہیں‘‘بولنے والے کی آواز کسی گہرے کنویں سے آتی ہوئی معلوم ہوئی۔’’یہی سچ ہے ‘‘
اُس کے بعد چاروں طرف سے اذانوں کی آواز سنائی دینے لگ گئی۔ہر کوئی اذان دینے والی آواز کو پہچاننے کا دعویٰ کرنے لگ گیا ۔اذانوں کی آواز تیز سے تیز ہوتی گئی اور پہچان کادائرہ بھی وسیع ہوتا گیا۔اندھیرا گہرے سے گہرا ہوتا گیا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post