خرد جہاں‎ : فریدہ غلام محمد

میں نے ائیرپورٹ سے ٹیکسی پکڑی اور مہر گڑھ روانہ ھو گیا ۔میں آج بہت خوش تھا پندرہ سال بعد اپنے وطن لوٹا تھا۔میری بیوی بچے ساتھ آنا چاہتے تھے ۔میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ جب اگلی بار جاؤں گا تو سب چلیں گے ۔ابھی تو اپنی حویلی کو دیکھنا ھے جو کب سے دو نوکروں کے ہاتھ میں تھی ۔وہاں بہت سی ایسی چیزیں تھیں جن کو از سر نو تعمیر کروانا تھا ۔اس لئے تنہا آیا تھا ۔اردگرد کے نظارے ویسے ہی تھے ۔۔چیڑ ۔صنوبر اور سفیدے کے درخت ،بل کھاتی سرمئ سڑک ،آج بھی زیادہ رش نہیں تھا ۔خاموش اور معطر فضا ۔مجھے لگ رہا تھا میں شاید اپنی محبوبہ سے ملنے جا رہا ھوں جس کی جدائی نے پاگل کر رکھا تھا ۔میں اویس احمد یورپ میں رہ کر بھی اس مٹی کو اپنی محبوبہ مانتا تھا ۔
میں نے ڈرائیور سے دو تین مرتبہ پوچھا مہر گڑھ کب پہنچیں گے ۔وہ مسکرا کر ہر بار کہتا بس کچھ سفر ہی باقی ھے ۔
“صاحب”
میں نے اس کے پکارنے پر سوالیہ نظروں سے اس کا چہرہ دیکھا۔
“وہاں جا کر خرد جہاں کے مزار پر حاضری ضرور دیجیے گا”
“یہ مزار آج سے پندرہ سال پہلے تو نہیں تھا ؟”
یہ دس سال پہلے بنا ھے وہاں ایک مجاور بھی ھے سنا تو یہی ھے کہ اس کا شوہر ھے ،بس جی داستانیں ہیں کیونکہ وہ خود تو زیادہ بولتا نہیں ھے جو کوئی روپے دے جائے شام کو کھانا پکوا کر غریب لوگوں میں تقسیم کر دیتا ھے ۔اور مغرب کے بعد دروازہ بند کر دیتا ھے ”

“یار بڑی عجیب بات سنائی تم نے خیر دیکھیں گے”
اب حویلی کے ساتھ خرد بی بی کا مزار دیکھنا بھی ضروری ھو گیا تھا خاص طور پر مجاور سے ملنا بھی۔میں نے سیٹ سے ٹیک لگائ اور آنکھیں بند کر لیں۔

دو دن تو مجھے یہ سمجھ نہیں آیا کہ کہاں سے کام شروع ھو گا ۔حویلی کی حالت کافی خراب تھی ۔گیٹ کو زنگ لگ چکا تھا ۔بیٹھک کچھ بہتر تھی ۔باقی پچھلا صحن اور دو کمرے مکمل ختم ھو چکے تھے البتہ بابا اور اماں کے کمرے کی دیکھ بھال ھوتی رہی تھی اور میرا کمرہ ،سٹڈی روم یہ کافی بہتر حالت میں تھے۔میں نے مزدور منگوا لئے تھے۔باقی سامان اور رنگ روغن بھی پہنچنے والے تھے ۔

ایسے ہی لیٹے لیٹے خیال آیا کیوں نا خرد جہاں کے مزار سے ھو لوں ۔یہ سوچ کر میں باہر آ گیا ۔
قبرستان کے ساتھ ہی ایک مسجد تھی جو اب بھی تھی اس کے ساتھ یا شاید باہر کی دیوار اس چھوٹے سے کمرے کی دیوار سے متصل تھی ۔دور سے وہ محض ایک کمرہ تھا ۔میں وہاں پہنچا تو ایک باریش آدمی دیگ بانٹ کر اندر جا رہا تھا۔
“سنو بابا “میں نے بےساختہ پکارا ۔وہ رک گیا مگر مڑا نہیں۔
“آپ کے پاس تھوڑی دیر بیٹھ جاؤں ”

نہیں تم فاتحہ پڑھو اور جاؤ مجھے اور بھی کام ہیں ۔اس نے سرخ دوپٹے پر پھولوں کو پھیلایا ۔وہ بہت بےنیاز سا آدمی تھا ۔کہیں ماضی سے کوئی شناسا سی آواز سنائی دی۔
نہیں نہیں یہ کیسے ھو سکتا ھے وہ میں یورپ میں ملا تھا یہاں ناممکن ھے ۔میں نے دل ہی دل میں سوال بھی کیا اور جواب دیا۔
میں نے دروازے پر کھڑے کھڑے فاتحہ پڑھی اور مڑنے لگا۔اسی لمحے اس نے دیئے جلانے کے
رخ ادھر کیا تو میں چونکا اگر میں نے غلط نہیں پہچانا تو وہ سجاول تھا ۔ہمارے اس مہر گڑھ کا سب سے ذہین و فطین لڑکا اور آج سے بارہ برس پہلے مجھے فرانس میں ملا تھا ۔مجھے بہت خوشی ھوئی تھی کہ اس نے یہ مقام بنا لیا تھا ۔وہ آفیسر تھا کچھ دن کے لئے آیا ھوا تھا ۔میری وہی ملاقات ھوئ تھی پھر سچی بات ھے زندگی اتنا مصروف کر دیتی ھے کہ پھر کسی کا خیال نہیں آتا ۔
“سجاول ”
اس نے سر نہیں اٹھایا ۔وہ بڑی محویت سے دیے روشن کر رہا تھا۔
“سجاول پلیز بات کرو مجھ سے خردجہاں کے واسطے” اس کا ہاتھ رک گیا ۔اس نے آنکھیں اٹھائیں تو مجھ پر عجیب سی کپکپی طاری ھو گئ ۔انگارہ آنکھیں مگر بالکل پاک دھلی ھوئیں ۔
سجاول یہ کیا حال بنایا ھوا ھے تم نے اور یہ خرد کون ھے؟میں جوتے اتار کر اندر چلا آیا۔
اس نے مجھے روکا نہیں ۔باہر شام گہری ھوتی جارہی تھی ۔ہلکی ہلکی ھوا چل رہی تھی ۔دور کہیں بجلی بھی چمک رہی تھی مگر یہاں ہوش کسے تھا ۔وہ دیوار سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔
میں بھی اس کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ وہ بچپن میں میرا اچھا دوست تھا ۔ہم اجنبی تو کبھی بھی نہیں رہے تھے لیکن آج سجاول مجھے کسی اور دنیا کا انسان لگ رہا تھا۔ بہت اصرار پر وہ بولا
میں جب فرانس آیا تھا تو وہیں میری ملاقاتکیٹ سے ھوئی تھی ۔میں کیفے گیا تھا۔وہ انجان سی اندر داخل ھوئی اور میرے سامنے والی چیئر گھسیٹ کر بیٹھ گئی ۔نہ اس نے پوچھا کہ بیٹھ جائے ۔
وہ عام لڑکی نہیں تھی شاید مجھے لگا ۔لیکن ایسا ہی تھا ۔وہ جان بوجھ کر میرے ساتھ بیٹھی تھی ۔اس نے کافی آڈر کی اور میری طرف متوجہ ھوئی ۔
آپ مسلم ہیں ؟
ہاں جی کوئ شک ؟ میں مسکرایا۔
“نہیں اصل میں آپ وسکی کی جگہ بلیک کافی پی رہے ,”
ہاں تو آپ نے بھی تو بلیک کافی منگوائی ھے تو کیا آپ بھی ؟میں رکا
“میں کرسچین ھوں مگر میں نہیں پیتی ”
واقعی ”
میں اس کی طرف قدرے جھکا
جی ہاں اور تمہارے گھر والے ؟
وہ میری ان باتوں کو ناپسند کرتے ہیں اور کرنا بھی چاہیے کیونکہ میں چرچ بھی نہیں جاتی
اس کی نیلی آنکھوں میں کچھ الجھن تھی ۔

وجہ ؟
پتہ نہیں مگر مجھے مسلم لڑکے بہت پسند ہیں ۔
ارے اس کی وجہ ؟
اس نے کافی کا ایک سپ لیا۔
وہ راہ چلتے کوئی غیر اخلاقی حرکت نہیں کرتے ۔
اور ” اب میری دل چسپی بڑھنے لگی ۔
وہ جتنے بھی برے ھوں مگر ناجائز تعلق نہیں بناتے ۔شادی کرتے ہیں”
تمہیں مسلم لڑکیاں پسند نہیں کیا؟ میں مسکرایا

“پسند ہیں مگر وہ ہم لوگوں کو زیادہ پسند نہیں کرتیں”
” دیکھو ہر مسلم لڑکا بھی اچھا نہیں ھوتا ”
مگر تم اچھے ھو ۔پہلی بار وہ مسکرائی
وہ چپ ھو گیا
پھر کیا ھوا سجاول ؟
وہ مسلمان ھونا چاہتی تھی۔میں اسے مسلم کمیونٹی سینٹر لے گیا ۔جس روز وہ مسلم ھوئی ۔اسی روز اس سے نکاح کر لیا اور ویزہ بھی اپلائی کر دیا ۔
میں پہلے آ گیا ۔یہ میں ہی جانتا ھوں کہ گھر والے کیسے راضی ھوئے۔
وہ جب پہلی بار آئی تو مجھے یاد ھے اس نے آسمانی کلر کا کرتا شلوار پہنا ھوا تھا ۔سر کو دوپٹے سے ڈھانپ رکھا تھا ۔سب نے اسے سراہا
میں حیران تھا ایک لڑکی مجھ سے ملی ۔میرے دل کو جیتا ۔مسلم ھوئی اور میری بیوی بن گئی ۔
جب واپس سروس پر آیا تو وہ ساتھ تھی ۔اس نے گھر کا ہر کونہ خود سجایا۔ جب بھی پارٹی ھوتی وہ خود سارا انتظام کرتی ۔
ہماری بھی کئی دعوتیں ھوئیں ۔اس سلیقے سے تیار ھوتی کہ اسے دیکھتا رہتا ۔مجھے لگتا تھا وہ میرے لئے ہی بنی تھی ۔
سجاول یہ کہہ کر چپ ھو گیا ۔
میں نے اسے چپ رہنے دیا ۔
اس کی چپ ٹوٹی تو اس کے آنسو بہہ نکلے
کتنی دیر وہ روتا رہا یہاں تک گرج چمک کے ساتھ بارش شروع ھو گئی۔
انسان بڑا لوبھی ھوتا ھے میں بھی تھا شاید۔ ایک بڑے محنت کش کا بہت کم ظرف بیٹا
میں امیر سے امیر ترین بننے کے چکروں میں تھا ۔میرا بچپن تو تمہارے سامنے ھے ۔سچ پوچھو تو میں تب بھی بہت خوش تھا جب ہم فرانس میں ملے تھے ۔میں سمجھتا تھا پیسے سے انسان بڑا بنتا ھے لیکن میں دھوکے میں تھا میری سوچ محدود تھی ۔میرے دین نے تو زہد و تقویٰ والے کو سب سے معتبر کہا ھے ۔میں یہ بھول گیا تھا ۔
یار اویس میرے بیس کروڑ پھنسے ھوئے تھے ۔وہ میرا آفیسر تھا اسے صرف میری نیلی آنکھوں والی بیوی چاہیے تھی ۔نجانے یہ خطا مجھ سے کیسے ھوئی ۔
میں گھر آیا تو کیٹ نے میرا استقبال کیا بڑی محبت کے ساتھ ۔میں کافی الجھا ھوا تھا ۔میں نے اسے غور سے دیکھا وہ کتنی معصوم تھی ۔میں نے اس کی پیشانی پر ھونٹ رکھ دئیے
اس رات بارش ھوئ تھی اور وہ بھی بڑے زوروں کی ۔نماز پڑھ کر وہ میرے پاس آ گئ
سنو !
جی فرمائیں “اس نے میرے سینے پر سر رکھ کر سکون سے آنکھیں موند لیں ۔
“میری ایک بات مانو گی”؟
“ایک کیوں ساری مانوں گی ”
اس سے مجھے یہی توقع تھی ۔
تمہارا نام وہاں کے قاری صاحب نے خرد جہاں رکھا تھا اس لئے کہ تم میں سارے جہان کی عقل سمائی ھوئی ھے ”

“مجھ میں عقل سے زیادہ عشق سمایا ھوا جی”
وہ اترائی۔
“اوکے کل جب میں آؤں تو تیار رہنا ”
اچھا ۔۔وہ سو گئی ۔اس کی نیند بھی فرشتوں جیسی تھی ۔یہ میری خرد تھی پتہ نہیں مجھ پر دولت کا بھوت کیوں سوار ھو گیا تھا اویس
تم سوچ بھی نہیں سکتے ۔میں شاید خرد کے قابل ہی نہ تھا ۔وہ قرآن پڑھتی اور سکون سے مجھے ترجمہ و تفسیر سمجھاتی ۔۔۔ میں کچھ نہ سمجھ پایا ۔
شام کو واقعی تیار تھی نظر لگ جانے کی حد تک ۔میں نے اس کے گال چھوئے اور بریف کیس اسے تھمایا ۔
اس میں کیا ھے ؟ارے پگلی بیس کروڑ ہیں۔
ہم نے کیا کرنے ہیں سجاول یہ ؟
کیا کرنے ہیں مطلب روپے ہیں یار۔
ابھی کئی آئیں گے اسٹیٹس بھی کوئی چیز ھوتی ھے ”
رکھ آؤں ؟
ہاں اور سنو
“وہ ضیا صاحب ہیں نا وہ چاہتے ہیں تم ان کے ساتھ ڈنر کرو ”
“کیوں کروں ہاں اگر آپ کے ساتھ ھیں تو ضرور”
وہ مسکرائی ۔
میرے دل کو کچھ ھوا لیکن میں نے نظر انداز کر دیا ۔
تمہیں جانا پڑے گا خرد ”
تو آپ نے میرا سودا کیا ھے یوں کیوں نہیں کہتے
“میں امت محمدی میں سے ھوں میرے لئے یہ حرام ھے ”
نجانے کیوں مجھے اس پر غصہ آ گیا۔
“شکر کرو میں تم کو اپنے ساتھ لے آیا ورنہ وہیں رل رہی ھوتی ۔”
نہیں سجاول رب تب بھی مجھے راستہ دکھا دیتا مگر آج تم ترقی کے زینے کے لئے بیوی کو استعمال کرنا چاہتے ھو تو اجازت دو میں دونفل پڑھ لوں اور رب سے پوچھ لوں جب شوہر کو مجازی خدا بنایا ھے تو کیا اس میں یہ بھی شرط ھے کہ وہ غلط کو درست کہے تو اسے درست کہوں جبکہ شوہر سے عشق بھی ھو ۔وہ بےوفا ھو تب بھی ۔جب میرے دین نے منع کیا ھو تب بھی”اسکی آواز بھرا گئی ۔
میں وہیں کھڑا رہ گیا ۔یہ کیا کر دیا میں نے
میں تیزی سے اندر گیا ۔وہ سجدے میں تھی
اسکا سجدہ طویل ھو گیا ۔خوف سے میں اسے چھو نہیں پا رہا تھا ۔
خرد مجھے معاف کر دو میں شاید دولت کی ہوس میں پاگل ھو گیا تھا ۔میں نے اسے چھوہا تو اسکا سر میرے بازو پر ڈھلک گیا ۔وہ جا چکی تھی ۔میرا کمینہ پن اس کی جان لے گیا مگر میں پاگل ھو گیا ۔سب مجھے پکڑتے مگر مجھے سکون یہیں ملتا ۔میں نے یہ کمرہ بنا لیا
لوگ خود ہی آنے لگے ۔میں دس سال سے اس سے معافی مانگ رہا ھوں مگر یہ چپ ھے ”
اب وہ میرے گلے لگ کر رو رہا تھا ۔
تم چلو میرے ساتھ”
نہیں وہ جھٹکے سے الگ ھو گیا
’’میں خرد کے ساتھ خوش ھوں۔‘‘
ساتھ مسجد ھے نماز ھو جاتی ھے کچھ روپے مل جاتے ہیں تو کچھ لنگر کا انتطام ھو جاتا ھے ۔میری دنیا اب یہی ھے تم جاؤ اور اب کبھی نہیں آنا ۔اس نے اپنے گھٹنوں پر سر رکھ لیا تھا ۔وہ رو رہا تھا ۔خرد نے اس کو انسان بنا دیا تھا ۔وہ نومسلم لڑکی اسے سچا مسلمان بنا گئ تھی ۔وہ اس کی قبر کا مجاور تھا۔
میں بھاری دل لئے اپنی حویلی کی طرف چل دیا۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post