بہارِنو میں خزانِ رفتہ : خاور چودھری

 

یہ اُس صبح کی بات ہے، جب میں گاؤں سے شہر کے لیے نکلاتھا۔درختوں پر نئی کونپلیں پھوٹ رہی تھیں۔ شیشم کے قدیمی درختوں کی قطاروں پرلالیاں، قمریاں اور کوئلیں اپنی مخصوص بولیوں میں ایک دوسرے کو پُکار رہی تھیں۔ جنگلی کبوتروں کے ڈار اناروںکے باغ میں کیڑے مکوڑے چُگنے کے لیے اُتررہے تھے۔ ایسے میں کہیں کہیں نر،مادہ کی طرف پوری گرم جوشی کے ساتھ دیوانہ واربڑھتے تو غٹرغوں سے قرب وجوارکے رقبے کو بھی منظر کیش بنادیتے۔تُوت کی شاخوں پر کچی کونپلیں نئی زندگی کی نوید سنارہی تھیں اور کھیتوں میںپھیلاہراسبزہ آنکھوں میں تازگی بھر رہاتھا۔ البتہ پگڈنڈیوں پر اور درختوں تلے سوکھے پتے بھی ڈھیروں کی صورت میں پڑے تھے۔یہ ایسا ہی منظر تھا، جب میں پچھلے سال انھی دنوں میں جامنوں کے درختوں کے سائے میں بان کی کھری چارپائی پر بیٹھا تھا اور میرے پہلو میں میرامنجھلالڑکا کینوکارَس نکال نکال کر ایک مرتبان میں جمع کررہاتھا اور ساتھ ہی ساتھ مجھ سے انٹرکے امتحانات کی بابت پوچھ بھی رہاتھا۔ مجھے یادآرہا ہے، میں نے اُسے مشورہ دیاتھا، کہ جب وہ یونی ورسٹی پڑھنے جائے توایسے لڑکوں کے ساتھ نشست برخاست رکھے، جو زندگی کے بارے میں واضح نظریہ رکھتے ہوں اور کچھ کرنے کے تمنائی ہوں۔ ایسے لڑکوں کے قریب بھی نہ پھٹکے جویہ کہیں:

’’ ابھی کچھ نہیں سوچا ۔ پڑھائی ختم ہو تو کچھ فیصلہ کروں گا۔‘‘
میں نے اپنے بیٹے کو یہ بھی کہاتھا:
’’ ہدف پہلے مقرر نہ ہوتوانسان کچھ بھی نہیں کرسکتا؛ اس لیے تم اپنا ہدف طے کرلو۔‘‘
تب اُس نے مجھ سے کہاتھا:
’’بابا! میں سول سروس میں جاؤں گا۔ بس آپ دعا کرتے رہا کریں۔‘‘
یہ دن ہیں، یوں ہی بدل بدل کرآتے ہیں۔ میرا بیٹااِن دنوں امریکا میں ہے؛ وہاں اُس کے ننھیالی رشتے دار پہلے سے موجود ہیں۔ میں نہیں جانتاوہ پاکستان پلٹ کرسول سروس جوائن کرسکے گا یا وہیں کسی جاب کا حصہ بن جائے گا۔ویسے ان دنوں دُنیا کی حالت بہت مخدوش ہے۔ خودامریکی صدر کے ایسے بیانات آرہے ہیں، جن سے وہ ہراساں معلوم ہوتا ہے۔ابھی جب میں گھر سے نکل رہاتھا تو ٹوئیٹر پر میں نے اُس کاایک بیان دیکھا، جس میں وہ اپنے چینی ہم منصب سے ٹیلی فونک گفتگو کو خوش آئند قرار دے رہاتھا۔اُدھراٹلی نے بھی اعلان کردیاہے اگر آنے والے چند روز میں حالات قابو میں نہ آسکے تو پورے ملک کو قرنطینہ سینٹر قرار دیا جائے گا۔ رات ہی تو میں نے اٹلی کے صدرکابیان پڑھا تھا، جس میں اُس نے کہاہے:
’’پہلے اطالوی قوم نے ملک کی خاطر جنگوں میں جانیں قربان کیں، اب ریاست قوم کی جانیں بچانے کے لیے اپنے تمام وسائل قربان کردے گی۔ یوں زیادہ سے زیادہ ہماری معیشت کمزور ہو جائے گی ، ہوجائے۔ قوم کی صحت مندزندگی کے بدلے میں یہ معمولی قیمت ہے۔‘‘
ایک سانحہ تو بہ ہرحال انسانیت کو درپیش ہے۔ جب تک موجود ہے، دُنیا پریشان تو رہے گی۔
میں بہارِ نو کی صبح کا تذکرہ کررہاتھا۔جب میں گاؤں سے شہر کی طرف آرہاتھا تو راستے کے اطراف میں حدِ نگاہ تک پھیلے کھیتوں کی ہریالی خوش کن نظارہ تخلیق کررہی تھی۔ ٹریفک بھی رواں دواں تھی۔ جیپ کے کھلے شیشوں میںسے آنے والے جھونکے کچھ سرد معلوم ہوتے تھے۔ میں نے پگڑی کو ذرا کس کے سرپرباندھ لیاتھا۔ ہوائیں براہِ راست چہرے سے ٹکرائیں تو مجھے چھینکیں لگ جاتی ہیں اور بہت دیر تک اچھو سے جان نہیں چھوٹتی۔ اس قصباتی شہر میں ضرویاتِ زندگی اگرچہ تمام میسرنہ ہوں،توبھی ایک حدتک چیزیں یہیں سے مل جاتی ہیں اور ایک طرح سے اطمینان بھی رہتا ہے ،کہ چیزیں خالص ہوتی ہیں۔میراخیال ہے، ابھی یہاں کے لوگوں میں ایمان کی رمق باقی ہے۔بڑے شہروں میں تو ہرچیزمیں ملاوٹ کا خطرہ رہتا ہے۔ میں اپنے بچپن سے یہی سنتاآیاہوں کہ شہر کے ہوٹلوں میں بکنے والاگوشت قابلِ اعتبار نہیں ہوتا۔ گویا یہ شہروں کا ازلی اور دائمی المیہ ہے۔گردوغبار، گاڑیوں کا بے ہنگم ہجوم اور ناقابلِ برداشت شورویسے بھی مجھے ناپسند ہے۔ پھر نفسانفسی اور بے مروتی کی روش سے تو میری جان جاتی ہے۔اس قصبے میں یوں نہ تھا۔
جب میں نے کھاد ڈپو کے سامنے گاڑی روکی تو دوسری جانب گلی میں کچھ لوگ جمع تھے؛ جن میں مردوزن اور بچے سبھی شامل تھے۔اس ہجوم کو دیکھ کر مجھے حیرت ہوئی کہ وبا کے ان دنوں میں تو سختی سے روکا جارہاتھا۔بعض اطلاعات کے مطابق پولیس نے نوجوانوں کی ڈنڈوں سے درگت بھی بنا ڈالی تھی۔اگریہ کوئی مداری کھڑا ہے اوراس کے گرد تماش بین ہیں تومجھ پر واجب ہے کہ میں پولیس کو فون کروں۔ میں یہ سوچ کرآگے بڑھا تومنظرتڑپا دینے والا تھا۔ جینزاورشرٹ پہنے ایک نوجوان نالی کے کنارے اوندھے منھ پڑا تڑپ رہا تھا۔ حلیے سے وہ کسی اچھے گھر کا فرد معلوم ہوتا تھا۔ جس جس کے پاس کیمرے والا موبائل فون تھا، وہ اُس کی ویڈیو بنانے یا تصویر اُتارنے میں مصروف تھا۔ ایک خاتون مسلسل بولے جارہی تھی:
’’ اس کے فوٹو ہی بناتے رہو گے یا کوئی اس کی مدد بھی کرے گا؟کتنے بے حس ہو تم لوگ۔ کوئی تو اس کے منھ میں پانی کے دو قطرے ڈال دے۔‘‘
ایک لڑکا بولا:
’’ خالہ! ون ون ٹوٹو والوں کو بلایا تھا،وہ اسے دیکھ کر چلے گئے ہیں۔جب اُنھوں نے نہیں اٹھایا تو کوئی اور خطرہ کیسے مول لے؟‘‘
’’ آئے ہائے ظالمو! کوئی تواس پر ترس کھائے۔‘‘
’’ کیا معلوم اسے کیا ہوا ہے؟ ہوسکتا ہے اسے وبائی مرض ہو۔ ہمیں لگ گیا توکیا ہوگا؟ تمھیں اتنی ہمدردی ہے تو خود پلادونااسے پانی۔ اٹھا کے گود میں رکھو نا اس کاسر۔‘‘
مسلسل بولنے والی خاتون بڑبڑاتے ہوئے حصار توڑکر باہر نکل گئی۔کم وبیش اَسی لوگ تو تھے ۔ ان میں پڑھے لکھے بھی ہوں گے، دیہاتی بھی ، مذہبی رجحان کے حامل بھی ، خدا ترس اور اصول پسند بھی اور انسانیت کا دردرکھنے والے بھی لیکن میں نے دیکھا کوئی ایک شخص بڑھ کراس نوجوان کو اُٹھانا نہیں چاہتاتھا۔ اچانک میرے دماغ میں ایک خزاں رسیدہ خیال پھڑپھڑاتا ہوا چیخا:
’’تم لوگ ابھی غار کے زمانے سے نہیں نکلے۔ڈرپوک، ہوس پرست ،خواہشِ ذات کے اسیر، مرے ہوئے اُصولوں پر مرجانے والے، انسانیت سے دُور، خزانِ رفتہ کے شیدائی ۔‘‘
میری آنکھوں کے سامنے منجھلے بیٹے کی تصویر لہراگئی ، جو ان دنوں امریکا میں ہے۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post