بنت حوا‎ : فریدہ غلام محمد

’’کوئی کمی نہیں ھونی چاہئے ۔سیج پر یہ پھول بھی ڈالو اور جب دلہن گھر میں پاؤں رکھے تو اوپر سے پھول برسیں گے اور تھال تم لوگ پکڑ لو جب وہ اندر آئے تو دولہا دلہن پر پھولوں کے ساتھ خوشبو کا شاور چلانا ھے سمجھ آئی” ۔بات ختم کرکے انھوں نے پوچھا۔
“ہاں جی آپا ”
سب نے ایک ساتھ کہا تو وہ مسکرا دیں۔
آج نفیسہ بیٹے کی شادی تھی ۔وہ حج کرنے گئیں اور پیچھے سے رشتہ بھی طے ھو گیا ۔انھوں نے ابھی تک لڑکی کو نہیں دیکھا تھا ۔سب نے اصرار کیا مگر وہ نہ مانی ۔بھئ میں اس کا استقبال کروں گی پھر دیکھوں گی نظر نہ لگ جائے میری انھوں نے مسکراتے ھوئے کہاتو نفیسہ نے سب کو اشارے سے خاموش کر دیا۔

نفیسہ بیگم اور آپا کا تعلق بھی عجب تھا ۔نومان اور رومان کو پتہ ہی نہیں تھا وہ کب اس گھر میں آئیں ۔بابا کے انتقال سے پہلے بھی وہ یہیں تھیں ۔نفیسہ نے اپنے بچوں کو کبھی اجازت نہیں دی کہ وہ آپا سے اونچی آواز میں بات کریں۔
آپا کا کمرہ بھی انوکھا تھا۔کتابیں بےشمار تھیں ۔ایک طرف خوبصورت تخت پوش رکھا تھا جہاں وہ نماز پڑھتی تھیں۔ایک طرف ستار پڑا تھا کبھی کبھی بجاتی تھیں ۔میوزک بھی سنتی تھیں ۔جان بوجھ کر بڑھاپا طاری کیا ھوا تھا یہی کوئی پچاس کی ھوں گی ۔ ۔ان کا کمرہ نفیسہ بیگم کے کمرے کے ساتھ تھا ۔شروع ہی سے نوکروں کے کام کاج کی زمہ داری لے لی تھی ۔کبھی خود کچھ بناتیں تو دونوں بچے فرمائش کر کر کے بنواتے۔
نفیسہ بیگم انھیں نہیں روکتی تھیں ان کو وہ اپنی بہن کی طرح سمجھتی تھیں ۔وہ خوبصورت بھی بلا کی تھیں ۔لانبا قد ،متناسب جسم ،خوبصورت سیاہ آنکھیں اورلباس سادہ مگر اچھا پہنتیں۔ہر موسم کے کچھ اچھے سوٹ ان کی وارڈروب میں موجود رہتے۔
بال لمبے تھے جن کا جوڑا بنائے رکھتیں ۔
رومی اکثر کہتا “مما مجھے شک ھے آپا نے وگ لگا رکھی ھے “وہ اسے گھورتیں ۔
“یاد رکھو رومی وہ بہت حساس ہیں ان کو کبھی تکلیف نہ ھو ”
“پتہ ھے مما ” وہ مسکراتا ۔
سفر کر کے آئیں تو فیصلہ سنا دیا “میں ولیمہ میں دھوم دھام سے چلوں گی ابھی میں گھر کی سجاوٹ کروا لوں گی ۔”حتمی انداز تھا سب نے بات مان لی ۔

انھوں نے آج خاص طور پر سفید موتیوں سے مزین لباس پہنا تھا اور ہلکی سی لپ اسٹک لگا کر لانبےبالوں کی چوٹی بنا لی تھی ۔نومان کی شادی تھی وہ ان کا بھی لاڈلا تھا ۔
جب دولہا دلہن اندر آئے تو انھوں نے دونوں کا ماتھا چوما ۔صدقہ وارا ۔”یہ میری مما کی طرح ہیں فروا ”
فروا نے مسکرا کر انھیں دیکھا ۔وہ سب آگے چلے گئے مگر وہ شاید چلنا بھول گئیں۔
فروا ۔سلے ھوئے زخم ادھڑنے لگے ۔دکھوں کی آگ کی تپش ایسی تھی کہ زخم بھی چراغ کی طرح لو دینے لگے ۔ان کی پلکوں میں جنبش ھوئ تو آنسو ڈھلک کر رخساروں پر بکھر گئے ۔کچھ اچھی اور کچھ دل فگار یادیں کرچیوں کی طرح آنکھوں میں چبھنے لگیں ۔
“ارے مومی آئیے نا “نفیسہ کی آواز نے گویا انھیں نئے سرے سے ہوش کی دنیا کا تعارف کروایا۔
“نفیسہ میری طبیعت کچھ اچھی نہیں ۔میں سونا چاہتی ھوں کل ولیمہ ھے جی بھر کے دیکھوں گی دونوں کو ”
“ڈاکڑ کو بلواوں ” ارے نہیں بس تھکان ھے سونے سے ٹھیک ھو جاوں گی۔ “,
نفیسہ انھیں کچھ کہتیں وہ چلی بھی گئیں

“مجھے مار دو خدا کے لئے مجھ پر رحم کرو تم سے کس نے پوچھنا ھے ۔میں جی کر کیا کروں گی مجھے موت کی نیند سلا دو ”
“ماما میری ماما نہ رو ابھی ہیلپ آ جائے گی نا ۔چار سالہ بچہ اس پرچادر دینے کی کوشش کر رہا تھا اور چھوٹی فروا اس کی گود میں تھی وہ رو رہی تھی۔سڑک پر گاڑیاں رواں دواں تھیں ۔کسی نے نہیں جھانکا کہ ایک گاڑی کھڑی ھے اچھا اسی کی رپورٹ کر دیں ۔بس تھوڑا سا نیچے جھانک لیں جہاں ایک سسکتی ماں دو بچوں کو سینے سے لگائے بیٹھی تھی جس کی عزت لٹیرے لوٹ کر جا چکے تھے جس کے تن پر لباس نہیں تھا جو معصوم ولید سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی۔
“میرا کوئی گناہ نہیں پھر آپ ایسا کیوں کر رہے ہیں ؟”۔
اس نے اپنے شوہر کو دیکھا اور باری باری ساس اور نند کو سب نے نظریں چرا لیں۔
“دیکھو مومنہ میں نے اس معاشرے میں رہنا ھے میں کس کس کو جواب دوں گا کل کو یہ دونوں بڑے ھو جائیں گے لیکن لوگوں کے طعنے سنتے ۔تم کیسی ماں ھو جس کو اپنے بچوں کا مستقبل عزیز نہیں ۔”
“آپ بچے مجھ سے لے لیں گے ”

ہاں
“خدارا رحم کیجئے ۔میں مر جاؤں گی ان کے بغیر”
وہ ہاتھ جوڑ کر ان کے سامنے کھڑی تھی ۔

“تمہیں تو اسی دن مر جانا چاہیے تھا جس دن تمہاری عزت تار تار ھوئی تھی ۔بہرحال شام تک اس گھر کو چھوڑ دینا میں واپسی میں تمہاری منحوس شکل نہ دیکھوں”
یہ کہہ کر وہ رکے نہیں۔
وہ چیخ رہی تھی ،رو رہی تھی کبھی فروا کو چومتی کبھی ولید کو ۔
“ماما آپ چلی جائیں ۔‘‘ یہ ولید تھا چار سالہ بیٹا
’’میں اسکول جاتا ھوں تو آپ کی وجہ سے لوگ مجھے عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں ”

“اچھا بیٹے” اس نے نظریں جھکا لیں ۔اس دنیا سے ہار مان لی اسکو یہ پتہ نہیں تھا وہ سیاہ رات اس کے مقدر کو بھی سیاہ کر دے گی ۔
شام سے پہلے ہی وہ گھر سے نکل آئی تھی اس کے پاس کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔وہ بےگھر تھی ۔
اسے یاد تھا وہ سڑک کے کنارے جا بیٹھی تھی ۔آتی جاتی ٹریفک کو خالی نگاہوں سے دیکھ رہی تھی ۔ایسے ہی ایک دن وہ جا رہی تھی ،اس کے بچے بہت خوش تھے ۔ٹھنڈی ھوا کے مست جھونکے ،بہاروں کا پیغام دے رہے تھے
” ۔ماما اب تو شام ھو رہی ھے کب پہنچیں گے ”
ولید شام کے سائے بڑھتے دیکھ کر گھبرا رہا تھا۔
“پاپا کو سرپرائز نہیں دینا ولی؟ ”
“یس ماما میں بہت خوش ھوں اب کے تو ہم بھی یورپ چلے جائیں گے نا”

“انشااللہ ” وہ مسکرائی لیکن اس کے بعد جو کچھ ھوا کاش وہ نہ ھوتا ۔گاڑی رک گئ اور پھر ولید کی چیخیں ۔فروا کا رونا کچھ کام نہ آ سکا
کاش یہاں کوئی ایک انسان ھوتا مگر وہاں تو سارے ہی درندے تھے ۔اسے یاد ھے آخری کال اس نے ہیلپ لائن پر کی تھی ۔
وہ چیخ رہی تھی ۔مجھے مار دو اللہ کے واسطے مگر خدا کی یہی رضا تھی اسے زندہ رہنا تھا مگر روشنی میں وہ چیختی تھی ۔
ابتدا میں سرمد اسے گھر لے گئے ۔سائکاٹرسٹ سے رجوع کیا ۔سب ٹھیک تھا ۔۔سرمد نے اپنے رویے سے کچھ بھی ظاہر نہیں کیا تھا مگر وہ خوفزدہ تھی ۔وہ ان کی نرم گفتگو میں بھی ایک طوفان دیکھ رہی تھی ۔
اسے یاد تھا وہ جب لب سڑک رو رو کر بے سدھ ھو گئی تھی تو کسی نے گاڑی روکی ۔ڈر کسی آسیب کی طرح اس کے دل میں بیٹھ گیا تھا ۔اس کی آنکھیں پھٹ گئیں ۔
نہیں میرے پاس نہیں آنا خدارا ۔۔۔دوپٹہ وہی گر گیا تھا ۔دیکھو میرے بچے چھین لئے گئے ۔میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ۔دیکھو میرے دامن میں کتنے چھید ہیں ۔دیکھو قریب نہیں آنا ۔ میں کرب میں ھوں خدارا رحم کرو وہ بھاگ بھی رہی تھی اور بولتی بھی جا رہی تھی۔اچانک ایک گاڑی سے ٹکر ھوئی اور جب ہوش میں آئی تو وہ نفیسہ کے گھر تھی کراچی سے بہت دور آزاد کشمیر میں نفیسہ کے گھر تھی۔

نفیسہ کے والدین اور بہن فضائی حادثے میں جاں بحق ھو گئے تھے ۔اس نے کتنی بار وہاں سے جانے کی کوشش کی مگر ہر بار نفیسہ اور اس کے شوہر نے اسے روک لیا۔اس سے کسی نے کچھ نہیں پوچھا ۔بس گھر میں ایک مقام دے دیا ۔کچھ ہی عرصہ بعد نفیسہ یوں گھل مل گئی کہ اس کو احساس زیاں کے باوجود جینے کا سلیقہ آگیا ۔
نفیسہ کے علاوہ سب اس کو آپا ہی کہتے تھے وہ اکثر سوچتی تھی کہاں درندے اور کہاں یہ انسان اس کے دل میں سکون سا اتر آتا ۔اللہ بےنیاز ھے مگر رحمان کتنا ھے ۔
آج فروا نام سن کر اس کے سارے زخم پھٹ گئے تھے ۔رونے سے سارا غبار نکل گیا تو افسوس ھونے لگا ۔نفیسہ کیا سوچے گی ،نومی کا دل خفا ھو گا
یہی سوچتے وہ نیند کی آغوش میں چلی گئیں ۔
نفیسہ اور انھوں نے ملکر ناشتہ کیا ۔”بھئ بہو تو بڑی پیاری ھے ہماری ”
انھوں نے مسکرا کر کہا
“ہاں مومی بہت پیاری ھے ماشااللہ مگر
“مگر کیا”؟ میں سوچ رہی تھی ہم دونوں اسے بہت پیار دیں گے اس کی والدہ نہیں ہیں اور اپنی سوتیلی والدہ سے اس کی کبھی نہیں بنی ”
“اوہو افسوس ھوا لیکن نفیسہ ہم ہیں نا ہتھیلی کا چھالا بنا کر رکھیں گے انشااللہ”
“ہاں مومی اچھا آج دوپہر کا ولیمہ ھے تم نے بہت اچھا تیار ھونا ھے ”
“ھو جاوں گی فکر نہیں کرو ”
دلہن کب اٹھے گی دل چاہ رہا ھے دیکھوں
“ارے اب ہم اسے دیکھتے ہی رہیں گے ولیمے کے لئے تیار ھونے گئی ھے اصل میں اسکی فیملی کی شام کی فلائٹ ھے اس لئے ۔” نفیسہ نے اسے بتایا۔

انھوں نے سادہ سی گرین ساڑھی پہنی اور سادہ سی چٹیا بنائی اور ہلکی سی لپ اسٹک لگا کر وہ تیار ھو گئیں ۔
سب ہوٹل پہنچ گئے تھے ۔وہ دونوں دروازے پر کھڑی تھیں ۔دلہن والے آئے تو وہ ٹھٹھک گئیں وہ کوئی اور نہیں سرمد تھا۔
اس نے نفیسہ کے ساتھ ملکر سب کو ویلکم کہا ۔مگر آج ان کا دل اتھل پتھل نہیں ھوا ۔کوئ سکون تھا جو اس کے دل میں اتر گیا بس اب وہ ولید کو دیکھنا چاہتی تھیں۔وہ سیدھا اسٹیج کی طرف بڑھیں
دلہن کے قریب گئیں تو اس نے مسکرا کر نوجوان کو بتایا “ولید یہ بھی نومی کی مما جیسی ہیں ”
“السلام علیکم میم ” جو بھی ملے اسے سلام کرتے ہیں ولی ۔توبہ ھے کتنا رٹا لگوائیں گی مما”
وہ مسکراتا
وعلیکم السلام اس نے جواب دے کر اس کے سر پر ہاتھ رکھا ۔ارے مومی ہاتھ ہٹاؤ گی تو وہ بےچارا سیدھا ھو گا ۔نفیسہ ہنس پڑیں
“کوئی بات نہیں آنٹی مجھے اچھا لگا
کیا کرتے ھو تم ؟ میں ڈاکڑ ھوں اصل میں پاپا چاہتے تھے ان کا بزنس سنبھالوں لیکن مجھے اپنی مما کی خواہش پوری کرنا تھی”
مما انھوں نے زیر لب پوچھا شاید
“ہاں جی میری اپنی مما ”
زندہ نہیں ہیں ؟
شاید نہیں

اچھا اچھا وہ وہاں سے ہٹ گئیں ۔
“اے اللہ تو کیسا مہربان ھے مجھے بچوں سے ملوا دیا “انھوں نے اللہ کا شکر ادا کیا

فوٹو سیشن شروع ھوا تو ایک طرف نفیسہ اور دوسری طرف مومی ایک دم خاموشی سے مومی کے پیچھے ولید کھڑا ھو گیا ۔یہ یادگار لمحہ تھا صحرا میں تپتی ریت پر چلتے چلتے وہ نخلستان میں آ کھڑی ھوئی تھی ۔
جاتے جاتے ولید اسکے پاس آ گیا ۔اس امید کے ساتھ ہم پھر ملیں گے میم اللہ حافظ ۔
اس نے اپنا سر آگے جھکایا مگر انھوں نے اس کی پیشانی کا بوسہ لیا ۔ولید نے دیکھا ان کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔

سرمد اور اس کی بیگم کے جانے کے بعد وہ گھر آ گئے ۔
“فروا کے سارے کام میں کروں گی نفیسہ ”
ضرور کریں لیکن بات کیا ھے ؟

فروا اور ولید میرے بچے ہیں جو مجھ سے چھین لئے گئے تھے
مطلب ؟
“اگر تم نے میری پلاسٹک سرجری نہ کروائی ھوتی تو دنیا میں جی نہ پاتی اور شاید بچے بھی نہ مل پاتے مگر اب سب ٹھیک ھے ”
وہ مڑیں ان کی آنکھوں میں آنسو تھے کچھ دکھ کے اور کچھ سکھ کے ۔

نفسیاتی علاج کے دوران ڈاکڑ نے انھیں سمجھایا تھا تو انھوں نے اپنی ان کی شکل اپنی بہن کے جیسی کروا لی تھی وہ اس کے چہرے کو دیکھ خوش ھوتی تھیں اور مومنہ معاشرے میں زندہ رہنے کے قابل ھو گئ تھی
بس ایک راز انھوں نے دل میں رکھا تھا ۔انھوں نے فروا کو دلہن بنانے کا فیصلہ کیا تو وہ جانتی تھیں یہ مومنہ کی بیٹی ھے ۔
بہت سال پہلے کسی گھبرائے ھوئے بچے کی کال آئی تھی آنٹی میری مما کو پاپا نے نکال دیا ھے آپ انھیں اپنے گھر لے جائیں اس کے پوچھنے پر جو اس نے بتایا تھا اس کے پیروں تلے زمین نکل گئی تھی ۔وہ نجانے کسے فون کر رہا تھا مگر اسکا نمبر مل گیا تھا ۔وہ جب ان کی گاڑی سے ٹکرائیں تھیں اس عالم میں بھی وہ اپنا منہ نوچ رہی تھیں۔ڈاکڑ کے مشورے کے بعد ہی ان کے خدو خال بدلے گئے یہ راز تو ولید اور فروا کو بھی نہیں بتا سکتی تھیں ۔مگر اپنی زندگی میں ان بچھڑے ہوؤں کو ملا کر انھوں نے جینے کا مقصد پا لیا تھا۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post