اے غم دل کیا کروں‎ :فریدہ غلام محمد

“مومی ادھر آؤ” شاید بابا کی آواز تھی ۔میں برف پلیٹوں میں ایسے بھر رہی تھی جیسے کوئی انمول خزانہ اکٹھا کر رہی ھوں ۔
“آتی ھوں بابا” میں نے ان کی تسلی کے لئے جواب دیا ۔مجھے ابھی برف جمع کرنی تھی پھر اسے آتش دان کی آگ کے قریب رکھنا تھا اور وہ نظارا دیکھنا تھا ۔برف ،آگ کی تپش میں کیسے پگھلتی ھے ۔خیر یہ میرا روز کا معمول تھا۔
“مومی آؤ بھی کچھ دکھانا ھے ”
“آ رہی ھوں بابا”
میں نے برف وہیں پھینکی اور جھنجھلاتی ھوئ بابا کے پاس آ گئی ۔وہ پہاڑ کی چوٹی کی طرف دیکھ رہے تھے ۔
_آ گئی میری بیٹی”
انھوں نے مسکراتے ھوئے مجھے دیکھا
“کیا دکھانا تھا آپ نے ؟”میں نے اپنی پونی ٹیل ہلاتے ھوے انھیں دیکھا ۔
“وہ دیکھو بادلوں اور دھند میں چاند ”
ان کے کہنے پر میں نے اس طرف دیکھا
واقعی عجب منظر تھا ۔چاند دھند میں بھی روشنی بکھیر رہا تھا ۔پہاڑ کے آس پاس چاندنی بکھری پڑی تھی ۔
بابا چاند ان سے جنگ کیوں کر رہا ھے ؟
کیسی جنگ؟
آج دھند کو راج کرنے دیتا ؟ ڈنڈی ماری اس نے میں نے اپنے تئیں بہت عقلمندی کی بات کی ۔بابا ہنس پڑے اور میرا ہاتھ پکڑ کر کہنے لگے” ۔ہر ایک کو اپنا آپ منوانے کا شوق ھوتا ھے نا۔ شاید چاند کو بھی ھو ”
“شاید چلیں میں بھی کچھ دکھاؤں آپ کو ”
“تم نے مجھے یہ بتانا ھے کہ بابا برف آگ کے سامنے بھیگی بلی بن جاتی ھے ۔ڈرپوک کہیں کی ”
ارے آپ کو کیسے پتہ ؟
“تمہاری اماں بتا رہی تھیں ”
اماں بھی نا ” میں نے منہ بسورا
پتہ نہیں چلا کب بڑی ھو گئ ۔
اماں ” جی بیٹے
آج کیا ھے کھانے میں ؟
جاؤ آپا سے پوچھ لو میں ذرا جلدی میں ھوں “,
انھوں نے اسٹیتھوسکوپ گلے میں ڈالی اور باہر نکلیں
اماں بھی نا جو کبھی گھر میں ٹک جائیں ۔میں نے بڑبڑاتے ھوئے ڈونگے کا ڈھکن اٹھایا ۔آلو گوشت ،دوسرے میں بھنی ھوئ دال ۔
“میں ڈال دوں مومی ”
جی آپا ڈال کر کمرے میں لے آئیں ۔میں بےدلی سے ٹیبل کے پاس سے ہٹ گئی ۔
بھیا بورڈنگ میں اور بابا کلینک ،اماں ہسپتال
یہ بھی کیا زندگی ھے ۔اس کا دل بھر آیا ۔
“مومی دل میلا نہیں کرتے بیٹی ۔شام ھوتے ہی رونق شروع ھو جائے گی ۔سب کو کام بھی تو ھوتے ہیں نا میری بچی ”
آپا کی وہی تسلی بھری باتیں ۔میں نے خاموشی سے کھانا شروع کر دیا اور وہ بھی مطمئن ھو کر چل دیں
وہ دن کتنا دردناک تھا جس دن بابا اچانک الوداع کہہ کر دوسری دنیا میں جا بسے ۔تب مجھے اپنا وہ معصوم سا کھیل یاد آ گیا جب برف اکٹھی کرکے آگ کے نزدیک رکھتی تو اس کے پگھلنے کا منظر بہت بھلا لگتا مگر یہاں تو یتیمی نے ایسا کر دیا تھا جیسے موم کو سورج کے عین نیچے رکھ دیا جائے اور اپنا حلیہ بھی پہچان نہ پائے ۔جس کا جو دل کیا وہ کہا مگر اماں ثابت قدم رہیں ۔آہستہ آہستہ حالات معمول پر آ گئے۔
بھائی کی شادی میں سب تھے، بابا نہیں تھے ۔میں مسکرا رہی تھی مگر آنسو ساتھ ساتھ بہہ رہے تھے ۔
اماں کو دیکھ کر ہمت باندھ لی ۔کیا اماں کا ہمراز اور زندگی کا ساتھی جدا نہیں ھوا تھا۔
اس نے کبھی بھی غور نہیں کیا تھا ۔اماں نے بابا کے بعد کبھی میک اپ نہیں کیا تھا ۔سر ڈھانپ کر رکھتی تھیں ۔گاڑی تک ڈرائیو کرنا چھوڑ گئ تھیں ۔
یاد ھے مجھے دروازے پر دستک ھوئ ۔سامنے اماں تھیں ۔اماں آئیں کیا ھوا
میں نے گھبرا کر ان کا ہاتھ تھاما ۔روئ سی ہائے کتنی بےبسی کے ساتھ انھوں نے مجھ سے پوچھا۔
“میں آئندہ یہاں سو جایا کروں ”
“اماں جان سارا گھر آپ کا ھے جہاں دل کرے یہ پوچھنے والی بات ھے ”
میں نے ان کے آنسو صاف کئے اور اپنے چھپائے
بس پھر اماں اور میری پکی دوستی ھو گئ۔
انھوں نے میری شادی کر دی ۔ہاں پہلی بار میں بہت روئ ۔دھاڑیں مار کر روئ ۔میرے بابا کھو گئے تھے ۔میں ان کے سینے پر سر رکھ کر رونا چاہتی تھی مگر وہ نہیں تھے ۔
شہریار بہت ہی اچھے شوہر ہیں ۔دنیا کی ہر خوشی دی انھوں نے مجھے۔
میری دو بیٹیاں اور ایک بیٹا جن کی شادی بھی کر دی ۔
ہم سب بہت خوش تھے ۔اچانک یہ کیا ھوا یاد نہیں
پتہ نہیں یہ مختلف ادوار کی باتیں اسے قسطوں میں کیوں یاد آ رہی تھیں ۔
کچھ باتیں تووہ کب سے سن رہی تھی
کوئی کہہ رہا تھا ارے یہ بہت بری طرح گری تھیں سڑک پر ۔
کوئی کہہ رہا تھا ان کے شوہر تو بچ گئے دونوں ٹانگوں کو شدید نقصان پہنچا ھے ۔بولنے کی قوت بھی متاثر ھوئی ھے ۔مگر وہ جلد ہی ٹھیک ھو جائیں گے۔
“یار اماں کو آج دو ماہ ھو گئے اس حالت میں”
یہ میرے بڑے بیٹے کی آواز تھی لیکن جذبات سے عاری آواز ۔میرا عادی جس کو میں نے کتنے نازوں سے پالا تھا ۔جس کی شادی سارے خاندان سے جنگ کر کے کی تھی ۔
“آج تم رہو گے اسفند یہاں ۔نہ بابا میں بہت تھکا ھوا ھوں ۔”
تب ہی فرح کی آواز آئ “۔تم دونوں جاؤ میں یہاں ھوں ”
یہ میری بیٹی کی آواز تھی ۔میں بولنا چاہتی تھی تمہارا ماہی بہت چھوٹا ھے تم جاؤ
لیکن میں شاید بول نہیں سکتی تھی پھر میں کہاں ھوں ۔سب کچھ تو سن رہی ھوں ۔سب کے احساسات و جذبات بھی سمجھ رہی ھوں ۔میں کہاں ھوں یا خدا ۔میں سمجھ نہیں پا رہی تھی۔

“بہت شکریہ فرح”
دونوں کی آواز میں ممنونیت تھی ۔
شاید کسی نے میری نبض پر ہاتھ رکھا
کوئی ہوش میں آنے کا چانس ھے ”
یہ میرے بچے تھے نجانے کس سے پوچھ رہے تھے ۔
“کچھ کہہ نہیں سکتے دو مہینے ھو گئے شاید ایسا ممکن ھو ”
ڈاکڑ صاحب ان کو گھر میں رکھ سکتے ہیں ؟
یہ میری بیٹی تھی
یہ ممکن نہیں ان کی نبضیں کبھی ڈوبنے لگتی ہیں یہیں بہتر ھے ۔
پھر آپ سب صرف چند لمحوں کے لئے آتے ہیں
نرس رکھ لی ھے پھر بھی کوئ پرابلم ھے کیا؟
ڈاکڑ کی آواز میں طنز تھا ۔
ہاں یہ تینوں ہی تھے
یار اماں کے مرنے پر قل شاندار ھونے چاہییں
عادی بولا
میں تو کہتا ھوں کارڈ چھپوا لیں گے زیادہ بہتر رہے گا ۔
اسفند بولا
تم کیا کہتی ھو فرح ؟
میں کیا کہہ سکتی ھوں میرا میاں تو ناراض رہتا ھے
وہ کیوں؟
بھائی میرا گھر درہم بھرم پڑا ھے یہ چند دن کی بات تو نہیں نا ۔مجھ سے کچھ نہ پوچھیں
اب خاموشی چھا گئی تھی ۔
یہ میری اولادیں تھیں ارے کہیں پکڑ میں نہ آ جائیں ۔مجھے فکر ھوئی ۔میں انھیں سمجھانا چاہتی تھی کہ ایسا نہ کہو مگر میں ہر طرح سے معذور تھی ۔
ہائے میرے نادان بچے ۔دل کٹ کے رہ گیا
بابا ٹھیک بھی ھو گئے کسی کو تکلیف نہیں دی۔ ۔اماں نے تو مشکل میں ڈال دیا ھے۔یہ میرا بیٹا کہتا تو شاید میں یقین کر لیتی ۔یہ میری بیٹی کی آواز تھی۔ مجھے بھی مر جانا چاہیے تھا ۔یہ رویے تو ناقابل برداشت تھے ۔
میں چیخ چیخ کر رونا چاہتی تھی مگر شاید میں چیخ نہیں پا رہی تھی۔
مومی ادھر آؤ ۔۔ ارے یہ تو بابا کی آواز ھے ۔یہ آواز ،بابا کہاں ہیں ؟
“ارے دیکھو اماں کے آنسو نکلے ”
تینوں چلائے ۔ڈاکڑ کو بلاؤ جلدی
“مومی کہاں رہ گئ ھو آؤ ”
“بابا میرے بابا آپ نظر نہیں آ رہے ذرا ٹھہریں”
شاید ڈاکڑ نے پھر مجھے چیک کیا ۔اس کے بعد کوئ آواز نہیں آئ ۔
مریم یہ شہریار کی آواز تھی میری ساری حسیات بیدار ھو گئیں۔
مریم “۔بابا آپ آواز دے کر کیا کریں گے ”
یہ میری بہو تھی ۔
آخر اتنا بڑا فیصلہ ھے ایک بار بلا کر دیکھنا چاہیے نا
“فیصلہ اب کون سا فیصلہ کرنے آئے سب

جی ڈاکڑ صاحب ہم اپنی مرضی سے کہہ رہے ہیں ان کو وینٹیلیٹر سے ہٹا دیں ۔میں گھر کے سربراہ کی حیثیت سے یہ لکھا ھوا بھی دے رہا ھوں۔اگر یہ ھوش میں آ بھی جائے تو بھی معذوری اس کا مقدر ھے
“میں تم بن جی نہیں سکتا مومی اب کبھی مرنے کی بات نہ کرنا ”
شہریار کی محبت بھری آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی ۔
کاش ایک بار اللہ مجھے ہوش میں لائے اور میں ان سب کو ان کی اوقات بتا سکوں ۔
۔۔یہ رشتے بھی عجیب ھوتے ہیں۔ ساری زندگی سمجھ نہیں آتے۔ شاید چھوٹے ھوتے وہ ماں باپ کے محتاج ھوتے ہیں۔ جس کو وہ محبت کا نام لے کر جڑے رہتے ہیں ۔پرندے کا بچہ بھی تب تک ماں کے پروں میں رہتا ھے جب تک اسے اڑنا نہیں آتا لیکن جب پہلی اڑان بھرتا ھے تو پھر کبھی نہیں لوٹتا۔ مگر یہ پرندے تو نہیں تھے ۔انسان تھے ۔پھر اتنی بےحسی ۔پریشانی بس اتنی تھی کہ میں مروں اور ان کی جان چھٹ جائے ۔کاش یہ سمجھ پاتے ۔میں روز ان کی باتیں سنتی ھوں ۔روز ان کی آوازیں ،ان کے لہجے نیزے کی انی کی طرح میرے دل میں پیوست ھوتے ہیں۔میں اتنی غیر اہم ھو گئی ان کے لئے ۔شہریار تو شوہر تھے یہ تو میرے اپنے بچے ہیں۔کاش ایک بار ہوش میں آ کر ان سب کو ان کی اوقات بتا سکوں ۔ان کم ظرفوں جو بتا سکوں کہ میں کوئ غیر نہیں تمہاری ماں ھوں ۔
“مومی یہ بلند پہاڑ دیکھ رہی ھو؟ جی بابا
ہمارا ظرف اس سے بھی اونچا ھونا چاہیے ”
“نو نو بابا یہ ممکن ہی نہیں ”
تم اپنے بابا کو ناامید کر دوں گی۔
نو نو یہ بھی ممکن نہیں مگر آپ یہ سب کیوں کہہ رہے ہیں؟
“دیکھو کبھی ایسا کڑا وقت آ بھی جاتا ھے تب ہمیں اپنا ظرف آزمانا پڑتا ھے ”

اور شاید یہی کڑا وقت تھا ۔مومی کہاں ھو ؟
آ رہی ھوں بابا اس نے بابا دیکھ لئے تھے وہ بانہیں پھیلائے کھڑے تھے ۔وہ ان کی طرف بہت پرسکون ھو کر بھاگی چلی جا رہی تھی۔
یہ لیں ڈیتھ سرٹیفکیٹ ۔کاروائ مکمل ھے آپ میت لے کے جا سکتے ہیں ۔
ڈاکڑ نے ان کے ہاتھ میں ڈیتھ سرٹیفکیٹ پکڑایا
“ایک منٹ ڈاکڑ صاحب” شہریار کی آواز گونجی
جی فرمائیے

“ان کا غسل اور کفن یہیں ھو گا اور ایمبولینس سیدھا جنازہ گاہ جائے گی”

ڈاکڑ کی آنکھوں میں حیرت تھی۔
کیا کہہ رہے ہیں بابا ؟ عادی الجھا
تب شہریار نے ان سب کو دیکھا
تم سب اپنے ساتھ مجھے لاتے رہے جب تم باتیں کرتے تھے نا اس معصوم کے چہرے کے تاثرات بدلتے تھے ۔شاید تم کو نہیں معلوم” کومہ”میں مریض سب سنتا ھے مگر جواب نہیں دے سکتا کیوں ڈاکٹر؟
“ہاں آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں ”
“تم سب جاؤ اور قبر تیار کرواو اتنا تو کر ہی سکتے ھو نا؟”
آج شہریار دھاڑ رہے تھے ۔ اور سنو میں بھی تم لوگوں کے ساتھ گھر نہیں جا رہا ۔میں نے اولڈ ہوم میں خود کو رجسڑ کروا لیا ھے ”
“آپ کیوں ہماری جگ ہنسائی کروانا چاہتے ہیں؟”
“میں صرف تم کو بتا رہا ھوں اب جاؤ”
وہ تینوں باہر نکلے
دور بیٹھی خواتین نے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے ان کو دیکھا ۔
ارے بڑے صبر والے تھے یہ بچے ۔بڑی خدمت کی انھوں نے بس اس کی زندگی ہی اتنی ہی تھی ۔ان تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پھر نظریں چرا لیں ۔ کچھ سننے اور کہنے کو باقی نہیں رہا تھا ۔پچھتاوے اب ان کو گھیر رہے تھے مگر ازالہ ممکن نہیں تھا ۔

فریدہ غلام محمد

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post