ایک غلطی : آبیناز جان علی

پانپلے موس کے باغ کی عظیم سفید گزرگاہ کی طول و عرض پر نظریں دوڑاتے ہوئے ننھی شائستہ کی چھوٹی گول آنکھیں حیرت و استعجاب کے عالم میں چمکنے لگتیں۔ فرانسسیوں کے زمانے کا یہ شاندار پھاٹک جس پر حال میں سفید رنگ چڑھایا گیا تھا اپنے ماضی کی عظمت کا علمبردار ہے۔ جب شائستہ ان بڑے دروازوں سے گزرتی تو چاروں طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آتی۔ آس پاس کوّوں کا شور فضا میں سسنی پیدا کرتے۔ چھوٹی چھوٹی گلیاںآپس میں ملی ہوئی، باغ کی مختلف جوانب سیر کرنے والوں کو لے جاتیں۔ یہاں وہاں سفید بنچ نظر آتیں۔ ہر گلی کا اپنا نام ہوتا۔ شائستہ ان کو با آوازِ بلند پڑھتی اور یاد کرنے کی پوری کوشش کرتی تاکہ اسکول میں اپنے استاد کو اپنی قوتِ حافظہ سے متاثر کرسکے۔ شائستہ کا خاندان ہمیشہ باغ کے بیچ کا راستہ لیتا۔ بڑے چوکور تالاب کے پاس رک کر عظیم واٹر لی لی کا دیدار کرتے۔ شائستہ ان بڑے واٹر لی لی کے نیچے دیکھنے کی کوشش کرتی لیکن وہ پتے اتنے بڑے تھے کہ نیچے کا پانی بمشکل نظر آتا اور پانی میں گرنے کا ذرا خوف بھی ہوتا۔ لکڑی کے پلوں پر سے گزرتے ہوئے شائستہ کھل کھلا اٹھتی۔ نیچے بہتے ہوئے پانی کا شور اسے مسرور کرتا۔ وہ ندی کے درمیان لکڑی اور پام کے سوکھے پتے سے بنائے گئے بڑے چبوترے کے نیچے کچھ دیر بیٹھتے اور مچھلیوں کے لئے سوکھی روٹی پھینکتے۔ آنِ واحد میں مچھلیوں کا ہجوم سطحِ آب پر نظر آتا۔ سب روٹی کا ایک لقمہ حاصل کرنے کی کوشش میں پانی کے کنارے بے خوف و خطر آجاتیں۔ چاروں طرف اونچے اور گھنے سایہ دار درخت کو دیکھ کر شائستہ عش عش ہوتی۔
’’وہ دیکھیے ابو، بطخ پانی میں تیر رہا ہے۔‘‘
اس کے بعد شائستہ سوکھی گھاس اٹھا کر ہرنوں کو کھلاتی جو بے نیازی شان سے سیاحوں کے سامنے جلوہ گر تھے۔ ایک فرانسسی سیاح پر نظر پڑتے ہی شائستہ نے اس سے فرانسسی زبان میں دریافت کیا: ’’ایسک کے وٹر سے ژور آ موریس سے پاس بیائن؟‘ ‘( کیا موریشس میں آپ کا سفر خوب گزر رہا ہے۔)
’’وی وی۔‘‘ سیاح نے جواب دیا تھا۔
شائستہ بھاگتی ہوئی ابو کے پاس گئی۔ ’’ابو ابو میں نے ایک فرانسیسی سیاح سے بات کی۔‘ ‘ ابو مسکرائے۔
گنے کے کارخانے کی تاریخی عمارت اور بابائے قوم سرسیو ساگر رام غلام کی سمادھی سے گزرتے ہوئے ابو شاتو دے موں پلے زیر کے سامنے ایک بڑی چادر بچھاتے۔ سارا سامان رکھ کر امی بریانی نکالنے میں عدیم الفرصت رہتیں۔ چاول، گوشت اور مصالحہ کی آمیزش کی خوشبوہوا میں پھیل جاتی۔ شائستہ جلدی جلدی کھانے سے فارغ ہو کر وسیع میدان میں اپنی بہن تاشرین کے ساتھ یہاں وہاں بھاگتی۔ وہ گھاس پر لوٹتی، کنول کے مجسمے کے گرد جاتی اور پودوں سے لگے ہوئے پتھروں میں تراشے گئے نام کو فخر سے پڑھتی۔ ان پودوں کو مختلف ممالک کے وزراء اور صدور نے اپنے ہاتھوں سے لگائے تھے: ’’ہندوستان، چین، یوگاندا۔۔۔‘ ‘شائستہ پڑھتی جاتی۔
شائستہ کو یاد تھا وہ ایک بڑے درخت کو دیکھنے آئے تھے جو سو سال میں ایک ہی بار پھول دیتا ہے۔اس وقت وہ دو سال کی تھی اور تاشرین پیدا نہیں ہوئی تھی ۔ اسے لکڑی کی بنائی گئی اونچی سیڑھی چڑھنی پڑی تھی۔ ابو نے اس کا ہاتھ زور سے پکڑا تھا اور اسے چڑھنے میں مدد کی تھی۔ اگلے روز دونوں زانو ئوں کا درد بھی یاد ہے۔ تاشرین کے آنے کے بعد سب کچھ بدل گیا۔ گھر میں جو آتا اس کے دو حصّے ہوجاتے۔ پھر تاشرین کو بھی اکثر وہی چیز چاہئے تھی جو شائستہ کو ملتا۔ ایک بار ابو نے آنگن کے پیڑسے ناریل توڑے۔ ناریل کو اوپر سے چھڑی کی مدد سے چھیلنے کے بعد برتن میں اس کا پانی انڈیل دیا۔ پھر اس کو بیچ سے الگ کرنے کے بعد شائستہ کو ملائی کھانے کے لئے چمچ کے ساتھ دے دیا۔ کچھ دیر بعد تاشرین کے رونے کی آواز سنائی دی:
’’کیا ہوا؟‘ ‘ ابو پوچھتے۔
’’میرا والا بیچ میں جڑا ہوا نہیں ہے ، شائستہ کی طرح۔‘‘
’’دونوں کو ایک ساتھ کردو۔ ایک ہوجائے گا۔‘‘
’’نہیں مجھے دونوں حصّے ساتھ میں جڑے ہوئے چاہیں۔‘‘
تاشرین کو شائستہ کی ہر چیز عزیز تھی۔ شائستہ کا ایک ہیئر بینڈ تھا جس میں چھوٹی گھنٹیاں تھیں اور ایک چھوٹاٹیڈی تھا۔ تاشرین نے ضد کر کے وہ ہیئر بینڈ لے لیا اور منٹوں میں اس کے پرزے پرزے کر ڈالے۔
شائستہ اپنا غصّہ پی کے رہ گئی۔ امّی نے بھی تو کچھ نہیں کہا تھا۔
’’ابھی چھوٹی ہے۔‘‘
’’لیکن یہ میری چیز ہے۔ مجھ سے پوچھے بغیر کیسے لے لی؟‘‘
یہ بچپن کی باتیں تھیں لیکن ابھی بھی اثر رکھتی تھیں۔ آج تاشرین ایس۔ ایس۔ آڑ میڈکل کالج سے ایم ۔بی۔بی۔ایس کی ڈگری جلد مکمل کر کے ایس۔ایس۔آڑقومی ہسپتال میں پریکٹیس کے لئے جانے والی ہے۔ تاشرین والدین کی فرمانبردار اور لائق فائق بیٹی ہے۔ یہ باتیں سوچتے ہوئے شائستہ نے نمبر ملایا:
’’جاگ رہے ہو؟‘‘
’’رات بھر نیند نہیں آئی۔ ابھی سونے کی کوشش کر رہا ہوں۔‘ ‘ فون پر عرفان کی آواز سنائی دی۔
’’میں نے ابھی پریگنینسی ٹیسٹ لیا ہے۔ نتیجہ مثبت آیا ہے۔‘‘
’’کیا؟‘‘
’’ہاں۔ آج ملتے ہیں۔ آٹھ بجے۔ ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے۔‘‘
عرفان سے بات کرتے ہوئے شائستہ نے اطمینان کی سانس لی۔ صبح کے چار بجے تھے۔ کئی دنوں سے شائستہ کو ہاضمہ کی پرشانی ہو رہی تھی۔ اس کے مسوڑھوں میں سوجن آگئی تھی۔ کبھی کبھی کوئی کھانا برداشت کے باہر معلوم ہوتا تھا۔ اس کی کوکھ میں جیسے ایک بوجھ تھا جو اتر نہیں رہا تھا۔ عرفان نے تو کہا تھا کہ کچھ نہیں ہوگا۔
پورٹ لوئی کے بس اڈے پر عرفان کو آتے ہوئے دیکھ کر شائستہ کو اس کی سچی محبت کا یقین ہوگیا۔ یہ لڑکا اسے مصیبت میں چھوڑ کر جانے والا نہیں ہے۔
’’اس بچے کو جانا ہوگا۔ شادی کے باہر پیدا ہونے والے بچے کا مستقبل کیا ہوگا۔ دینا اسے قبول نہیں کرے گی۔‘‘
’’دنیا کیا کہے گی؟ غلطی تو سب سے ہوتی ہے۔ ویسے بھی ہماری شادی کی عمر ہوگئی ہے۔ ہم نکاح کرلیں گے شائستہ۔‘‘
’’نہیں ابو یہ ذلت برداشت نہیں کرپائیں گے۔ ہمیں ڈاکٹر کے پاس جانا ہوگا۔‘‘
’’لوگ تو بچوں کے لئے ترستے ہیں۔ لاکھ کوششوں کے باوجود ان کا آنگن سونا رہتا ہے اور تم بچہ نہیں چاہتی؟ معلوم نہیں اگلی بار خدا ہمیں اولاد ے گا یا نہیں۔ کہیں بدعانہ لگ جائے۔‘‘ تاشرین کی تصویر شائستہ کی آنکھوں کے سامنے گھومنے لگی۔ اس نے نفی میں سر ہلایا۔
’’نہیں ہمیں ڈاکٹر کے پاس جانا ہوگا۔ ایک ہی مہینہ گزرا ہے۔ دوائی سے چلا جائے گا۔‘‘
’’لیکن ڈاکٹر کو نہیں بتانا ہے کہ شادی نہیں ہوئی ہے۔‘ ‘ عرفان نے اس بات پر زور دیا۔
’’ٹھیک ہے۔‘‘
ڈاکٹر شیلا کا ذاتی مطب سرسیو ساگر گلی اور ولیم نیوٹن گلی کے بیچ میں واقع تھا۔ انگریزوں کے زمانے میں    بنا ئی ہوئی کالے پتھروں کی یہ عمارت اندر سے اور زیادہ بوسیدہ معلوم ہورہی تھی۔ چپراسی فرش کوچمکانے کے لئے آج بھی لال پالش اور ناریل کے سوکھے پھل کو برش کی طرح استعمال کررہا تھا۔ عرفان اور شائستہ کو اندر آتے دیکھ کر چپراسی نے مشکوک نگاہوں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے انہیں لکڑی کے بنچ پر بیٹھنے کے لئے کہا اور ڈاکٹر شیلا کو اطلاع کرنے کے لئے اندر چلا گیا۔ شائستہ نے پتھر کی دیواروں پر نظردہرائی تو ایک مسکراتا ہوا عریاں بچے کی تصویر دکھائی دی۔ بغل میں چند نامور دوائیوں کے اشتہارات بھی تھے جن میں خوشحال والدین پنے بچے کا ہاتھ تھامتے ہوئے اٹھتے ہوئے سورج کی طرف جا رہے تھے۔
ڈاکٹر شیلا کی موٹی عینک دلیل فراہم کررہی تھی کہ انہوں نے زندگی کے کئی سردوگرم دیکھے ہیں۔ اپنی کرسی پر اطمینان سے بیٹھتی ہوئی آپ نے اپنے گاہک سے ان کے آنے کی وجہ پوچھی۔
’’میں نے آج صبح پریگنینسی ٹیسٹ کیا ہے۔ اس پر دو لکریں تھیں۔‘‘
’’تو آپ حاملہ ہیں۔‘‘
’’جی۔۔ہممم۔۔۔ ہماری ابھی ابھی شادی ہوئی ہے۔ ہمیں ابھی بچہ نہیں چاہئے۔‘‘
’’بچے کے آنے سے سب کچھ بدل جاتا ہے۔‘ ‘ ڈاکٹر شیلا نے اطمینان سے کہا۔
’’دراصل ہم نے ابھی مکان نہیں بنایا ہے۔ ایک کمرے میں رہ رہے ہیں۔ بچے کی پرورش مشکل سے ہوپائے گی۔‘‘
’’ہم جلد ہی آسٹریلہ جانے کی سوچ رہے ہیں۔ ‘‘ عرفان نے کہا۔
ڈاکٹر شیلا نے تھوڑی دیر سکوت کے بعد کہا: ’’ویسے ایک دوائی تو ہے جس سے وہ چلا جائے گا۔۔۔میں آپ کو لکھ کر دے دیتی ہوں لیکن اس کو لینے سے پہلے اپنے خدا کے سامنے اپنا محاسبہ ضرور کرلیں۔ بچہ سب کو نہیں ملتا۔‘‘ شائستہ نے چڑ کر غور کیا کہ چپراسی دروازے پر کھڑا سب سن رہا تھا۔
’’ان دوائیوں کو دن میں تین بار لینا ہے۔ خون کو روکنے کے لئے پانی میں ادرک گھول کر پی لینا۔ اگر پھر بھی نہ رکے تو آپ کو آپریشن کرنا ہوگا۔‘‘
عرفان دوا خانے کے اندر نہیں گیا۔ دوائی خریدنے کے بعد وہ شائستہ پر بھڑک اٹھا:
’’تم میرے بچے کو مار رہی ہو۔‘‘
’’کبھی سوچا ہے میرے دفتر کے لوگوں کو معلوم پڑے گا تو وہ کیا سوچیں گے؟‘ ‘ شائستہ ٹس سے مس ہونے والی نہیں تھی۔
گھر پہنچتے ہی اس نے ایک گولی کھائی۔ دو گھنٹے بعد بھی کچھ نہیں ہوا۔ شام کو سب کی نظروں سے خود کو بچاتے ہوئے اس نے ایک اور گولی لی۔ کچھ دیر بعد اسے بوجھ کے اترنے کا احساس ہوا۔ اپنے خون کو جاتے ہوئے دیکھ کر وہ زار و قطار رونے لگی۔
’’میرا بچہ۔۔۔میرا بچہ۔۔۔‘‘
شائستہ نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ اس ان دیکھے خون کے لقمے پر اسے کبھی پیار آسکتا ہے۔ ممتا کے احساس نے اسے شکست خوردہ کردیا۔ آنے والے تین دنوں میں شائستہ نے تین تین گولیاں کھائیں۔ شروع میں دوائی کی شدت سے وہ کانپنے لگتی اور اس قدر ٹھنڈ محسوس کرتی کہ وہ اپنے کمرے میں اکیلی کمبل کے نیچے سہم جاتی۔ تیسرے دن جب یہ شدید احساس زوال پذیر ہوا اس نے دیکھا کہ اس کے دائیں بازو میں ایک بھیانک پھوڑا نکل آیا جسے وہ اپنی لمبی آستین کے نیچے چھپا نے لگی۔ اس بدنما داغ کو دیکھتے ہوئے اسے یاد آتا کہ ایک بار عرفان کے ہونٹ کے پاس ایسا ہی پھوڑا نکل آیا تھا۔ عرفان کو رات میں نیند نہیں آتی تھی۔ وہ عرفان کو تین مہینوں سے ہی جانتی تھی۔ ایک مہینے کے اندر اندر عرفان کے گھر والوں نے اس کے ابو سے اس کا ہاتھ مانگ کر روکا بھی کرلیا تھا۔ اس رشتے نے اوس کی بوندوں کی طرح شائستہ کی زندگی کو تازگی بخشی تھی اور اس خوشی کو برقرار رکھنے کے لئے شائستہ نے خود کو عرفان کے حوالے کردیا۔ اشکِ ندامت نے اس کے دامن کو تر کردیا۔ اس اثنا میں شائستہ کو اپنی امّی کی بے لوث محبت یاد آئی جس کی ممتا کی نرم چھاوں نے تپتی دھوپ میں جھلس کر اسے راحت پہنچائی تھی۔ جس کی کئی راتیں اور جس کی نیندیں اس پر قربان ہوگئیں۔ ماں کیا ہوتی ہے ماں بننے کے بعد ہی معلوم ہوتا ہے۔
ڈاکیہ کی گھنٹی نے شائستہ کے خیالات کو برہم کردیا۔ امّی نے دروازہ کھول کر ڈاکیہ کو سلام کرنے کے بعد گلابی کاغذات پر دستخط کر کے خط شائستہ کے حوالے کیا۔ لفافے پر یونیورسٹی کی مہر تھی۔ شائستہ کا دل دھک سے رہ گیا۔
ایک مہینے پہلے اس نے امتحان دیاتھا جس کے نتائج اس کے ہاتھ میں تھے۔ عرفان ہر روز ملنے پر احتجاج کیا کرتا۔
’’تم نے بی۔اے مکمل کردیا۔ اچھی نوکری بھی مل گئی ہے۔ آگے پڑھنے کی کیا ضرورت ہے۔‘‘
’’مجھے پڑھنے کا شوق ہے۔ ابو چاہتے ہیں کہ میں پڑھائی جاری رکھوں۔ میری چھوٹی بہن جلد ڈاکٹر بننے والی ہے۔‘‘
’’پڑھائی میں کیا رکھا ہے۔ میںگاڑیوں کا بزنس کرتا ہوں۔ پیسے آتے رہتے ہیں۔ ایک گاڑی بک جائے تو تمہارے سال بھر کی تنخواہ سے بھی زیادہ پیسے ملتے ہیں۔‘‘ شائستہ کے آنسوئوں نے اس کے پہلے سہ ماہی ایم۔بی۔اے کے نتائج کو تر کردیا۔ وہ تین مضامین میں ناکام ہوئی تھی۔
’’میں نے کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا۔‘‘ امّی سے چھپاتے ہوئے شائستہ نے اپنے آنسو پونچھے۔
’’پرچے ذرا مشکل تھے امّی۔ پھر ملازمت کرنا اور پڑھائی کرنا آسان نہیں۔ ایم۔بی۔اے کی ڈگری کا معیار زیادہ بلند بھی ہے۔‘‘
’’تمہارے ابو نے اس کورس کے لئے بلا تردد پچاس ہزار روپے دیے تھے۔‘ ‘ شائستہ کا دل کانپنے لگا۔
اتوار کو پورا خاندان پانپلے موس باغ میں موں پلے زیئر محل کے سامنے ہری گھاس پر ایک بڑی چادر بچھائے امّی کی بریانی سے لطف اندوز ہورہا تھا۔ بریانی کی خوشبو ہوا میں تحلیل ہورہی تھی۔ ابو اپنے خاندان کو فرطِ محبت سے دیکھ کر بولے: ’’مجھے اپنی بیٹیوں پر ناز ہے۔ تاشرین ڈاکٹر بننے والی ہے اور شائستہ اچھے عہدے پر فائز ہے۔ تم دونوں نے میر انام روشن کیا ہے۔ لیکن یاد رکھوزندگی کبھی بھی نہیں رکتی۔ ماضی کی کامیابی مستقل کی کامیابی کا ضامن نہیں ہے۔ انسان کو کوششِ پیہم کرنا ہے۔ اپنی نوکری میں خوب محنت کرو۔ آگے بڑھتے جاو۔ میرا کوئی بیٹا نہیں تو کیا ہوا، میری بیٹیاں میرا نام روشن کریں گی۔ ‘ ‘ شائستہ نے اپنا سر جھکا دیا۔
’’تم دونوں جب چھوٹی تھیں تو ہم سب یہاں آیا کرتے تھے۔ شائستہ اور تاشرین کھلے میدان میں ہرنیوں کی طرح پھدکتی رہتی تھیں۔‘‘
’’مجھے اچھی طرح یاد ہے ابوّ۔۔۔میرے لئے میرا خاندان سب سے اہم ہے۔‘ ‘ شائستہ نے دھیمے لہجے میں کہا۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post