اکیسویں صدی کا نوجوان ادیب : ع ۔ع ۔ عالم

 

اس بات میں ذرا بھی شک نہیں کیا جا سکتا کہ اکیسویں صدی انسانی کمالات کی انتہا کی صدی ہو گی۔ ابھی دو دہائیاں ہی گزری ہیں کہ :
’’محو حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی‘‘
کے مصداق ہر چیز عجوبہ دکھائی دینے لگی ہے۔پہلے دس علوم پر ایک شخص کو گرفت ہوتی تھی اور آ ج ایک ہی علم پر دس افراد مجتمع ہو کر بھی گرفت پانے میں ناکام ہیں۔
اس بات کو بڑی گہرائی سے دیپک سیف سمجھ چکا تھا یہی وجہ تھی کہ اس نے ادب کو بطور مضمون منتخب کر رکھا تھا۔ وہ دن رات بس ادب سیکھتا رہتا۔ اس نے اپنی ادبی شخصیت کے پیش نظر اپنا ایک کتب خانہ بھی بنا رکھا تھا جہاں بڑے سلیقے سے کتابیں سجائی گئی تھیں۔
کتب خانے میں ہر طرح کی کتاب موجود تھی۔ فلسفہ، سائنس، مذہب، فلکیات وغیرہ ہر طرح کی۔
مگر زیادہ ذخیرہ ادب کی کتب کا ہی تھا۔
ادب چوں کہ جامع مضمون ہے جو دیگر مضامین کا احاطہ کرتا ہے اس لیے دیپک نے ان کتابوں کو بھی کتب خانے کی زینت بنا رکھا تھا۔
شاعری میں غالب و اقبال جب کہ نثر میں وہ عالمی نثر نگاروں کا دلدادہ تھا جیسے ٹالسٹائی، فیسکی، ہیوگو، چیخوف وغیرہ۔
دیپک کے کتب خانے میں دو عدد کرسیاں، ایک میز، ایک عدد چارپائی اور ایک عدد بڑا سا آ ئینہ رکھا ہوا تھا۔ آ ئینے کی رکھاوٹ کمرے کی باہر روڑ میں کھلنے والی کھڑکی کے مخالف تھی یوں کہ آ ئینے کے سامنے بیٹھنے سے کھڑکی کے باہر کے مناظر بغیر کسی اور کے دیکھنے کے دیکھے جا سکتے تھے۔دیپک پیشے کے اعتبار سے متعلم تھا۔ ایم ایس سی سائیکالوجی کا سٹوڈنٹ تھا۔ مگر ادب کا رسیا تھا۔ نئے نئے چہرے اختراع کرنا اسے اچھا لگتا تھا۔
وہ گلیوں، سڑکوں میں بے مقصد گھومتے ہوئے اپنے کردار تلا شتا رہتا۔ جب کرادر مل جاتے تو واپس کمرے میں آ کر آ ئینے کے سامنے بیٹھ کر لکھنے میں محو ہو جاتا۔پچھلے کئی دنوں سے تلاش بسیار کے باوجود اسے کوئی کردار نہیں مل سکا تھا۔ جو کردار ملتا اس پر وہ پہلے سے ہی لکھ چکا ہوتا۔
آ ج صبح سے ہی اس کی طبیعت میں سستی چھائی ہوئی تھی تبھی وہ کالج بھی نہ گیا۔
اپنے کمرے میں آ کر کتابیں پڑھنے لگا کبھی فلسفہ کی کتاب اٹھاتا، کبھی سائنسی معجزات کی اور کبھی انسانی نفسیات کے حوالے سے نئے نئے انکشافات کی طرف راغب ہوتا۔
مگر اس کے باوجود اس کی بوریت ختم نہیں ہونے پارہی تھی۔
وہ کچھ کہنا چاہتا تھا مگر کہہ نہیں پا رہا تھا کیوں کہ اس کے پاس کوئی کردار نہیں تھا، کوئی موضوع نہیں تھا۔آ خرش تنگ آ کر اس نے کاغذ اور قلم ہاتھ میں لیا اور آ ئینےکے سامنے اپنی کرسی سرکا کے بیٹھ گیا۔
پہلے تو آ نکھیں بند کر کے سوچتا رہا۔ہلکی سی جنبش ہوتی وہ قلم سے کچھ لکھنے لگتا مگر اگلے ہی لمحے قلم کھینچ لیتا۔
اسی کشمکش میں اس کی نظر آ ئینے میں نظر آ نے والی اپنی شبیہ پر پڑی۔
دیپک خود کو دیکھتا چلا گیا۔
وہ خودکو پہلے تو دیر تلک دیکھتا رہا پھر خود سے خود ہی مخاطب ہو گیا۔

“کیوں مجھے کردار نہیں مل رہے؟
کیا وجہ ہے کیوں مجھ سے کئی دنوں سے ایک حرف بھی نہیں لکھا جا رہا؟
کیا میں ایک اچھا شاعر و افسانہ نویس بن سکتا ہوں؟
“ہاں، ہاں کیوں نہیں۔”
مگر کیسے؟؟؟
زیادہ ادب کا مطالعہ کرنے سے، زیادہ سیکھنے سے۔
اگر میں بن بھی جاتا ہوں ایک اچھا افسانہ نویس و شاعر تو کیا مجھے سراہا جائے گا؟؟؟
“ہاں بالکل۔۔۔”
کیا ادب کو بطور پیشہ اختیار کر لوں؟؟؟
“نہیں،نہیں۔۔۔بھوکو مرنا پڑے گا۔”
مجھے تو انسانیت کے کام آ نا ہے کچھ ایسا کرنا چاہتا ہوں جس سے لوگوں کا بھلا ہو۔..
آ ج سیاست کا دور ہے تو کیا سیاست میں چلا جاوں، سی ایس ایس کر کے بیورو کریٹ بن جاوں۔…
اگر میں بیورو کریٹ بن جاتا ہوں تو کیا شان ہو گی؟
“نہیں نہیں، مجھے تو اپنا بزنس چلانا چاہیے۔”
اپنی خوشی سے آ وں، جاوں۔کھاوں ،پیوں۔۔
ہاں کیا شان ہو گی ناں۔۔۔یہ میری گاڑی کھڑی ہوئی اور میں جاہ و حشمت سے باہر نکل رہا ہوں۔..
“واہ کیا کہنے”
مگر میں کیسے یہ سب بن سکتا ہوں میرے پاس تو کوئی ذریعہ ہی نہیں؟
“ہاں۔۔۔ناممکن ہے۔”
مجھے تو علم سیکھنا چاہیے کائنات کے راز جاننے چاہیئں۔
مجھے ایک فلسفی بننا چاہیے تاکہ اس معاشرے کے کچھ دے کر جاوں۔نئی سوچ ایک انقلابی سوچ۔۔۔
ویسے بھی علم کی کشش دولت کی کشش سے زیادہ ہوتی ہے ویسے بھی دولت مٹنے والی ہے اور علم کو بقا ہے۔”

دیپک، آ ئینے میں اپنے آ پ کو دیکھتے ہوئے خود سے مخاطب ہوتے ہوئے سوال و جواب کرتا رہا۔
وہ محو ہی تھا کہ آ ئینے میں اسے کھڑکی کے سامنے کی چھت پر کسی کی موجودگی کا احساس ہوا۔ وہ “عروسہ” تھی۔دیپک کی ہمسائی۔
“عروسہ” اس بات سے نابلد کہ سامنے کھڑکی کے اس پار رکھے آ ئینے میں اس کی ہر حرکت پر کوئی نظر رکھے ہوئے ہے، اپنی سہیلیوں کے ساتھ سیلفیاں لینے اور ویڈیوز بنانے میں مگن تھی۔
جب کہ دیپک اپنے کام اور دھیان سے بے نیاز ، عروسہ کی نٹکھٹی شرارتوں کو دیکھ دیکھ زیر لب مسکراتا جاتا اور آ ئینے کا شکریہ کرتاجاتا۔۔۔

You might also like
  1. سلمان says

    ماشاءاللہ بہت خوبصورت

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post