امیدِ سحر : فریدہ غلام محمد

میں نے گاڑی کی بریک پر پاؤں رکھا تب جا کر اس بچے کے قریب وہ رک سکی ۔میں آج اپنی ذاتی گاڑی میں شہر کا دورہ کر رہا تھا کہ وہ بچہ نظر آیا وہ ننگے پاؤں تھا ۔ملگجا سا لباس مگر پھر بھی اس میں گندگی کا تاثر نہیں ملا مجھے ۔میں نے کھڑکی کا شیشہ نیچے کیا اور اسے دیکھ کر مسکرایا ۔اس کی بڑی بڑی چمکدار آنکھوں میں اور روشنی سی بھر گئ
۔”کیوں بھئ نوجوان یہ سارے غبارے کتنے کے ہیں ؟”
” صاحب سارے لینے ہیں” آواز سے حیرت عیاں تھی
“جی صاحب سارے لینے ہیں اب میں نے سن گلاسز اتار کر سامنے رکھیں اور والٹ سے پیسے نکال کر اس کی طرف بڑھائے
پانچ ہزار کا نوٹ دیکھ کر اسے جیسے کرنٹ لگا وہ پیچھے ہٹا
“صاحب میں غبارے بیچتا ھوں مگر بھکاری نہیں ھوں ”
کہیں دور سے دو روتی آنکھیں میرے تصور میں آئیں
“نہیں یہ میں کیسے لے سکتا ھوں میں مانتا ھوں میرا باپ بیمار ھے اس کی شاید مہینے بھر کی دوا آ سکتی ھے مگر میں بھیک نہیں مانگتا صاحب ”
کیا سوچ رہے ہیں صاحب ؟جلدی سودا کریں کل مجھے اپنے گھر میں جھنڈا بھی لگانا ھے اور جھنڈا خریدنے کے لئے روپے نہیں ہیں میرے پاس ”
میں نے جھرجھری سی لی “تم روز غبارے بیچتے ھو؟ نہیں بابا بیچتے ہیں ۔اماں لوگوں کے گھر برتن دھوتی ھے صرف اس لئے کے میں پڑھ لکھ جاؤں اور ملک کا نام روشن کروں وہ چپ ھوا تو میرے اندر کا شور بڑھ گیا
“شاباش تم نے بہت جلد زمین خالی کروا لی یہ لو اپنا انعام عالم نے ایک لندن کے اپارٹمنٹ کی چابیاں اور کاغذ میرے سامنے رکھے تم سوچ بھی نہیں سکتے تم نے کتنا بڑا کام کیا ھے عالم خوشی سے پاگل ھو رہا تھا ۔میں نے مسکرا کر چابی اور کاغذ دیکھے

“صاحب اس بچے کی آواز مجھے پھر حال میں لے آئی ۔تم ملک کا نام کیسے روشن کرو گے ؟
“یہ پوچھنے والی بات ھے صاحب یہ میرا وطن ھے بڑی قربانیوں کے بعد ہم نے اسے حاصل کیا ھے تو میں بس ایمانداری سے کام کروں گا اور ترقی میں اپنا حصہ ڈالوں گا ”
اس نے بہت معصوم سی نظروں سے مجھے دیکھا
“اچھا یہ بتاؤ غبارے کتنے کے ہیں؟ویسے تو چار سو اسی کے ہیں آپ کچھ کم دے دیں ”
اپنے تئیں اس نے دام کچھ سستے کر دئیے
“ارے وہ کیوں تم کم از کم پیسے تو پورے لو نا میں نے اسے پیار سے کہا۔
“سچ بتاؤں تو آج بڑے دنوں بعد کسی نے مجھ سے اتنی نرمی سے بات کی ھے اگر جھنڈا نہ لینا ھوتا تو آپ سے یہ بھی نہ لیتا ۔آنسو اسکی آنکھوں سے بہنے لگے میں مزید گاڑی میں نہ بیٹھ سکا اترا اور اسے گلے لگا لیا۔
میں بھی اس کے ساتھ ملکر رونا چاہتا تھا مگر وہ چھوٹا سا بچہ کیا سوچے گا کیا ھوگی اس کی عمر یہی کوئ تیرہ برس
“اچھا یہ لوچار سو ستر اب خوش غبارے گاڑی میں رکھ دو اور اپنا پتہ لکھ کر دو مجھے ”
“میرا پتا لیکر کیا کریں گے صاحب ؟تم سے ملنے آؤں گا میں نے مسکرا کر اس کے گال تھپتھپائے
اس نے خوشی خوشی مجھے میرے ہی کارڈ پر اپنا پورا نام فون اور پتا لکھ دیا
میں نے اسے خدا حافظ کہا اور گاڑی آگے بڑھا دی وہ رکے آنسو میرے چہرے پر بکھر گئے
برسوں گزر گئے میں ترقی کرتے کہاں سے کہاں پہنچ گیا میرے دونوں بچے امریکہ میں پڑھ رہے تھے میرا ایک نام تھا ۔کامیابی میرے قدم چوم رہی تھی مجھے آج تک کسی نے ہرایا نہیں تھا میں ایک محب وطن آفیسر تھا میرا حلقہ احباب بہت وسیع تھا ۔میری بیگم خوبصورت ھونے کے ساتھ بہت سلجھی ھوئ خاتون تھی ۔میں ماضی کی محرومیاں بھول گیا تھا مجھے جو چاہیے تھا سب ملا ۔

ہم دونوں ہی چاہتے تھے کہیں گھوما پھرا جائے ۔
وہ بھی مصروف نہیں تھی اور میرے لئے بھی ان دنوں ایک ہفتہ تو نکل ہی سکتا تھا میں نے بانو سے مشورہ کیا اور اسی لمحے اپنے پی اے کو کال کی جس علاقے میں جا رہے تھے وہاں کے اے سی کو بتا دے ہم اس کے مہمان ھوں گے۔

بارش ھو رہی تھی میں اور بانو خوشگوار باتوں میں مصروف تھے بانو نے ابھی میوزک ہی لگایا تھا کہ پی اے کی کال آگئی۔
“بانو ایک منٹ گانے آہستہ کرو کال ھے اسے کہہ کر میں اس کی بات سننے لگا ۔
“وٹ “یہ کس طرح ممکن ھے ۔میرا خون کھول اٹھا اسکو میرے عہدے کا بھی لحاظ نہیں کیا نام ھے اس کا ؟تیمور فاتح اس کا پرسنل نمبر بھیجو مجھے ۔یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا میرا موڈ خراب ھو چکا تھا ۔بانو نے سوالیہ نگاہوں سے مجھے دیکھا
“۔بس یار یہ نئے آفیسر لگ جاتے ہیں مگر تمیز نام کی کوئی چیز نہیں ان میں مسڑ تیمور فاتح فرماتے ہیں وہ اپنے ذاتی وزٹ پر ہیں ہم خرچا نہیں کر سکتے ۔میں نے غصے میں بتایا تو بانو نے میرے شانے پر ہاتھ رکھا ۔سکون میں آ جائیں پہلے پہنچ تو جائیں پھر دیکھتے ہیں ”

شام کوٹ میں پورا گیسٹ ہاؤس بک تھا ۔بانو نوکروں کے ساتھ لگی ھوئی تھی میں نے تیمور کا نمبر ملایا۔
میں نے اس کو اپنا تعارف کروایا نہ چاہتے ھوئے بھی میرے لہجے میں کڑواہٹ تھی۔
“سر میں جانتا ھوں آپ ناراض ہوں گے لیکن آپ کو منانے کا ایک ہی طریقہ تھا میرے پاس آج رات کا کھانا میرے گھر پر کھائیں گے آپ اور میم ۔اس کی آواز میں زندگی تھی ،محبت تھی میں بھول گیا کہ آج کیا ھوا ھے ۔اوکے میں نے کال آف کر دی۔

“بانو آج کا کھانا تیمور فاتح کے گھر ھے۔لو جی ابھی تو غصے میں بھرے بیٹھے تھے آپ ۔ہاں پتہ نہیں اس کی آواز میں اتنا خلوص اور اعتماد تھا کہ میں اسے کچھ بھی نہیں کہہ سکا” ۔میں نے سر جھکا لیا۔

اس کی پرائیویٹ گاڑی لینے پہنچی اور کچھ ہی دیر بعد وہ اس کے گھر تھے اس کا گھر بہت سادہ تھا باہر سبزہ تھا ،گلاب کے پھول اور بوگن ویلیا کی بیل اپنا جوبن دکھا رہی تھی ۔میری نظر سامنے کھڑے نوجوان پر پڑی ۔دراز قد ،سفید رنگ مسکراتی ھوئ سیاہ آنکھیں اور سادہ سی لڑکی جو اس کی بیگم تھی ۔
“آئیے آئیے سر وہ ان سے بغلگیر ھو گیا اس کی بیگم بانو کے ساتھ ھو لی ۔
گھر صاف ستھرا تھا ،سادگی سے سجایا گیا تھا وہ ،مجھے ڈرائنگ روم میں لے آیا ۔تشریف رکھیں سر ۔وہ میرے بیٹھنے سے پہلے کھڑا ہی رہا جب میں بیٹھا تو اس نے بھی کرسی سنبھال لی ۔مجھے اس کی یہ تہذیب بہت بھائی ۔
“سر ناراض ہیں آپ ؟ اس کی آنکھیں مجھ میں کہیں گڑ گئی تھیں ۔کہاں دیکھا میں نے اسکو سمجھ نہیں آ رہی تھی ۔ ہاں پہلے تھا اب نہیں۔
میں نے بھی صاف گوئی سے کام لیا ۔وہ ہنس پڑا۔
“سر یہ تحصیل ھے اس کا جتنا بجٹ آتا ھے میں کوشش کرتا ھوں سب انہی کاموں میں لگ جائے جس کے لئے بھیجا جاتا ھے ۔میں خود کھاتا ھوں نہ کسی کو کھانے دیتا ھوں یہی وجہ ھے کہ مجھے یہاں پھینک دیا گیا ھے میں کمیشن کے نام پر اپنے وطن سے غداری نہیں کر سکتا ۔میری ماں نے مجھے اس لئے پڑھایا کہ میں دیانتداری سے اپنے ملک کی خدمت کر سکوں ۔ملک میرا ھے میں اس پر ظلم نہیں کر سکتا سر “اس کی آنکھوں میں نمی تھی ۔

“تیمور ہم مل چکے ہیں کیا ؟‘‘اب میری ہمت جواب دے چکی تھی ۔

وہ مسکرایا۔
“,ایک منٹ دیں گے ۔کیوں نہیں ۔وہ چلا گیا مگر میری الجھن اپنی جگہ تھی اسے تیمور سلجھا سکتا تھا ۔وہ آہٹ پر مڑا تو میں حیرت سے دیکھتا رہ گیا اس نے انتہائی ضعیف خاتون کو گود سے اتار کر صوفے پر بٹھایا پیچھے بانو اور اسکی بیوی تھی ۔
سب بیٹھ چکے تھے
“اماں یہ وہ صاحب ہیں جنھوں نے مجھ سے چار سو ستر کے غبارے لئے تھے ”

اس نے اپنی اماں کو بتایا اور مجھ پر جیسے سارے پردے اٹھتے گئے
تم وہ بچے ھو میں اٹھا اور اسکو گلے لگا لیا ۔
جی صاحب ۔اس کی آواز بھرا گئی ۔میں آپ کو سرکاری طور پر نہیں رکھ سکتا تھا کیونکہ یہ بددیانتی ھوتی ۔یہ دیکھئے میری ماں کے ہاتھ جس نے میرے لئے برتن دھوئے ،جھاڑو دی ،کپڑے دھوئے مگر ایمان داری کا درس دیا سر یہ راستہ مشکل ھے مگر ناممکن نہیں ۔میں آج بھی جھنڈا لہراتا ھوں ۔یہ کہہ کر وہ چپ ھو گیا
اس نے دیکھا ہی نہیں سب بے آواز رو رہے تھے ۔
’’ادھر آ یار تیمور تو واقعی فاتح ھے تیمور فاتح ‘‘
میں نے اس کو گرم جوشی سے گلے لگایا ۔
“میں تیرے جیسا بننا چاہتا تھا نہ بن سکا کیونکہ میں اپنی ساری محرومیوں کا حساب چکتا کرنا چاہتا تھا ۔یہ میری سوچ تھی مگر کوئی تو ھے جو اس بدبودار نظام میں رہ کر بھی اس کا حصہ نہیں بنا ۔مجھے فخر رہے گا تم پر ہمیشہ ۔یہ اسے کہہ نہیں سکا مگر اس کی آنکھیں شاید پڑھ چکی تھیں ۔وہ مجھے ہی دیکھ رہا تھا میں اسے دیکھ کر مسکرایا اور گاڑی آگے بڑھ گئی۔
“آپ زیادہ جذباتی نہیں ھو گئے ؟”
“نہیں بانو ایسے نوجوان کرمک شب افزوں کی مانند ہیں ”
“اب کرمک شب افزوں کیا ھوتا ھے ؟بانو مسکرائی۔
“جگنو جب جھاڑیوں میں چمکتے ہیں تو اپنے حصے کی روشنی بکھیرتے ہیں کسی نفع نقصان کے بغیر ”
اس میں تیمور فاتح کہاں سے آ گیا؟”
وہ ہمارے وطن کی امید ھے بانو ،وہ روشنی جس میں راستہ دیکھا جا سکتا ھے جب راستہ نظر آنے لگے تو منزل مل ہی جاتی ھے بانو ”
’’اللہ اس کو استقامت دے تم دیکھنا ایک نہیں کئی تیمور فاتح نکلیں گے انشااللہ ۔‘‘ یہ کہہ کر میں مسکرا دیا میں نے دیکھا بانو بھی مسکرا رہی تھی۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post