ذہن کا لمحاتی واہمہ : عادل وِرد

 

کچھ سکوں کے وزن سے بٹوہ اور بھی بھاری ہو جاتا ہے

کاغذ کے ٹکڑوں پر لکھی آدھی نظمیں

حساب کتاب کے کچھ مفروضے

پھٹی پرانی کچھ رسیدیں

پڑھنے والی چند کتابوں کی اک لسٹ

چھوٹے سائز کی فیملی فوٹو اور اک یاد

اپنے ہونے کے تصدیقی اک دو کارڈ

اب تک سب محفوظ ہی کیوں ہیں

بٹوے کے خفی خانے میں

ایک شرارت رکھ کر میں تو بھول گیا تھا

کہاں رکھی تھی!!!؟؟ _____ بھول گیا ہوں

اگلی بار مہینے کی پہلی تاریخ

شاید تھوڑا پہلے آئے

پہلے آ جانے سے شاید

اور ذرا سا زندہ رہ لوں

 

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post