برسنے آئی ہے مجھ پر گھٹا مدینے سے : سعید اشعر

بدن نے، روح نے پائی شفا مدینے سے
مرا بھی ہونے لگا رابطہ مدینے سے

مرے بھی سر پہ رہے گا حضور کا سایا
مرے لیے بھی چلے گی ہوا مدینے سے

درود پڑھتا ہوں اول بھی اور آخر بھی
قبول ہوتی ہے میری دعا مدینے سے

بھٹک چکا تھا میں اپنے وجود کے اندر
کرم  ہوا  کہ  ملا راستہ مدینے سے

مری زبان پہ تشنہ لبی کا چرچا تھا
برسنے آئی ہے مجھ پر گھٹا مدینے سے

تمام لفظ مرے ہو گئے ہیں نورانی
یہ نعت مجھ کو ہوئی ہے عطا مدینے سے

ہزار میل کی دوری پہ گرچہ بیٹھا ہوں
کمان بھر کا نہیں فاصلہ مدینے سے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post