وہ اسمِ پاک وسیلہ بنا ہے بخشش کا : مقصودعلی شاہ

ہمیشہ نعت کہی بے زبان سانسوں نے
مٹا دیے مرے باقی نشان سانسوں نے

دمِ وداع نے کھینچا ہے مقطعِ مدحت
خُدا کا شکر کہ رکھا ہے مان سانسوں نے

رواں رہا رگِ جاں میں وہ اسمِ خیر افزا
یقیں میں ڈھالے ہیں سارے گمان سانسوں نے

خیالِ نعت میں تاروں نے کی ثنا بندی
سخن میں باندھا کوئی آسمان سانسوں نے

مہک رہے ہیں بہ رنگِ ثنا گُلِ نُدرت
اُگا دیا ہے کوئی گُلستان سانسوں نے

وہ اسمِ پاک وسیلہ بنا ہے بخشش کا
کیا ہے جب بھی اُسے ترجمان سانسوں نے

حیات نے اُسے جانا تھا موجِ روحِ رواں
کہا ہے بڑھ کے اُسے جانِ جان سانسوں نے

وہ آ بسیں گے کسی روز اذنِ دید کے ساتھ
سنبھال رکھا ہے تن کا مکان سانسوں نے

سفینہ جب بھی ہُوا ہے سپردِ موجِ فنا
بُنا ہے نعت کا اِک بادبان سانسوں نے

تمام دھڑکنیں بنتی گئیں حروفِ نیاز
” درود رنگ ” لکھی داستان سانسوں نے

ہدف رکھا غمِ محشر کو بے خطا مقصود
جب اُن کے نام کی کھینچی کمان سانسوں نے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post