میری علمی اورمطالعاتی زندگی : ڈاکٹرمحمدالیاس الاعظمی

ناچیز ـضلع اعظم گڑھ کے ایک چھوٹے سے گاؤں مہراج پور میں ۲۳؍ستمبر۱۹۶۶ء بروز جمعہ صبح ۳۰/۸ بجے پیدا ہوا۔ ابتدائی تعلیم والد مرحوم حاجی عبدالرزاق [۱۹۱۸-۱۹۹۶ء]سے حاصل کی۔ اس کے بعد مکتب کی تعلیم کے لئے مدرسہ جامعۃ الرشاد اعظم گڑھ میں داخل ہوا۔ والد مرحوم کی خواہش تھی کہ سند یافتہ عالم بنوں، مگر گھر کے مالی حالات اس قدر خراب تھے کہ تعلیم ادھوری رہی اور میں چند سال بعد گاؤں واپس آگیا۔ والد صاحب کو بہت قلق ہوا۔ا نہیں تعلیم کی اہمیت بخوبی معلوم تھی۔ گاؤں میں ان کے علاوہ کوئی شخص تعلیم یافتہ نہ تھا۔ وہ ۱۹۳۲ء کے مڈل پاس تھے اور بڑی اچھی استعداد کے مالک تھے۔ گاؤں کی مسجد، مکتب اور قبرستان کے وہی ناظم ومتولی تھے۔ صوم و صلوٰۃ کے بڑے پابند حتیٰ کہ اشراق اورچاشت کااہتمام کرنے والے تھے۔ ایک بزرگ مولوی سعید احمد خاں ؒسے بیعت تھے۔ اوراد ووظائف کابھی بڑا اہتمام کرتے تھے۔ انہیں قرآن پاک سے بڑا شغف تھا۔ حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ [۱۸۶۳-۱۹۴۳ء] کا ترجمہ قرآن اور علامہ شبیر احمد عثمانیؒ [۱۸۸۷ -۱۹۴۹ء]کی تفسیر مسلسل ان کے زیر مطالعہ رہتی۔’’ بہشتی زیور‘‘ پر ان کی گہری نظر تھی۔ اکثر اس کا مطالعہ کرتے اورمسئلے مسائل بتاتے۔ انہیں کو دیکھ کر مجھے مطالعہ کا شوق پیدا ہوا۔ ان کی عدم موجودگی میں ان کی الماری سے کتابیں نکال کر میں بھی پڑھا کرتا تھا۔ والد مرحوم کی الماری میں مذکورہ کتابوں کے سوا چند اور دینی رسائل تھے۔ جب میں انہیں بھی پڑھ چکا تو مزید کتب کی احتیاج ہوئی۔ چنانچہ شہر اعظم گڑھ کے مکتبات سے چند کتب خرید کر پڑھیں اور انہیں کتب کی مدد سے پہلے گاؤں کی مسجد میں پھر اپنے گھر پر ایک کتب خانہ قائم کیا۔ اس کی تمام دیکھ بھال میںخود ہی کرتا تھا۔ اس کا خود ہی قاری بھی تھا اور خود ہی منتظم بھی۔ میرے اس شوق کو میرے گاؤں کے لوگ بیکاری کا مشغلہ تصور کرتے تھے۔ اس کے بعد میں ایک دوست کے ساتھ کتابت سیکھنے دارالمصنّفین آگیا۔ یہاں کتابوں کا ذخیرہ دیکھ کر میں حیرت زدہ رہ گیا۔ بہت بڑا کتب خانہ، ہزاروں کتابیں اور سیکڑوں رسائل کی موجودگی نے مجھے ایک نئی دنیا سے آشنا کیا۔ یہاں سے میری نئی زندگی کا آغاز ہوا۔ ادھوری تعلیم کی تکمیل کا خیال پیدا ہوا اور کسی طرح خود کو ریزہ ریزہ جوڑ کر تعلیم کا آغاز کیا۔ چنانچہ پھر سے زندگی معمول پر آگئی۔ میں روزانہ بلاناغہ کتب خانہ دارالمصنّفین پہنچنے لگا۔ میز پر لگے سیکڑوں رسائل کی ورق گردانی نے میری دنیا ہی بدل دی۔ نئے رسائل، نئے شہر، نئے مدیر اورتمام نئے پرانے اہل قلم سے اسی کتب خانہ اور انہی رسائل کے ذریعہ واقف ہوا۔ ہر روز ایک رسالہ کا مطالعہ معمول بنا لیا اور جب تک کتب خانہ بند نہ ہوجاتا مطالعہ میں مشغول رہتا۔ چونکہ سیکڑوں کی تعداد میں رسائل آتے تھے۔ سب کا مطالعہ ممکن نہ ہوتا تو منتخب رسائل کے مطالعہ کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور جیسے جیسے مصروفیات بڑھیں انتخابات کا سلسلہ بھی اسی قدر بڑھا۔آخر میں یہ معمول ہو گیا تھا کہ اداریہ، مطبوعات جدیدہ ا ور چند منتخب مقالات تک سلسلہ مطالہ محدود ہو کر رہ گیا تھا۔
بعض دفعہ ایسا بھی ہوا کہ قدیم رسائل کی فائلیں نکلوا کر دیکھیں۔ایک زمانہ میں رسائل سے عجب دلچسپی ہو گئی تھی۔ دارالمصنّفین میں محفوظ پچاسوں رسائل کے قدیم شمارے نکال کر دیکھے۔ اس سے میری معلومات میں بے حد اضافہ ہوا اور خاص طور سے اردو کی علمی صحافت پر پوری نظر ہوگئی تھی اور چونکہ اس زمانہ میں رسائل کے اشاریے شائع نہیں ہوئے تھے ،اس لئے رسائل کی ورق گردانی نہ صرف میرے لئے بلکہ میرے احباب کے لئے بھی بڑی مفید ثابت ہوئی۔
جب کسی رسالے میں کوئی تحریر پڑھتا اور تشنگی بڑھ جاتی تو کتب خانہ سے اس موضوع کی دیگرکتابیں مطالعہ کرتا اور کوشش کرتا کہ مقالہ نگار نے جو کچھ لکھا ہے میری معلومات اس سے بڑھ جائیں۔
مطالعہ کا یہ معمول ایم اے تک جاری رہا۔ اور بلا مبالغہ میں اس طریقہ کار سے ہند و پاک کے سیکڑوں رسائل سے نہ صرف واقف ہوا بلکہ غور و تحقیق سے ان کا مطالعہ کرتا رہا۔ متعدد رسائل میں اولاً مراسلے لکھے جو شائع بھی ہوئے۔ رسائل میں مجھے ترجمان الاسلام بنارس، الرشاد اعظم گڑھ، معارف اعظم گڑھ، آج کل دہلی، فکر و نظر اسلام آباد، فکر و نظر علی گڑھ، تہذیب الاخلاق علی گڑھ، نوائے ادب ممبئی، برہان دہلی وغیرہ سے میں بہت متاثر ہوا۔ معارف اور فکر و نظر علی گڑھ اور اسلام آباددونوںکو تو میں دل و جان سے پسند کرتا تھا اور ان کا بڑی بے صبری سے انتظار رہا کر تا تھا۔یہ دونوں رسائل اب بھی میری نگاہ میں انتہائی اہمیت کے حامل ہیں اور معارف تواب بھی حرزجاںبناہواہے۔البتہ حالات نے فکرونظراسلام آبادسے محروم کردیا۔
ایم اے کے زمانہ میں ادبیات کے گہرے مطالعے کا موقع ملا۔ اردو ادب کی تمام بنیادی کتابیں جو نصاب کے علاوہ تھیں سب کو دارالمصنّفین میں بیٹھ کر پڑھا۔ دارالمصنّفین کی تمام مطبوعات اسی زمانہ میں پڑھیں۔ میں آج بھی دعوے سے کہہ سکتا ہوں کہ الفاروق، سیرۃ النبیؐ اور شعرا العجم جیسی کتابیں اب تک اردو میں لکھی ہی نہیں گئیں۔ یہ کتابیں نہ صرف علمی اور فکری تشنگی بجھاتی ہیں بلکہ زبان و ادب اور اسلوب کی دلکشی اور رعنائی کی لذت سے بھی ہم کنار کرتی ہیں۔ دارالمصنّفین کے سابق ناظم مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی [۱۹۰۳-۱۹۷۴ء]علامہ شبلی نعمانی [۱۸۵۷-۱۹۱۴ء]اورمولانا سید سلیمان ندوی[۱۸۸۴-۱۹۵۳ء] کی تصانیف کے مطالعہ کو ہر اس شخص کے لئے ضروری قرار دیتے تھے جو قلم پکڑنا اور تصنیف و تالیف کا مشغلہ اختیار کرنا چاہتے تھے۔ مولانا سعید احمد اکبرآبادی [۱۹۰۸-۱۹۸۵ء]جس زمانہ میں شعبہ دینیات مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے صدر تھے وہ ریسرچ اسکالرس کو پہلا مشورہ یہ دیتے تھے کہ المامون، الفاروق، شعرالعجم ، حیات شبلی اور خیام وغیرہ کا اہتمام سے مطالعہ کیجئے۔ ان کا خیال تھا کہ ان کتابوں سے نہ صرف مطالعہ و تحقیق کا جذبہ پیدا ہوتا ہے بلکہ لکھنے پڑھنے کا سلیقہ بھی آتا ہے۔ علمی نثر لکھنے اور علمی انداز میں تحقیق و تجزیہ کے لئے ان کتابوں کے اسلوب و انداز نگارش سے واقفیت انتہائی ضروری ہے۔
مجھے یہ کتابیں بلکہ دارالمصنّفین کی تمام مطبوعات کے مطالعہ کا موقع زمانہ ایم اے تک میسر آگیا تھا اور انہیں کی بدولت میں نے لکھنے پڑھنے کا آغاز کیا اور الحمد اللہ معارف، الرشاد، فکر و نظر اسلام آباد، فکر و نظر علی گڑھ، برہان دہلی، ترجمان الاسلام بنارس اور ملک کے بہت سے معتبر اور موقر رسائل میں دور طالب علمی میں مضامین و مقالات لکھے۔
اس دور میں میرے دوست حافظ عمیرالصدیق ندوی نے میری بڑی رہبری اور رہنمائی کی۔ دارالمصنّفین کا کتب خانہ جس کی ترتیب مولانا سید سلیمان ندوی نے اس انداز سے کرائی ہے کہ محققین کے لئے اس سے بڑی سہولت ہوتی ہے اور جس موضوع پر داد تحقیق دینی ہوتی ہے اس موضوع کی کتابیں یکجا بآسانی مل جاتی ہیں۔ اس سے مجھے بے حد فائدہ پہنچا۔ نہ صرف ادبیات بلکہ مختلف اسلامی علوم و فنون کی کتب سے اسی کی بدولت آشنا ہوا، بلکہ گہرائی سے ان کا مطالعہ بھی کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ کتب خانہ دارالمصنّفین ہی کی بدولت میرے ذوق علم و تحقیق و تصنیف کو جلا ملی۔
یہ عام بات ہے کہ جب کوئی شخص کسی موضوع پر قلم اٹھاتا ہے تو اس موضوع کی نہ صرف بنیادی کتب کا مطالعہ کرتا ہے بلکہ اس موضوع پر جہاں تک کام ہو چکا ہوتا ہے اس سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ یہ بنیادی باتیں مجھے مولانا ضیاء الدین اصلاحیؒ [۱۹۳۷-۲۰۰۸ء]مدیر معارف اور میرے استاذ ڈاکٹر اشفاق احمد اعظمیؒ [۱۹۳۶-۲۰۰۵ء]نے بتائیں۔ چنانچہ میں یہ کوشش کرتا تھا کہ دارالمصنّفین کے کتب خانہ کے علاوہ دوسرے کتب خانوں مثلاًمدرسہ جامعۃ الرشاد کا کتب خانہ، یا شہر اعظم گڑھ کی ایک اورمشہور لائبریری مہتہ لائبریری اور بعض دوسرے کتب خانوں میں اپنے موضوع کی کتب تلاش کرتا۔ یہی نہیں کئی زبانوں کی کتابوں کا مطالعہ کر لیتا۔ اس کے بعد ہی قلم اٹھاتا تھا۔ مجھے اس کا ایک فائدہ یہ ملا کہ بہت جلد میری تحریریں اہل علم اور ممتاز اہل قلم کی نظر میں آگئیں۔ اور ان کی داد تحسین نے میرا بڑا حوصلہ بڑھایا۔
ایم اے کے بعد ریسرچ کا آغاز ہوا تو’’ دارالمصنّفین کی تاریخی خدمات ‘‘موضوع قرار پایا۔ چنانچہ اس دور میں دارالمصنّفین کی تاریخی کتابوں کا اہتمام سے مطالعہ کیا۔ یہی نہیں جن تاریخی موضوعات پر دارالمصنّفین نے کتابیں شائع کی ہیں، ان پر دوسرے اداروں اور دوسرے مصنّفین نے کون سی کتابیں لکھیں یا شائع کی ہیں،نہ صرف معلوم کرتا بلکہ ان کا بھی مطالعہ اسی ذوق و شوق اور غور و فکر کے ساتھ کیاکرتا اورساتھ ساتھ موازنہ و تقابل بھی کیاکرتا۔ اور یہ خوبی تحریروں میں اسی وقت پیدا ہوتی ہے جب مطالعہ میں گہرائی ہو۔
یہ رسمی مطالعات تھے۔ اس کے بعد استاذی مولانا مجیب اللہ ندویؒ[۱۹۱۸-۲۰۰۶ء] نے ماہنامہ الرشاد کی مجلس ادارت میں شامل کرکے اولاً تعارف و تبصرہ کا کام سونپا۔ یہاں ایک بڑے مرحلہ سے دوچار ہونا پڑا۔ چاہے جس موضوع کی کتاب ہو آپ کو تبصرہ کرنا ہے۔ میں نے اس پریشانی سے حضرۃالاستاذ کو آگاہ کیا تو انہوں نے بڑا صائب مشورہ دیا اورکہا کہ جب کسی کتاب پر تبصرہ کرنا ہو اس موضوع کی چند بنیادی کتابوں کا مطالعہ کر لیجئے۔ اس کے بعد تبصرہ کیجئے۔ اس سے یہ مشکل بآسانی حل ہو جائے گی۔ چنانچہ جب تک میں نے ماہنامہ الرشاد میں کتابوںپر تعارف و تبصرہ لکھتا رہا، اس وقت تک اس کا اہتمام کرتا رہا اور پھر ایسی عادت پڑ گئی تھی کہ جب لکھنے بیٹھتا ہوںاس موضوع پر دو ایک کتابوں کو پڑھ ہی لیتا۔ اس سے مجھے بڑا فائدہ پہنچا۔ اخیر میں اس مطالعہ میں کسی قدر کمی آگئی تھی، تاہم مطالعہ کا یہ سلسلہ اب بھی کسی قدر باقی ہے۔
میں نے جس زمانہ میں تصنیف و تالیف کی طرف توجہ کی میرے احباب اور بزرگ تذکروں کی تصنیف وتالیف میں مصروف تھے۔ مثلاً مولانا ضیاء الدین اصلاحی صاحب مرحوم تذکرۃ المحدثین لکھ رہے تھے۔ مولانا عمیر الصدیق صاحب تذکرۃ الفقہا اورمولانا عارف عمری صاحب تذکرہ مفسرین ہند۔ یہ دارالمصنّفین کے پروجیکٹ تھے اورانہیںدارالمصنّفین کے اہل علم کے مشورے سے دئے گئے تھے۔ میں نے خود سے تذکرۃ القراء کا انتخاب کر لیا اور الحمد للہ تمام مصادر کتب کے حوالہ سے اسے قلم بند کیا۔ باوجود عربی زبان سے ناواقف ہونے کے میں نے ہمت کی اور نہ صرف عربی زبان پڑھی بلکہ اس موضوع کی تمام کتابیں کتب خانہ سے نکال کر پڑھیں اور ان کے حوالے دئے۔ پروفیسرمحمد یٰسین مظہر صدیقی صاحب نے تذکرۃ القراء کو اردو زبان میں اپنے موضوع کی اولین کاوش قرار دیا ہے۔ اس سے زیادہ میرے لئے فخر کی اور کیا بات ہو سکتی ہے۔
اس کے بعد نہ جانے کب خود بخود میرا موضوع تحقیق و تصنیف شبلیات ہو گیا اور میں اس میں اس قدر منہمک ہو ا کہ وقت کے گذ رجانے کا احساس تک نہیں ہوا۔ اب تک میری اس موضوع پر ۱۶؍ کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔
علامہ شبلی کی تصانیف کا مطالعہ میں طالب علمی ہی میں کر چکا تھا۔ تاہم وہ اس قدر دلچسپ اور دلنشین انداز و اسلوب میں ہیں کہ اب بھی ان کا مطالعہ کرتا رہتا ہوں۔ میں جب اس موضوع پر لکھنے لگا تو علامہ شبلی پر لکھی جانے والی کتابوں کا سلسلہ وار مطالعہ کیا۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ حقیر اس موضوع کی تقریباً تمام کتابوں کا مطالعہ کر چکاہے۔ البتہ تین چار ایسی کتابیں ہیں جوکہیں سے ابتک دستیاب نہیںہو سکی ہیںاور ان کے محض جا بجا حوالے ملتے ہیں۔
شبلیات پر نہ صرف کتابوں کے مطالعہ کا اہتمام کیا بلکہ موضوع زیر تحریر سے متعلق متعدد مقالات کا بھی مطالعہ کیا۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوا کہ ان کی بدولت کتابیات شبلی پایہ تکمیل کو پہنچی ۔
میرے مطالعہ کا طریقہ ہمیشہ یہ رہا کہ جس موضوع پر لکھنا ہوتا اس موضوع کی کتب تلاش کرتا اور مطالعہ کرتا رہتا۔ میرے مطالعہ کاکوئی وقت متعین نہیں رہا۔ جب موقع ملا کتابوں کی ورق گردانی شروع کر دیتا۔ لیکن مجھے احساس ہے کہ آہ سحرگاہی کے اوقات میں جس طرح دعائیں قبول ہوتی ہیں، اسی طرح حافظہ بھی بہت ساتھ دیتا ہے اور بہت کچھ قبول کرتاہے۔اس وقت کا مطالعہ بہت مفید رہا اور ہمیشہ کام آیا۔
علامہ شبلی بھی یوںتو ہمہ وقت کتابوں کے مطالعہ اور تلاش و تفحص میں سرگرداںرہتے تھے ،لیکن ان کے مطالعہ کا خاص وقت بھی صبح ہی کے اوقات رہے۔ وہ تو محض دو گھنٹے تصنیف و تالیف کا کام کرتے تھے۔ بقیہ اوقات میں کتابیں الٹ پلٹ کے دیکھا کرتے تھے اور یہی طریقہ ہمارے بہت سے اسلاف کا رہا ہے۔
میرا طریقہ کار یعنی جب موقع ملا مطالعہ شروع کر دیا، قطعی طورپر مفید نہیں بلکہ صحت خراب کرنے والا طریقہ ہے۔ میرے بعض بزرگ اور بعض احباب میری خرابی کاذمہ دار میری مطالعاتی اورتصنیفی زندگی کوقراردیتے ہیں۔بہرحال ایک متعینہ وقت پر مطالعہ کرنا زیادہ مفید ہے۔
مطالعہ کے دوران اہم اور ضروری باتوں کو میں نے نقل کرنے کا ہمیشہ اہتمام کیا۔ خاص طور پر جو موضوع زیر تحقیق رہتا اس سے متعلق تمام باتوں کو کو علاحدہ نوٹ کرتا جاتا۔ اس سے ایک فائدہ یہ ہوتا کہ اپنی بات مرتب اورمدلل انداز میں قلم بند کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ دیگر اہل قلم کے بنیادی خیالات سامنے رہتے ہیں اور ان کا حوالہ بآسانی دیا جا سکتا ہے۔چاہے حمایت میں ہویا مخالفت میں۔ تائید میں ہوں یا تردید میں۔ فٹ نوٹس تیار کرنے کا اہتمام میں نے ہمیشہ انجام دیا اور آج بھی اس کا اہتمام کرتا ہوں۔
اس اہتمام سے ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ان کے لکھنے کے بعد مخالف و موافق آراء و خیالات کی علاحدہ علاحدہ درجہ بندی کی جا سکتی ہے اور پھر سنہ کے اعتبار سے تقسیم کرکے عہد بہ عہد کا جائزہ پیش کیا جا سکتا ہے اور اپنی بات کو مستحکم کرنے کے لئے ادوار اور سنہ کی تعین بھی بآسانی کی جاسکتی ہے۔ یہ باتیں تحقیق و تنقید کے ضمن میں آتی ہیں۔ اگر نظریاتی کتب کا مطالعہ کیا جائے تو اس میں اس کا اہتمام خاص طور پر کیا جانا چاہئے۔ گومیں نے اس طرح کاکام کم کیا ہے، مگر جس قدر کیا اس میں اس اصول کو ملحوظ رکھاہے۔
مجھے ایک زمانہ میں تمام بڑے اردو کے ادیبوں اور نقادوں کے اہم خیالات بالخصوص تنقیدی نظریات جمع کرنے کا شوق پیدا ہوا۔ چنانچہ میں نے معروف اور مشہور مصنّفین کی کتابوں سے اس طرح کے متعدد اقوال اور اقتباسات جمع کئے تھے اور جب کوئی ضرورت د ر پیش ہوتی ان پر ایک نظر ڈال لیتا۔ افسوس یہ خزینہ مکان میں پانی آجانے سے ضائع ہو گیا۔
مجھے مختلف موضوعات کی کئی کتابوں مثلاً موازنہ انیس و دبیر، اورنگ زیب عالم گیر پر ایک نظر، تاریخ اعظم گڑھ، اسفار مجیب، متاع رفتگاں وغیرہ مرتب کرنے کا موقع ملا۔ موازنہ انیس و دبیر کے مرتب کرنے میں میں نے نہ صرف انیس و دبیر اور مونس و خلیق کے مراثی کا مطالعہ کیا بلکہ بعض دیگر مرثیہ گویوں کو بھی دقت نظری سے پڑھا۔ انیس کے مراثی کے جو بند علامہ شبلی نے نقل کئے ہیں ان کی تصحیح و تخریج کے لئے میں نے مراثی انیس ودبیرکا ایک اشاریہ تیار کیا تھا۔ اس میںاولاً مراثی کے پہلے بند نقل کر لئے اور اسی کو بنیاد بنا کر موازنہ میںدرج تمام اشعار کی تصحیح کی۔موازنہ میں اکثر کے حوالے تو مل گئے، مگر چند بند ایسے بھی تھے جن کی نشاندہی نہ ہوسکی۔ میرا خیال ہے شعر و ادب کے مطالعہ میں یہ طریقہ مطالعہ بے حد نفع بخش اور مفید ہو سکتا ہے۔ مجھے اس طریقہ کار سے بلاشبہ بہت فائدہ ہوا، یعنی کم وقتوں زیادہ کام ہوا۔
مطالعہ بلاشبہ دل و دماغ کو جلا بخشتا ہے۔ نئے نئے موضوعات اور نئے نئے خیالات مطالعہ سے جنم لیتے ہیں۔ مطالعہ میں یہ امر بھی ضروری ہے کہ کم از کم طالب علمی تک کسی مخصوص موضوع کا مطالعہ نہ جائے، بلکہ ہر طرح کی کتب زیر مطالعہ رہنی چاہئے۔ وسعت فکر اور وسعت قلبی کا دار و مدار متنوع موضوعات کے مطالعہ و مشاہدہ اورتجزیہ پر مبنی ہے۔ میرے استاد مولانا مجیب اللہ ندوی مرحوم اللہ ان کی قبرکونورسے بھردے مجھ سے اکثر کہا کرتے تھے ’’الم غلم‘‘ ہر طرح کی کتابیں پڑھا کرو۔
مطالعہ اور کتب بینی کے بارے میں تمام بڑے اہل علم اور ارباب کمال نے اپنے تجربات اور مشاہدات قلم بند کئے ہیں اور بلاشبہ وہ بڑے مفید ہیں۔ ان سے استفادہ کیا جاسکتا ہے، لیکن ایک اور نظریہ یہ ہے کہ تحصیل علم کے بعد منتخب اہل علم و کمال اور منتخب علوم و فنون یا موضوعات پر اپنے مطالعہ کو مرکوز رکھنا زیادہ بہتر اور زیادہ مفید ہے۔
اردو اہل قلم کے دبستانوںمیں سب سے ممتاز دبستان شبلی ہے۔ اس کی کتب و رسائل میںیہ خصوصیت پوشیدہ ہے کہ ان سے لکھنے اور تصنیف و تالیف کا ہنر آتا ہے۔ اس لئے میں منتہی طلبہ کو دبستان شبلی کے مصنّفین کی کتب کا مشورہ دیتا ہوں۔ مجھے خود اسی دبستان کو پڑھنے سے یہ ہنر ہاتھ آیا۔ میری سب سے پسندیدہ کتاب تو قرآن مجید ہے اور میری ہی نہیں سب کی پسندیدہ ہے اورجو سب کے لئے نازل ہوئی ہے۔ میں اس کے مطالعہ کے ساتھ علامہ شبلی کی سیرۃ النبیؐ کو خاص طور پر مطالعے کا مشورہ دیتا ہوں،اس لئے کہ شہنشاہ کونین کے دربار میں ایک انسان کا شاید یہ سب بڑا نذرانہ ہے۔انسان ہی نہیںاحکم الحاکمین نے بھی انسانیت کی معراج کمال اسی کے مطالعہ وعمل میں پوشیدہ رکھی ہے۔
میرے مطالعہ کتب کا آغاز تو ذوق و شوق سے ہوا، لیکن پھریہ عادات واطوارمیں شامل ہوگیا۔میرامطالعہ اولاً محض علم و معلومات کے لئے تھا، بعد ازاں غور و فکر کا سلسلہ خود ہی قائم ہو گیا اور آخری مرحلہ یہ آیا کہ اس میں تحقیق و تدقیق کے پہلو شامل ہو گئے ۔ ارتقاء کی یہ تصویر خودبخود پیدا ہوئی۔ اس میںکسی اصول کی قطعی طور پر کوئی کارفرمائی نہیں تھی۔اس لئے میرا خیال ہے کہ مطالعہ کا ارتقاء شعوری نہیں بلکہ لا شعوری ہے اور یہ خود بخودارتقاء پذیر ہوتا ہے۔
میرے پسندیدہ مصنّفین میں سرفہرست علامہ شبلی نعمانی اور ان کے تلامذہ مولانا سید سلیمان ندوی،مولانا عبدالسلام ندوی ہیں۔ مولاناالطاف حسین حالی اورمولوی محمدحسین آزادبھی کی کتب نے بھی میرے ادبی ذوق کوجلا بخشی ہے۔میں نے مولانا سعید انصاری کو بھی غور سے پڑھا ہے۔ مولانا سید ابو الا علی مودودی اورمولانا ابوالکلام آزاد بھی میرے پسندیدہ مصنّفین میں شامل ہیں۔ میرے استاد مولانا مجیب اللہ ندوی کی سادہ اور دلکش نثر نے بھی مجھے اپنا گرویدہ بنایا ہے۔مولانا ضیاء الدین اصلاحی مرحوم سابق ناظم دارالمصنّفین کی نثر نے بھی اپنی طرف متوجہ کیا ہے۔ غرض یہ کہ شبلی اور دبستان شبلی کے اہل قلم کی نثر بالخصوص ان کے سادہ ،پرکشش اوردلکش اسلوب نے بے حد متاثر کیاہے اور ان کی کتابیں ہمارے ادبی ذخیرے کابڑاقیمتی سرمایہ ہیں۔ ان کامطالعہ بلاشبہ ذوق ووجدان پراثراندازہوتاہے۔
میں اپنے عہد کے دونامور اہل قلم سے خاصا متاثر ہوا ہوں۔ ان میں ایک مشہورمحقق رشید حسن خاں اور دوسرے نامورنقاد شمس الرحمن فاروقی شامل ہیں۔ فاروقی صاحب کی تنقید کا دائرہ خاصا وسیع ہے۔ان کے اوربھی کارنامے ہیں،تاہم’’ شعر شورانگیز‘‘ بلاشبہ ان کا بڑا عظیم الشان کارنامہ ہے۔
افسانے، ناول اور طنز و مزاح سے مجھے ذرا کم ہی سروکار رہا ہے، تاہم نسیم حجازی، رشید احمد صدیقی اور مشتاق یوسفی کی کتب زیر مطالعہ رہی ہیں۔ نسیم حجازی کا اسلوب و آہنگ بے حد متاثر کن ہے۔ رشید احمد صدیقی کی کتاب ’’طنزیات و مضحکات‘‘ اب تک ذہن میں انبسات کا باعث ہے۔ آب گم اور شام شعر یاراں بھی اردو ادب کی بہترین یادگاریں ہیں۔آخر الذکر پر کسی کو اعتراض ہو سکتا ہے، مگر مجھے اس میں مشتاق یوسفی پورے طور پرجلوہ گر نظر آئے۔ مشفق خواجہ کو کون فراموش کرسکتاہے۔ان کتابیںعلاحدہ رہیں، ایک تبصرے’’منشی یا منشی‘‘ نے تو تنقیدکی اک نئی دنیاسے متعارف کرایا۔
مطالعہ کی رفتار کے بارے میں رائے دینا کسی قدر مشکل کام ہے، اس لئے کہ میں خود کبھی اس پر قابو نہ پا سکا۔ کبھی کم کبھی زیادہ۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوا ہے گھنٹوں میں کتاب ختم اور کبھی چند صفحات کے مطالعہ میں گھنٹوں صرف ہوگئے ہیں۔ مطالعہ کے سلسلے میں نئے اہل قلم کے لئے میرا یہ مشورہ ہے کہ وہ خود کو کسی کھول میں بند نہ کریں اور کھلے ذہن سے تمام اہل قلم کی بنیادی کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد ہی کسی ایک موضوع پرجا کرٹھہر جائیں اور اس میں مہارت پیدا کریں اور کچھ کر گذرنے کے لئے مطالعہ میںذرابھی کوتاہی نہ کریں۔ابتدائے زمانہ میں بارہا ایساہوا کہ کسی بڑے اہل قلم پر اعتمادکرلیااورمعاملہ کچھ کاکچھ نکل آیا۔
مطالعہ کی رفتار میں اعتدال و توازن باقی رکھیں۔ ورنہ صحت متاثر ہوگی اور کام کی رفتار بھی۔ ہاں غور و خوض کے لئے بھی وقت فارغ رکھیں، اس لئے کہ مطالعہ کا اصل حاصل اور جوہر اس کا ماحصل ہے۔
طلبہ کو اولاً اپنے اساتذہ کے زیر نگرانی مطالعہ کرنا چاہئے۔ اس سے اساتذہ کے تجربات ومشاہدات سے استفادہ کاموقع ملتاہے۔ اور موضوع کے بنیادی امورتحقیق کا علم بالکل ابتدائی دور میں ہو جاتاہے،جوخودکے برسوں کے مطالعہ کے بعدبھی نصیب نہیں ہوتااور استاذ دفعتاً ان امور کو بہت آگے اوربہت بلندی پرپہنچادیتاہے اورعلم ومطالعہ اورتحقیق وتدقیق کی معراج کمال یہی ہے۔

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post