دو گز زمین بھی نہ ملی : ڈاکٹر ستیہ پال آنند

 

ہندوستان کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو میکلین میکنزی بحری جہاز میں بٹھا دیا گیا۔
پینتیس مرد اور خواتین بھی تاجدار ہند کے ساتھ تھے۔
یہ جہاز ۱۷ اکتوبر ۱۸۵۸ کورنگون پہنچا۔ کیپٹن نیلسن ڈیوس رنگون کا انچارج تھا۔ وہ بندرگاہ تک
جہاز کی اگوائی کے لیے گیا۔
جہاز کے کپتان سے اس نے بادشاہ اور اس کے ۳۵ حواریوں کو وصول کیا۔ رسید لکھ کر دی
اور دنیا کی تیسری بڑی سلطنت کے آخری فرمانروا کو ساتھ لے کر اپنی رہایٔش گاہ پر آ گیا۔
نیلسن پریشان تھا۔ بہادر شاہ ظفر قیدی ہونے کے باوجود بادشاہ تھا
اور نیلسن کا ضمیر گوارہ نہیں کر رہا تھا۔
وہ بیمار اور بوڑھے بادشاہ کو برمی قیدیوں کے ساتھ جیل میں پھینک دے۔
مگر رنگون میں کوئی ایسا مقام نہیں تھا جہاں بہادر شاہ ظفر کو رکھا جا سکتا۔
وہ رنگون میںپہلا جلا وطن بادشاہ تھا۔

نیلسن نے اپنے گھرکا باہر کی طرف کو کھلنے والا ایک کمرہ خالی کروایا ۔ ایک معمولی بستر
، اس کے ساتھ ایک اسٹول اور پھوس کے بنے ہوئے سلپراپنے سرونٹس کوارٹرسے
منگوائے ہوئے بادشاہ کے پہننے کے لیے کچھ کپڑے بھی اس کمرے میں رکھوائے۔
اور تاجدار ِ ہند ، ظل ِ سبحانی، اور تیموری لہو کے آخری چشم و چراغ کو اس کوٹھڑی میں قید کر دیا،
جس کی صرف ایک کھڑکی باہر کی جانب کھلتی تھی۔
اس کھڑکی کو بند کر کے اس کے کھولنے کی مناہی کر دی گئی۔
رات کی روشنی کے لیے مٹی کے تیل کا ہریکین لیمپ دیا گیا جو بعد میں ٹوٹ پھوٹ گیا
لیکن اس کی جگہ صرف کچھ موم بتیاں دی گئیں۔

بادشاہ ظفر ۱۷؍اکتوبر ۱۸۵۸ء کو اس کوٹھڑی میں قید ہوا اور ۷ نومبر کو ۱۸۶۲ء کو
وہیں اس کی موت ہوئی۔ چار برسوں کے دورانیے میں ہی اس کی مشہور ِ زمان غزل
ـ’’دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں ‘‘ لکھی گئی۔ ۷ ؍ نومبر ۱۸۶۲ء کا خشک دن تھا
جب بادشاہ کی خادمہ نے شدید پرشانی میں کیپٹن نیلسن ڈیوس کے دروازے
پر دستک دی۔ اندر سے اردلی نے برمی زبان میں اس گستاخی کی وجہ پوچھی، خادمہ
نے ٹوٹی پھوٹی برمی میں جواب دیا کہ ظل ِ سبحانی کا سانس اکھڑ رہا ہے۔ اردلی نے
جواب دیا کہ صاحب اپنے کتے کو کنگھی کر رہے ہیں اور میں ان کو ڈسٹرب نہیں
کر سکتا۔ خادمہ نے ااونچی آواز میں رونا شروع کر دیا۔
اردلی اسے چپ کروانے لگا ، مگر آواز نیلسن تک پہنچ گئی ۔ وہ غصے میں باہر نکلا
وہ نیلسن کی اجازت چاہتی تھی کہ قریب المرگ بادشاہ کے کمرے کی کھڑکی کھول
دی جائے تا کہ تازہ ہوا آ سکے کہ اندر بہت حبس تھا۔ بادشاہ کا بستر قے اور گندگی
سے تر بتر تھا۔اور وہ موت سے پہلے زندگی کے آخری لمحے میں آزاد اور تازہ ہوا
کا ایک سانس لینا چاہتا تھا ۔ خادمہ نے نیلسن کو دیکھا تو اس کے پائوں میں گر گئی ۔
بادشاہ دوبارہ اندر گیا ۔ اپنی برجیز پہنی ۔ پستول کی پیٹی لگائی۔ سر پر کیپ رکھی اور
اپنی وردی میں ملبوس پورے جاہ و جلال کے ساتھ پچاس ساٹھ قدم چل کر
زندانی بادشاہ کے کمرے تک پہنچ گیا۔

بادشاہ کی آخری آرام گاہ کے اندر بدبو تھی، موت کا سکوت تھا اور اندھیرا تھا۔
اردلی لیمپ لے کر بادشاہ کے سرہانے کھڑا ہو گیا۔ نیلسن آگے بڑھا۔
بادشاہ کا کمبل آدھا بستر پر تھا اور آدھافرش پر ۔
اس کا ننگا سر تکیے پر تھا لیکن گردن ڈھلکی ہوئی تھی۔ آنکھوں کے ڈھیلے پپوٹوں
کی حدوں سھے باہر ابل رہے تھے۔
گردن کی رگیں پھولی ہوئی تھیں اور خشک زرد ہونٹوں پر مکھیں بھنبھنا رہی تھیں۔
نیلسن نے زندگی میں ہزاروں چہرے دیکھے تھا لیکن کسی پر اس نےاتنی غریب الوطنی
نہیں دیکھی تھی۔
وہ کسی بادشاہ کا چہرہ نہیں تھا، ایک بھکاری کا چہرہ تھا۔اس چہرے پر ایک آزاد سانس
کی تحریر اپیل کی صورت میں درج تھی۔
اور یہ اپیل میں اپنےذہن میں آج بھی اجاگر کر سکتا ہوں۔
کیپٹن نیلسن کو یہ تحریر شاید نظر نہیں آئی جو ہر ذی حس انسان کو پرانے کوئیں کی
چوکور دیوارسے لپٹی ہوئی
کائی کی طرح نظر آ سکتی تھی۔
اس نے بادشاہ کی گردن پر انگلی رکھ کر نبض دیکھنے کی کوشش کی۔
زندگی کے قافلے کو اس دورانیے میں حیات سے ممات تک گئے ہوئےایک دو گھنٹے گذر چکے تھے۔
ہندوستان کا آخری بادشاہ زندگی کی حد عبور کر چکا تھا۔کیا اس کے مقید جسم سے نکل کر
اس کی آزاد روح واپس دلی پہنچی تھی؟
کوئی نہیں جانتا ، لیکن میں نہفتہ دان شاعر ہوں، جانتا ہوں۔
اس کی روح جب لال قلعہ میں پہنچی
تو قلعے کا وہ حصہ جو تین برس پہلے اس کی تحویل میں تھا، منہدم کیا جا چکا تھا۔

یہ روح آج بھی وہیں کہیں بھٹکتی ہوئی پھر رہی ہے۔
میں نے اسے دیکھا بھی ہے، اور اس سے باتیں بھی کی ہیں۔
نیلسن نے لواحقین کو بلانے کا حکم دیا۔ تھے ہی کتنے؟
ایک شہزادہ جوان بخت اور دوسرا اس کا استاد حافظ محمد ابراہیم دہلوی۔
دونوں آ گئے۔ انہوں نے بادشاہ کے جسد خاکی کو غسل دیا، کفن پہنایا اور
جیسے تیسے بادشاہ کی نماز جنازہ پڑھی۔
اب قبر کا مسئلہ پیش آیا۔ پورے رنگون میں آخری تاجدار ہند کے لیے دو گز
زمیں بھی دستیاب نہیں تھی۔
بدھ کے پیروکار مُردوں کو جلاتے ہیں۔رنگون سے باہرکے علااقے میں کچھ ٹوٹے
پھوٹے قبرستان تھے۔جہاں لاش کو لے جانا آسان نہیں تھا۔نیلسن نے سرکاری
رہایٔش گاہ کے نشیبی حصے میں، جہاں اجاڑ زمین تھی، قبر کھدوائی اور بادشاوہ کو خیرات
میں ملی ہوئی اس زمین میں دفن کر دیا گیا۔ قبر پر پانی کا چھڑکائو ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

قبر پر پانی کا چھڑکائو ہو رہا تھا تو استاد حافظ ابراہیم دہلوی کے خزاں رسیدہ ذہن
میں کچھ تصویریں ابھر رہی تھیں۔ راقم الحروف ستیہ پال آنند پس بین و پیش بین
شاعر نے یہ تصویریں دیکھی ہیں۔یہ تیس ستمبر ۱۸۳۷ ء کے مناظر تھے جب
دہلی کے لال قلعے میں ۶۲ ؍برس کے بہادر شاہ ظفر کی تاجپوشی ہوئی تھی۔
بادشاہ جب لباس ِ فاخرہ پہن کر، اور تاج شاہی سر پر رکھ کر ، اور نادر شاہی اور
جہانگیری تلواریں لٹکا کر دربار عام میں آیا تو پورا دلی تحسین تحسین کے نعروں سے
گونج اٹھا۔ نقارچی نقارے بجانے لگے، گویے تانیں اڑانے لگے۔رقاصائیں
ناچنے لگ گئیں لگیں، بادشاہ کی تاجپوشی کا جشن سات دن جاری رہا۔ آج سات نومبر
کے دن بادشاہ کو ایک خوش الحان قاری تک نصیب نہیں تھا۔

پس بین و پیش بین شاعر ستیہ پال آنند ذہن کی آنکھوں سے دیکھ کر
کہتا ہے کہ استاد حافظ محمد ابراہیم کی آنکھوں میں آنسو آگئے
اس نے جوتے اتارے، بادشاہ کی قبر کی پائنتی میں کھڑا ہوا اور سورۃ توبہ کی
تلاوت شروع کر دی۔ حافظ ابراہیم کے گلے سے سوز کے دریا بہنے لگے۔ یہ
قرآن مجید کی تلاوت کا اعجاز تھا یا پھر استاد کے گلے کا سوز، کیپٹن ڈیوس کی آنکھیں
بھی بھیگ گئیں۔ اس نے ہاتھ اٹھایا اور اس غریب الوطن قبر کو سیلیوٹ پیش کیا۔
اسکے بعد سر جھکائے ہوئے دس بارہ نفوس پر مشتمل یہ مجمع منتشر ہو گیا۔

آپ اگر کبھی رنگون جائیں تو آپ کو ڈیگن ٹائون شپ کی کچی گلیوں کی بدبو دار
جھونپڑیوں میں ایک مخلوق نظر آئے گی۔ یہ بہادر شاہ ظفر کی نسل ہے۔ مئی
۱۹۶۳ئ میں جب مختلف جامعات کے اساتذہ کے ساتھ ایک ڈیلیگیشن میں
میں وہا ں گیا تو برما کی آزادی کے بعد ان کے وظیفے بند ہو چکے تھے۔ یہ مخلوق
ننگے پائوں پھرتی ہے، کچی زمین پر سوتی ہے مانگ کر کھاتی ہے۔لیکن اس کسمپرسی
میں بھی ان لوگوں نے اپنے ناموں کے ساتھ ’شہزادہ‘، ’شہزادی‘ کے لاحقے
لگا رکھے ہیں۔ یہ مداریوں کی طرح لوگوں کو اکٹھا کر کے عہد رفتہ کی داستانیں
سناتے ہیں ، اور اس طر ح کچھ برمی روپے بٹورتے ہیں۔
—————————————

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post