اقبالؒ کی شاعری:فریدہ غلام محمد

علامہ محمد اقبال پر لکھنا اتنا آسان نہیں ھے ۔ان کی شاعری اتنی وسعت رکھتی ھے کہ اس پر بحث شاید کبھی مکمل نہیں ھو سکتی ۔اقبال کے بارے میں کئ لوگوں نے رائے دی کہ فلسفی کا شاعری سے کیا مطلب ۔دراصل یہ مخاصمت افلاطون کے زیر اثر پیدا ھوئ جب اس نے اعلان کیا کہ
“فلسفہ اور شاعری میں ازلی بیر ھے”
مگر اقبال کے نزدیک فلسفے اور شعر کی حقیقت ایک ہی ھے دونوں کا راز حرف تمنا میں پوشیدہ ھے جسے روبرو نہیں کہا جا سکتا

فلسفہ وشعر کی اور حقیقت ھے کیا
حرف تمنا جسے کہہ نہ سکیں روبرو
وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ایک حقیقت کے دو روپ ہیں۔ان میں ایک سوز سے عاری ھے دوسرا سوز کا دامن پکڑ لیتا ھے۔
مجھے لگتا ھے کہ انھوں نے زندگی کے فلسفے کو شعر کے لباس میں مزین کر دیا ھے ۔
شاعر جب بھی شعر کہتا ھے وہ پہلے کسی منظر یا خیال سے متاثر ھوتا ھے ۔اسی جذبے سے تخیل پیدا ھوتا ھے کیونکہ تخیل کا جنم نہ ھو تو جذبے کا اظہار کیونکر ھو ۔اس تخیل اور جذبے میں جتنی ہم آہنگی ھو گی اتنا ہی ابلاغ کا احساس کامیاب ھو گا ۔اس کا مطلب صاف ھے کہ شاعری میں اسلوب کو بہت اہمیت حاصل ھے ۔شاعر کو زبان اور ادائے اظہار کے ذرائع سے مکمل واقفیت ضروری ھےاتنی طاقت کلام میں ھو کہ قاری کے تخیل کو حرکت میں لا کر اتنا ہی متاثر کرئے جتنا خود متاثر ھوا تھا۔
اقبال نے اپنی نظموں میں لہجے کا بڑا خیال رکھا ھےاگر شاعر موقع ومحل کے مطابق لہجے میں تبدیلی پیدا نہیں کر سکتا تو وہ ایک اچھا شاعر نہیں کہلا سکتا۔
“نیا شوالہ” میں ان کے لہجے میں نرمی ھے جبکہ “شکوہ” میں تو شکایت کی لے اتنی بلند ھو گئی ھے کہ اسے گستاخی سمجھا جانے لگا لیکن اس پر غور کریں تو شکایت میں اتنی تیز لے اس شکایت اور دکھ کا تقاضا تھی اس کی کمی سے اس نظم کی اہمیت وہ نہ رہتی جو اب ھے کیونکہ ہر بات کا جواز موجود ھے ۔علامہ نے مسلمانوں کی پستی اور ذلت کو بڑی شدت سے محسوس کیا ھے ۔بال جبرئیل کی نظم “ابلیس اور جبریل “میں دونوں کے لہجے کا فرق بڑا واضح ھے۔ جبریل گلہ کرتا ھے۔
کھو دیے انکار سے تو نے مقام بلند
چشم یزداں میں فرشتوں کی رہی کیا آبرو
اقبال نے اس میں پورا خیال رکھا ھے جبریل چونکہ جمال کا مظہر ھے تو شکایت کے باوجود لہجے میں گرمی کے بجائے ہلکا سا درد محسوس ھوتا ھے جبکہ جب ابلیس جواب دیتا ھے تو جس طرح وہ باغی اور گستاخ ھے لہجے میں بھی وہی تیزی ھے ذرا پڑھیے
دیکھتا ھے تو فقط ساحل سے رزمِ خیر و شر
کون طوفاں کے تھپیڑے کھا رہا ھے میں کہ تو
میں کھٹکتا ھوں دل یزداں میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ھو اللہ ھو اللہ ھو
دراصل کسی شخصیت یا کردار کے مزاج کے مطابق لہجے کا خیال ڈرامہ نگار کا پہلا فرض ھوتا ھے ۔اقبال نے ڈرامے کے سب سے اہم عنصر مکالمے سے بڑا کام لیا ھے اور مکالمے کی ادائیگی میں عمدگی پیدا کرنے کے لئے لہجے پر بڑا دھیان دیا ھے۔
اقبال کی نظموں کا بیشتر حصہ مکالموں پر مشتمل ھے کبھی شاعر انسانوں سے گفتگو کرتا ھے تو کبھی بےجان چیزوں سے۔وہ خضر سے زندگی کا راز پوچھتا ھے ۔گل رنگیں سے سینے میں چھپا راز جاننا چاہتا ھے ۔ہمالہ سے ماضی کی داستان سنتا ھے ،کبھی قبر سے مخاطب ھوتا ھے تو کبھی مسلمانوں کو زندگی کا پیغام سناتا ھےاور پھر سرگوشی میں راز حیات کہہ دیتا ھے۔
اقبال فن کو مسلسل محنت کا ثمر سمجھتے ہیں چنانچہ انھوں نے اس بات پر ہمیشہ نظر رکھی کہ صرف معیاری لکھیں اور جو ان کو قدرے کم لگے وہ انھوں نے اپنا لکھا ھوا بھی خود رد کر دیا ۔کئ بار تو انھوں نے اپنے خاص
نظام فلسفہ کے مطابق نہ ھونے کی وجہ سے رد کر دیا ۔
اقبال نے اپنی شاعری کو ردیف اور قافیے کا پابند بنایا اور مقبول ترین بحروں کو استعمال کیا جو اثر رکھتی ہیں ان کے خیال میں قافیہ اور ردیف کو ترک کر کے ہم تخریب کے مرتکب ھوتے ہیں ۔ان کے خیال میں یہ سب کلام میں رکاوٹ نہیں ہیں بلکہ یہ تو کلام کی خوبصورتی کو بڑھاتے ہیں۔انھوں نے پرانی تشبہات ،استعارے اور تلمیحات میں جدت پیدا کی ھے
زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے ہوجھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ھے زندگی
اقبال عروض اور علم بیان پر پوری قدرت رکھتے ہیں۔ان کی شاعری میں جذبہ فکر اور تخیل کا حسین امتزاج ملتا ھے”۔مسجد قرطبہ”
کا اسلوب پرشکوہ ھے یہاں فارسی تراکیب کی کثرت ھے
تیری بنا پائیدار تیرے ستوں بےشمار
شام کے صحرا میں ھو جیسے ہجوم نخیل
ان کا انداز بیان خودبخودمسجد قرطبہ کی شان سے ہم آہنگ ھو گیا ھے ۔اس کے برعکس ساقی نامہ میں زبان سادہ ھے اور روانی بھی زیادہ ھے ۔یہ ان کے فن کا اعجاز
ھے کہ فلسفہ اور شعر میں فرق کرنا مشکل ھو گیا ھے۔
دراصل انھوں نے اس نظرئیے کو غلط کر دیا کہ فلسفے اور شعر میں ازلی بیر ھے ۔سارا کلام ایک طرف اور یہ شعر، اس کا فلسفہ ایک طرف
کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ھے کیا لوح و قلم تیرے ہیں
کیا اس کے بعد بھی کچھ رہ جاتا ھے۔اسی شعر میں فلسفہ عقل و عشق ،مرد مومن اور خودی و بےخودی چھپا ھے بس غور کرنے کے لئے ذہن و دل ایک ساتھ ھونے چاہییں ۔
جہاں تک علامہ کی طویل نظمیں ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔جب شکوہ لکھی تو گلہ تھا مسلمانوں کو یہ بتلانا مقصود تھا کہ ہم پستی کے کس درجے پر پہنچ چکے ہیں جبکہ جواب شکوہ لکھ کر اسکا حل بتایا ۔ہمارے آبا کیا تھے ہمارا ماضی کیسا تابناک تھا ۔اشعار کی روانی کمال ھے بچہ بچہ یہ دونوں طویل نظمیں یاد کر لیتے ہیں۔
شاعری کو بہانہ بنا کر انھوں نے مسلمانوں میں احساس خودی پیدا کیا ۔یہ کمال بھی انہی کا ھے ۔
“خضر راہ” میں گیارہ بند ہیں مگر ہر بند میں شعروں کی تعداد مختلف ھے قافیہ بھی بدلا کہ قافیہ نباہتے رہنے سے نظم کی روانی میں فرق ا جاتا ۔اس نظم کا نام خضر راہ اس لئے رکھا گیا کہ اس میں علامہ حضرت خضر سے ملاقات کرتے ہیں اور زندگی کے مسائل کا حل پوچھتے ہیں ۔جہاں پر خضر راہ ختم ھوئ وہیں سے طلوع اسلام شروع ھوتی ھے اس میں بھی پورے پورے مصرعے فارسی میں ہیں
“شکوہ ترکمانی ،ذہن ہندی،نطق اعرابی”
میرے خیال میں ان کا فلسفہ اور شاعری دونوں لاجواب ہیں
فیض نے کیا خوب کہا ھے۔
آیا ہمارے دیس میں اک خوش نما فقیر
آیا اور اپنی دھن میں غزل خواں گزر گیا
سنسان راہیں خلق سے آباد ھو گئیں
ویراں میکدوں کا نصیبہ سنور گیا
تھیں چند نگاہیں جو اس تک پہنچ سکیں
پر اس کا گیت سب کے دلوں میں اتر گیا

 

You might also like
  1. گمنام says

    کیا عمدہ مضمون ہے اور اقبال پر عموماً لکھی جانے والی تحریروں سے ہٹ کر ہے

  2. فیصل عظیم says

    بہت عمدہ مضمون ہے

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post