نشتر ہال پشاورکامیوزک شو ۔۔۔ ایک کہانی : ناصر علی سیّد

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں
نشتر ہال،پشاور کے بننے کے بعد پہلے میوزک شو کے اعلان کے ساتھ ہی ادسبی اور ثقافتی حلقوں کی خوشی اور جوش دیدنی تھا، ہر چند ہال کے بننے کے بعد اس کی ملکیت اور انصرام کے حوالے اباسین آرٹس کونسل اور کلچر ڈیپارٹمنٹ کے زیر اہتمام وجود میں آنے والی سرحد آرٹس کونسل کے تحفظات نے ایک تنازعہ کی شکل اختیار کر لی تھی جس کی بازگشت تین ساڑھے تین دہائیوں کے بعد اب بھی جب کہ پلوں کے نیچے سے بہت پانی گزر چکا ہے،کبھی کبھی سنائی دیتی ہے، بات افتتاحی میوزک شو کی تھی، اس وقت سیکریٹری کلچر احمد نواز اور سیکشن آفیسر ہنس مکھ فرید(احمد)تھے پہلے کہا گیا کہ یہ شو دو دن ہو گا مگر پھر اسے ایک دن تک محدود کر دیا گیا تھا،میرے نزدیک دو دن زیادہ بہتر تھے مگر ایسا نہ ہو سکا اب میری مشکل یہ تھی کہ مجھے اس شو کی نظامت کرنا تھی اور جن فنکاروں کو مدعو کیا گیا تھا، ان میں ایک طرف تو پشاور کے بڑے فنکار مہ جبیں قزلباش،گلریز تبسم سمیت کچھ اور دوست تھے، جنہوں نے پشتو گیت پیش کرنا تھے اور دوسری طرف پاکستان کے مقبول اور قد آور غزل اور گیت گانے والے فنکار فریدہ خانم اور گریٹ مہدی حسن تھے اور مسئلہ صرف پشتو اور اردو کا نہیں تھا اور نہ ہی ان کی فوک اور غزل گائیکی کا تھا اصل مسئلہ حاضرین کا تھا کہ دونوں طرح کی موسیقی کے سننے والے بھی الگ الگ مزاج اور کلاس کے تھے۔ اسی وجہ سے میں نے دو دن کی بات کی کہ ایک دن لوکل فنکارپرفارم کر لیں گے اور دوسرے دن مہمان فنکار وں کو سنا جائے گا، مگر یہ ہو نہ سکا اور باقی سب دوست تو ریلکس تھے پریشانی میری تھی کہ نشتر ہال کے پہلے شو کے حاضرین کو مطمئن کر نا تھا، گویاحاضرین کی ایک طرح سے مجھے تربیت بھی کرنا تھی۔پہلا حصہ تو یادگار اور شاندار اور تاریخ ساز رہا جب مہ جبین اور گلریز تبسم میلہ لوٹ رہے تھے، لوگوں کا جوش خروش کبھی نہیں بھلا سکتا مگر اس کے بعد جو ہوا وہ بھی لا کھ سر جھٹکنے پر دیر تک نہ بھلا سکا۔ میں نے فریدہ خانم کو دعوت دی وہ آئیں اچھا استقبال ہوا،مگر انہوں نے بیٹھ کر پرفارم کرنا تھا، گلریز تبسم تو لوگوں کو نچا کر رکھ دیتا ہے،اب فریدہ خانم نے اپنی گائی ہوئی مقبول غزل چھیڑ دی، ”وہ مجھ سے ہوئے ہم کلام اللہ اللہ“ ہال چپ ہو گیا غنیمت تھا کہ شروع کی صفوں میں بیٹھے کچھ دوست انجوائے کر رہے تھے، میں نے فریدہ جی سے درخواست کی کہ غزل کی بجائے اگر ہلکے پھلکے گیت ہو جائیں تو بہتر ہو گا، مگر پشتو موسیقی نے جو گہری چھاپ لگا دی تھی اس پر کوئی اور رنگ نہ چڑھ سکا، اور حاضرین کا صبر جواب دے گیا اور ہال ”مہ جبین وان ٹڈ“ کے نعروں سے کونجنے لگا، مجھے مداخلت کر کے لوگوں کو سمجھانا پڑا، مشکل سے لوگ راضی ہوئے، لیکن فریدہ خانم محض تین چار آئیٹم کے بعد اٹھ گئیں، اب مجھے مہدی حسن کو بلا نا تھا، میں نے پہلے تمہید باندھی کہ عین اس وقت دہلی میں ایک بڑا شو ہو رہا ہے جس میں کچھ بڑے فنکاروں کو ایوارڈز دئیے جائیں گے ان میں سے پاکستان کے مایہ ناز غزل گائیک مہدی حسن کو بھی ایوارڈ دیا جانا ہے مگر وہ ایوارڈ لینے وہاں مو جود نہیں ہوں گے، کیونکہ جب ان کو انڈیا سے دعوت ملی تو انہوں نے یہ کہہ کر معذرت کر دی کہ مجھے اسی دن پشاور سے میرے پٹھان بھائیوں نے دعوت دی ہے،میں انڈیا کی بجائے اپنے پختون دوستوں کے پاس جاؤں گا، سو وہ مہان فنکار ہماری آپ کی محبت میں پشاور آ گیا ہے میں انہیں دعوت دیتا ہوں آپ خود فیصلہ کیجئے کہ ان کا استقبال کیسا کرنا چاہیئے اور انہیں کیسے سننا چاہیئے۔پورے ہال نے کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا اور پھر کہیں سے بھی مہ جبین یا گلریز تبسم وان ٹڈ کی آواز سنائی نہ دی۔ البتہ مہدی حسن جی نے یہ ضرور بیک سٹیج پو چھا کہ جی وہ ایوارڈ والی بات میں سمجھا نہیں۔میں نے دل میں کہا ’کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا۔ دوستو لذیذ بود حکایت دراز تر گفتم۔ میں نے نشتر ہال کے حوالے سے بات یہ کر نا تھی کہ بہت عرصہ تک موسیقی کے شوز اور بعض بڑی شخصیات کے اعزا ز میں تقریبات ہو تی رہیں،خصوصا فلم سے جڑے ہوئے اردو پشتو کے بہت سے فنکاروں کے شوز ہوئے، ان میں محمد علی، مصطفےٰ قریشی،بدر منیر،شہناز دلراج۔مسرت شاہین اور بہت سے دوسرے فنکار شامل رہے اور مجھے نظامت کا اعزاز حاصل ہو تا رہا حتی ٰ کہ جب یوسف خان دلیپ کمار نشتر ہال آئے تواس شو کی نظامت بھی میرے حصے میں آئی، لیکن تا دیر نشتر ہال میں ڈرامہ نہ ہوا۔ پھر کچھ دوستوں نے مل کر ایک ثقافتی و ادبی تنظیم ”فرنٹیئر آرٹس پروموٹرز بنائی جس کے محرک امجد عزیز ملک تھے اور وہی اس کے معتمد خصوصی بھی تھے ہمارے ساتھ اس وقت ابوالحسن جعفری شہید،مرحوم عارف شبنم جو پہلے صدر بھی تھے، شارق جی، مرتضی، عارف کامی،انجینئر گلزار، جہانزیب جہاں،فدا سرحدی، علی نوازگیلانی اور کچھ اور دوست بھی تھے۔پھر ہمیں جن ادب و ثقافت سے محبت کرنے والے دوستوں کا ساتھ میسر تھا ان میں مرحوم شیر احمد سیٹھی،مرحوم ثنا اللہ بابر، حا جی جاویدسمیت کچھ اور دوست بھی تھے۔ ہم نے پہلی بار نشتر ہال میں پی ٹی وی کے نیلام گھر کی طرز پر عالی شان کوئز شوز کئے جن میں ہزاروں روپے کے قیمتی انعامات نھی دئیے گئے، اور انصار برنی، باکسر حسین شاہ، ٹی وی آرٹسٹ ذوالقرنین حیدر،ڈرامہ وارث کا چودھری اسلم یعنی محبوب عالم اور ایسے ہی قد آور فنکاروں کو بطور مہمان نیلام گھر میں مدعو کیا اور انٹرویو کیا ان نیلام گھروں کا طارق عزیز بھی میں ہی تھا۔ پھر ہم نے نشتر ہال میں یکے بعد دیگرے کئی ایک ڈرامے سٹیج کئے پہلا ڈرامہ لا ہور سے پوری کاسٹ کے ساتھ پشاور میں کیا یہ منیر راج کا مقبول ڈرامہ کیسی بیوی کیسا شوہر تھا جس کی کاسٹ میں، فلم سٹار تمنا بیگم،فلمسٹار نغمہ کی بہن، ٹینا، عابد کاشمیری اورکچھ لاہور ٹی وی سٹیج کے معروف فنکاروں کے ساتھ ممتاز و معروف فنکار خیام سرحدی بھی تھا، ہم نے پشاور کے دو تین فنکاروں کو بھی اس اس خیال سے شامل کیا کہ ان کو ان بڑے فنکاروں کے ساتھ کام کر کے اعتماد حاصل ہو گا،مسلسل نو دن میں اس ڈرامہ کے دس شوز ہوئے جو تب سے اب تک ریکارڈ ہے۔ ہم نے ہفتہ ہفتہ بھر پشتو کے کئی ایک ڈرامے سٹیج کئے، اور قاضی ملا،اسماعیل شاہد،ثمینہ سحر سمیت ان گنت فنکار ان میں کاسٹ ہوئے ۔پھرہم نے ڈرامہ فیسٹول کیا کئی اچھے اردو ڈرامے سٹیج ہوئے جن پر انعامات دئیے گئے البتہ اس میں ایک ڈرامہ نو پرابلم بھی تھا جو انعامی مقابلے میں شریک نہ تھا کیونکہ یہ میرا لکھا ہوا تھا اور میں فرنٹیئر آرٹ پروموٹرز کا صدر تھا۔ مجھے ن دنوں کی یاد یوں آئی کہ ایک دوست نے اس زمانے کی کچھ تصویریں سوشل میڈیا پر شئیر کیں جب آتش وغیرہ سب جوان تھے۔تو مجھے بھی ٹائم مشین میں بیٹھ کر اس زمانے لوٹنا پڑا، یہ لاک ڈاؤن کے دن ہیں، کوئی ایک فلم چلنا شروع ہو جائے تو بریک لینے کو دل نہیں کرتا۔ یاد ماضی قطعا َ عذاب نہیں لگتا اورچپکے چپکے گنگنا نا فراق کو پڑتا ہے
شام بھی تھی دھواں دھواں حسن بھی تھا اداس اداس
دل کو کئی کہانیاں یاد سی آ کے رہ گئیں

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post