اسلامی تاریخ … حقیقت کے آئینے میں : محمد اسامہ عثمانی

 

آجکل پی ٹی وی پر ایک ترکی ڈرامہ بے پناہ مقبولیت حاصل کر رہا ہے یا یوں کہا جائے کہ اس ڈرامہ نے مقبولیت کے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں تو غلط نہ ہو گا ! بچوں سے لیکر بڑوں تک کی زبان پر ایک ہی نام ہے ” ارتغرل ”
ویسے تو پی ٹی وی ہمیشہ سے ہی اپنے معیاری ڈراموں کے لئے مشہور رہا ہے ، اور ان ڈراموں کو دیکھ کر ہمسایہ ملک والے بھی پریشان ہو جاتے تھے اور سراہتے بھی تھے کہ اتنے اچھوتے آئیڈیاز، اداکاری ، اور ہدایتکاری کؤی کیسے کر سکتا ہے ! مگر نہ اب وہ امجد اسلام امجد ، ڈاکٹر ڈینس آئزک ، جمیل ملک ، نصرت ٹھاکر ، شعیب منصور ، اشفاق احمد ، بانو قدسیہ ، حسینہ معین ، فاطمہ ثریا بجیا، انور مقصود ہی پی ٹی وی سے منسلک رہے اور نہ ہی ڈراموں کا وہ معیار رہا !
سنہ 2000 کے بعد پرائیویٹ پروڈکشنز کے بینرز کے نیچے ، ٹھیکوں پے انتہائی ردی اور غیر معیاری ڈراموں کی اتنی زیادہ پروڈکشن ہونا شروع ہو گئی کہ اللہ کی پناہ ، ایسا لگتا تھا کہ کوئی ٹرالیاں بھر بھر کے ڈراموں کو مختلف پرائیویٹ چینلز پے پھینک رہا ہے ! ان ڈراموں کی کہانیاں اور اداکاری کا ایک ہی مقصد تھا کہ معاشرے میں ہیجانی کیفیت پیدا کی جائے ! یہ ڈرامے بنیادی طور پر اسی ہمسایہ ملک سے ایک ایجنڈے کے تحت مستعار لیے گئے
اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اچھے ذوق والے ناظرین ان ڈراموں سے پیچھے ہٹ گئے ! لیکن ریٹنگ کی ایک دوڑ پاگل پن کی حد تک مسلسل چلتی رہی
تقریبا 20 سال کے بعد پی ٹی وی نےترکی سے ایک تاریخی ڈرامہ لیا اور آن ائیر کر دیا جسکا نام ارتغرل ہے
ارتغرل بنیادی طور پر “اوٹومن ایمپائر” یا ” سلطنت عثمانیہ ” کے ایک عظیم مسلمان فاتح کے ارد گرد گھومتا ہے اور ہمیں ہماری اسلامی تاریخ کی فتوحات کے اس سنہرے ترین دور میں لے جاتا ہے جو 400 سال سے زیادہ پے محیط رہا ہے اور جسکی فتوحات کے جھنڈے مشرقی یورپ اور افریقہ تک گڑھے ہوئے تھے ! اسی لئے اس ڈرامے نے مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دیئے
ہم بحیثت ایک مسلمان، اپنے ہیروز کی نہ تاریخ سے واقف ہیں اور جغرافیے سے ! البتہ انکی جگہ انتہائی غیر معیاری چیزیں دیکھ دیکھ کے دوسروں سے مستعار لیے گئے کرداروں کو اپنا ہیرو سمجھنے لگے ! آج کسی بچے سے بھی پوچھیں کہ ہمارے ہیروز کون ہیں تو جواب میں کسی ہمسایہ ملک کے ہیرو کا نام بتانا اپنا فخر سمجھے گا ، ہاں اگر آج کے بچے یا حتی کہ کسی بڑے سے بھی پوچھیں کہ صلاح الدین ایوبی کون تھا ، ٹیپو سلطان کون تھا ، سید اسماعیل شہید ، سید احمد شہید ، حکیم سعید ، کون تھے تو شاید انہیں مکمل ادراک نہ ہو !
آج جبکہ دنیا مذھبی اور معاشی بنیادوں پر دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے تو آج ہمیں بھی اپنے ہیروز کی تاریخ ضرور یاد رکھنی چاہئے کہ انہوں نے کس تقوی اور جنگی حکمت عملی سے اتنی عظیم فتوحات حاصل کیں ، کیوں کہ بہت جلد اب ان ہیروز کو یاد کرنا اور انکی نقل کرنا لازم ہوجاۓ گا ! اور جو لوگ اس حقیقت کو آج تسلیم نہیں کر رہے وہ احمقوں کی جنت میں رہ رہے ہیں اور انکا وہی حال ہو گا ، جو ہلاکو خان نے ہمارہ کیا تھا ! ویسے بھی 2023 کے بعد ترکی کی شکل بدلنے جا رہی ہے اور ترک قوم کی غیرت ایمان اور جذبہ خود مختاری آج بھی ویسا ہی ہے جو 1519 میں تھا
خیر اس ڈرامے کی مشہوری سے کئی خود ساختہ دانشوروں اور سماجی کارکنوں کے پیٹ میں مروڑ اٹھنا شروع ہو گیا ( اکثر موم بتی مافیا کے مینڈک ہیں ) ان میں ایک صاحب کا نام جبران ناصر ہے ، جنکا کہنا ہے کہ ایسے ڈراموں سے ہماری شناخت میں آمیزش آجاۓ گی ، اب بندہ اس فضول بات پے ہنسے یا روۓ ؟؟؟ کیا جبران ناصر کو ہماری شناخت میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور وائسرائے ہند کی کوئی آمیزش تو نظر نہیں آرہی ، کیا اردو زبان میں ترک زبان کے کچھ الفاظ کی آمیزش تو نظر نہیں آرہی ؟؟؟ ہو سکتا ہے انکے ہیروز میں سٹیج ڈراموں کے نام پے پھکڑ پن اور غلیظ زبان استعمال کرنے والے ڈوم ، میراثی یا انتہائی معیاری گانا گانے والی گلوکارہ نصیو لعل شامل ہوں ، جنکی شناخت ایسے ڈراموں سے مٹ سکتی ہے ، انکے علاوہ اداکارہ ریما اور شان بھی ارتغرل کی مخالفت میں میدان میں آ گئے ہیں
اس مروڑ کی چند وجوھات میں عرض کرتا چلوں
1۔ پرائیویٹ چینلز پے چلنے والے گھٹیا ڈراموں کی ریٹنگ کا زیرو ہوجانا
2۔ بیرونی ایجنڈے اور فنڈنگ پے بناۓ جانے والے ڈرامے ، جنکا مقصد صرف اور صرف ہمیں ہماری اصل تاریخ سے دور کرنا اور ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کروانا جو کبھی ہمارا معاشرہ رہا ہی نہ ہو اور اس معاشرے کی تشکیل کا نتیجہ اپنی شناخت ہی کھو دینا ، اس بیرونی ایجنڈے سے عوام الناس کی توجہ ہٹ کر دوبارہ اپنے اسلاف کی طرف متوجہ ہو جانے کا انتہائی شدید خوف
اسی لئے موم بتی دانشوروں میں صف ماتم بچھی دکھائی دے گی
میں پی ٹی وی کو سلام کرتا ہوں اور ارباب اختیار سے یہ عرض بھی کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف ایسے مذید شاہکار ڈرامے مسلسل دکھاۓ جائیں بلکہ ہمارے پرانے اثاثوں ( وہ مصنف اور ہدایتکار جنکا میں اوپر تذکرہ کر چکا ہوں ، جن میں سے اب بھی بہت سے لیجنڈز زندہ ہیں ) کو دوبارہ اس طرف راغب کیا جائے اور انکی حوصلہ افزائی کی جائے
یاد رہے ہمارے پی ٹی وی کے ڈرامے اب بھی دنیا میں کسی بھی ڈرامے کو شکست دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post