رشک ترابی ۔۔۔ ایک شاعرِ بے مثال : یوسف خالد

دبستان سرگودھا ۔۔۔۔ یادِ رفتگاں ۔
علامہ رشک ترابی (مرحوم) ایک ایسے شاعرتھے جن کے لہجے ،یاداشت اور شکوہِ الفاظ کا کوئی ثانی نہیں — مسدس کے باد شاہ ،اردو اور پنجابی شاعری میں اپنی مثال آپ — ہمیشہ اپنا کلام زبانی سناتے — گھنٹوں پڑھتے مگر کلام اور لہجے کی کشش سامعین کو سحر زدہ کیے رکھتی — ایک سچے عاشقِ رسول اور ثناخوانِ اہلِ بیت — نظم گوئی میں بے مثل —-
آقا دوجہاں کی مدحت میں مسدس کے 49 بند اور سلام کے 6 ہزار شعر قلم بند کیے — اس کے علاوہ خلفائے راشدین کے قصائد ،ہر قصیدہ ایک مکمل کتاب– رزمیہ نظمیں اور وطن کے حوالے سے خوبصورت نظمیں —
اہل بیت کے قصیدے اور مرثیے — ہر قصیدہ اور ہر مرثیہ لا جواب —
جو کتابیں چھپ چکی ہیں ان میں
1- مشعلِ آفاق
2- العظمت للہ
3- سیدنا کریمآ
اہم ترین کتابیں ہیں
جو کلام ابھی تک نہیں چھپ سکا وہ بھی کم و بیش 10 سے زیادہ کتب پر مشتمل ہے جس میں قصائد، مرثیے ،نظمیں ، غزلیں ،قطعات اور نعتیں شامل ہیں —
نصرت فتح علی کی گائی ہوئی حمد ” یا حی و یا قیوم ” رشک صاحب کی شاہکار حمد ہے —
نمونہ کلام
جاروب کشِ بابِ نبوت ہے ترابی
صد شکر کہ اب صاحبِ نسبت ہے ترابی
——–
حضور کے قصیدہ کا ایک بند
لب کنزِ علم و حلم زباں عافیت پناہ
آنکھیں یمِ خمار تو باطل شکن نگاہ
نطقِ جمیل کاشفِ ہر نکتہ الاہ
حقانیت کا زیرِ فلک آخری گواہ
الفاظ جس کے عرش کی سوغات بن گئے
زلفیں کھلیں تو دہر میں دن رات بن گئے
————
وہ کون شخص تھا جو حقارت کی آنکھ سے
دریا کو دیکھتا ہوا پیا سا گزر گیا
کانٹے مری انا کے مجھے روکتے رہے
میں اس گلی سے بن کے تماشہ گزر گیا
———
میں نہ اس کو پیش کر پایا کوئی زادِ سفر
بارہا جس شخص نے مڑ کر مجھے دیکھا بھی تھا
کیا کہوں کس بھیڑ میں گم ہو گیا وہ اجنبی
جس نے لوگوں سے مرے گھر کا پتا پوچھا بھی تھا
———-
رشک ترابی مرحوم ایک مجلسی شخصیت تھے مشاعرے میں ان کی موجودگی مشاعرے کو یاد گار بنا دیتی تھی وہ ہراچھے شعر پر بھرپور داد دیتے تھے — اور نوجوانوں کی خوب حوصلہ افزائی کرتے تھے —-
اللہ انہیں غریقِ رحمت کرے — کمال شخص تھے۔

Image may contain: 1 person, closeup and indoor

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post