سوشل میڈیااور ہماری اخلاقی روایات : ڈاکٹر اسد مصطفیٰ

 

مجھے یو ٹیوب پر کوئی ایک بھی ایسا چینل نہیں ملا،جو عوام کے مفاد میں بنایا گیا ہو اور اس چینل کے اینکر نے اپنے چینل کو لائیک کرنے اور سبسکرائب کرنے کی درخواست نہ کی ہو۔دنیا لائیکس کی خواہش میں تو ہمیشہ سے رہی ہے مگراب تو وہ باقاعدہ اس کی تلاش میں نکل کھڑی ہوئی ہے۔ اور یہ دھندا چونکہ پیسے کمانے کا ذریعہ بھی ہے اس لیے بڑی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ فیس بک پر بھی لوگ چاہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ لوگ ان کے پیج لائیک کریں۔لائیکس کے حصول میں یہ نفسیات دان اکثر لوگوں کے عقائد ،عقیدتوں اور جذبات کا سہارا لے کر بھی اپنی ریٹنگ بڑھاتے ہیں۔اسی طرح اگر کسی نے اپنی تصویر شیئر کی ہے اور اسے لائیکس نہیں ملتیں،تو اس کی بھی راتوں کی نیند اور دن کا چین حرام ہو جاتا ہے۔بہر حال فیس بک پر لائیک کے لیے ہاتھ کا نشان،مجھے بہت کھٹکتا ہے۔چونکہ میں خود لائیک کے طور پر ہاتھ اور انگوٹھے کا نشان کسی کو نہیں دکھاتا بلکہ بہت ہوتا ہے تو دل یا پھول بھیج دیتا ہوں ورنہ لکھ کر شکریہ ادا کرتا ہوں اس لیے مجھے کسی کا بھی یوں لائیک بھیجنا پسند نہیں آتا۔دراصل لائیک میں انگوٹھا دکھانا ہماری روایت نہیں ہے۔ہماری روایت السلام علیکم کہنا ہے،ماشاء اللہ اور جزاک اللہ کہنا مگر کیا کیجیئے کہ بڑے بڑے اہل علم و دانش بھی آج کل صرف انگوٹھا دکھاکر کام چلا رہے ہیں۔یہ اخلاقی زوال کی علامت ہے۔اس سے ایک اور بات بھی مترشح ہوتی ہے کہ لائیک کرنے والا،متعلقہ تصویر یا تحریر کو زیادہ پسند نہیں کرتا یا اسے یہ بہت معمولی سی پسند ہے انگوٹھے والے ہاتھ کے نشان سے اس شخص کی انانیت کا اور خود پسندی کا بھی اظہار ہوتا ہے۔نرم خو اور عاجز شخص تصویر و تحریر کو پسند بھی کرے گا محبت بھرے جملے لکھے گا۔لکھ کر اظہار نہ کرنے کی ایک اور وجہ لوگوں کی طبعاً الکسی اور کاہلی بھی ہوتی ہے۔وہ شارٹ کٹ کے طور پر بھی انگوٹھا دکھا دیتے ہیں۔میں نے صرف ایک انگوٹھادکھانے کی بات کی ہے آپ اسی سے اندازہ کر لیں کہ ہم غیر شعوری طور پر مغرب کی اس اخلاقیات کے کتنے عادی ہو چکے ہیں۔فیس بک پہ ہماری اخلاقی اقدار بری طرح پامال ہو رہی ہیں۔انہیں پامال کرنے میں کچھ ایسے نوجوان بھی شامل ہیں،جن کے نزدیک زندگی کی تگ و تاز بس یہی ہے کہ اپنی عجیب وغریب تصاویر اور ویڈیوز پر زیادہ سے لائیکس حاصل کی جائیں۔لائیکس کے حصول کے لیے وہ کسی کا چربہ اڑانے سے بھی گریز نہیں کرتے۔کرونا کے بعد کی فراغت نے حالات مزید بگاڑ دیئے ہیں۔اب ایک اور خرابی جو پہلے بھی تھی ،زیادہ ہوگئی ہے کہ نوجوان ساری ساری رات جاگ کر موبائل فون پر پب جی اور اس جیسی دوسری گیمز کھیلتے رہتے ہیں اور پھر دن بھر سوتے رہتے ہیں۔صبح کی نماز کی ادائیگی نوجوان طبقے کے لیے ناممکن سی ہوچکی ہے۔کچھ نوجوان صبح کی نماز بھی ادا کرتے ہوں گے،تلاوت قرآن مجید بھی کرتے ہوں گے اور صبح کی سیر کے بھی عادی ہوں گے مگر یہ اکثریت کا طریقہ نہیں ہے۔نوجوان نسل کا یہ طرزِ زیست کہاں سے آیا ہے۔یہ ان کی اپنی زندگی کے لیے بھی انتہائی نقصان دہ ہے اور اللہ کی ناراضی کا سبب بھی ہے۔یہی عمر ہوتی ہے جب جزبے سلامت اور جسم کچھ کر گزرنے کی طاقت رکھتا ہے اور اگر اس عمر کو بھی پب جی کھیل کر گزار دیا جائے،تو پھر باقی کیا رہ جائے گا۔پب جی پر ایک اطلاع کے مطابق پاکستان میں پابندی عائد کر دی گئی ہے لیکن اس جیسی کئی اور بھی بھیانک گیمیں موجود ہیں جن قتل وغارت گری کے کھیل ہمارے بچوں کی نفسیات پر بہت برے اثرات مرتب کر رہے ہیں۔موبائل فون پر نوجوانوں کی ایسی مصروفیات میں ان کی تربیت کا پہلو بالکل مفقود ہو کر رہ گیا ہے۔
علامہ محمد اقبال نے ضرب کلیم نوجوانوں کے اس مرض کو پہچان کر پیر حرم سے ان کا مداوا کرنے کی درخواست بہت خوبصورت انداز میں کی ہے۔
اے پیرِ حرم رسم و رہ خانقہی چھوڑ
مقصود سمجھ میری نوائے سحری کا
اللہ رکھے تیرے جوانوں کو سلامت
دے ان کو سبق خود شکنی، خود نگری کا
تو ان کو سکھا خارہ شگافی کے طریقے
مغرب نے سکھایا انہیں فن شیشہ گری کا
دل توڑ گئی ان کا دو صدیوں کی غلامی
دارو کوئی سوچ ان کی پریشاں نظری کا
میں نے بات فیس بک کی اخلاقیات سے شروع کی تھی۔اس اخلاقیات میں فرد کی زندگی کا ایک اور پہلو جو بہت متاثر ہوا ہے وہ پرائیویسی ہے۔مجھ سمیت بعض فیس بکیے اپنی پرائیویسی کا پورا خیال رکھتے ہیں اور اپنی ذاتی زندگی کو مشتہر نہیں ہونے دیتے مگر بعض لوگ تو فیس بک کو اپنا ذاتی کمرہ یا گھر سمجھ کر اپنے متعلق ایسی ایسی باتیں بھی لکھ دیتے ہیں یا اپنی ایسی تصاویر شیئر کر دیتے ہیں جنھیں دوسروں کو بتانا یا دکھانا قطعاً درست نہیں ہوتا۔انسان کی خود نمائی کی خواہش نے بھی اس سے کیا کیا کام کروائے ہیں۔ اسی خواہش کے تحت وہ ہر زاویے سے اپنی تصویریں بنواتا اور دنیا کو دکھاتا پھرتا ہے،اور اس تصویر پر ملنے والی لائیکس سے اس کی طمانیت قلبی سامان بھی پیدا ہوریاہےاور احساس انانیت بھی قوی اور تگڑا ہو رہا ہے۔اسی طرح فیس بک پہ ایک بڑا طبقہ شعرا کرام کا بھی ہے،جس کی شاعری محض لائیکس کے حصول کے لیے اپ لوڈ ہو رہی ہے۔کرونا سے متاثرہ اس ماحول میں خود نمائی کا یہ جذبہ پتہ نہیں ہمیں کہاں لے جائے گا لیکن فی الحال میراایک پرانا قطعہ پڑھ لیجئے جو مرزا خنداں فتنوی کی خدمت میں پیش کیاگیاتھا۔
تجھےہر شعر پر واہ وا کی عادت ہو گئی ہے نا
تری پہچان دھندلاتی ہے جب تعریف ہوتی ہے
ترے اشعار کی قیمت ،ارے افسوس واہ وا وا
مجھے شرمندگی ہوتی ہے جب تعریف ہوتی ہے

 

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post