عالمی وباء اور ہمارے عمومی رویے : محمد اسامہ عثمانی

کہانی شروع ہوئی تھی ، ایزومیکس اور ڈی ھائڈروکسی کلورو کوئین سے ، پھر کچھ اطباء نے ثنا مکی کا تذکرہ چھیڑ دیا ، جسکا کرونا کے علاج سے کوئی تعلق نہیں ، پھر کیلشیم کا ذکر آیا تو لوگوں نے سی اے سی 1000 بوریوں میں لے جانا شروع کر دی ، پھر روش کمپنی کا ایک اینٹی وائرل انجکشن ، ایکٹمرا شارٹ ہوا اور 20,000 کا انجکشن 4 لاکھ سے 6 لاکھ میں فروخت ہوا ، اسی طرح ثنا مکی 300 روپے 3000 روپے کلو پے چلی گئی ، کلوروکوئین شارٹ ہو گئی ، ایک اینتھلمنٹک دوا ، ایور میکٹن شارٹ ہو گئی ، اب ڈیکسا میتھا زون کی باری آگئی ہے دیکھتے ہیں ، کتنے دن ملتی ہے اور فارمیسی والے اس کے ساتھ کیا کرتے ہیں ! کبھی ہم لوگوں نے سوچا ہے کہ جو ڈاکٹرز فرنٹ لائن پے کھڑے ہو کے سات سات دن کی ڈیوٹی کر رہے ہیں ، کرونا وارڈز اور آی سی یوز میں اور بہت سے ڈاکٹرز اس خدمت میں اپنی جان سے گئے ، انہوں نے تو اس ذخیرہ اندوزی کا نہیں سوچا ، حالانکہ ان سے زیادہ ان چیزوں کی کس کو ضرورت تھی ؟؟؟ اللہ رب العزت کے بھیجے اس لشکر کے مقابلے میں ہم یہ دوائیں گھروں میں سٹور کر کے اور بے انتہا منافع پے فروخت کر کے اپنی جان بچا لیں گے ؟؟ ابھی بھی ہمیں اللہ کا خوف نہیں آرہا ؟؟؟
ڈاکٹر طاہر شمسی صاحب نے شدید محنت کی اور کر رہے ہیں ، انہوں نے پلازمہ کی درخواست کی ، ہم لوگوں نے جھوٹی رپورٹ بنوا کے کرونا پازیٹو شو کر کے صحت یابی دکھائی اور لاکھوں میں اپنا پلازمہ بیچا ، ایک بھی مریض اس پلازمہ لگنے سے مر گیا تب بھی ہمیں ہوش نہیں آے گا ! ان پلازمہ بیچنے والوں میں نشہ کرنے والے افراد بھی شامل ہو گئے ہیں ، جنکو ہیپاٹائٹس اور ایڈز کا مرض بھی لاحق ہو سکتا ہے ! خدارا کچھ خوف کر لیں
2005 کا زلزلہ ہی یاد کر لیں ، لوگ سوۓ ہوۓ تھے اور سوتے ہی رہ گئے

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post