ابھی کچھ اور’’چاہیے‘‘ کا روگ : اقصیٰ رانا

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات کا درجہ دیا ہے انسان کی برتری کے لیے یہ درجہ کافی تھالیکن انسان چاہیے ،چاہیے اور چاہیے اس کا راگ آ لاپتاہے۔انسان ’چاہیے‘ کے بھنور میں گھومتا رہتا ہے۔’’ویسے بھی چاہ اور چاہے جانے کی خواہش انسان کو ہر وقت اذیت میں رکھتی ہے‘‘ ۔اسی سبب انسان کبھی مطمئن اور خوش نہیں رہتا ،ہر وقت بے چینی کا شکار ہتا ہے۔اس بے چینی کا گلہ انسان اللہ تعالیٰ سے کرتا رہتا ہے ۔جب کہ یہ سب تو اس کا اپنا بنایا ہوا جال ہے جس میں وہ پھنستا ہے۔’’چاہیے کا روگ ‘‘ انسان کی زندگی کا دائرہ تنگ کر دیتا ہے۔ انسان ہمیشہ ایک سے دوسری چیز کے چاہ میں رہتا ہے۔انسان اپنے آپ کو چاہ کے بھنورمیں ڈال کر اس کو حاصل کرنے کے بجائے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے اور بے چین رہتے ہوئے بے سکونی کو اپنا مقدر بنا لیتا ہے۔زیادہ تر انسان کا مقصد آرام وسکون اور آسائش کی تلاش ہوتا ہے لیکن وہ اس کو تلاش کرتے کرتے’ ’چاہیے‘‘ میں چلا جاتا ہے اور چاہیے انسان کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح لکڑی کو دیمک ۔
انسان کی’’ چاہیے‘‘ کب قطرہ سے سمندر بن جائے انسان کو پتہ نہیں چلتا ۔ چاہیے انسان کو حال سے دور کرتا ہے کیوں کہ جب چاہیے آجائے توانسان حال کو کبھی قبول ہی نہیں کر پاتا۔وہ کبھی ماضی کبھی مستقبل میں گردش کرتا رہتا ہے۔انسان کی ترجیحات میںوقت کے ساتھ بدلاؤ آتا رہتا ہے ۔انسان کبھی ایک چیز سے مطمئن نہیں ہوتا ا نسان کی چاہیے لا محدود ہے جس کی کوئی حد نہیں ہے ۔اگر موجودہ حالات میں دیکھا جائے تو لوگ وزیر اعظم سے خوش نہیں ہیں گزشتہ حکومت سے بھی خوش نہیں تھے انہیں لٹیرے کہا جاتا تھا اب جب کہ یہ انتخاب بھی عوام کا اپنا تھا عوام اسے نا سمجھ اور اناڑی جیسے القابات سے نواز رہی ہے۔ وزیر اعظم صاحب کے لیے یہ پہلا تجربہ ہے وہ اسے صرف ایک کرسی سمجھ رہے تھے لیکن یہ کرسی نہیں ایک ریاست ہے اس لیے اس ریاست کو سنبھالنے اس کو سمجھنے کے لیے وقت درکار ہے اور وقت کی عوام کے پاس قلت ہے ۔یہی وجہ ہے انسان کسی حال میں خوش نہیں۔کسی کو گھر کی تلاش ہے تو کسی کو بڑے گھر کی،کسی کو لیکچرار بننا ہے تو کسی کو پروفیسر،کسی کی چاہت تعلیم ہے تو کسی کو آکسفوڈ میں تعلیم ،کسی کو محبت چاہیے تو کسی کو محبت کا سمندر ، کسی کو دولت چاہیے تو کسی کو دولت کے انبار،کسی کوموٹرسائیکل چاہیے تو کسی کو گاڑی،کسی کو موبائل چاہیے تو کسی کو آئی فون،کسی کو لوکل برائنڈ کپڑے چاہیے تو کسی کو بڑے برائنڈ کے ،کسی کو بیٹا چاہیے تو کسی کو بیٹی اور کوئی صرف اولاد چاہتا ہے۔ انسان کی چاہیے کی ذمہ دار کسی حد تک ٹی وی پر چلنے والی وہ کمرشل ہے جو انسان کو مزید لبھاتی ہے۔ کھوکھلی کمرشل انسان کو ایک لوکل برائنڈ سے ہٹا کر بڑے برائنڈ کی طرف توجہ دلاتی ہے،گھر کے کھانوں سے ہٹا کر ریسٹورانٹ کے کھانوں کی طرف رغبت دلاتی ہے، کسی کو سادہ گھر سے فرنشڈ گھر کی طرف متوجہ کرتی ہے اسی طرح اور بہت سی خواہشات ہیںجو انسان کو چاہیے کے روگ میں مبتلا کردیتی ہیں۔انسان کسی حال میں خوش نہیں رہتا اگر کوئی ایسا حل ڈھونڈ لیا جائے جس سے اس کی پریشانیوں کوحل کیا جا سکے اور اس کو کہا جائے کہ اپنی پریشانی کی گٹھڑی بناؤ اور مجھے دے دو تو اس کے بعد اس شخص کو یہ پریشانی لا حق ہو جائے گی کہ اس کی پریشانی کیسے ختم ہو گئی یہ اس کے بارے میں سوچنا شروع کر دے گا ۔ایک ماہر نفسیات کے مطابق کوئی بھی ایکشن (خوشی ،غم ،نفرت،محبت،غصہ،خواہش)کا ری ایکشن صرف بارہ منٹ کے لیے ہوتا ہے اگر آپ بارہ منٹ اپنے آپ کو کنٹرول کر لیںتو بہت سے نفسیاتی مسائل سے بچ سکتے ہیں۔’’چاہیے ‘‘کا دورانیہ بھی درحقیقت بارہ منٹ کا ہوتاہے اس کے بعد جو بھی ہوتا ہے وہ انسان کا اپنا عمل ہے کہ وہ اُس کیفیت میں کتنی دیر رہنا چاہتا ہے۔بارہ منٹ کو گزارنے کے لیے آپ کوئی کام کرلیں ۔بارہ منٹ کنٹرول آپ کو مثبت اور پر سکون بنا سکتا ہے۔
انسان رب کے ساتھ بھی ایسا ہی کرتا ہے ۔انسان رب کی عبادت کرتا ہے اس کے سا منے سجدہ ریز ہوتا ہے تو بھی اس کی طلب ذاتی ہوتی ہے اس کی نفسانی خواہشات ہوتی ہیں اور پھر وہ شکایت کرتا ہے کہ رب راضی نہیں ہوتا میں رب کی اتنی عبادت کرتا ہوں در حقیقت انسان اپنے اصل مقصد سے ہٹ جاتا ہے۔اس کی طلب دنیا بن جاتی ہے۔رب کو راضی کرنا تو ایک سفر ہے سفر کبھی طویل کبھی مختصر ہوتا ہے یہ سفر ایسا سفر ہے جو ختم نہیں ہوتا بس چلتا رہتا ہے۔ دیکھا جائے تو ایک مصور جو رنگوں سے تصویر بناتا ہے رنگوں سے تصویر اس کے جذبات کی اس کی سوچ کی غماز ہیںاگر وہ رنگوں کو بغیر دیکھے کینوس پر بکھیر دے تو اس کے جذبات کبھی سامنے نہیں آئیں گے اور کینوس صرف ایک رنگ دار بورڈ بن جائے گا۔اس کا مقصد کہیں کھو جائے گا۔
ایک انسان جو نوکری کرنا چاہتا ہے اسے نوکری نہیں ملتی وہ اس کے لیے تگ و دو کرتا ہے کوشش کرتا ہے اور اسے نوکری نہیں ملتی وہ تلاش ترک کر دیتا ہے ۔انسان مایوس ہو جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ سے شکوہ کرتا ہے کہ اس کی محنت کا پھل نہیں ملا جب کہ اگر اس شخص سے پوچھا جائے کہ تم نوکری کرنا چاہتے ہوں تو وہ کہتا ہے ہاں کرنا چاہتا ہوں اس شخص کو کہا جائے کہ میں تمہیں ایک نوکری دیتی ہوں کیا تم اس کو بلا معاوضہ کر لو گے تو وہ صاف انکار کردیتا ہے اس سے ظاہر ہے کہ وہ شخص نوکری کی نہیں پیسے کی تلاش میں ہے۔یہ شخص اپنے مقصد کو سمجھ نہیں سکا اور غلط تلاش میں تھا۔مقصد کا تعین ایک حقیقت ہے جس سے انسان زیادہ تر ناواقف ہی رہتا ہے۔
ٓآپ’’ چاہیے‘‘ سے نکل کر دیکھیں زندگی پر سکون ہو جائے گی اور جو آپ کے پاس ہے وہ آپ کے سکون کا باعث بن جائے گا۔زندگی میں آگے بڑھنا ہے تو ’’چاہیے ‘‘کی چاہ سے نکل کر اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں پھر چاہے وہ معاشی ،معاشرتی،سیاسی ،علمی یا دینی ہوں۔جب آپ کر گزرنے کا سوچ لیں توکچھ بھی نا ممکن نہیں رہتا۔صرف چاہیے کا روگ آپ کو مایوسی کی طرف دکھیل دے گا۔چاہیے سے آگے بڑھ جائیں کاش ایسا ہو جائے ویسا ہو جائے اور ایسا نہ ہوتا ویسا نہ ہوتا سے ذہن کو نکال کر اپنے اصل مقصد پہ توجہ دیں اور ہر حال میں خوش رہنا سیکھیں۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post