لوکی اورغذائیت : ڈاکٹر اسد مصطفی

میں کوئی حکیم تو نہیں ہوں،آپ ڈاکٹر کہہ سکتے ہیں لیکن جسمانی نہیں روحا نی۔روحانی اس لیے کہ جسمانی امراض بھی روحانی بیماریوں کے سبب لگتے ہیں۔ روح کی پاکیزگی اور بالیدگی کے لیے جہاں ذکر اذکار اور تطہیر نفس کی ضرورت ہے وہاں حضور ﷺ کی بتائی ہوئی غذاؤں کی اہمیت بھی بہت زیادہ ہے۔حکیم صابر ملتانی نے اپنی ایک کتاب میں لکھا ہے،حلال خوراک اور صالح غذاؤں سے صالح خون پیدا ہوتا ہے اور حرام خوراک سے فاسد مادے اور گندا کولیسٹرول پیدا ہوتا ہے جو دل اور دیگر کئی مختلف بیماریوں کا سبب بنتا ہے۔صالح غذاؤں میں سب سے اہم، ہماری دھرتی سے پیدا ہونے والی سبزیاں اور جڑی بوٹیاں ہیں۔دھرتی کا اپنوں سے خاص تعلق ہوتا ہے۔دھرتی کے اپنے اس پر رہنے اور چلنے پھرنے والے انسان وحیوان بھی ہوسکتے ہیں اور اس پر اگنے والی نباتات بھی۔یہی وجہ ہے کہ تمام تر نباتا ت میں انسانوں کے لیے بے شمار فوائد رکھے گئے ہیں۔نبی کریم ﷺ کی آمد سے پہلے مدینہ کا نام یثرب تھا،جس کا مطلب ہلاکت ہے۔یہاں طرح طرح کی بیماریوں اور بخار نے ڈیرے ڈالے ہوئے تھے۔آپ وہاں پہنچے تو مدینہ کی مٹی کو اٹھا کر زبان پر لعاب سے لگا یا اور فرمایا ”اللہ کے نام سے اپنی زمین کی مٹی کے ساتھ،اور ہم میں سے ہر ایک کے لعاب کے ساتھ،ہمارے مریض کو شفا دی جاتی ہے“اور اس کے بعد مدینہ صحت و سلامتی کا ایسا مرکز بن گیا،جہاں سانس لینا بھی محترم اور خوش گوار ہو گیا۔آج ہم کیمیائی ادویات اور مصنوعات کے عادی ہو کر اپنی دھرتی کی غذاؤں اور جڑی بوٹیوں سے کنارہ کش ہوچکے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ نت نئی بیماریاں،اور وائرسز ہمیں آسانی سے اپنا شکار بنا رہے ہیں۔کدویا لوکی ہماری دھرتی پر پیدا ہونے والی ایک بے ضرر اور مفید سبزی ہے۔ یہ سبزی ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺ کو بہت پسند تھی۔ حضرت عائشہ صدیقہ ؓ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ کدو کے موسم میں کدو کی ترکاری سے محظوظ ہوتے تھے۔حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ سید البشرﷺکی ایک صحابی نے دعوت کی اور دریافت کیا کہ آپ کون سی سبزی پسند فرمائیں گے۔حضورﷺ نے فرمایا کہ شانے کا گوشت اور کدو۔اسی طرح ایک بار آپ ﷺ کسی بیمار کی بیمار پرسی کے لیے گئے تو فرمایا ”چپاتی کی جگہ چند دن کدو استعمال کرو۔تمہارے جسم میں خشکی بڑھی ہوئی ہے“طبی طور پر کدو ایک زود ہضم اور کمزور معدہ اورکمزورطبعیت لوگوں کی غذا ہے۔کدو جسم میں سے خشکی اور گرمی ختم کر کے صالح رطوبات پیدا کرتا ہے۔ حکیم جالینوس کے نزدیک کدو اور جو کا پانی کئی قسم کی بیماریوں کا علاج ہے خصوصاًٹائیفائیڈ اور یرقان کے مرض میں انتہائی مفید ہوتا ہے اور مریض چند دن میں رو بہ صحت ہو جاتا ہے۔ اہل عرب کے زراعت کے متعلق ماہرین نے کدو کو ”زبدۃ الثمر“ کہہ کر پکارا ہے۔ چوتھی صدی ہجری کے طبی محققین میں بو علی سینا،موسی بن خالد، اور حسین بن اسحٰق نے کدو کی افادیت کے متعلق کہا ہے کہ کدو میں نقصانات کم اور فائدے زیادہ ہیں۔خاص طور پر تپ دق کے مریضوں کے لیے اس کے، اثرات مژدہ جانفزا ہیں۔ چین کے شہنشاۃ ہوٹنگزئی کے نزدیک تلخ اور کڑوا کدو نعمت الہی سے کم نہیں ہے۔کڑوا کدو مرض استسقا میں اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔گزشتہ کچھ عرصے میں مجھے بھی کدو کے بطور دوا حیرت انگیز اثرات دیکھنے کو ملے ہیں۔میرے کالج کے ایک پروفیسر دوست کے والد صاحب کو پندرہ برس قبل دل کی شدید تکلیف ہوئی تھی۔انجائنا کا مرض تھا۔ چند قدم بھی چلنا دشوار تھا۔ اسی دوارن واہ کینٹ کے ایک حکیم صاحب نے انہیں لوکی(لمبے کدو) کا جوس نہار منہ پینے کا مشورہ دیا۔انہوں نے مشورے پر عمل کرتے ہوئے روزانہ ایک پیالہ لوکی کا جوس پینا شروع کر دیا۔چند دنوں میں ان کی طبیعت بہتر ہوگئی اور وہ گھر کے صحن میں چلنے پھرنے لگے۔انہوں نے جوس کا استعمال مسلسل جاری رکھا اور اپنی ہمت کے مطابق زیادہ سے زیادہ چلنے لگے۔کچھ عرصہ کے استعمال کے بعد وہ مکمل صحت مند ہوگئے اور دل بھی پہلی حالت میں واپس آگیا۔ابھی دو تین سال پہلے وہ صاحب عمرہ بھی کر چکے ہیں ہیں اور ماشااللہ بالکل صحت مند زندگی گزار رہے ہیں۔وہ بھی گرمیوں میں خاص طور پر لوکی کا جوس استعمال کرتے ہیں اور انہیں بلڈ پریشر سمیت کسی طرح کی بیماری نہیں ہے۔کدو کے جوس کا یہ حیرت انگیز نسخہ میانوالی میں میرے ایک چچا نے بھی استعمال کیا تھا جو دل کے مریض تھے اور جب تک اسے استعمال کرتے رہے۔صحت مند رہے۔یہی نسخہ چند اور احباب کو بھی بتا یا گیا ہے تو وہ بھی لوکی کے جوس کے استعمال سے تیزی سے رو بہ صحت ہیں۔ لوکی کا جوس بلڈ پریشر میں کسی بھی اور دوا سے زیادہ مفید ہے اور یہ دل کی شریانوں کو کھول کر درد دل میں افاقہ ہی نہیں کرتا،اسے مکمل تحفظ بھی فراہم کرتا ہے۔
نبی کریمﷺ سالن سے چن چن کر کدو کھایا کرتے تھے۔آپ ﷺ کا ہر عمل امت کے لیے مفید اور باعث نجات و رحمت ہے۔حقیقت یہ ہے کہ سبزیوں کی افادیت کا علم اور دیسی طریقہ علاج آج ہم سے بہت دور چلا گیا ہے۔ہم اپنے امراض سے خوفزدہ ہو کر مہنگے ترین ڈاکٹرز کو تلاش کرتے ہیں اور لاکھوں روپے کی ادویات کے بے دریغ استعمال سے اپنی گرتی صحت کواور بھی زوال پزیر کر جاتے ہیں۔آج ایلوپیتھک طریقہ علاج میں دنیا نئی فتوحات حاصل کر رہی ہے مگر بعض امراض میں اپنی بے چارگی کا اظہار کر کے مریض کو لاعلاج قرار دیتی ہے۔حالانکہ حدیث شریف میں رسول اللہ فرماتے ہیں کہ”اللہ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کی ستر دوائیں نہ پیدا کی ہوں“۔آج حکومتی سرپرستی میں ایلوپیتھک طریقہ علاج جتنا آگے چلا گیا ہے، دیسی طریقہ علاج اتنا ہی پیچھے رہ گیا ہے اور جو دیسی حکیم ملتے ہیں،ان پر کسی کو اعتماد بھی نہیں ہوتا۔ایلو پیتھک طریقہ علاج کی مقبولیت کا ایک اور پہلو یہ بھی ہے کہ ہمارے عوام شارٹ کٹ کے عادی ہیں وہ اپنے عوارض کا تیر بہ ہدف اور فوری علاج چاہتے ہیں۔ایلو پیتھک طریقہ علاج کی خوبی یہ ہے کہ وہ مرض کی شدت تو فوری طور پر ختم کر دیتا ہے مگر مرض یا اس کے جراثیم جسم میں موجود رہتے ہیں۔ جسم جب کبھی کمزور ہوتا ہے وہ جراثیم پھر سے پوری طاقت کے ساتھ جسم پر حملہ آور ہو جاتے ہیں۔اس لیے آج جتنا دیسی طریقہ علاج کی طرف راغب ہونے کی ضرورت ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ہم نے اپنے کالم میں کدو کا ذکر اس لیے بھی کیا ہے، ہم یا ہمارے بچے اس سبزی سے نفرت کرتے ہیں اور اسے کھانا پسند نہیں کرتے۔کدو کے متعلق دی گئی معلومات سے اندزہ ہوتا ہے کہ یہ سبزی ان بچوں اور ان افراد سے کتنی محبت رکھتی ہے جو اس سے دور بھاگتے ہیں۔کچھ عرصہ پہلے راولپنڈی کے ایک بڑے ہسپتال میں میرا جانا ہوا۔وہاں ایک بہت بڑا چارٹ آویزاں کیا گیا تھا جس میں تمام سبزیوں کی کیلوریز در ج کی گئی تھیں۔میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تما م سبزیوں میں سب سے زیادہ کیلوریز کدو میں پائی جاتی ہیں۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post