میں کیوں پڑھتا ہوں؟ : محمد عامر سہیل

اس سوال کا تعلق ان وجوہات،اغراض اور مقاصد کی دریافت ہے جو مجھے مطالعہ کی طرف متوجہ،مائل،راغب اور اکساتے ہیں۔اس ایک سوال کے ساتھ اسی سے جڑے دوسرے سوال ذہن میں فورا ابھر آئے ہیں۔
1۔میں کیوں نہیں پڑھتا ہوں ؟
2۔میں کب پڑھتا ہوں ؟
3۔میں کتنا پڑھتا ہوں ؟
4۔ میں کسے پڑھتا ہوں ؟
5۔میں کیا پڑھتا ہوں ؟
6۔میں کیسے پڑھتا ہوں ؟

اب میں اپنے بنیادی سوال کی طرف آتا ہوں کہ میں کیوں پڑھتا ہوں،اس سوال کا تعلق اس وقت کے ساتھ ہے جس وقت میں پڑھتا ہوں۔اس بنیاد پر میرے پہلے تین اٹھائے ہوئے سوال خارج از بحث ہو جاتے ہیں۔چوتھے سوال کا رشتہ ان مصنفین کے ساتھ ہے جنھیں میں پڑھتا ہوں، ان کی تفصیل کی یہاں ضرورت نہیں،لیکن اتنا بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ مصنفین سے دل چسپی بھی پڑھنے کی طرف مائل کرتی ہے۔پانچویں اور چھٹے سوال کا جواب اس سوال کا جواب ہے جو ہمارا موضوع ہے۔
میں ادب کا طالب علم ہوں(ادب کے علاوہ جو موضوعات میری دل چسپی میں شامل ہیں ان کا یہاں ذکر اضافی ہے)،بطور ادب کا طالب علم میرے نزدیک پڑھنا،مطالعہ کرنا اور قرات کرنا تین الگ الگ افعال ہیں۔میں پڑھنے،مطالعہ کرنے اور قرات کرنے کےلیے پڑھتا ہوں۔اب ان تینوں افعال کو الگ الگ بیان کرتا ہوں۔
میرے “پڑھنے” کا تعلق ادب کے طالب علم کے طور پر ہے،جس میں نصابی کتب شامل ہیں۔جن کو امتحانی ضرورت اور حصول ڈگری کےلیے پڑھتا ہوں۔ابتدا میں جب نصابی کتب پڑھنا شروع کیں تو یہ مقصدی مطالعہ،میرے اندر ذوق کو پروان چڑھانے میں معاون ثابت ہوا۔مطالعہ ادب مجھے اپنی طبیعت اور مزاج کے ساتھ موزوں محسوس ہوا۔مقصدی مطالعہ کو معراج تک پہنچانے کےلیے ایک موضوع پر ایک سے زائد مضامین اور کتب کی تلاش و جستجو نے تحقیق کی طرف مائل کیا۔نوٹس بنانے کی ضرورت، امتحان میں بہتر کارکردگی دکھانے کی خواہش اور ڈگری کے حصول کی طلب نے،میرے اندر مطالعہ کرنے کی دل چسپی پیدا کی۔ابتدا میں مجھے ادبی موضوعات سمجھ نہیں آتے تھے،لیکن بغیر سمجھے مسلسل پڑھنے سے،مزید سمجھنے کےلیے،انھیں پڑھنے کے اس عمل نے میرے اندر ایک اضطراب پیدا کر دیا۔میرے وجود میں پیدا ہونے والا یہ اضطراب مجھے مسلسل مطالعہ کرنے کی طرف متوجہ رکھتا۔زیادہ سے زیادہ جاننے کی خواہش اور اضافی پڑھنے کے شوق نے مطالعہ کی عادت ڈال دی۔ادب،ادبی موضوعات اور ادبی مباحث میں دل چسپی نے نصابی کتب سے نکال کر غیر نصابی ( ادبی ) کتب کو پڑھنے کا ذوق پیدا کیا۔اس دوران میں، میں ادب کے دائرہ کار کو جان چکا تھا۔جوں جوں میں ادبی موضوعات ، ادبی اصناف اور ادبی مطالعات میں بڑھتا جاتا،اسی طرح مجھ میں احساس کم تری (اسے میں احساس ذمہ داری کہوں گا،جو میرے لیے مثبت ثابت ہوا) بھی بڑھتا گیا،اور ہر وقت میں اس کیفیت میں رہنے لگا کہ ” مجھے کچھ نہیں آتا جو آج تک جاری ہے ” ۔۔۔ ” مجھے کچھ نہیں آتا ” کے اس احساس نے میری توجہ مسلسل کتاب پر رکھی۔یہ غیر نصابی ادبی کتب کا پڑھنا میرے نزدیک ” مطالعہ کرنا ” ہے۔جو پڑھنے کی دوسری وجہ ہے۔اس مطالعہ کا تعلق خالصتا ذوق کے ساتھ ہے۔ادب چوں کہ اپنے دائرہ کار،موضوعات اور اصناف میں وسیع اور متنوع ہے ،اور ظاہر ہے مطالعہ کےلیے میں اپنے ذوق کے مطابق موضوعات اور اصناف کے انتخاب میں آزاد ہوں۔
اب ایک سوال کہ ” میں ناول کیوں پڑھتا ہوں ؟ ” اس کے جواب میں چند مضروضات پیش کرتا ہوں۔ناول پڑھنا دراصل طویل کہانی کا پڑھنا ہے،جس کا وجود کئی واقعات اور کرداروں سے متشکل ہوا ہو اور یہ واقعات اور کردار بھی کئی کہانیوں سے ایک کہانی بناتے ہوں۔مختلف واقعات اور مختلف الامزاج کرداروں سے مل کر سامنے آنے والا ناول اپنے اسلوب اور زبان و بیان کی بنیاد پر اپنے قاری کےلیے کئی زندگیاں لیے ہوتا ہے۔قاری ان زندگیوں سے واقفیت حاصل کرنے اور بیان کے اس سحر میں مبتلا ہو کر مطالعہ کرتا جاتا ہے۔میرے نزدیک ناول کا مطالعہ “نشہ” ہے۔مجھے یہ تب محسوس ہوا جب ایک ناول کو پڑھنے کے بعد دوسرے ناول اور دوسرے ناول کو پڑھنے کے بعد تیسرے ناول کی طلب پیدا ہوئی۔اس لیے ناول کو نشہ کہتا ہوں کہ جس کو جتنا کیا جائے اتنی طلب بڑھتی جاتی ہے،بالآخر جو عادت میں ڈھل جاتی ہے۔جس قدر ناول کا مطالعہ بڑھتا جائے گا اس قدر ناول کو پڑھنے کی خواہش بڑھتی گی۔خواہش سے زیادہ طلب کہنا مناسب ہے۔میں اسی خواہش اور طلب کی بنیاد پر ناول کا مطالعہ کرتا ہوں۔ناول پڑھتے ہوئے میں خود کو وہاں محسوس کرتا ہوں جہاں کہانی اور واقعہ انجام پا رہا ہوتا ہے۔دو کرداروں کے درمیان تیسرا میں خود ہوتا ہوں،تین کرداروں کے درمیان چوتھا میں خود ہوتا ہوں ۔۔۔ بعض دفعہ ایک کردار سے ہمدردی پیدا ہو جاتی ہے۔یہ ہمدردی شعوری سے زیادہ لاشعوری ہوتی ہے۔پھر اس کردار کے ساتھ جو واقعات پیش آئیں وہ اپنی ذات پر محسوس ہوتے ہیں۔محسوس کرنے کا یہ عمل بیان کی حدود سے باہر ہے۔اس لطف،لذت اور کیفیت کا بتانا بالکل ایسے ہی جیسے کسی فطری ماحول کی رنگینی،دل آویزی،خوب صورتی اور دل کشی کو بہ نفس نفیس دیکھ کر اس شخص کو اس فطری ماحول کے متعلق بتانا جس نے وہ ماحول اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا ہو۔جس طرح پھول کی خوشبو بتانا مشکل ہے،اسے جس نے پھول نہیں سونگھا ہو،بالکل اسی طرح میرے لیے یہ بتانا مشکل ہے کہ ناول کیوں پڑھتا ہوں۔یہ ایک ایسا نشہ ہے جس کو جتنا کروں اتنا اس میں غرق ہوتا جاتا ہوں۔اس ناقابل بیان لطف،مسرت اور کیفیت کے حصول کےلیے مجھے ناول کا مطالعہ(نشہ) کرنا پڑھتا ہے۔
مطالعہ کرنے سے میرے وجود میں ایک اظطراب جنم لیتا ہے۔ بےچین اور مضطرب ہو کر اظہار چاہتا ہوں۔اظہار کےلیے تحریر کا سہارا ڈھونڈتا ہوں۔لکھنے کی یہ مجبوری بعض دفعہ شوق میں بدل جاتی ہے۔یہ شوق بھی مجھے پڑھنے کی طرف راغب کرتا ہے۔یوں اس شوق کی بہتر تکمیل کےلیے پڑھنا،میرے پڑھنے کی تیسری وجہ ہے کہ میں ” لکھنے کےلیے پڑھتا ہوں”،اور یہ پڑھنا،پڑھنے اور مطالعہ کرنے سے زیادہ ” قرات کا عمل”ہوتا ہے۔قرات کا عمل توجہ طلب ہے۔اس لیے کہ کوئی بھی فن پارہ زبان کے تخلیقی استعمال سے وجود میں آتا ہے۔اور زبان میں کیا جانے والا اظہار اپنے اندر کئی خلا اور دراڑیں رکھتا ہے۔ان کو سمجھنا،جاننا اور فہم میں لا کر Decode کرنا انتہائی توجہ کا متقاضی ہے۔قرات کا عمل جس قدر بہتر ہوگا،فن پارہ اس قدر اپنے وجود کو قاری کے سامنے کھولتا جائے گا۔
اس لیے میں پڑھنے(نصابی ضروریات)،مطالعہ کرنے(ذوق کی تکمیل) اور لکھنے( شوق کی تکمیل) کےلیے پڑھتا ہوں۔اس کے ساتھ مادی فائدہ،روحانی سکون،وجودی میلان،زیادہ سے زیادہ جاننے کی خواہش اور ان سب سے مل کر پڑھنے کی عادت مجھے پڑھنے پر مجبور کرتی ہے۔

You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post