مستقبل کی تاریخ : صائمہ بخاری

امجد یہ اقتدار کا حلقہ عجیب ہے
چاروں طرف تھے عکس کوئی آئینہ نہ تھا
سب دیکھتے تھے اور کوئی سوچتا نہ تھا
جیسے یہ کوئی کھیل تھا،ا اک واقعہ نہ تھا!
یہ قصہ ہے اس دور کا، جب پرجا نے جمہوریت میں ملوکیت کی چاشنی کو ملانا چاہا۔ ان میں بعضوں نے پاسبانی اور محافظت پر حاکمیت کا الزام دھرا اور یوں گھٹن ایسی بڑھی کہ ہر شے اپنی ماہیت ہی کھو بیٹھی۔ پاسبانوں کو آمر، فرمانراوُں کو والی، فقیہ شہر کو خداوند اور جمہور کو پائیڈ پائیبر کی بنسی کی آواز پر ہوش کھو دینے والے معمول کی حیثیت بخشی گئی. گویا سبھی اپنی اصل پہچان کھو بیٹھے تھے۔ بے شک اس میں دور میں نشانیاں تھیں، رعیت اور صاحبانِ اقتدار دونوں ہی کے لئے۔
وقت عجب چال چل رہا تھا ‏حاکم حکومت کی چاہ میں اور محکوم حریت کی تمنا میں، نعرہُ حق بلند کرتے نظر آتے، وہ سب اپنے اپنے خواب ان کھوکھلے نعروں میں جی رہے تھے۔ پھر ہم نے دیکھا کہ وہاں اعتدال اور انقلاب کی آپس میں بری طرح ٹھن گئی. ایک طرف اعتدال اور انقلاب کا بُعد تھا جو کسی طرح بھی بُعدِ مشرقین سے کم نہ تھا، دوجی جانب چند شیدائی رجعت پسندوں اور کچھ دیوانےحریت کے متوالوں میں ضد کی خو بڑھتی چلی گئی۔
وہ خطیبوں کا ایسا مجمع تھا کہ جو عدم برداشت کے ہاتھوں اپنا توازن کھو بیٹھا تھا۔ موزونیت کی چاہ میں اعتدال نے جب جب آہنگ اور ردھم کے نغمے گائے, انقلاب نے تب تب نیرنگ اور تغیر کے نام پر جوشیلے ترانوں سے تمام ماحول گرما کر رکھ دیا۔ وہاں گام گام پر دو طرح کی اسناد طلب کی جاتیں تھیں۔ رجعت پسندوں کی چونگی پر مسلمانیت کا تصدیق نامہ لازمی شرط تھا جبکہ حریت پسندوں کے ناکے پر خود مختاری کا پروانہ طلب کیا جاتا اگر ان دیوانوں اور شیدائیوں میں سے کوئی ایک بھی یہ شناخت و اسناد مہیا نہ کر پاتا تو عین اسی لمحے اسے ایک ناکارہ وجود کی طرح معطل کر دیا جاتا.
سنا ہے ایک دن اس بستی میں راج ہنسوں کے قبیلے نے مل کر ایک فیصلہ کیا کہ اب فکر کی سرحد پر محض حکمت راج کرے گی، قلم اور علم کی تکریم و رکھوالی کی جائے گی۔ ہم سب دانشور مل کر دلیل کے ساتھ مکالمہ کریں گے اور آگاہی روشن ستارا بنے گی لیکن راج ہنسوں کے اس اجتماع میں کچھ زیرک و بزرگ گدھ چھپے بیٹھے تھے ان کی فاجر انا جانے کیوں “میں، میں” کی تسبیح پڑھتی چلی جاتی تھی۔ اسی سبب تقدمہ، حمق اور مناظروں کا بازار گرم ہو رہا اور آگہی نے انہی کی چوکھٹ پر دم توڑ دیا۔ ہم نے گروہوں، فرقوں، مجلسوں اور جماعتوں کے پہلو میں اکائی کو بٹتے دیکھا. جانے کتنی ہی اکائیوں نے اپنی اپنی سلگتی چھاتیوں میں دہکتے انگاروں جیسے اختلافات سمیٹ رکھے تھے۔ اب وہ ایک قد آور الاؤ کی طرح تمام تر ماحول کو دہکا چکے تھے۔ اس بار وہاں سبھی کے کانوں میں منافرت کا سیسہ پگھلا کر ڈال دیا گیا تھا، ان سب کی زبانیں صرف و صرف اپنے اپنے نظریات اور عقائد کی شان میں رطب السان تھیں. وہاں جہالت، بغض، منافرت، کینہ پروری، حسد، تعصب اور قوم پرستی نے مل کر سب ہی کی آنکھوں پر عدم برداشت کی کالی سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔
ہر ایک جوان کے ہاتھ میں الگ الگ نظریات کے آئین تھما دیے گئے تھے تا کہ وہ سب اپنا درست جوہر اور اپنی اساس بھول جائیں, اب نوخیز سیمورائیز اپنے اپنے نوحے بلند کر رہے تھے اور سننے والا کوئی بھی نہ تھا۔ کہنے کو حق کی راہ میں وہ جہدِ مسلسل پر کار بند تھے اور اپنے اپنے باطل کے خلاف برسرِ پیکار بھی لیکن حق پر کون تھا اور باطل کون؟
یہ شناخت تو مسخ ہو چکی تھی۔ پھر ان سبھو نے عزی، لات و مناة کی طرح الگ الگ اور اپنا اپنا حق و باطل بانٹ لیا۔


You might also like

Leave A Reply

Leave Your Comments for this Post